Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»خبط عظمت یا احساس مظلومیت ۔۔ ہم کس کے ساتھ کھڑے ہیں؟
    کالم

    خبط عظمت یا احساس مظلومیت ۔۔ ہم کس کے ساتھ کھڑے ہیں؟

    رشاد بخاریBy رشاد بخاریجولائی 7, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    آخر ہم ایسی باتیں اور حرکتیں کیوں کرتے ہیں جس سے ساری دنیا ہمیں بے حس، ظالم اور خود غرض سمجھ لے؟ کیا یہ سادہ سی بات سمجھنا مشکل ہے کہ کسی مظلوم سے ہمدردی کرنے سے پہلے اس کی ذات، نسل، مذہب کے بارے میں نہیں پوچھا جاتا۔

    ہمارے ایک بہت پیارے دوست بہت پیاری شاعری کرتے ہیں۔ ایک بار ان کی نظموں میں کچھ وقفہ ہوا تو ہم نے موقع غنیمت جان کر اپنا ایک افسانہ ان کے سامنے رکھ دیا۔ چونکہ محبت اور عقیدت اندھی ہوتی ہے اس لیے جناب نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں اور ہمارے ماتھے پر بوسہ دے کر بولے، واللہ میں آپ کو منٹو سے بڑا افسانہ نگار مانتا ہوں۔ آپ بھی یقیناًمجھے گلزار سے اچھا شاعر سمجھتے ہوں گے۔ ان کے اس التفات پر تھوڑی دیر کے لیے مجھے سمجھ نہ آئی کہ ان کی بات سے صرف اتفاق کیا جائے یا کلی اتفاق کیا جائے۔ میرے پاس اس کے علاوہ بظاہر کوئی آپشن نہ تھا کیونکہ ان کی بات سے عدم اتفاق کر کے خود کو علم و ادب سے بے بہرہ قرار پانے کا رسک نہیں لیا جا سکتا تھا۔ بات ذرا طول پکڑ گئی، مدعا صرف اتنا تھا کہ بسا اوقات زمانے کی بے قدری بھی انسان کو خبط عظمت میں مبتلا کر سکتی ہے۔ اب یہی دیکھیے کہ عمران خان صاحب کا خبط عظمت قابل فہم ہے کہ ساری زندگی ان کے چاہنے والوں نے انہیں یقین دلائے رکھا کہ ان سا کوئی نہیں۔ اب وہ اتنے لوگوں کی بات پر یقین نہ کریں تو کیا کریں؟ لیکن انہیں یہ کون سمجھائے کہ جناب آپ جیسا یقیناًکوئی نہیں بالکل اسی طرح جیسے کسی بھی شخص جیسا کوئی دوسرا نہیں۔ کوئی افسانہ نگار منٹو نہیں بن سکتا، نہ ہی کوئی اور شاعر گلزار ہو سکتا ہے۔ منٹو اور گلزار اپنی اوریجنیلٹی سے منٹو اور گلزار بنے ہیں۔ اور یہی اصل کلیہ ہے۔ اپنی انفرادیت کا اظہار ہی انسان کو دوسروں سے ممتاز کرتا ہے نہ کہ دوسروں جیسا بننے کی خواہش۔

    مسلمانوں میں بتدریج دو طرح کے رویے نمایاں ہوتے نظر آتے ہیں۔ ایک رویہ خبط عظمت کا ہے اور دوسرا مسلسل بڑھتی ہوئی مظلومیت کے احساس کا ہے۔ بظاہر یہ دونوں رویے ایک دوسرے کی ضد ہیں لیکن درحقیقت دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ فرانس میں دہشت گردی پر مسلمانوں کی طرف سے اظہار ہمدردی ہمارے بعض اپنے ہی ساتھیوں کی طرف سے شدید تنقید کی زد میں رہی۔ کیوں؟ کیونکہ اصل مظلوم تو ہم ہیں! اصل دہشت گردی تو ہمارے ہاں ہو رہی ہے! اصل لاشیں تو ہم اٹھا رہے ہیں۔ دنیا ہمارے ساتھ ایسے ہمدردی کیوں نہیں کرتی؟ کبھی تو ہمارے شہیدوں کو بھی یاد کریں؟ کچھ تو ہماری عظمت رفتہ کا پاس کریں جب ہم نے عرب سے اندلس تک اور ایشیا سے افریقہ تک حکمرانی کی تھی۔ کچھ تو ہمارے علمی احسانات کی لاج رکھیں جب دراصل ہم نے یونانی علوم اور فلسفے کو ترجمے کے ذریعے ان کے لیے قابل فہم بنایا تھا اور ان کے لیے سائنسی ترقی کے در وا کیے تھے۔ اگر آپ تحقیق کریں تو شائد یورپ کی علمی تحریکوں، نشاۃالثانیہ اور انقلاب فرانس میں آپ کو ہمارے ابن رشد اور ہمارے غزالی، ہمارے ماتریدی اور ہمارے معتزلہ اور ہمارے فلاں، فلاں، فلاں، نابغوں کے درمیان ہونے والی علمی بحثوں کے اثرات بھی نظر آجائیں (یہ الگ بات کہ ہمارے اپنے ہاں اس طرح کا انقلاب نہیں آسکا اور جو سلوک ہم نے اپنے نابغوں کے ساتھ اکثر روا رکھا، یہ داستان بھی پھر سہی)۔  

    الزام ہے کہ مثال کے طور پر فرانس کے جھنڈے لہرا کر اظہار یکجہتی کرنے والے (لبرل!) مسلمانوں کو اس وقت بیروت، شام، عراق، افغانستان اور پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی یاد نہیں آئی، کیا اس وقت ان یورپیوں اور استعمار کے نمائندوں نے ہمارے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا تھا؟ جب انہوں نے ہمارے جھنڈے نہیں لہرائے تو ہم کیوں لہرائیں؟ اور بعض کا کہنا تو یہ ہے کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کی طرح پیرس میں ہونے والے یہ حملے بھی خود ان کی اپنی کارگزاری ہے۔ اور پھر ابھی جو لندن میں ہوا۔ حد تو یہ کہ میں نے ایک صحافی کو نجی محفل میں ان حملوں پر باقاعدہ خوشی کا اظہار کرتے دیکھا۔ اگرچہ یہ بات درست نہیں کہ یورپ کے لوگوں نے کبھی مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی اور یک جہتی کا اظہار نہیں کیا۔ ایسی بے شمار مثالیں ہیں جیسے جب امریکی مسیحی، یہودی اور لامذہب خواتین مسلمان خواتین سے اظہار یک جہتی کے لیے خود اسکارف پہن کر نیویارک کی شاہراہوں اور مین ہٹن کے سامنے کھڑی ہوئیں اور جب عراق پر حملوں کے خلاف یورپ میں ملین مارچ کیا گیا اور بہت سے امریکی اور یورپی مصنفین نے علمی سطح پر مسلمانوں کا مقدمہ لڑا۔۔۔غرض جمع کی جائیں تو بہت سی مثالیں مل جائیں گی۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ آخر ہم ایسی باتیں اور حرکتیں کیوں کرتے ہیں جس سے ساری دنیا ہمیں بے حس، ظالم اور خود غرض سمجھ لے؟ کیا یہ سادہ سی بات سمجھنا مشکل ہے کہ کسی مظلوم سے ہمدردی کرنے سے پہلے اس کی ذات، نسل، مذہب کے بارے میں نہیں پوچھا جاتا۔ اور اگر خاص طور پر مسلمان یورپ میں ہونے والی دہشت گردی پر خاموش رہیں گے تو ان ظالموں کے ساتھ کھڑے نظر آئیں گے جو ہمارے مذہب کا نام لے کر اور ہمارا نعرہ لگا کر قتل عام کا آغاز کرتے ہیں۔  

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleگوادر بندرگاہ کی افادیت اور معروضی صورتحال
    Next Article امریکی وفد کا دورہ اور حقانی نیٹ ورک کا تذکرہ
    رشاد بخاری

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by