Author: رشاد بخاری

ایک تصور یہ ہے کہ علم کا آغازاشیا کے نام جاننے سے ہوا۔ پھر جوں جوں انسان آگے بڑھتا گیا علم کا دائرہ پھیلنا شروع ہوا۔ اشیا کی ماہیت، خواص، اثرات سے بات بڑھتی ہوئی،تعلق، تاثر اور تاثیر سے ہوتی ہوئی، اختراع، ایجاد اور تخلیق تک جا پہنچی۔  یہاں سے علوم کے نئے سوتے پھوٹ پڑے۔ ہر دائرے میں نئے دائرے بننے لگے، ہر دائرہ پھیلتا رہا، ہر نئے دائرے سے کچھ نئے رستے نکلنے لگے اور یوں شاخ در شاخ ہوتا ہوا یہ علم مختلف مضامین میں بٹتا چلا گیااور ہر علمی مضمون ایک نیا اور مکمل علم بن…

Read More

اقبال کا ایک معروف شعر ہے: رنگ ہیں سب ناتمام خون جگر کے بغیر؛ نغمہ ہے سودائے خام خون جگر کے بغیر عام طور پر اس شعر کو محنت کی عظمت واضح کرنے کے لئے پیش کیا جاتا ہے کیونکہ اس میں زندگی کے سارے رنگوں اور نغمگی کو خون جگر یعنی سخت محنت سے مشروط کردیا گیا ہے۔ بات تو بظاہر بالکل صحیح ہے۔ لیکن اس بات سے پہلے کی ایک بات ہے جسے اکثر نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ اس میں خون جگر کا حاصل بھی رنگ اور نغمے کو بتایا گیا ہے۔ رنگ یعنی تصویر، نغمہ یعنی موسیقی۔…

Read More

مشہور شاعر اور ادیب آسکر وائلڈ نے اپنے واحد ناول ’ ڈورین گرے کی تصویر[1]‘ کے دیپاچے میں ایک جملہ لکھا کہ ’تمام آرٹ تقریبا بے کار ہے‘[2]۔  اس ایک جملے نے آرٹ کی اہمیت اور افادیت کے بارے میں بڑا سوال کھڑا کردیا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے 1891 میں آسکر کو خط لکھ کر پوچھا کہ کیا اس کے اس خیال کہ تمام آرٹ تقریبا بےکار ہے کی تفصیل اس کی کسی کتاب میں مل سکتی ہے؟ آسکر نے جواب میں کوئی حوالہ دینے کی بجائے اپنی رائے ظاہر کی کہ ’ آرٹ اس لئے بے…

Read More

ایک اچھی خبر یہ ہے کہ دنیا سے جنگوں کا خاتمہ ہو رہا ہے۔ تاریخ کے تمام ادوار میں جنگ ایک لازمی اور امن ایک عارضی حقیقت تھی۔ بین الاقوامی تعلقات میں جنگل کا قانون رائج تھا، جس کے مطابق دو ملکوں کے درمیان حالت امن میں بھی جنگ کا آپشن ہمیشہ موجود رہتا تھا۔ مثلا 1913میں اگرچہ فرانس اور جرمنی میں امن تھا لیکن 1914 میں سب جانتے تھے کہ ان میں کسی بھی وقت جنگ شروع ہو سکتی ہے۔ سیاستدانوں، جرنیلوں، تاجروں اور عام لوگوں کی طرف سے مستقبل کی کسی بھی منصوبہ بندی کا مطلب جنگ کی…

Read More

قحط کے بعد انسانوں کے دوسرے سب سے بڑا دشمن وبائی امراض تھے ،جو کسی ایک علاقے میں پھیلتے تو انسانوں کی نسلوں کی نسلیں تباہ کردیتے۔ وہ گنجان آباد شہر جہاں تاجروں اور سیاحوں کی بہتات ہو ،وہ اگر ایک طرف  انسانی تہذیب و ثقافت کا مرکز بن جاتے تو دوسری طرف جان لیوا وبائی امراض کی آماج گاہ ہوتے۔ کسی وباء کا شکار ہوجانے کا خوف اکثر لوگوں کو رہتا۔ چودھویں صدی کی تیسری دہائی میں بلیک ڈیتھ کے نام سے مشہور ہونے والی وبا سے دنیا بھر میں کروڑوں لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔ قریب بیس سال کے…

Read More

صرف چند صدیاں قبل دنیا میں قحط ایک بہت بڑی آفت تھی۔1694میں فرانس کے شہر بیواس میں ایک فرانسیسی افسر نے اس وقت فرانس میں جاری قحط کے اثرات اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بارے میں لکھا کہ اس پورے ضلعے میں لاتعداد لوگ اتنے غریب ہیں جنہیں مسلسل بھوک نے لاغر اور ضرورتوں نے مرنے کے قریب پہنچا دیا ہے۔ ان کے پاس نہ کوئی کام ہے نہ وہ کوئی خوراک خریدنے کی سکت رکھتے ہیں۔ اپنی زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے اور شدید بھوک مٹانے کے لیے وہ بلیوں اور کوڑے کے ڈھیروں سے اٹھا…

Read More

آج کل ایک بہت دلچسپ کتاب زیرمطالعہ ہے جو زمین پر زندگی کے بارے  میں سوچنے کے کچھ نئے رخ سامنے لارہی ہے۔ اسرائیلی ماہر تاریخ و سماجیات یووال نوح ہراری کی کتاب ’ہومو ڈیوس کی کتاب (انسانی خدا ۔۔ مستقبل کی ایک مختصر تاریخ) اپنی پہلی اشاعت کے بعد سے اب تک لاکھوں کی تعداد میں فروخت ہوئی ہے اور اس کی وجہ اس کتاب میں پیش کیے گئے انسانوں کے ماضی اور مستقبل کے بارے میں غیر روایتی اور غیرمعمولی تصورات ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان خیالات کو پڑھتے ہوئے لگتا ہے کہ یہ تو…

Read More

دنیا میں جتنے مرد ہیں کم و بیش اتنی ہی عورتیں ہیں۔ خوبصورت، وجیہ و شکیل، مخلص، کامیاب اور پیار کرنے والے نہ مردوں کی کمی ہے، نہ ہی حسین و جمیل،  خوش ادا، خوش گفتار، خوش کردار، احساس و شائستگی کی پیکر عورتوں کا کوئی کال ہے۔ پھر یہ کیوں کہ ہر دوسرا شخص انسانوں کے اس ہجوم میں خود کو تنہا سمجھتا ہے؟ ارے ارے سنیے، یہ کوئی مذاق کی بات نہیں، نہ ہی یہ کوئی معمولی مسئلہ ہے۔ احساس تنہائی کا یہ روگ اس سماج کی رگوں میں بیٹھا ہے۔ خاص طور پر ہمارا پڑھا لکھا، حساس…

Read More

[برطانیہ میں مقیم معروف ماہر اقتصادیات اور سماجیات ڈاکٹر امرتیا سین کا تعلق اسی برصغیر پاک و ہند کی مٹی سے  ہے۔ انہیں1998 میں  اقتصادیات کا نوبل انعام ملا۔ یہ مضمون 2006میں ان کی شائع شدہ انگریزی کتاب”شناخت اور تشدد ۔۔۔ تقدیر کا واہمہ”کے ابتدائیہ سے لیا گیا ہے۔ اس میں مصنف کا خیال ہے کہ مخصوص انفرادی گروہی شناختوں کو انسانوں پر مسلط کردینے سے تشدد پیدا ہوتا ہے۔ ایک انسان کی بہت سی شناختیں ممکن ہیں اور انہیں محض مذاہب اور تہذیبوں کی مخصوص زمرہ بندی میں جکڑا نہیں جا سکتا۔ تجزیات آن لائن کے کالم نگار اور…

Read More

عفریت (ظالم) کا مقابلہ کرنے والے کو متنبہ رہنا چاہیئے کہ کہیں اس دوران وہ خود عفریت (ظالم) نہ بن جائے کچھ عرصہ قبل میں اپنے ایک پرانے ہم جماعت سے ملنے گاؤں کے سکول گیا، جہاں وہ پڑھاتے ہیں۔ میں ان کی جماعت کے کمرے کے سامنے پہنچا تو دیکھا کہ وہ بچوں کو بری طرح سے مار رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر تھوڑا سا جھجکے، پھر مسکرائے، پھر پوری باچھیں کھول کر میرا استقبال کیا۔ اس دوران اپنے شکنجے میں موجود بچے کی کمر پر ایک دوہتڑ لگا کر اس کی خلاصی کی اور بچوں کو خاموشی…

Read More