Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»خونی چوک
    کالم

    خونی چوک

    زبیر توروالیBy زبیر توروالینومبر 11, 2016کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    ہمیں باور کرایا جاتا ہے کہ پاکستان اپنے جغرافیائی لحاظ سے ایک خونی چوک ہی ہے۔ مطلب یہ کہ یہاں عالمی طاقتیں اپنی جنگیں لڑ رہی ہیں۔ مگر کیا کرے پورے عالم میں اس دلیل کو کوئی ماننے کے لئے تیار نہیں

    16 دسمبر 2008ء کا دن سیاہ ترین تھا ۔ میں نے نجی کام کے سلسلے میں پشاور جانا تھا۔ سوات ان دنوں بدترین شدّت پسندی اور سفّاکی کا شکار تھا۔ مینگورہ شہر تو گویا ویران ہوا تھا۔ میں نے اس شہر کے اطراف میں گاڑی سے اتر کر اس اڈے جانا تھا جہاں سے پشاور کے لئے کوئی گاڑی مل سکتی تھی۔ سوات میں طالبان کی جانب سے لڑکیوں کے سکول جانے پر اگلے ماہ سے پوری طرح پابندی کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس اعلان کے بعد لڑکیوں نے مقرّرہ تاریخ سے پہلے ہی سکول جانا چھوڑ دیا تھا۔

    میں جوں ہی منیگورہ شہر کے وسط میں واقع گرین چوک پہنچا تو مجھ پر لرزہ طاری ہوگیا۔ آس پاس مٹھی بھر چند ہی لوگ نظر اتے تھے۔ اسی چوک میں بجلی کے کھنبوں پر دو لاشیں الٹی لٹک رہی تھیں۔ ان لاشوں کے سر کاٹ کر ٹانگوں کے بیچ رکھے گئے تھے اور دھڑوں کو ان کھمبوں پر الٹا لٹکایا گیا تھا۔ چند گز کے فاصلے پر دو اور سرکٹی لاشیں سڑک کنارے پڑی تھیں۔ اس پاس جو چند لوگ اپنی دکانوں کو کھولنے ائے تھے وہ لرز کر کھڑے تھے اور ان کو یہ سمجھ نہیں اتا تھا کہ کیا کیا جائے۔ ان کے حواس سن ہو گئے تھے۔ گھر بھی واپس نہیں جاسکتے تھے۔ میں نے ہمّت کرکے ایک ادھ سے پوچھ ہی لیا۔ مجھے بتایا گیا کہ کئی دنوں سے یہ معمول بن چکا ہے۔ اس چوک پر وہ ہر صبح اسی طرح لاشیں لٹکتی دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گرین چوک اب خونی چوک بن چکا ہے۔ وہ ان لاسشوں کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکتے کہ ان کے ساتھ چٹ چسپان ہوتی ہے کہ ان کو اگر کوئی ہاتھ لگائے تو اس کا بھی حشر ان جیسا ہوگا۔

    میں ڈرے ہوئے آگے نکل گیا اور پشاور پہنچ کر پاکستان کے ایک بڑے انگریزی روزنامے کو اس صورت حال پر ایک ای میل لکھ ڈالی۔اس میں اس چوک کو خونی چوک لکھا اور اس کے بعد یہ چوک خونی چوک کے طور پر پوری دنیا میں مشہور ہوا۔ یہ ای میل ایک آرٹیکل کی صورت میں مذکورہ اخبار نے اپنے ادارتی صفحے پر 8جنوری 2009 ء کو چھاپی جہاں میں پہلے بھی سوات کی حالت پر لکھتا رہا تھا۔ اس مضمون میں مقتدر حلقوں اور سول سوسائٹی سے اپیل کی گئی تھی کہ سوات پر رحم کیا جائے۔ میڈیا نے اس آرٹیکل پر تبصرے شروع کئے اور بڑے شہروں میں سول سوسائٹی نے ٹولیوں کی صورت میں احتجاج شروع کیا۔

    اس سے ہونا کیا تھا ماسوائے ایک دو مختصر آپریشنز کے مگر میری تو شامت اگئی اور میں پورے سات مہینے سوات سے باہر پشاور، اسلام آباد اور دیگر شہروں میں خوار ہوتا رہا۔ حکومت نے اسی سال فروری میں سوات کے طالبان سے امن معاہدہ کیا جو جلد ہی اپنے منطقی انجام تک پہنچا۔ مئی میں سوات کے بڑے مراکز سے لوگوں نے ملکی تاریخ کی بڑی نقل مکانی کی تاکہ عسکری اداروں کو مکمل طور پر آزادی دی جائے کہ وہ شرپسندوں کے خلاف کوئی فیصلہ کن وار کرسکیں۔ اس کے بعد سوات کے لوگوں کے ساتھ جو بھی ہوا اسے اب تک پوری طرح کسی نے بیان نہیں کیا۔ سوات میں وقتی طور پر امن آگیا مگر اس کے لئے جو قربانی دی گئی وہ ایک دوسرا ملک بنانے کے لئے کافی تھی۔ ماہرین کہتے ہیں کہ سوات کی صورت حال میں ریاست نے اپنی پالیسی کو وقتی طور پر تبدیل کرکے سوات کو اس سفّاکی کے چنگل سے آزاد کرایا۔ مگر مقامی لوگوں کو اب بھی شکایت ہے کہ اس پالیسی کو ایک دو سال پہلے کیوں تبدیل نہیں کیا گیا۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ریاستی ادارے کے اہلکار اور طالبان کس طرح سڑکوں پر فرلانگ کے فاصلوں پر لوگوں کو چیک کر رہے تھے۔ دونوں کیا ایک دوسرے کو دیکھ نہیں پا رہے تھے؟

    سوات کا یہ خونی چوک مجھے ایک بارپھر پچلھے دنوں یاد آیا جب میں نے الجزیرہ ٹی وی پر پچھلے سال کی ایک ویڈیو  https://www.youtube.com/watch?v=Z__lyS-wI7c دیکھی۔ مذکورہ ٹی وی کے جارح صحافی مہدی حسن اپنے پروگرام ’ہیڈ ٹو ہیڈ ‘ میں پاکستان کے معتبر جنرل ریٹائرڈ لفٹنٹ جنرل اسد درانی جو آئی ایس آئی کے ڈی جی بھی رہ چکے ہیں، سے ’پاکستان: دہشت گردی کا شکار یا اس کا ایکسپورٹر ‘ کے عنوان سے انٹرویو کر رہے ہیں۔ کسی نے چند دن پہلے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ جنرل جذباتی نہیں ہوتے۔ جنرل اسد درّانی اس صحافی کے سوالات کو ذیادہ تر ٹالتے رہے ۔ وہ اس انٹرویو میں پاکستان کی جانب سے افغان طالبان کی مدد کی بھر پور وکالت کر رہے ہیں اور اس کا جواز یہ پیش کر رہے ہیں کہ اگر پاکستان ایسا نہ کرے تو شائد نہ افغانستان رہے اور نہ ہی پاکستان۔ جنرل صاحب کو جب پاکستان اور افغانستان میں لاکھوں لوگوں کے قتل یاد دلایا جاتا ہے تو ان کے مبارک چہرے پر نہ خفگی آتی ہے اور نہ ہی کوئی شرمندگی۔ وہ ان اموات کو ’ جنگ میں حادثاتی نقصان ‘ (Collateral Damage ) قرار دیکر آسانی سے جان چھڑا لیتے ہیں۔ اسی پروگرام میں جب ایک افغانی باشندہ اپنوں کے قتل کا ذکر کرتا ہے تو جنرل صاحب ان کو سوری کرکے چپ کراتے ہیں اور ان کے ملک میں اس کھلی مداخلت کے سوال کو نظرانداز کردیتے ہیں۔

    میرے دوست کاگا کہتے ہیں کہ ریاست کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کو پالنے کی کہانی پوری دنیا کو معلوم ہے۔ ڈان اخبار میں پچھلے مہینے  ایسی ایک خبر کی لیک پر یہ ادارے ناخوش نہیں۔ ان کا غصّہ خبر کے اس حصّے پر ہے جس میں کسی سولین نے ان سے، خبر کے مطابق ، یہ پوچھنے کی جرات کی ہے کہ وہ غیر ریاستی عناصر کو پال رہے ہیں۔

    کسی زمانے میں مجاہدین آنکھ کے تارے تھے۔ ان کی جگہ طالبان نے لی۔ اب خبریں آتی ہیں کہ ملک میں داعش بھی مظبوط ہورہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں طالبان کی جگہ داعش لے رہی ہے۔

    ہمیں باور کرایا جاتا ہے کہ پاکستان اپنے جغرافیائی لحاظ سے ایک خونی چوک ہی ہے۔ مطلب یہ کہ یہاں عالمی طاقتیں اپنی جنگیں لڑ رہی ہیں۔ مگر کیا کرے پورے عالم میں اس دلیل کو کوئی ماننے کے لئے تیار نہیں۔ بیرونی دنیا میں کسی بھی بحث میں پاکستان کی اس پالیسی کا دفاع نہیں کیا جاسکتا۔ جنتے بھی عالمی نجی تحقیقی یا صحافتی ادارے ہیں وہاں پاکستان کو اسی طرح پیش کیا جارہا ہے جیسا کہ جنرل اسد درّانی نے مذکورہ بالا پروگرام میں تسلیم کیا۔

    پاکستان سفارتی محاذ پر تنہا ہوتا جارہا ہے اور ملک کے اندر عوام میں ابہام اور شکوک بڑھ رہے ہیں۔ ایسے میں خونی چوک کے اس کھیل کو بند کیا جانا چاہئے کہ ہم اس خون ریزی کے مزید متحمل نہیں ہوسکتے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleہیلری کے ہارنے کی تین بڑی وجوہات
    Next Article سائنس آخری سانسیں لے رہی ہے
    زبیر توروالی

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by