Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»تما م آرٹیکلز»پنجاب میں مذہبی شناخت کے رجحانات
    تما م آرٹیکلز

    پنجاب میں مذہبی شناخت کے رجحانات

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتاکتوبر 20, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔10 Mins Read5 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    به مکالمه گوجرانوالہ کے سیاسی، مذہبی اور سماجی تناظر میں پنجاب کی شناخت اور
    فرقه و ارائه تشدد کے امکانات کے گرد گھومتا ہے۔ عامر رانا نے معروف عالم دین اور دانشور مولانا ڈاکٹر عمار خان ناصر سے گوجرانوالہ کے مسائل مذہبی ہم آہنگی اور فرقہ وارانه تناؤ کے عوامل پر تفصیلی گفتگو کی۔ مولانا عمار نے شہر کی سیاسی لیڈر شپ، مذہبی جذبات اور امن کے قیام میں علما کے کردار پر روشنی ڈالی، جبکه تاریخی واقعات اور فرقه وارانہ تنظیموں کے اثرات کو بھی زیر بحث لایا۔ یہ انٹرویو گوجرانوالہ کے سماجی ڈھانچے اور مذہبی ہم آہنگی کے میکانزم کو سمجھنے کے لیے ایک اہم دستاویز ہے، جو خطے کی ثقافتی اور سیاسی پیچیدگیوں کو اجاگر کرتا ہے۔

    سوال: ہم مولانا عمار خان ناصر صاحب سے بات کر رہے ہیں اور گوجرانوالہ کی جو سیاسی اور مذہبی صورتحال کے حوالے سے ان کے views ہیں وہ جاننے کی کوشش کریں گے۔ بہت شکریہ عمار صاحب آپ کے وقت کا۔

    تو یہ بتائیے کہ گوجرانوالہ کے عمومی طور پر مسائل کون سے ہیں بڑے بڑے جو گوجرانوالہ میں ہیں۔

    جواب: مسائل کی تو کئی نوعیتیں ہیں۔

    سوال: کوئی بھی کسی بھی قسم کے مسائل جو آپ کے ذہن میں آتے ہوں۔

    جواب: سیاسی طور پر مسئلہ جو ہم بچپن سے سنتے چلے آرہے ہیں۔ اور جو لوگوں میں یہاں احساس ہے۔ سیاسی لیڈر شپ یہاں ن لیگ کی زیادہ غالب رہی ہے۔ مگر وہ شہر کی ایک صنعتی لحاظ سے اور تاریخی لحاظ سے ایک حیثیت ہے۔ یہ اس کو serve نہیں کر سکے۔ کچھ یہ flyover وغیر ہ بن گئے ہیں پچھلے کچھ سالوں میں۔ مگر جب ہم اس کو compare کرتے ہیں نا سیالکوٹ کے ساتھ۔ جیسے وہ ایک چھوٹا سا شہر ہے۔ مگر وہاں جو development ہوئی ہے صنعتی حوالے سے۔ گوجرانوالہ کی جو لیڈرشپ ہے اس طرح کا۔

    سوال : تو اس کی کیا وجہ ہے؟ لیڈر شپ جو ہے اس کا urban background نہیں ہے۔ rural ہے کیا

    جواب: نہیں نہیں وہ تو شہر کے ہی ہیں۔

    سوال: تو پھر کیا وجہ ہے؟

    جواب: میرے خیال جو ایک وجہ مجھے لگتی ہے ، ان کا سیاسی طور پر کوئی competition نہیں ہے۔

    سوال: تو پی ٹی آئی نہیں ہے ؟

    جواب: پی ٹی آئی تو اب پچھلے کچھ سالوں میں آئی ہے نا۔ لیکن اس الیکشن میں ہی ان کا کچھ ووٹ پڑا۔ مگر سیاسی
    طور پر ن لیگ زیادہ مضبوط ہے۔
    سوال: ایک ٹائم میں تو MMA بھی جیتی تھی الیکشن۔
    جواب: وہ one-time phenomenon تھا جب 2003 کے الیکشن ہوئے۔

    سوال : تو وہ بھی شہر کی سیٹ تھی؟

    جواب: جی جی، شہر کی سیٹ تھی۔

    سوال: تویه phenomenon صرف گوجرانوالہ میں کیوں ہوا؟ باقی پنجاب میں نہیں ہوا۔ لاہور کی سمجھ
    آتی ہے کہ وہ جماعت اسلامی کا گھر ہے۔ تو یہاں پر کیسے ہوا؟

    جواب: گوجرانوالہ ایک مذہبی شہر ہے نا۔ یہاں ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود ہیں۔ مگر کوئی
    سیاسی جماعت اس کو کبھی cash نہیں کروا سکی۔ 2003 میں یہ ہوا کہ چونکہ ایک sentiment تو پورے ملک میں تھا۔ تو گوجرانوالہ میں ہمارے استاد تھے وہ ایک مدرسے کے پرانی کتا بیں پڑھانے والے ، قاضی حمید اللہ صاحب۔ یعنی جو کتا میں کہیں نہیں پڑھائی جاتیں وہ پڑھاتے تھے۔ مگر شہر میں ان کا ایک اچھا تعارف تھا۔ تو MMA نے ان کو ٹکٹ دے دیا تو انہوں نے قرآنی درس دیے۔ ان کو سیٹ مل گئی ہو۔

    سوال: تو ابھی تک ایک environment ہے مذہبی ایک sentiment ہے۔ لیکن وہ اس کو
    politically نہیں کرتے challenge

    جواب: مطلب کہ کوئی ایسی پارٹی موجود نہیں ہے جو ان sentiments کو convert کرنے والی ہے کوئی لیڈر شپ نہیں ہے ایسی۔

    سوال: اگر پوچھا جائے تو کون سے sentiments dominant ہیں مطلب وہ sectarian ہیں؟

    جواب: اگر دیکھا جائے تو یہاں تینوں جو بڑے مکاتب فکر میں ان کی کثیر تعداد موجود ہے۔ جماعت اسلامی بھی دیکھ لیں تو سارے بڑے تگڑے ہیں۔ مگر فرقہ واریت نہیں ہے یہاں پر۔

    سوال: تو TLP نہیں ہے یہاں پر ؟

    جواب: TLP ہے یہاں پر وہ ان باقیوں کے مقابلے میں اتنی مضبوط نہیں ہے یہاں پر۔ یعنی کہ ایسا نہیں ہے کہ کوئی مسئلہ کھڑا کرے یہاں پر۔

    سوال: تو sectarian حوالے سے آپ نے کہا کہ پر امن ہے تو جو باقی یہاں پر communities رہتی ہیں جو وہاں کر کچن ہیں، احمد یہ کمیونٹی ہے۔ ان کے حوالے سے تو مسائل آتے رہتے ہیں۔

    جواب: احمد یہ کمیونٹی تو وہاں میرے خیال سے کچھ ہی ہیں مگر کر کچن کافی تعداد میں ہیں۔ خاص طور پر کچھ ں localities میں جیسے کھو کھر کی میں۔ ایک واقعہ ہونے لگا تھا۔ لوگوں نے ہر وقت اس پر قابو پالیا۔

    سوال: تو کیسے قابو پایا اس پر ؟ کیا ہوا اس کے بارے میں اگر آپ بتا سکیں۔

    جواب: کافی سال پر انا واقعہ ہے اب مجھے اس کی اتنی تفصیل یاد نہیں ہے۔ کھو کھر کی کے علاقے میں غالبا قرآن
    کریم کے نسخے جلائے جانے یا اس طرح کا کوئی واقعہ تھا۔ لیکن شہر کے علما نے اس کو سنبھالا۔ کیونکہ شہر میں ایک امن کمیٹی ہے جو انتظامیہ کے ذریعے علما کو engage رکھتی ہے۔

    سوال : تو یہ کمیٹی کیا لوگوں نے خود بنائی ہے ؟ یہ initiative لوگوں کا خود کا ہے؟

    جواب نہیں یہ کمیٹی کافی پرانی ہے اسے گورنمنٹ تشکیل دے دیتی ہے، یہ شہری سطح پر تمام مکاتب فکر کے علما کو اپنے ساتھ engage کر
    لیتی ہے۔ تو اگر کبھی بھی ایسا کوئی واقعہ پیش آنے کا خدشہ ہو تو وہ سارے مل کر امن قائم کر وادیتے ہیں۔

    سوال: یہ تو بہت پرانا ہے۔ یہ mechanism تو ایک چلا آرہا ہے۔ تو لوگوں نے اس کے علاوہ بھی اپنے کوئی فورمز بنائے ہوتے ہیں کہ اگر کوئی اس طرح کا ہو جائے کچھ sectarian tension یا بدامنی ہو تو وہ اپنا خود کا کوئی step لیں، لوگ active ہو جائیں، ادارہ active ہو جائے، یا کوئی ملا کو engage کریں،
    ؟civil society

    جواب: گوجرانوالہ میں میرے خیال سے اس کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ہے۔ کیونکہ ایک پلیٹ فارم ہے جس پر سب مکتبہ فکر کے لوگ اور علما اکٹھے ہیں تو یوں الگ الگ بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔

    سوال تو یہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ peace building کا یہ ادارہ گورنمنٹ کی معاونت سے چل رہا ہے۔ اور جہاں پھر ضرورت محسوس ہو۔
    جواب: کافی حد تک۔ اس کے علاوہ بھی جو ایک working relationship ہے تمام مکاتب فکر کا وہ ہم بچپن سے دیکھتے چلے آرہے ہیں۔ خاص طور پر ختم نبوت پر ہمارے ہاں جامع مسجد میں ہر دوسرے چوتھے دن کوئی پرو گرام ہوتا تھا۔ اس میں بریلوی، شیعہ تمام لیڈر شپ اکٹھی ہوتی تھی۔ تو علما نے اپنے طور پر بھی
    رکھی ہوئی ہے۔ working relationship

    سوال: تو کیا ابھی بھی شیعہ علما سنی مساجد میں جاتے ہیں اور سنی شیعہ میں ؟

    جواب نہیں اب سپاہ صحابہ والے عمل کے بعد اب کم ہو گیا ہے۔ تب سے میں نے تو ان کو ایک دوسرے کے جلسوں پر نہیں دیکھا۔ پہلے تو ایک دوسرے کے جلسے جلوس پر آتے جاتے تھے۔ ہاں اب جو امن کی مجالس ہوتی ہیں ان پر نظر آجاتے ہیں اکٹھے۔

    سوال: تو سپاہ صحابہ ہے ابھی تک اس کا کوئی impact ہے sectarian یا اس طرح ہے ؟

    جواب نہیں سپاہ صحابہ نہیں اب وہ جنریشن بھی ایک طرح سے گزر گئی۔ اب کی جنریشن میں اہل تشیع کو لے کر وہ جذبات ہوں گے مگر اس طرح سے ایک مکمل structure تھا منظم اب نہیں ہے۔

    سوال: یعنی وہ مختم ہو گیا مگر sentiment ابھی ہے۔

    جواب: sentiment بھی ایک حد تک۔

    سوال: اچھا چلیں۔ یہ جو ہماری نوجوان نسل ہے اس کا کیا مذہبی view آپ کو لگتا ہے کہیں پر وہ بھی harmony involve کی سماجی اصلاح میں ؟ آپ کو کیا لگتا ہے تو جوانوں کا کتنار دل ہے امن کو قائم کرنے میں؟

    جواب: جو ایک نئی نسل ہے علما کی ان میں آپ کو ہر طرح کے لوگ ملیں گے۔ میرے خیال میں ہر جگہ اس طرح کی صورتحال ہو گی۔ کچھ ہیں جو بس اپنے درس و تدریس میں بس مصروف رہتے ہیں۔ کچھ ہیں جیسے علما اکرام کی کافی presence ہے۔ کچھ ہیں جو اس طرح کی حکومتی سطح پر متحرک رہتے ہیں۔ آپ کو ہر طرح کے لوگ مل جاتے ہیں۔

    سوال: ٹھیک ہے۔ تو وکلا اور اس طرح کی کمیونٹی میں آپ کو مذہبی تاثر کیا نظر آتے ہیں؟ کیونکہ وکلا کے متعلق ملک بھر میں سمجھا جاتا ہے کہ ان کا اس طرح کی مذہبی فرقہ وارانہ جماعتوں جیسے TLP کے ساتھ کافی قریب ہوتا ہے۔

    جواب: گوجرانوالہ میں میرے خیال میں ایسا نہیں ہے۔ یہ لاہور والی طرف ایسے نظر آتا ہے۔ مگر یہاں جو وکلا برادری ہے یا تاجر برادری ہے وہ مذہبی یا قومی issues پر جو علما کے ساتھ coordination کرتے ہیں اور پھر جو موقف وہ دیتے ہیں وہ اس کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ تو جس طرح آپ کہہ رہے ہیں نا کہ ان کا کوئی انتہا پسندانہ رجحان وہ نہیں ہے گوجرانوالہ میں۔ اور اگر ہے بھی تو وہ انفرادی طور پر ہے مگر ایسی کوئی منظم شکل میں نظر نہیں آتا۔

    سوال: میری طرف سے تو یہ ایک آخری سوال ہے باقی اگر عمران صاحب کا شاید کوئی سوال ہو۔ یہ طالبان آئے یا انڈیا کے ساتھ صورتحال ہوئی۔ اس کا کوئی impact پڑتا ہے جو neighboring countries کے ساتھ حالات ہوتے ہیں کیونکہ کر سچن بھی ہیں یہاں پر تو ۔ وہ کیسے کمیونٹی کو impact کرتے ہیں، harmony کو اس طرح کے انٹر نیشنل واقعات؟

    جواب: گوجرانوالہ میں اس طرح کا کوئی بڑا واقعہ ہم دیکھ رہے ہیں نہیں ہوا۔ کچھ سال پہلے احمدیوں سے متعلق ایک واقعہ ہوا تھا۔ اس طرح کچھ عرصہ پہلے کر سچن کے ساتھ ایک دو واقعات ہوئے تھے۔ وہ بھی اکا دکا کوئی شعلہ بیان ہوتے ہیں جو اس طرح کی حرکت کرتے ہیں۔ کیونکہ آپ اگر دیکھیں شہر کا پس منظر ۔ بڑے علما وہاں پر اور ادارے بھی۔

    سوال: اچھا، migration تو ہوئی ہے مسلسل پختون بھی آئے ہیں۔ چھوٹے شہروں سے بھی۔

    جواب: اور کشمیری تو سارے۔

    سوال: ہاں جی، تو پھر harmony کیسے قائم کیے ہوئے ہے یہ شہر ؟ کیونکہ جہاں بھی migrations ہوتی ہیں وہاں کیونکہ ہم پیچھے پورا سندھ cover کرتے آرہے ہیں اور وہاں سے ہمیں یہ تاثر ملا ہے کہ جہاں بھی migration ہوتی ہے وہاں local harmony disturb ہوتی ہے۔

    جواب: جو برادریوں کے جھگڑے ہوتے ہیں۔ یہاں برادریاں کافی strong ہیں جیسے کشمیری ، بٹ ہو گئے، مغل اور آرائیں ہو گئے۔

    سوال: تو شاید یہی وجہ ہے کہ یہاں ہاتی جھگڑوں کو جگہ نہیں ملتی۔ تو عمران صاحب آپ کا کوئی سوال ہوا کر۔

    عمران مختار : ایسا کوئی potential element جو آپ دیکھتے ہوں جو فیوچر میں آب دیکھتے ہوں جو فیوچر میں آپ دیکھتے ہوں کوئی جس
    میں آپ سمجھتے ہوں کہ کوئی خطرہ ہے۔ potential segment کر سکتا ہو یا conflict escalate

    جواب: اصل میں، میں نے اپنی زندگی میں جو دیکھا ہے یا مجھ سے پہلے چوہتر میں یا تہتر میں یا شاید اس سے بھی غالباً پہلے ، ترپن میں کوئی پچیس تیس احمدی مارے گئے تھے۔ riots ہوئے تھے ، اس میں۔ جو لوگ براہ راست اس میں شامل تھے انہوں نے بھی مجھے کچھ چیزیں بتائیں۔ اپنی زندگی میں تو میں نے سپاہ صحابہ کا ہی دیکھا ہے۔ وہ ایک sentiment پورے شہر پر چھا گیا تھا جیسے ۔ لیکن اس کے باوجود گوجرانوالہ میں اس طرح سے تشدد کے کوئی، ایک آدھ ، کوئی اہل تشیع کا کوئی وکیل قتل کیا گیا۔ اس طرح کے واقعات ہوئے مگر تشد داس طرح سے پھیلا نہیں۔ مگر جب یہ subside ہوا تو پہلے کا جو ایک مزاج ہے وہ قائم ہو جاتا ہے۔ تو میرا خیال ہے۔ مذہبی sentiment ہے تو اس کو استعمال کر کے ایسا ایک ماحول بنایا جائے۔ تو potential تو ہر جگہ ہی ہے۔ لیکن ایسی شکل کہ وہ ایک مستقل جڑ پکڑ لیں۔ بظاہر تو مشکل نظر آتا۔
    عامر رانا: بہت شکریہ آپ کے وقت کا اور قیمتی insights کا۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleشناخت : پنجاب کا تناظر
    Next Article شناخت، وسائل اور اختیار : گلگت بلتستان کا تناظر
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    روداد: نوجوانوں کے لیے ورکشاپ

    اکتوبر 22, 2026

    زیدیہ شیعہ تحریک اور حوثی سعودی تنازع کا پس منظر

    اکتوبر 22, 2026

    مسلکِ نوربخشیہ: تعارف اور پاکستان میں ادارہ جاتی نمائندگی کا جائزہ

    اکتوبر 22, 2026

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by