نئے پاکستان کے نعرے میں بڑی کشش ہے۔ پرانے پاکستان سے کسی کا مطمئن ہونا مشکل ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اکثر لوگ جو نئے پاکستان کا نعرہ لگاتے ہیں وہ انہی اصول و عقا ئد، اسی نظرئے اور اسی بیانیہ پر نئے پاکستان کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں جس نظریے اور بیانیہ پر پرانے پاکستان کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ جبکہ کچھ لوگوں کے نزدیک اصول، ضوابط، قاعدے، قانون، نظریے، عقیدے، بیانئے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کیونکہ پاکستان کا اصل مسئلہ بیانیہ نہیں بلکہ بدعنوانی ہے، چور بازاری ہے، جھوٹ اور اقربا پروری ہے،…
Author: رشاد بخاری
دہشت گردی اور نجی جہاد کے خلاف حکومتی اداروں کی کوششوں اور اٹھارہ سو علما کے دستخطوں سے جاری ہونے والے حالیہ اعلامیے اور فتوے کا براہ راست تعلق اس سوال سے ہے کہ اگر یہ ملک اسلام کے نام پر بنا تھا تو یہاں ابھی تک اسلامی ریاست کیوں قائم نہ ہوسکی؟ یہ فتویٰ حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلا سوال یہ پوچھا گیا کہ "کیا پاکستان اسلامی ریاست ہے یا غیر اسلامی؟ نیز شریعت کو پوری طرح نافذ نہ کرسکنے کی بنا پر ملک کو غیر اسلامی ملک اور اس کی حکومت یا افواج کو غیر مسلم…
مدارس کے نظام اور نصاب تعلیم میں اصلاحات پاکستان میں ہی نہیں دنیا بھر کے مسلم معاشروں میں ایک پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔ برصغیر پاک و ہند کی دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کو، جسے مولانا محمد قاسم نانوتوی نے1867 میں شاہ ولی اللہ دہلوی کی علمی وراثت کے تسلسل میں قائم کیا تھا، جدید مسلم دنیا میں قدیم اور روایتی دینی علمی روایت کا ایک اہم مرکز مانا جاتا ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے فاضلین نے دنیا بھر میں خاص طور پر ہندستان، پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش میں بے شمار مدارس قائم کیے۔ دیوبند کے مخصوص فکری رجحان اور…
دیگر سرمایہ داروں کی طرح ٹیکسٹائل مل مالکان نے بھی اندھیر مچا رکھا ہے۔ مزدوروں کے خون پسینے کی محنت سے وہ جو بے محابہ سرمایہ کماتے ہیں اس کا عشر عشیر بھی مزدوروں کو نہیں ملتا۔ لیکن خدا کا شکر ہے کہ کچھ لوگ ہیں جو اس سرمایہ دار طبقے کو لگام ڈالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ٹیکسٹائل ڈیزائن میں ہمیشہ اس بات کا خطرہ رہتا ہے کہ دانستگی یا نا دانستگی میں ڈیزائن کا پیٹرن کسی مقدس نام سے مماثلت اختیار نہ کر جائے۔ مقدسات کی خدا نخواستہ توہین اور بے حرمتی کا یہ خدشہ ایسا ہے…
پاکستان میں مذہب ایک ایسا حساس موضوع بن چکا ہے جس کے بارے میں بات کرتے ڈر لگتا ہے۔ دوسروں کے ایمان کو اپنے بنائے پیمانوں سے ناپنے والے چونکہ دوسروں کی زندگی اور تقدیر کا فیصلہ بھی اپنے ہاتھ میں لے چکے ہیں اس لئے یہ ڈر بے جا نہیں کہ کیا خبر کس بات کا کیا مطلب سمجھا جائے اور بات کہنے والے کو ذہن کے کس اچھے یا برے خانے میں فٹ کر کے اس کے بارے میں حکم جاری کردیا جائے۔ دیکھا جائے تو انسان ہمیشہ سے کائنات اور اس کے مظاہر اور اس کارخانہ صبح…
حال ہی میں، یورپی ملک آسٹریا میں الیکٹرانکس کے ایک میلے میں افسانوی حسن اور مصنوعی ذہانت کی حامل سمانتھا نامی ایک گڑیا (روبوٹ) نمائش کے لئے پیش کی گئی، جس سے ملاقات اور بات چیت کے خواہش مندوں کا اتنا ہجوم تھا کہ انہیں قطار میں اپنی باری کا انتظار کرنا پڑا۔ سمانتھا میں وہ تمام محبوبانہ صفات ہیں جن کی چاہ میں دنیا کے شاعروں، ادیبوں، فنکاروں نے دفتر کے دفتر لکھ ڈالے ہیں۔ سمانتھا فلسفے اور سائنس پر گفتگو کرسکتی ہے، اسے ہزاروں لطیفے یاد ہیں، وہ آپ کے لطیف اور خفیف اشاروں کو پہچانتی ہے اور…
غلبہ اسلام کی جدوجہد میں شریک ارکان کیسے سوچتے ہیں اور اسلامی تحریکوں کی کامیابی کی صورت میں بعد کی صورت حال کے حوالے سے ان کے تصورات کیا ہیں۔ مذکورہ مکالمہ میں جناب رشاد بخاری نے اسے واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ (از معاون مدیر) کل ایک دوست سے بڑا دلچسپ مکالمہ رہا۔ وہ بھی میری طرح بچپن سے کچھ آدرشوں کے اسیر، طالب علمانہ ذوق کے ساتھ زندگی کی جدوجہد میں شریک ایک عام آدمی ہیں۔ فرمانے لگے فکر مودودی پر اسلامی تحریکوں اور غلبہ اسلام کے تصور کے حوالے سے تنقید غلط ہے کیونکہ یہ نظریہ…
ایک دعوی ٰیہ ہے کہ فکر کی آزادی کے بغیرعلم و دانش کا خواب نہیں دیکھا جاسکتا، ترقی کی سیڑھی کا ایک زینہ نہیں چڑھا جاسکتا، اقوام عالم میں کسی عزت کی امید نہیں رکھی جا سکتی۔ نہ کوئی نظریہ سازی، نہ کوئی فکراندوزی، نہ کوئی نکتہ آفرینی، نہ کوئی تدبر، نہ کوئی تذکر، نہ کوئی تفکر۔ اگر آپ کو اس دعویٰ سے اتفاق ہے تو پھر افسوس ہے کہ آپ میں اقبال کا شاہین بننے کی صلاحیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ ضرب کلیم میں اقبال فرماتے ہیں۔ آزادیٔ افکار سے ہے ان کی تباہی رکھتے نہیں جو فکر…
آخر ہم ایسی باتیں اور حرکتیں کیوں کرتے ہیں جس سے ساری دنیا ہمیں بے حس، ظالم اور خود غرض سمجھ لے؟ کیا یہ سادہ سی بات سمجھنا مشکل ہے کہ کسی مظلوم سے ہمدردی کرنے سے پہلے اس کی ذات، نسل، مذہب کے بارے میں نہیں پوچھا جاتا۔ ہمارے ایک بہت پیارے دوست بہت پیاری شاعری کرتے ہیں۔ ایک بار ان کی نظموں میں کچھ وقفہ ہوا تو ہم نے موقع غنیمت جان کر اپنا ایک افسانہ ان کے سامنے رکھ دیا۔ چونکہ محبت اور عقیدت اندھی ہوتی ہے اس لیے جناب نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں اور…
رشاد بخاری سماجی کارکن ہیں اور پاکستان میں دیر پا امن اور سماجی ترقی کے لئے کوشاں ہیں ۔ کئی سماجی تنظیموں سے وابستہ رہ چکے ہیں ۔پاکستان کے عصری مسائل پر نہ صرف گہری نظر رکھتے ہیں بلکہ ان کے حل کا ایک جامع خاکہ بھی تجویز کرتے ہیں ۔دنیا کے کئی ممالک کا سفر کر چکے ہیں ۔ان کا یہ مضمون ان کے سفرِ ہندوستان کا احاطہ کرتا ہے جہاں وہ اپنے ایک منفرد تجربے کو بیان کرتے ہیں ۔امید ہے کہ قارئینِ تجزیات کے لئے مضمون خاص اور خاصے کی فکر لئے ہوئے ہو گا ۔(مدیر) یہ…
