Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»میں جانتا ہوں انجام اُس کا
    کالم

    میں جانتا ہوں انجام اُس کا

    راحت ملکBy راحت ملکنومبر 28, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    گھمبیر صورتحال کے دورخے پہلو نے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔اندرونی کشمکش اور بیرونی دباؤ کے دوران ملک بھر میں سماجی خلفشار اور سیاسی عدم استحکام کی روز بروز بڑھتی ہوئی بھیانک صورتحال ہر اس شخص کو ذہنی خلجان میں مبتلا کررہی ہے جو ملک کی سلامتی ،ترقی،امن و امان اور روشن مستقبل کی خواہش رکھتا ہے،نیز اپنی امنگوں کی تکمیل کیلئے آئین و قانون اور پارلیمان کی بالادستی پر اعتماد و یقین رکھتا ہے۔اسلام آباد دھرنے کے علانیہ مقاصد کی اہمیت و حساسیت مسلمہ ہے ۔سیاسی اور گروہی اقتدار جیسے محدود مقاصد کیلئے دین اسلام کا نام استعمال کرنا بذات خود تشویش ناک عمل ہے۔حکومت جو پہلے ہی مشکلات کی شکار ہے ،کیلئے دھرنے والوں سے قانونی اختیار کے ساتھ نمٹنا ناممکن بنا دیا گیا تھا۔اصل دھرنا وہ نہیں تھا جس نے اسلام آباد اور پنڈی کے شہریوں کی زندگی مفلوج بنا رکھی تھی۔فیض آباد پر قابض افراد انتظامی مشینری کیلئے خوف زدگی کا سامان نہیں رکھتے تھے بلکہ اس کے عقب میں موجود پراسرار رموز و عوامل کے امکانات سے وہ خدشہ ابھرا تھا، جس نے درحقیقت ریاست کی قانونی اتھارٹی کو بے بس و مفلوج بنا کر رکھ دیا تھا اور خوف و خدشات کے مذکورہ سائے جو ریاستی مشینری کے درمیان موجود تناؤ،کھینچاتانی اور عدم اعتماد و تعاون کے تناظر میں پیدا ہوئے تھے ۔ بالفاظ دیگر ریاست داخلی تقسیم کے گہرے بحران میں جا چکی تھی جس سے دھرنے کی طوالت سامنے آئی اور بالآخر عدالتی احکامات کے تحت جب حکومت نے سول انتظامیہ کو قانونی کارروائی کا حکم دیا تو بھی اعتماد کا فقدان اور تعاون کا داخلی خوف آپریشن کے اقدامات پر حاوی رہا۔حکومت سمجھتی اور درست طور پر جانتی تھی کہ انتظامی طاقت کے استعمال میں ایک نیا ماڈل ٹاؤن سانحہ جنم لے گا جس سے ملک میں سیاسی عدم استحکام کو منطقی انجام تک لے جانے میں مدد لی جائے گی۔ذرائع ابلاغ جو آپریشن سے قبل حکومتی نااہلی کو ثابت کررہے تھے ،آپریشن کے آغاز سے ہی بدل گیا اور حکومت کے اقدامات کا ناقد بن گیا۔یہ سماج کی مفروضہ بصیرت میں پائے جانے والے دوغلے پن کا اظہار ہے جو ریاست کے پورے نظم کو بری طرح متاثر کرتا آرہا ہے۔

    آپریشن کے بعد واقعات جس تیزی سے سامنے آئے وہ انہونے نہ تھے۔مسئلہ یہ تھا کہ حکومت پر ایک جانب سماجی دباؤ تھا تو دوسری جانب سے عدلیہ کے احکامات ۔نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن۔کیا حکومت کی جانب سے بروئے کار لائی جانے والی قانونی قوت بلاجواز ہے؟نیز کیا سارے منظر نامے میں آئین سے انحراف پر مبنی پگڈنڈیاں دکھائی نہیں دے رہی ہیں؟پاکستان میں معیشت حاکمہ کی نوعیت ریاستی وحدت اور یکجہتی پر کس نوعیت کے اثرات مرتب کررہا ہے؟ایسے سوالات ہیں جن سے گریز ممکن نہیں۔بجا کہ اس سفر میں کئی مشکل مراحل و مقامات بھی ہیں ۔کیا بحران کے شدید ترین لمحات میں خاموشی و غیر جانبداری یا لاتعلقی،ذمہ دارانہ شہری اور آئین کی دفعہ پانچ کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوگا؟
    افراد نہیں زمین کے نعرہ مستانہ کا انجام ہم دیکھ چکے۔اب زمین پر بسنے والے افراد اور انہیں ایک متحدہ شہری بنانے والے دستور پاکستان کے دفاع پاسداری و بالادستی کا تعین ہی ریاست و شہری کے درمیان رشتے اور ملکیت کے مضبوط احساس کو جنم دیتا ہے۔میرے لئے پاکستان اور آئین ایک جسم کے دو نام ہیں اور یہی دو نام مجھے تحفظ و سلامتی کا احساس دلاتے ہیں۔

    حکومت اور اسلام آباد کی شہری انتظامیہ نے سماجی شخصیات و دیگر دستیاب ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے دھرنا مظاہرین سے پرامن طور پر فیض آباد چوک خالی کرانے کی کوششیں کیں۔یہی اسلام آباد ہائیکورٹ کی بھی منشا تھی۔دھرنا قائدین کی ضد اور ہٹ دھرمی نے بات چیت  او رپرامن ذرائع بند کردیئے۔سوال یہ بھی ہے کہ دھرنے والے اتنے ہٹ دھرم کیوں تھے؟کیا یہ ہٹ دھرمی مذہب  کا تقاضہ ہے یا دھڑن تختہ کرنے کی خواہش؟آپریشن کے بعد ملک بھر میں ہم خیال افراد کا مشتعل ہونا نوشتہ دیوار تھا۔حکومت نے ذرائع ابلاغ کا گلا گھونٹ کر افواہوں اور بے چینی پھیلانے والوں کیلئے آسانی پیدا کردی، نیز دھرنے کے خاتمے کے نتیجے میں جن خدشات پر مبنی رد عمل کا اظہار ہورہا تھا، ان کے تدارک کی مکمل منصوبہ بندی نہیں کی۔یہ کوتاہی مسلمہ ہے مگر عجلت اور دباؤ کے نتیجے میں اسی طرز عمل کا اظہار ہوتا ہے۔عدلیہ کو توہین عدالت کی کارروائی سے گریز کرنا چاہیے تھا۔اس کی عجلت نے نامکمل منصوبہ بندی پر مبنی آپریشن کرنے کی راہ ہموار کی۔

    اس دھرنے کا بنیادی مسئلہ اور پس پردہ صورتحال بدامنی اور دیگر امور سے قطعی مختلف ہے۔بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے اور آئین پر عمل درآمد سے جن اقدامات کا انعقاد یقینی ہونا چاہیے۔ان میں وفاقی اکائیوں کی منتخب شدہ اسمبلیوں کے ذریعے ایوان بالا(سینیٹ) کے نصف ارکان کا مارچ2018میں انعقاد اہم ترین مرحلہ ہے جس کے مابعد اثرات اگر عام انتخابات میں مداخلت نہ ہو تو ایک مستحکم پارلیمانی جمہوری حکومت کے قیام کی صورت نکل سکتے ہیں اور چونکہ اس تمام عمل کے نتیجے میں مسلم لیگ نون ہی اقتدار کی مالک بن سکتی ہے ۔چنانچہ خدشہ ہے کہ نئی پارلیمانی صورتحال میں مسلم لیگ اقتدار کے ساتھ ساتھ اختیارات کا بھی عملی مطالبہ یا مظاہرہ کرسکتی ہے۔ لہٰذا طاقتور حلقے آنے والی حکومت کو مفلوج رکھنے کیلئے سرگرم عمل ہیں۔

    پاکستان اور اس کے ادارے ہمارے ہیں،ان اداروں کے درمیان تقسیم کار و اختیارات کی واضح حد بندی آئین پاکستان میں درج ہے۔بطور شہری ہم آئینی حدود پر مکمل عملدرآمد پر اتفاق رکھتے ہیں جو ہمیں بطور شہری رعایا نہیں ریاست سے جوڑتے ہیں۔ چنانچہ پسند و ناپسند سے بالاتر ہو کر آئین پاکستان پر حرفاً اور معنوی اعتبار سے عمل کیا جائے۔یہی راستہ وفاقی جمہوری پارلیمانی پاکستان کے استحکام،ترقی اور سالمیت یقینی بناتا ہے۔دوسرا کوئی راستہ یا لائحہ عمل عوام اور ریاست کے بندھن کو توڑ سکتا ہے۔ سینیٹ کے اور آئندہ عام انتخابات کے بروقت شفاف انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے پارلیمانی جماعتیں مطلوبہ ترامیم کیلئے اپنا حصہ ڈالیں اور انتخابات کے التوا،تاخیر کے حربوں کو ناکام بنائیں ورنہ ٹیکنوکریٹ حکومت کے دور میں جو کچھ ہوگا وہ بیان کرنا مناسب نہیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleحکومت و ریاستی اداروں میں تقسیم اور مذہب کے نام پر سیاست
    Next Article مڈل کلاس اور اشرافیہ کے باہمی تعلق کی بنیاد
    راحت ملک

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by