Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»ماضی کا بوجھ اور اس کا خُمار
    کالم

    ماضی کا بوجھ اور اس کا خُمار

    زبیر توروالیBy زبیر توروالیدسمبر 22, 2020کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    جب کبھی بزرگ احباب یا بیماریوں سے مضمحل لوگوں کو آپس میں مل بیٹھنے کا موقع ملتا ہے تو ایک جملہ ’’ہمارا زمانہ کیا اچھا زمانہ تھا‘‘ بارہا سننے کو ملتا ہے۔ یہ بزرگ جب ’’زمانے‘‘ کی بات کر رہے ہوتے ہیں تو اس سے مراد ان کی اپنی ماضی کی جسمانی و ذہنی حالت ہوتی ہے۔ زمانے کو وہ بطور استعارہ استعمال کرتے ہیں۔ مقصود وقت یا وقت کی روانی میں کوئی خاص دورانیہ نہیں ہوتا اور نہ ہی ماضی کی کسی اجتماعی حالت کا بیان مطلوب ہوتا ہے۔ یہ بزرگ ایک اکیلے پن کا شکار ہوتے ہیں، حال کے دھارے میں عملاََ ان کا کوئی شمار نہیں ہوتا۔ ان کے ساتھ دلچسپی کی باتیں نہیں کی جاتیں اور نہ ہی موجودہ دور کے معاملات میں کسی قضیے سے ان کو متعلق سمجھا جاتا ہے۔

    یہ کرب کیسا ہوتا ہے یہ صرف وہی بزرگ بیان کرسکتے ہیں لیکن ان کے ساتھ المیہ یہ بھی ہوتا ہے کہ انہیں سنتا بھی کوئی نہیں۔ اس کو ماضی کا بوجھ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔

    دوسری طرف کچھ لوگ ایسے ہیں جو ماضی میں لوٹ جانے کی خواہش لیے پھرتے ہیں۔ ماضی کے کسی سنہرے دور کا تخیّل ان کو بے چین رکھتا ہے۔ تاریخ کی کسی بادشاہت میں حاکم کی شخصی/انفرادی خصلتوں کی تعریف کی جاتی ہے، کسی یاغستانی دور کے انسانی سماج میں پائے جانے والے سکوت، خوف اور بے بسی کو سراہا جاتا ہے اور اسے اعلی اخلاقیات، اعلی انصرام و نظم سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

    معاشرے میں جب ماضی اور تاریخ حال سے زیادہ معتبر و مقدم بن جائیں تو ایسے میں کچھ لوگ آگے بڑھتے ہیں اور خود کو ’مصلح‘ بناکر پیش کرتے ہیں، ماضی کے ’احیاء‘ کا نعرہ لگاتے ہیں اور ایک جم غفیر ان کے پیچھے ہوجاتا ہے۔ اس احساس کو ماضی کا خُمار کہا جاسکتا ہے۔

    حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ماضی کا احیاء نہیں ہوسکتا۔ ایسی ہر کوشش تاریخ کے پہیّے کو پیچھے موڑنے کے مترادف ہوتی ہے جو ناممکن عمل ہے۔ سماج کی بہتری اس میں ہوتی ہے کہ نئے نقاضوں کو سمجھ کر، نئے علوم کو اپنا کے، علمی خزانوں کی تلاش کرکے اور نئے افکار کا تجزیہ کرتے ہوئے لوگوں کو علمی طور پر مضبوط کیا جائے تاکہ وہ حال و مستقبل میں اپنی راہیں خود ڈھونڈ سکیں۔

    ارتقائی عمل کے لیے آزادی، برداشت اور انفرادیت کو راہ دینا بنیادی شرائط ہیں۔ جب معاشرہ اس قدر تنگ نظر ہوجائے کہ انسانی زندگی کے تمام زاویوں، ضابطوں، مسائل، افکار اور نظریات کو صرف ایک ہی پیمانے پر ماپے تو پھر علمی و فکری حرکت تھم جاتی ہے، عدم برداشت پیدا ہوتی ہے اور نوجوان ایک نادیدہ خوف کا شکار بن کر زندگی سے ہی بیزار ہوجاتے ہیں۔

    ماضی کوڑے دان میں پھینک دینے کے لیے نہیں ہوتا، یہ انسانیت کا اثاثہ اور کروڑہا زندگیوں کے تجربات کا خلاصہ ہوتا ہے، تاہم کسی بھی پرانے سماجی رویّے یا اس کے مخصوص نظام سے استفادے سے قبل اس کو پرکھنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر مفید محسوس ہو تو اس میں جدّت لاکر ہی اسے عملی جامہ پہنایا جائے، یہ عمل انسانوں کے لیے مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ پرانے تصوّرات کے احیاء میں جدّت پیدا کرنا اور ان کو نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کو ہی سماجی نظریے (تھیوری) کا نام دیا جاتا ہے۔ جہاں جدّتِ خیال یعنی سماجی تھیوری کا فقدان ہوتا ہے وہاں لوگ محض ماضی کے رومان میں گرفتار ہوکر جاتے ہیں، مگر آگے نہیں بڑھ سکتے۔ جب کوئی قوم اندرونی تنقیدی صلاحیت(internal critique)  سے مالامال ہو تو حالات اور مسائل اس کا راستہ نہیں روک سکتے، ورنہ ماضی کے مہین سکوت کا شکار ہوکر تاریخ کے ریگستان میں دفن ہوجاتی ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپاکستانی معیشت اور عالمی اعدادوشمار کے کھیل
    Next Article مردم شماری کے نتائج جاری کرنے کا خوش آئند فیصلہ
    زبیر توروالی

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by