خادم حسین رضوی کے تند و تیز جملوں ،افترا پردازیوں اور پر جوش اندازِ بیاں کی تائید کیے بغیر یہ کہنابالکل بجا ہے کہ انہوں نے ڈیڑھ صدی سے زائد عرصے پر محیط بریلوی مکتب فکر کی خاموشی توڑتے ہوئے اپنے روایتی حریفوں، دیوبندی اور سلفی مکاتب ِ فکر کے خلاف بریلوی بیانیہ کے احیا کی پر زور سعی کی ہے۔نہ صرف یہ کہ خادم حسین رضوی بریلوی کاز کیلئے خاصے مقبول ہوئے بلکہ انہوں نے ریاستی اداروں کی حمایت حاصل کرنے میں بھی کامیابی حاصل کی ، جو مولانا شاہ احمد نورانی ، مولانا عبد الستار نیازی اور احمد…
Author: ادارہِ تجزیات
حالیہ اے ٹی ایم فراڈ نے صارفین کی معلومات کو کسی بھی قسم کے خطرے اورڈیجیٹل معلومات کی چوری سے محفوظ رکھنے کی ضرورت بڑھا دی ہے۔ جس کے بعد مرکزی بینک نے تمام بینکوں کو یہ حکم نامہ جاری کیا ہے کہ وہ 2016 میں پے منٹ کارڈ ز کی سیکیورٹی کیلئے متعارف کروائے گئے قواعدو ضوابط پرعملدرآمد یقینی بنائیں۔ حبیب بنک لمیٹڈ کی انتظامیہ نے اپنے ان صارفین کے نقصان کے ازالے کی یقین دہانی کروائی ہے جن کے اے ٹی ایم کارڈز کی معلومات چوری ہو گئی تھیں ۔ادھر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے بھی واقعے کی تحقیق…
بٹ کوائن کی قیمت 16420امریکی ڈالر کی حد پار کر چکی ہے اور کچھ ماہرین اس کی مالیت میں مزید اضافے کی توقع کر رہے ہیں۔دنیا کا مقبول ترین مجازی سکہ، جس سے لوگ اشیاء کی خرید و فروخت اور کسی بھی طرح کا لین دین بغیر کسی مالیاتی ادارےکی مداخلت یا ثالثی کے کر سکتے ہیں۔ اس کی تاریخ مبہم ہے، پہلے پہل یہ سکہ ہیکرز کی طرف سے اپنی مانگیں پوری کروانے یا پھر غیرقانونی منشیات کی خرید و فروخت کیلئے استعمال ہوتا تھا اور حالیہ دنوں میں یہ سکہ سٹے باز سرمایہ کاروں میں بے پناہ مقبولیت…
پاکستانی عوام کو ملک پر اثر انداز ہوتی غیر یقینی سیاسی صورتِ حال کی کیا قیمت ادا کرنا پڑ ررہی ہے؟ اقتصادیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ سیاسی خلفشارقوم و ملک پر بہت گراں گزرتا ہے۔ پالیسی سازی کا عمل ابہام کا شکار ہو جاتا ہے۔ فیصلہ سازی، سرمایہ کاری،اور بنیادی تقرریوں کا عمل التوا میں پڑ جاتا ہے۔ کارِ حکومت آگے نہیں بڑھ پاتااور پریشر گروپوں کو کھل کھیلنے کا موقع مل جاتا ہے۔ 1960 سے 2014 تک 169 ممالک کے حالات کا تجزیہ کرنے کے بعد آئی ایم ایف کے محققین کی رائے ہے کہ "کابینہ میں تبدیلی …
عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ امریکی سماج نہایت کشادہ و فراخ ہے جو ہر آنے والے نئے فرد کو باآسانی اپنے اندر سمو لیتا ہے۔ جبکہ یہ مفروضہ مکمل طور پر درست نہیں ہے۔ امریکہ آنے والے تمام تارکینِ وطن نے ہمیشہ اپنے ہم وطنوں کے ساتھ رہنے اور اپنی اطالوی،آئرش یا یونانی شناخت برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم پہچان کا یہ معاملہ اس وقت پیچیدگی اختیارکر لیتا ہے جب امریکہ میں رہائش پذیر سیاہ فاموں کی افریقی نژاد، بھارتیوں کی بھارتی نژاد اور پاکستانیوں کی پاکستانی نژاد امریکیوں کے طورپر دوہری شناخت کی تخصیص کی جاتی…
عیسائیوں کے خلاف پر تشدد ہنگاموں ، انکی آبادیوں میں آتش زنی، احمدیوں کے خلاف نفرت انگیزی اور فرقہ وارانہ قتل و غارت پر مبنی مذہبی شدت پسندی کے باعث ذرائع ابلاغ میں پاکستان کا بہت چرچا رہتا ہے۔گزشتہ کچھ عشروں سے اقلیتوں ( غیر مسلم یا غیر سنی) کے خلاف پر تشدد اور مسلسل ہنگامہ آرائی ملکی نظام کا خاصہ بن چکی ہے ، جس میں نرمی کے آثار کم ہی نظر آتے ہیں۔اس صورتِحال کی ذمہ دار قوتوں کا مقابلہ کرنے کیلئے ان رجحانات کی تدوین و تشہیر پہلا قدم ہونا چاہئے اور ایسی کسی بھی کاوش کا…
پانامہ مقدمہ کی سماعت میں عوامی دلچسپی اور مقتدر حلقوں کی عدالت میں دھینگا مشتی سے کاروباری اشرافیہ یہ خطرہ محسوس کررہی ہے کہ پانامہ یا پیراڈائز لیکس سماج میں طبقاتی تفاوت کو ابھار کر کاروباری فضا کومنتشرا ور آلودہ کر سکتی ہیں۔ کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ الزام تراشی کی برانگیختہ روایت کے آگے بند باندھنا ہی ان حالات میں صحیح قدم ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ باہم دشنام طرازی و طعنہ زنی کی بجائے ضرورت اس بات کی ہے کہ بیرون ملک اثاثے رکھنے والے افراد کی دولت کو وطن واپس لانے کی راہ…
اٹھارویں صدی کا پروشیائی سپہ سالار اور عسکری نظریہ ساز کارل وون کلاز ویتس کہتا ہے کہ کسی ملک کی حکومت، عوام اور فوج ملکر ہی جنگ کو منظم کر سکتے ہیں اور وہ ان تین عوامل کو جنگی تثلیث کا نام دیتا ہے ۔ ان عوامل میں ربط و نظم سے فراہم شدہ نظام العمل کی بنیاد پرکسی خطےمیں جنگ لڑی جاتی ہے۔یہ عوامل جنگ کے دوران وجوہات ، جذبات و احساسات اور امکانات و مواقع کی تفہیم ممکن بناتے ہیں۔ حکومت اپنے اقدامات کے جواز کی وجوہات سے عوام کو آگاہ کرتی ہے۔ نتیجتاًعوام کے احساسات و جذبات…
پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما سینیٹر فرحت اللہ بابر نے پاکستان کے نظام انصاف میں موت ہونے یا نہ ہونے پر وسیع مباحثہ کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔سنیٹر فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ ہمارے قانونی نظام میں قانون کا جھکاؤ امیر اور طاقتور لوگوں کی جانب ہے، سزائے موت پر پابندی اٹھنے کے تین سال بعد اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ انسداد دہشتگردی قوانین، فوجی عدالتوں اور گوانتا نامو بے جیل جیسی سزائیں دہشتگردی کے خلاف لڑنے میں کس حد تک کارآمد ثابت ہوئی ہیں۔ سانحہ پشاور کے بعد جیلوں میں موجود دہشت گردوں کو…
سعودی عرب میں حالیہ دنوں ہونے والی اکھاڑ پچھاڑ اور تبدیلیوں کے حوالے سے تجزیوں اور قیاس آرائیوں کی بھرمار ہے۔ ہر شخص اپنے مخصوص فکری رجحان کے حوالے سے صورتحال کو دیکھ رہا ہے اور اس میں سے معانی کشید کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ پاکستان میں لوگوں کو اس ضمن میں درست معلومات تک عدم رسائی اور سعودی پاور پالیٹکس کا صحیح اندازہ نہ ہونے کی وجہ سے جو تبصرے سامنے آرہے ہیں، وہ خواہشات کا آئینہ دار تو ہیں مگر معروضی حقائق سے میل نہیں کھاتے۔ اس مختصر تحریر میں ہم اپنے پرانے تھیسس کو…
