کورونا وائرس پھیلنے کے بعد صوبہ بلوچستان میں رونما ہویے واقعات و پالیسی احکامات کے نتائج نیز بلوچستانی عوام پر مرتب ہونے والے کثیر الجہت اثرات پر بحث مباحثہ اور ایک متفقہ حکمت عملی مرتب کرنے کیلئے 20مارچ2020ء کو بلوچستان صوبائی اسمبلی میں موجود حزب اختلاف کے ارکان نے اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی درخواست جمع کرائی تھی اس درخواست پر اسمبلی اجلاس طلب کرنے کی بجائے اسمبلی کے سپیکر جناب عبدالقدوس بزنجو نے ذرائع ابلاغ کے ذریعے کارونا وباء کی مخدوش صورتحال کے باعث حزب اختلاف سے اپنی ریکوزیشن واپس لینے کی اپیل کی تھی لیکن یہ بتاناضروری…
Author: راحت ملک
محترمہ کلثوم نواز مرحومہ کی نماز جنازہ میں عوام کی کثیر اور سیاسی خواص کی وسیع الجہت شرکت کے باعث سماجی رویوں اور پھر سیاسی حرکیات میں تبدیلی کا استعارہ بنا دیا گیا ہے چنانچہ دوسری جانب سے نئی صف بندی کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔نیب نے جمعہ کے روز(14ستمبر) کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت مقدمے میں اپنے دلائل سے گریز کیا تھا ، اس کا جواز جو بھی تھا لیکن نیب پراسیکیوٹر نے سوموار(17 ستمبر) کو دو گھنٹے میں اپنے دلائل مکمل کرلینے کی واضح یقین دہانی کرائی تھی مگر نئی صف بندی کے مطابق ہفتے کے…
25 جولائی 2018 کو انتخابات کے نام پہ جو نتیجہ برآمد ہوا وہ متوقع بلکہ طے شدہ تھا البتہ حیرت انگیر بات صرف یہ ہے کہ جس طرح کیا گیا ہے اس کی توقع نہیں تھی ۔ شائد یہ اخلاقی اصو ل پسندی اس طرح کے اقدامات کا پیشگی اندازہ لگانے کی راہ میں آڑے آتی رہی ہوگی ۔ بہرطور انتخابی عمل میں الیکشن کمیشن اور نگران حکومتوں کے متعلق ان تمام مثالی تصورات کو رد کردیا ہے جو غیر جانبدار شفاف انتخابات کے انعقاد کے تقاضو ں کی تکمیل کے لئے ان اداروں سے وابستہ کئے جاتے رہے…
عام انتخابات 25 جولائی کوہوں گے؟ یہ سوال اب بھی بعض ذہنوں میں موجود تھا۔ شکوک و شبہات کی وجہ بیان کرنا مشکل ہے . تا ہم کچھ قابل قبول و عام فہم مفروضے جن کو حالیہ واقعات نے مصدقہ حیثیت دے دی ہے، ان کا حوالہ دینا یا تذکرہ کرنا سہل ہے ۔ قارئین تمام واقعات اور رونما ہونے والی تبدیلیوں سے آگاہ ہیں۔ بڑا خیال ہے کہ اگر ریاست اخلاص کے ساتھ ( ریاست سے مراد مقتدر حلقے ) اس بات میں احتساب کے متعلق دلچسپی رکھتی تو وہ افراد کے احتساب کی بجائے رائج معاشی سانچے کو…
2018 کے اعلامیہ انتخابات مختلف مراحل طے کرتے ہوئے پولنگ کے حتمی عمل کے قریب ہوتے جا رہے ہیں ۔ لیکن خدشات کی شدت میں تاحال کمی نہیں آرہی ، بتدریج مراحل طے کرنے سے انتخابات کے انعقاد کے بارے میں تمام شکوک دور ہونے جانے چاہیئے تھے لیکن ایسا ہو نہیں رہا۔ کیونکہ اس کہانی میں ہر روز کوئی ایسا نیا واقعاتی موڑ سامنے آرہا ہے جو اولاََ تو انتخابات کے انعقاد کو بناتا ہے ۔ ثانیاََ مذکورہ انتخابات کی شفافیت کو ۔۔۔۔! اس طرح یہ اتفاق رائے ابھر رہا ہے کہ یہ انتخابات جانبدارانہ ہوں گے ۔اور یہ…
عام انتخابات کا اعلان کردہ نظام الاوقات کے مطابق اپنے مراحل طے کرتے ہوئے حتمی معرکہ آرائی کے مرحلے میں داخل ہورہے ہیں۔کاغذات نامزدگی کی ابتدائی جانچ پڑتال ہو چکی ہے،آر اوز کے فیصلوں کی حمایت یا مخالفت میں الیکشن ٹریبونلز کے فیصلے آچکے ہیں۔دریں حالات انتخابات کے مقررہ وقت یعنی25جولائی2018 منعقد نہ ہونے کے متعلق تشکیک پسندی معقول نظر نہیں آتی، تاہم یہ نتیجہ سطحی انداز کا حامل ہے چند واقعات اب بھی انتخابات کے پرامن شفاف اور مقررہ اعلان کے مطابق منعقد ہونے کے متعلق مشکوک قیاس آرائیوں کیلئے کافی جواز مہیا کرتے ہیں۔عمران خان نے چاروں صوبوں…
1970کے انتخابات میں شریک سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے آئینی خاکے متعارف کرائے۔عوامی لیگ کی آئینی سکیم دیگر تمام جماعتوں کے برعکس زیادہ واضح اور سیاسی اقتدار کی تقسیم پر مبنی تھی ،تاہم ان کا مرکزی نقطہ مشرقی پاکستان کے عوام اور ان کے مسائل کے حل پہ استوار تھا۔ملک کے دیگر حصوں کے متعلق عوامی لیگ کا رویہ رنجش اور لاپرواہی والا تھا۔عوامی لیگ بنیادی طور پر ملک کے دونوں حصوں میں وفاقیت کے بجائے مغربی و مشرقی منطقوں پر مشتمل کنفیڈرل سیاسی ڈھانچہ قائم کرنے میں دلچسپی رکھتی تھی، حالانکہ اسے مغربی بازو نیپ کے مکتب فکر کی…
اندرونی مخاصمت،سیاسی آ ویزش،تقسیم در تقسیم اور سیاسی عدم استحکام نے ملک کی بقا کو خطرات سے دوچار کردیا ہے۔سلامتی کا مکمل انحصار سیاسی معاشی استحکام پر مبنی ہے۔ منتخب حکومتوں کی موجودگی میں ہی الیکشن کمیشن نے انتخابی شیڈول کی باضابطہ منظوری کے بعد اعلامیہ جاری کردیا تھا جسے عجلت پسند رویے کے طور پر دیکھنا بہتر طرز عمل ہوگا۔جبکہ بلوچستان اسمبلی نے اپنی آئینی مدت کے آخری لمحات میں انتخابات کے التوا کی قرارداد منظور کرکے انتخابات کے مقررہ وقت پر انعقادکو مشکوک بنانے میں پہل کی۔دیگر مسائل بھی انتخاب کے التوا کے خدشات بڑھا رہے ہیں۔تمام واقعات…
سوویت یونین کی انتہائی فعال مضبوط اور طاقتور خفیہ ایجنسی کے جی بی کو ماسکو کی ہیئت حاکمہ میں اہم مقام حاصل تھا اور وہ عالمی سطح پر بھی اپنی مسلمہ اہمیت رکھتی تھی۔امریکی سی آئی اے اور کے جی بی سرد جنگ کے ایام میں دونوں حریف گروہوں کی پراکسی کے بنیادی کردار تھے۔کے جی بی میں انتہائی اہم انتظامی عہدے پر فائز رہنے والے سرگئی انتیوف کی کہانی ہمارےلیے بہت سے اسباق اپنے پہلو میں سموئے ہوئے ہیں۔ کے جی بی کو اطلاع ملی تھی کہ سرگئی انتیوف سی آئی اے کے لیے کام کرتے ہیں، چنانچہ ان…
بیسویں صدی کے معروف مغربی مفکر رالز نے انصاف کو بطور راست بازی بہت نمایاں طور پر انصاف کے اہتمام کی خاطر وسیع المعنیٰ سطح پر سماج کے مجموعی سیاسی ادراک کے پس منظر میں سمجھنے کی کوشش کی ہے ۔ اس نے بنیادی سوال اٹھا یا تھا کہ کسی معاشرے میں لوگ خاصے متضاد مگر معقول و جامع نقطہ نظر رکھنے کے باوصف ایک دوسرے کے ساتھ کیونکر تعاون کر سکتے ہیں۔رالز کے اس سوال کی تفہیم و توضیح اس کے ساتھی امریتا سین نے معقولیت اورعملی استدلال کے ساتھ پیش کی ہے۔یہ اس صورت میں ممکن ہے کہ…
