Author: زبیر توروالی

ہمیں باور کرایا جاتا ہے کہ پاکستان اپنے جغرافیائی لحاظ سے ایک خونی چوک ہی ہے۔ مطلب یہ کہ یہاں عالمی طاقتیں اپنی جنگیں لڑ رہی ہیں۔ مگر کیا کرے پورے عالم میں اس دلیل کو کوئی ماننے کے لئے تیار نہیں 16 دسمبر 2008ء کا دن سیاہ ترین تھا ۔ میں نے نجی کام کے سلسلے میں پشاور جانا تھا۔ سوات ان دنوں بدترین شدّت پسندی اور سفّاکی کا شکار تھا۔ مینگورہ شہر تو گویا ویران ہوا تھا۔ میں نے اس شہر کے اطراف میں گاڑی سے اتر کر اس اڈے جانا تھا جہاں سے پشاور کے لئے کوئی…

Read More

سوات میں دہشت کے راج اور 2010ء کے بد ترین سیلاب کے بعد اس وقت کی حکومت نے ضلع سوات کو دو ضلعوں میں تقسیم کرنے کی تجویز دی تھی تاہم تاحال اس پر عمل نہیں ہوسکا۔ ایک ایسے ملک میں جہاں اٹھارہ سالوں سے مردم شماری نہیں کی گئی ہو بڑا مشکل ہے کہ کونے میں پڑے کسی علاقے کی آبادی کو صحیح طور پر معلوم کیا جاسکے۔ تاہم چند آزاد ذرائع کے مطابق پاکستان کی آبادی دو سو ملین سے تجاوز کر گئی ہے۔ آبادی میں بڑھاؤ کی یہ شرح وادئ سوات (ضلع سوات) میں عموماً ذیادہ رہی…

Read More

اج کے دور میں خصوصاً ہمارے معاشرے میں خوشی کیوں مفقود ہورہی ہے ایک بہت بڑا سوال ہے۔ ویلیم بلیک نے کہا تھا، ’A mark on every face I meet, Marks of weakness, marks of woe ‘ یعنی جس چہرے سے بھی ملتا ہوں میں اسی پہ لاچاری اور اداسی کی نشانیاں دیکھتا ہوں”۔ کسی گلی میں، بازار میں، دیہات میں، سکول میں غرض ہر جگہ اپکو لٹکائے ہوئے چہرے ملیں گے۔ ہر کسی کو کوئی نہ کوئی پریشانی کھائے جارہی ہے۔ طالب علم سکول سے تنگ، استاد ڈیوٹی سے؛ شوہر بیوی سے نالاں بیوی شوہر سے گلہ مند؛ دکاندار گاہگ…

Read More

ٹریکینگ کے لئے سوات وادی بہت آسان اور خوبصورت ہے۔ یہاں کے پہاڑی راستے خطرناک نہیں اور لینڈ سلائڈنگ کا بھی اتنا خطرہ نہیں مئی کی 26 تاریخ تھی۔ پاکستان کے بیشتر شہروں کا درجہ حرارت 45 ڈگری سے زیادہ تھا۔ جبکہ مجھے ٹھنڈ لگ رہی تھی۔ میں کسی چٹان کے اوٹ کی تلاش میں تھا تاکہ اس ٹھنڈی ہوا سے محفوظ رہ سکوں۔ ساتھیوں کی حالت بھی ایسی تھی۔ ایسے میں مجھے شہروں میں بستے ان غریبوں کی فکر ستانے لگی جو جھلسا دینے والی گرمی میں سخت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ مجھے وہ ٹیکسی ڈرائیور یاد آیا…

Read More

اس طرح کی قومی یکسانیت کا رجحان ’جدیدت ‘ (Modernity ) کے دوران دُنیا پر بہت غالب رہا۔ قومی وحدت کے خبط میں مبتلا ملکوں میں ثقافتی، مذہبی، لسانی اور نسلی تنوع کو  اکثر ایک مسئلہ سجمھا جاتا ہے۔ ایک قومی ریاست اور ’شناخت ‘ کی تشکیل میں اس تنوع کو مختلف لسانی، مذہبی، نسلی اور ثقافتی گروہوں کی قیمت پر فروغ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسی وحدت کو فروغ دینے میں مسئلہ یہ ہے کہ اس میں ایک طاقتور لسانی یا مذہبی گروہ معتبر سجمھا جاتا ہے اور دیگر کو اس کے سانچے میں ڈھالنے کو کوشش…

Read More