زبیرتوروالی محقق، لکھاری اور انسانی حقوق کے کارکن ہیں۔ بحرین سوات میں قائم شمالی علاقہ جات کی زبانوں، ادب اور ثقافت کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’ادارہ برائے تعلیم وترقی‘ (IBT) کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے اس مضمون میں پاکستان کی ان اقلیتی مادری زبانوں کے بارے میں بات کی ہے جو معدومی کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ان کے مطابق اُردو زبان کی طرح اقلیتی زبانوں کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے اور ان کے تحفظ و فروغ کے لیے انہیں تعلیم، قومی ذرائع ابلاغ اور ورثے میں شامل کیا جانا چاہیے۔ کئی سال پہلے ایک انگریزی اخباری…
Author: زبیر توروالی
سوات کو باقاعدہ ریاسست بنانے کی پہلی کوشش 1849ء میں ہوئی جب پنجاب پر انگریزوں نے قبضہ کیا۔ سوات کے یوسفزئیوں نے، جنہوں نے سوات کو سولہویں صدی میں زیر کیا تھا، ایسی حکومت سید اکبر شاہ ستھانہ کی قیادت میں بنائی جو 1849ء تا 1857ء تک قائم رہی۔ اس سے پہلے سوات پر یوسفزئیوں نے اپنے قبضے کے بعد خان کجو اور ملک احمد جیسے سرداروں کی قیادت میں منظم ہونے کی کوشش کی، تاہم ان کے دور کو ریاستی دور نہیں کہا جاسکتا اور یہ کوئی منظم طرز کی حکومت نہیں تھی۔ میاں گل عبدالغفور المعروف سیدوبابا نے…
گزشتہ کئی دنوں سے پاکستان کے شمال مغربی صوبے، خصوصاً خوب صورت وادی سوات میں طالبان کی موجودگی اور سرگرمیاں پاکستان کی مرکزی میڈیا اور سوشل میڈیا پر زیر بحث رہیں۔ جب طالبان نے سوات کی تحصل مٹہ کی چپریال وادی میں پہاڑوں پر ڈیرے جمائے اور پولیس رپورٹ کے مطابق تین فوجیوں اور ایک پولیس ڈی ایس پی کو چند ساتھیوں سمیت یرغمال بنایا تو ابتدا میں سوات کے بعض مقامی صحافی ایسی کسی موجودگی سے انکاری تھے۔ تاہم چپریال وادی میں ذرائع کے مطابق پولیس رپورٹ درست تھی جس کی تصدیق بعد میں سوشل میڈیا پر گردش کرتے…
رسمی تعلیم بھی پراپیگنڈا کا ایک ذریعہ ہی ہوتی ہے۔ دنیا میں کہیں بھی فری، یعنی بے تعصب تعلیم موجود نہیں۔ ہر ملک میں اس رسمی تعلیم کے اپنے اہداف ہوتے ہیں۔ تاہم دنیا میں ہرجگہ تعلیم میں تعصب کی مقدار مختلف ہوتی ہے اور اسی طرح تعلیم و تدریس کے طریقے بھی مختلف ہوتے ہیں۔ کہیں پر پڑھانے کا معیار اور نصابی کتب کا معیار بہتر ہے تو کہیں پہ ان کا معیار پست ہوتا ہے۔ کہیں پہ تدریس طلبہ کی تنقیدی صلاحیت یعنی پرکھنے کی ذہنی استطاعت پر زیادہ زور دیتی ہے تو کہیں پہ یہ تدریس آنے…
تسلط، بالادستی اور نوآبادیت کا مفہوم: تسلط: کسی فرد یا قوم کی ایسی حالت جہاں وہ اپنے فیصلے خود نہ کرسکے؛ جہاں اس فرد یا قوم کو اپنے سیاسی و معاشی فیصلوں کا اختیار نہ ہو؛ جہاں اس کے وسائل کے بارے میں کوئی اور لوگ فیصلے کریں اور جب وہ فرد یا قوم سیاسی اور سماجی طور پر کسی شمار میں نہ ہو۔ اس فرد، گروہ یا قوم کے بارے میں کہا جائے گا کہ یہ زیرتسلط ہے یا تسلط کا شکار ہے۔ نوآبادیت اور بالادستی: یہ تسلط کی واضح اور ٹھوس شکلیں ہیں۔ نوآبادیت سے بہ ظاہر مراد…
زبیر توروالی محقق، لکھاری، سماجی اور انسانی حقوق کے کارکن ہیں۔ وہ گزشتہ 15 برسوں سے تحقیق کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ بحرین سوات میں قائم پورے شمالی پاکستانی کی زبانوں، ادب اور کلچر و تعلیم کے لیے کام کرنے والی تنظیم ادارہ برائے تعلیم و ترقی ( اب ت IBT) کے بانی اور سربراہ ہیں۔ زبیر توروالی انگریزی، اردو اور توروالی زبان میں لکھتے ہیں۔ اب تک ان کی دو انگریزی کتب، دودرجن سے زیادہ تحقیقی مقالے اور سینکڑوں مضامین انگریزی اور اردو میں شائع ہوچکے ہیں۔ زبیر توروالی نے چند بین الاقوامی تحقیقی کتب میں ابواب بھی لکھے ہیں۔ وہ آن لائن انگریزی اور اردو مجلّے ”دی ماؤنٹینز“ کے مدیر اور منیجر ہیں۔ ہائی ایشیا کے ثقافتی و سماجی مطالعات پر مبنی اردو مجلّے ”سربلند“ کے مدیر بھی ہیں۔ زیر نظر مضمون میں انہوں نے توروالی زبان اور توروال لوگوں کا جائزہ لیا ہے اور اس علاقے کے ثقافتی اور تاریخی خدوخال اجاگر کرنے کی سعی کی ہے۔ (مدیر)
انسانی تاریخ کے فلسفے پر سرسری نظر ڈالنے سے یہی سامنے آجاتا ہے کہ اس انسانی مکان میں جہاں وسائل کی تقسیم کی بنیاد پر طبقات کی کشمکش رہی ہے وہی اسی بنیاد پر ”مرکز“ اور ”حاشیے“ کی تفریق پیدا ہوگئی ہے۔ حاشیے (periphery) اور مرکز (core) کی تفریق اور کشمکش جہاں ایک طرف عالمی سطح پر ملکوں یا قوموں کے بیچ قائم رکھی گئی ہے تو دوسری طرف یہ کسی ایک ملک کے اندر بھی قائم و دائم ہے بلکہ اسی ملک کے اندر مختلت علاقوں میں بھی چھوٹے چھوٹے مرکز اور حاشیے بنے ہیں۔ اسی لحاظ سے دیکھا…
یہ ایک عمومی مظہر ہے کہ ایک زبان دوسری زبان سے اثر لیتی ہے۔ یہ اثرات کئی طرح کے ہوتے ہیں تاہم ان میں نمایاں اثرات ایک زبان کا دوسری زبان سے الفاظ کو مستعار لینا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ ایک فطری عمل ہے۔ فطری عمل تو ہے مگر ایک ایسی قوم کی زبان کسی دوسری قوم کی زبان سے زیادہ اثر لیتی ہے جب، یہ دوسری قوم علمی، معاشی اور سیاسی طور پر زیادہ طاقت ور ہو، یا جب پہلی قوم اپنی زبان کو کمتر سمجھے اور دوسری زبانوں کو عزت اور سماجی رتبے کا…
زبیر توروالی محقق، لکھاری، سماجی اور انسانی حقوق کے کارکن ہیں۔ وہ گزشتہ 15 برسوں سے تحقیق کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ بحرین سوات میں قائم پورے شمالی پاکستانی کی زبانوں، ادب اور کلچر و تعلیم کے لیے کام کرنے والی تنظیم ادارہ برائے تعلیم و ترقی ( اب ت IBT) کے بانی اور سربراہ ہیں۔ زبیر توروالی انگریزی، اردو اور توروالی زبان میں لکھتے ہیں۔ اب تک ان کی دو انگریزی کتب، دودرجن سے زیادہ تحقیقی مقالے اور سینکڑوں مضامین انگریزی اور اردو میں شائع ہوچکے ہیں۔ زبیر توروالی نے چند بین الاقوامی تحقیقی کتب میں ابواب بھی لکھے ہیں۔ وہ آن لائن انگریزی اور اردو مجلّے ”وی ماؤنٹینز“ کے مدیر اور منیجر ہیں۔ ہائی ایشیا کے ثقافتی و سماجی مطالعات پر مبنی اردو مجلّے ”سربلند “کے مدیر بھی ہیں۔ زیر نظر مضمون میں انہوں نے توروالی کے شادی بیاہ کی رسومات کا جائزہ لیا ہے اور اس علاقے کے ثقافتی خدوخال اجاگر کرنے کی سعی کی ہے۔ (مدیر)
آپ نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کا ایک گروہ بنالیں۔ ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا شروع کرلیں۔ اپنی تقدیس اور نرگسیت کا اوندھا لباس کچھ دیر کے لئے ہٹادیں۔ ان سے طویل رفاقت کا رشتہ قائم کرلیں۔ ان کو اعتماد دیں کہ وہ آپ پر اعتماد کرسکے۔ ان کا اعتماد حاصل کرلیں۔ ان کو سپیس مہیّا کریں ۔ اس گھٹن ذدہ ماحول میں ایک ایسی نظری ، اخلاقی اور طبعی جگہ فراہم کریں کہ وہ کسی خوف، شرمندگی، احساس کمتری و احساس برتری سے مبرّا ہوکر آپ کے ساتھ اور آپس میں اظہار خیال کر سکے اور ان کو یہ یقین…
