امریکہ ا ور روس کے درمیان سفارتی کشیدگی جو بنیادی طور پر برطانیہ میں جاسوس کو زہر دے کر ہلاک کرنے سے شروع ہوئی ،وہ اب مغربی ممالک کی جانب مشترکہ اقدامات کی صورت اختیار کررہی ہے۔امریکہ اس کشیدگی کا ماضی قریب کی طرح اب بھی قائد ہے، اس نے تجارتی توازن کے نام پر چین سے بھی مخاصمت کا آغاز کیا ہوا ہے جبکہ یورپ کے ساتھ بھی تجارتی محصولات کے نفاذ کے ذریعے تجارتی جنگ میں الجھا ہوا ہے، تاہم مغرب سابقہ اتحادی ہے تو امریکہ بھی حلیف ہے، چنانچہ مختلف محاذوں پر تجارتی،سفارتی کشیدگی کے احیاء نے…
Author: راحت ملک
تیزی سے بدلتی سیاسی صورتحال میں مستقبل کی پیشگوئی کرنا یا تخمینہ لگانا اب محض شعور اور سیاسی ادراک کی استعداد پر منحصر نہیں رہا۔ حالانکہ آئینی ریاست کے دعوے کی موجودگی میں سیاسی عمل کی ہموار اور طے شدہ واقعاتی ترتیب کو بیان کرنا قدرے آسان ہونا چاہیے مگر شومئی قسمت کہ پاکستان آئین کی موجودگی میں بھی مجہول یا گومگو کی کیفیت میں نظر آرہا ہے ۔ یہاں آئینی حوالوں سے طے شدہ اور معلوم راستوں پر گہری دھند چھا رہی ہے ۔ چنانچہ پیشگوئی کی درجہ بندی اور عملی استدلال یا حکمت عملی مترب کرنے میں بہت…
بے شمار خدشات،امکانات اور کوششوں کے طاقتور مغلوبے کی شدید موجودگی کے باوجود تین مارچ2018 کو ملک بھر میں سینیٹ کے واجب نصف ارکان کا انتخاب ہوگیا ہے۔انتخاب کا انعقاد بذات خود مستحسن مرحلہ ہے جسے جمہوری نظم کی فتح قرار دیا جارہا ہے تو دوسری جانب اس انتخابی معرکے سے وابستہ کئی امور و واقعات انتہائی ناخوشگوار تشویش کے حامل ہیں۔سینیٹ انتخاب کے عدم انعقاد کے خدشے کا تعلق اس پس پردہ تقاضے اور روبہ عمل کوشش سے تھا جو براہ راست مجوزہ عام انتخابات2013کے ممکنہ نتائج کے بطن سے ایک مضبوط ومستحکم پارلیمانی حکومت کے قیام سے متعلق…
2017سے پاکستان میں جاری سیاسی چپقلش کی شدت میں اب روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔احتساب کے دلکش عوامی مقبولیت کے حامل نعرے کے ذریعے بدعنوانی کے خاتمہ دراصل مقتدر سیاسی دھڑے کے اندرونی تضاد کی کہانی ہے۔اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد اس سے الگ ہونے والی پڑوسی یورپی ملکوں میں روسی فیڈریشن کے اہم ہمسائے یوکرائن میں ماسکو مخالف صف بندی کا آغاز ہوا۔ جیف مگن کے الفاظ ہیں: ’’2004ء نارنگی انقلاب کے بعد،یوکرائن میں امرا کے حریف ٹولوں کے درمیان ہونے والی تگ ودو،بظاہر تو ایک عوامی انقلاب نما عمل تھا۔لیکن…
بنام پانامہ جو کچھ ہوا ہے وہ بدعنوانی کے تدارک کے علاوہ باقی دیگر غیر متعلقہ معاملات کیلئے موثر ثابت ہوا ہے۔ ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہوا۔مختلف ریاستی ادارے جو آئین کے تحت قائم ہوئے ہیں، قانون ساز اداروں کے مقابل صف آرا نظر آئے۔مختلف ذرائع سے سیاسی عمل میں قانون کی بالادستی کے نام پر ایسی مداخلت کی گئی جس نے ملکی آئین کی بعض دفعات کوموضوع بحث بنا دیا۔184/3،سوموٹو ایکشن اور الیکشن کمیشن کے اختیارات میں اعلیٰ سطحی عدالتی مداخلت جیسے اقدامات نے آئین پاکستان میں ریاستی اداروں میں قائم اختیارات کے توازن کودھندلا دیا ہے…
امریکی نائب صدر نے پاکستان کو جو دھمکی دی ہے وہ نئی نہیں البتہ اس بار دھمکی کی نوعیت میں فاصلہ اور الفاظ مختلف استعمال ہوئے ہیں۔نائب صدر نے اس تنبیہ کیلئے افغانستان کے غیر اعلانیہ یا خفیہ دورے کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ پاکستان سے کتنے کم فاصلے سے بات کررہا ہے، ایک ایسے مقام سے جو امریکا کا ریپڈ رسپانس فوجی مرکز بھی۔نائب صدر نے کم فاصلے کے ذریعے،اپنی تنبیہ کی شدت کا احساس دلانے کی کوشش کی ہے لیکن اس مقصد کیلئے اسلام آباد کا دورہ یا اپنے سفیر کے ذریعے…
شہری اور ریاست کے درمیان تعلق کا رشتہ محض طاقت و اطاعت سے نہیں بلکہ رضا کارانہ اور تسلی بخش شہری کی موجودگی سے جنم لیتا ہے۔ الیکشن اصلاحات کیلئے ہونیوالی آئینی و قانونی ترمیم کے اختتامی مرحلے،یعنی ایوان بالا سے منظوری کے دوران ایک غلطی کی نشاندہی پر سابق وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے مسودے میں ترمیم کی حمایت کی مگر ایوان بالا میں موجود اکثریتی جماعت و ارکان نے اس اصلاح کو تسلیم نہ کیا۔ چنانچہ بروقت اصلاح کا عمل ممکن نہ ہوسکا ۔جس کے نتیجہ میں ملک میں بھرپور احتجاج کاآغاز ہوا ۔مختلف شرعی فتوے صادر…
گھمبیر صورتحال کے دورخے پہلو نے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔اندرونی کشمکش اور بیرونی دباؤ کے دوران ملک بھر میں سماجی خلفشار اور سیاسی عدم استحکام کی روز بروز بڑھتی ہوئی بھیانک صورتحال ہر اس شخص کو ذہنی خلجان میں مبتلا کررہی ہے جو ملک کی سلامتی ،ترقی،امن و امان اور روشن مستقبل کی خواہش رکھتا ہے،نیز اپنی امنگوں کی تکمیل کیلئے آئین و قانون اور پارلیمان کی بالادستی پر اعتماد و یقین رکھتا ہے۔اسلام آباد دھرنے کے علانیہ مقاصد کی اہمیت و حساسیت مسلمہ ہے ۔سیاسی اور گروہی اقتدار جیسے محدود مقاصد کیلئے دین اسلام کا…
پی ٹی آئی شدو مد سے گزشتہ چند ماہ سے قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کررہی ہے ۔قبل از وقت سے اسکی مراد مارچ2017 سے پہلے انتخابات کا انعقاد ہے تاکہ موجودہ اسمبلیاں سینیٹ کے انتخاب کا آئینی حق و فرض ادا نہ کر پائیں۔اس کے ساتھ ہی ساتھ پی ٹی آئی کے جناب شاہ محمود قریشی نے سپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے بلائے گئے اجلاس میں شرکت کی جس میں انتخابات مقررہ وقت پر کرانے کیلئے مطلوب اقدامات پر اتفاق رائے ہوا۔تاہم پی ٹی آئی میں موجود مشرف کے رفیق خاص جناب فواد چوہدری نے گزشتہ روز…
سپریم کورٹ کے فیصلے اور نواز شریف کی نااہلی کے بعد جن نام نہاد مبصرین نے دعویٰ کیا تھا کہ نواز شریف اس فیصلے کے بعد مقتدر قوت کے ساتھ ڈیل کرکے باہر چلیں جائیں گے کیونکہ میاں نواز شریف کی سرشت میں مصالحت،موقع پرستی گہرائی کے ساتھ سرایت شدہ ہے،لہٰذا وہ مزاحمت نہیں کریں گے۔اب وہی گروہ میاں نواز شریف کی مزاحمتی پالیسی کو ہدف تنقید بنا رہا ہے اور شہباز شریف کے موقف کی تائید کررہا ہے کہ مفاہمت کے ذریعے مقتدر حلقوں سے صلح کرلی جائے۔ناقدین میاں شہباز شریف کی سوچ کو مدبرانہ عملیت پسندی ثابت کررہے…
