Author: سجاد اظہر

نوآبادیات کے خاتمے کے لیے جو پلان عالمی طاقتوں نے بنایا تھا اس کے تحت ہندوستان کو آزادی ملنی ہی تھی۔ لیکن یہ آزادی اتنی خون آشام ثابت ہوئی کہ آج 75 سال گزرنے کے باوجود نہ صرف یہ کہ نفرت کی دیواریں ختم نہیں ہوئیں بلکہ دونوں ممالک مسلسل حالت جنگ میں ہیں اور اس کی وجہ سے برصغیر کی غالب آبادی غربت اور پسماندگی کے چکر میں پس رہی ہے۔

Read More

عام طور پہ یہ کہا سنا جاتا ہے کہ راولپنڈی شہر جس مقام پر واقع ہے یہ خطہ قدیم تہذیبوں کا مسکن رہا ہے۔ لیکن یہاں کونسی تہذیبیں آباد رہیں، کیسے ارضیاتی تبدیلیوں اور حوادثاتِ زمانہ نے ان آثار پر خاک ڈال دی، اور اس علاقے کے ابتدائی باشندے کون تھے، اور یہ کہ موجودہ شہر کس طرح بالآخر اِس شکل میں ڈھل گیا، یہ ساری تفصیل اوجھل رہتی ہے اور بہت کم اس کا ذکر آتا ہے۔ سجاد اظہر نے اِس مضمون میں عرق ریزی کے ساتھ پرانی آرکائیوز اور تاریخ کی کتب سے ان تمام سوالوں کے جواب…

Read More

کوہستان میں چینی کارکنوں کی بس کو ہونے والے حادثے کی وجوہات کیا تھیں ؟ کیا یہ دہشت گردی کا واقعہ ہے یا پھر کسی فنی خرابی کی وجہ سے بس حادثے کا شکار ہوئی ؟ اس حوالے سے پاکستان کے سرکاری ذرائع کا جو مؤقف  سامنے آیا ہے وہ اسے حادثہ کہہ رہے ہیں جبکہ چینی حکومت اسے دہشت گردی کا واقعہ قرار دے رہی ہے ۔اگر یہ دہشت گردی ہے تو  یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ پاکستان میں چینی کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا ہو ۔ پاکستان میں تقریباً 60 ہزار چینی مختلف ترقیاتی منصوبوں میں شریک…

Read More

بعض اوقات تاریخ کے کسی مرحلے میں ایک ایسا واقعہ رُونما ہوتا ہے جو صدیوں کی روایت بدل ڈالتا ہے۔13جُون1926 ء کی شام راولپنڈی میں بھی ایک ایسا ہی سانحہ پیش آیاجس کے اگلے دن آدھا شہر راکھ کا ڈھیر تھا۔ اس واقعے نے سیاسی وسماجی سطح پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے۔سکھوں اور مسلمانوں کے درمیان صدیوں پر محیط قربت کا تعلق بکھر گیا جس کی شدت کی جھلک تقسیم کے فسادات میں بھی نظرآئی۔ اس واقعے کی تفصیلات عام تاریخی کتب میں کم دستیاب ہیں۔سجاداظہرنے پرانی آرکائیوز اور متأثرہ خاندانوں کے افراد سے انٹرویوز کے ذریعے اس کی…

Read More

بھابڑا بازار راولپنڈی کی تنگ و تاریک گلیوں میں حویلی سجان سنگھ واقع ہے۔ اپنے وقت کے اس عالیشان محل کے مکین کون تھے اور کہاں چلے گئے۔ آج کے جھمیلے میں شاید لوگوں کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں۔ لیکن اگر آپ کو یہ معلوم ہو کہ جس جگہ آج پاکستان کی قومی اسمبلی، وزیر اعظم ہاؤس، سپریم کورٹ، سیکرٹریٹ اور غیر ملکی سفارتخانوں سمیت گولڑہ شریف سے مری کی پہاڑیوں کے درمیان کا علاقہ ہے اس کے مالکان اِسی حویلی کے مکین تھے تو ایک لمحے کو شاید آپ سوچیں کہ وقت کیسی کیسی کروٹیں لیتا ہے۔ اس…

Read More

پاکستان بدھ مت، ہندو مت اور سکھوں کے مقدس مقامات کی سرزمین ہے۔ اگر حکومت مذہبی سیاحت کو فروغ دے تو نہ صرف اربوں ڈالر کی اضافی آمدنی ہو سکتی ہے بلکہ سیاحت سے وابستہ کاروبار کے فروغ سے لاکھوں کی تعداد میں روزگار کے مواقع بھی پیدا ہو ں گے اور اس کے ساتھ ساتھ معاشرے میں تکثیریت کو فروغ ملے گا جس سے سماجی سطح پر بین المذاہب ہم آہنگی اور رواداری کو بھی ترویج ملے گی۔ پاکستان کی موجودہ حکومت نے اس سلسلے میں پیش رفت کی ہے اور 179 ممالک کے شہریوں کوآن لائن ویزا کی…

Read More

آپ کو ہندوستان کا 15 واں وزیراعظم بننے کی مبارکباد ہندوستان کے عظیم فلسفی مہاویر کے اس قول کے ساتھ پیش کرتا ہوں "عدم تشدد اعلیٰ ترین دھرم ہے”۔ آپ زندگی کی 69 بہاریں دیکھ چکے ہیں، میں دوسال آپ سے چھوٹا ہوں۔ آپ کی زندگی بھی انہونیوں سے عبارت ہے اور بہت سی ناممکنات مجھ سے بھی منسوب ہیں۔ ہم اپنی اپنی زندگیوں کی آخری اننگ کھیل رہے ہیں۔ ہمارے سامنے دنیا کی ڈیڑھ ارب آبادی کا آنے والا کل ہے اور پیچھے بد گمانیوں کی ایک پوری تاریخ ہے۔ ہمیں گزشتہ ستر سال سے بھی بہت پیچھے دیکھنا…

Read More

یہ دھرما راجیکا سٹوپہ ہے، 19 مئی، سال 2019ء، بدھ مونکس اپنے وقت کے اس عظیم بدھ سٹوپا کا طواف کر رہے ہیں۔ ان کا ساتھ دینے کے لیے مختلف شعبہ حیات کے لوگوں کے ساتھ وزیراعظم کے مشیر ذولفی بخاری اور سری لنکن ہائی کمشنر بھی موجود ہیں۔  مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لئے یورپ کے سب سے بڑے بدھ پیشوا ڈاکٹر سمانا سری بھی موجود ہیں۔ تقریب کا اہتمام سینٹر فار کلچرل اینڈ ڈویلپمنٹ نے کر رکھا ہے۔ ویساکھ ڈے کے نام سے اس دن کو منانے کا مقصد یہ بیان کیا جاتا ہے کہ گوتم بدھ کو…

Read More

سانحہ جلیانوالہ باغ کو سو سال ہوچکے ہیں مگر انگریز سرکار نے ابھی تک اس قتل عام کی معافی نہیں مانگی۔ شاید محکوم قوموں کے ساتھ غاصب ریاستیں اسی طرح کا سلوک روا رکھتی آئی ہیں۔ سانحہ جلیانوالہ باغ کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ تاریخ کے صفحات پر انگریز دور کی سفاکی کے کئی باب ابھی تک مقفل پڑے ہیں جنہیں کھولنے کی بات ابھی تک نہیں ہوئی۔ ان میں سے ایک باب’’راولپنڈی تجربات‘‘(Rawalpindi Experiments) کا ہے۔ اس بات کا انکشاف سب سے پہلے برطانیہ کے معتبر اخبار ”گارڈین” نے اپنی یکم ستمبر 2007ء کی اشاعت…

Read More

اے ایچ نیئر معروف ماہر ِتعلیم اور دانشور ہیں، انہوں نے ایک بار کہا تھا کہ ہولوکاسٹ کاحادثہ، جس کے نتیجے میں ایک کروڑ ستر لاکھ یہودی مارے گئے تھے ،اچانک رونما نہیں ہوا تھا بلکہ اس نوبت تک پہنچنے میں عرصہ لگا تھا۔ کئی سال تک یہودیوں کے خلاف فضا ہموار کی گئی۔ قتل ِعام کہیں بھی اچانک رونما نہیں ہوتا بلکہ اس سے پہلے بول چال اور رویوں میں تبدیلی وقوع پذیر ہوتی ہے۔ قابل اجمیری کا شعر بھی شاید اسی مناسبت سے ہے کہ وقت کرتا ہے پرورش برسوں              حادثہ ایک…

Read More