Author: زبیر توروالی

ہمارے معاشرے آدم خور ہوچکے ہیں۔ آپ چونک گئے ہونگے کہ آپ نے یہاں انسانوں کو گدھوں کا یا کتا کا گوشت کھلانے کا سنا ہے لیکن کبھی سنا نہیں ہوگا کہ انسان کو انسانون کا گوشت بھی کھلایا ہوگا۔ میں جس آدم خوری کی بات کررہا ہوں وہ انسانی گوشت کھانے سے بھی بدتر ہے۔  اسکی کی کئی صورتیں ہیں: پہلی صورت: ہمارے معاشرے وحدانیت کی بجائے ”کُلیت“ پر یقین رکھتے ہیں۔  آپ یہاں بھی چونک گئے ہونگے کہ ان معاشروں میں تو سب ایک خدا کے ماننے والے ہیں لہذا یہ کس طرح  وحدانیت نہیں۔ میرا مقصود عقیدہ…

Read More

دیکھیں لالا! ہمارے باپ دادا پتھروں پر چلتے تھے۔ ان کے گاؤں گاؤں تک راستے پتھروں کے تھے۔ وہ دریا رسیوں سے پار کرتے تھے جن کو غالباًََ ڇیان کی رسیوں سے بنایا جاتا تھا۔ لالا کیا کہوں، ہمارے والدین بھی ان ہی پتھروں پہ چلتے رہے، ہمارا بچپن بھی ان پتھروں پہ چل کر گزرگیا۔ ہمارے باپ دادا چشموں کا تازہ پانی پیتے تھے۔ ہر گاؤں میں جو پہاڑی ندّی گرتی تھی وہ صاف و شفاف ہوتی تھی۔ گاؤں میں کوئی دکان نہیں ہوا کرتی تھی۔ ہمیں شابابا جیسے پاپڑ نہیں ملتے تھے۔ گھر میں ماں دن کے دو…

Read More

آجکل پختون معاشرے اور اس کے زیر اثر دیگر طبقات میں بعض لوگ جرگے کی معدومی کا رونا روتے ہیں اور اس کے احیاء کی بات بھی کر تے ہیں۔ یہ نظام بظاہر ماضی کی ہر شے کی طرح خوشنما نظر آتا ہے مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ جرگہ بندی کیا ہے؟ یہ جدید ریاست کے وجود میں آنے سے پہلے کا سیاسی و عسکری نظام ہے۔ یہ اساسی طور پر تاتاریوں کی روایت سمجھی جاتی رہی ہے تاہم اس جیسے انتظامی انصرام دیگر معاشروں میں بھی پائے جاتے تھے۔ جرگہ ایک گونہ عسکری اور سیاسی نطام ہوتا تھا۔…

Read More

تحصیل بحرین جسے اپنے مخصوص جغرافیے اور ثقافتوں کی وجہ سے سواتِ کوہستان یا کوہستانِ سوات بھی کہا جاتا ہے، یہ خیبر پختونخوا  کے مشہور و معروف ضلع سوات کا خوب صورت ترین علاقہ ہے جو رقبے کے لحاظ سے پورے ضلعے کا 60  فی صد بنتا ہے۔ اپنے ثقافتی تنوّع کے اعتبار سے یہ حصہ شمالی پاکستان  کے دوسرے کثیرالثقافتی (multicultural)  علاقوں کی طرح ممتاز ہے۔ یہاں  توروالی، پشتون، گاؤری اور گوجر جیسی قومیں آباد ہیں جبکہ اوشوجو، کھو اور انڈس کوہستان سے ہجرت کرکے آئے ہوئے بھی کافی لوگ یہاں آباد ہیں۔ انتظامی لحاظ سے یہ پورا علاقہ…

Read More

جب کبھی بزرگ احباب یا بیماریوں سے مضمحل لوگوں کو آپس میں مل بیٹھنے کا موقع ملتا ہے تو ایک جملہ ’’ہمارا زمانہ کیا اچھا زمانہ تھا‘‘ بارہا سننے کو ملتا ہے۔ یہ بزرگ جب ’’زمانے‘‘ کی بات کر رہے ہوتے ہیں تو اس سے مراد ان کی اپنی ماضی کی جسمانی و ذہنی حالت ہوتی ہے۔ زمانے کو وہ بطور استعارہ استعمال کرتے ہیں۔ مقصود وقت یا وقت کی روانی میں کوئی خاص دورانیہ نہیں ہوتا اور نہ ہی ماضی کی کسی اجتماعی حالت کا بیان مطلوب ہوتا ہے۔ یہ بزرگ ایک اکیلے پن کا شکار ہوتے ہیں، حال…

Read More

زبان کی تحریر کا قدیم نظام تقریباً 5500 سال پہلے خطہ زرخیز ہلال (Fertile Crescent) جو مشرق وسطی میں جدید عراق، شام، لبنان، اسرائیل، جنوبی ترکی اور مغربی ایران پر مشتمل ہے ، میں تصویری لکھائی (Hieroglyph) کی صورت میں وجود میں ایا۔ یہ تصویری تحریر کسی شے کے بارے پ تحریر ی ابلاغ کے لیے اس کی تصویری شکل کو استعمال کرتی تھی لیکن اس میں کئی علامات آواذوں کو بھی ظاہر کرتی تھیں۔ تحریر کے اسی نظام کی جدید صورت تصویری رسم الخط (logographs) ہے جس کی جدید واضح مثال مینڈیرین یعنی چائنیز زبان کی لکھائی ہے۔ اسی…

Read More

ان سب تعلیمی پالیسیوں پر نظر ڈالنے سے واضح ہوتا ہے کہ زبان کے مسئلے کو پاکستان میں سماجی، تعلیمی اور ثقافتی لحاظ سے سمجھنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ زبان کا صرف سیاسی و نظریاتی پہلو غالب رہا پاکستان کی تخلیق دو قومی نظریے کی بنیاد پر ہوئی تھی۔ دو قومی نظریہ مسلمانوں کو مذہب کی بنیاد ہر ایک الگ قوم مانتا ہے۔ مگر جس وقت مسلمانوں کے لئے ایک الگ مملکت کا مطالبہ کیا جاتا تھا اس وقت دنیا میں قومیت کا تصور وطن، زبان اور ثقافت کی بنیاد پر پل رہا تھا۔ اس لیے اس الگ قوم…

Read More

’’ جنگلات گھنے اور سایہ دار ہیں۔ پھل اور پھول کثرت میں ہیں“۔ یہ بات  629ء میں چینی یاتری زوان زانگ (XuanZang)  نے سوات کے اپنے دورے کے بارے میں لکھی۔ چینی یاتری کے اس قول کو سوات سے تعلق رکھنے والے مورّخ ڈاکٹر سلطانِ روم نے اپنی کتاب ’’سوات میں زمین اور جنگلات کا انصرام؛ قبائلی نظام سے ریاست سوات اور پاکستان  میں منتقلی“ (Land and forest governance in Swat; transition from tribal system to State to Pakistan) میں نقل کیا ہے۔ یہ کتاب اوکسفورڈ یونیورسٹی پریس (Oxford University Press) نے شائع کی ہے۔ سوات کی خوبصورت وادی تاریخی…

Read More

گزشتہ دنوں سوات کے خوبصورت سیاّحتی مقام بحرین کے حلق ”دریائے درال“ کی تصویر سوشل میڈیا پر دیکھی تو سکتہ طاری ہوگیا۔ اپنی زندگی میں پہلی بار دریائے درال کو مردہ دیکھ کر یقین نہیں ارہا تھا۔ اس تصویر کو نوجوانوں نے اپنے فیس بک صفحوں پر کئی معصوم سوالات کے ساتھ چڑھایا تھا۔ وہ معصومانہ پوچھ رہے تھے کہ ”اس تباہی کا ذمہ دار کون؟ ہم، ہماری مجبوری یا حکومت کی بے حسی؟ ہم کیوں کسی اجتماعی مسئلے پر متحد نہیں ہوسکتے؟ ہمارے مفادات کیوں اجتماعی مقصد کو موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں؟ درال ہمارا ورثہ ہے، بحرین…

Read More

گزشتہ مردم شماریوں میں پاکستان کی ایک کثیر ابادی کو “دوسروں “ یعنی Others میں ڈالا ہے۔ اس لفظ سے ایسا لگتا ہے کہ یہ لوگ پاکستانی نہیں بلکہ “دوسرے “ ہیں پاکستان میں اب تک پانچ مردم شماریاں ہوئی ہیں۔ ملک میں آخری مردم شماری آج سے اٹھارہ سال پہلے 1998 ء میں ہوئی تھی۔ سپریم کورٹ نے موجودہ حکومت کو مجبور کیا ہے کہ وہ اگلی مردم شماری اس سال مارچ میں کرالے۔ حکومت نے بظاہر اس پر رضامندی مشترکہ مفادات کونسل (Council of Common Interests ) کے حالیہ اجلاس میں ظاہرکی ہے۔ یہ مردم شماری ہوتی ہے کہ…

Read More