پانچ اگست کو بھارتی حکومت کی جانب سے ریاست جموں کشمیر کی مخصوص حیثیت میں تبدیلی کے بعد گلگت بلتستان میں، بالخصوص نوجوان طبقے کی ظرف سے ایک بحث چھڑی ہوئی ہے کہ پاکستان نے گلگت بلتستان میں پہلے ہی SSR (سٹیٹ سبجیکٹ رولز) کو ختم کردیا تھا۔ اب بھارت نے کشمیر میں اس قانون کو ختم کردیا تو اس پر احتجاج کیوں؟ بعض حلقے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ 70 کے عشرے میں ذوالفقار علی بھٹو نے جی بی سے ایس ایس آر کا خاتمہ کردیا تھاتو کچھ لوگ اسے ایوب خان کی طرف منسوب کرتے ہیں اور…
Author: قاسم نسیم
گلگت بلتستان بالخصوص بلتستان کی فضا اِن دنوں سوگوار ہے۔ سکردو سے راولپنڈی جانے والی مسافر بس کو بابوسر کے علاقے گِٹی داس میں پیش آنے والے حادثے میں چھبیس قیمتی انسانی جانوں کا نقصان ہوا۔ جاں بحق ہونے والے مسافروں میں خواتین، بچوں کے ساتھ ساتھ علما اور پاک فوج کے جوان بھی شامل تھے۔ جائے حادثہ سے نزدیک ترین ہسپتال چلاس میں ڈی ایچ کیو تھا جو ڈیڑھ سے دو گھنٹے کی مسافت پر تھا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد چالیس منٹ سے ایک گھنٹے بیشتر زخمی زندہ تھے۔ موقع پر پہنچنے والی ایک…
سکردو میں کئی اہم ادارے نہایت ہی کسمپر سی کے عالم میں کام کررہے ہیں۔ اگرچہ یہ اپنے شعبےکے اعتبار سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں مگر حکام کی عدم توجہی کے باعث گویا یہ اس وقت آئی سی یو میں ہیں اور ان اداروں کی سانسیں اٹک رہی ہیں۔ جس ادارے کا یہاں ذکر مقصود ہے وہ ہنگامی حالات میں مدد اور ریلیف کی خدمات انجام دینے پر مامور ہے۔ یہ ریسکیو 1122 سے موسوم ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ یہ ادارہ ہر جگہ ہو اور چوبیس گھنٹے الرٹ کی پوزیشن پر رہے تاکہ کسی بھی گوشے سے…
گلگت بلتستان میں عارضی بنیادوں پر کام کرنے والے ڈاکٹرز ایک بار پھر سروسز کی مستقلی کے لیے احتجاج کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ ان ڈاکٹروں نے پہلے مرحلے میں گلگت، پھر سکردو میں پریس کانفرنس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان بھر میں 10 اسپیشلسٹ ڈاکٹرز جبکہ 60 میڈیکل آفیسرز عرصہ تین سالوں سے عارضی بنیادوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہیں مستقل کرنے کے لیے گلگت بلتستان اسمبلی پہلے ہی قانون کی منظوری دے چکی ہے اور کابینہ سے اس کی منظوری کے بعد ڈاکٹروں کی مستقلی کا فیصلہ سرکاری گزٹ میں بھی شائع ہوچکا…
کچھ عرصہ پہلے سکردو میں آنے والے حکومتی ذمہ داران سے جب بھی ملاقات ہوتی اُن کی جانب سے پہلا جملہ یہ سننے کو ملتا کہ ہمیں اس بات کا بہت افسوس ہے کہ سکردو اب پہلے والا نہیں رہا۔ اُن کا یہ جملہ یقینا ََہمارے لئے غیر متوقع ہوتا اور ہم اس پر شدید حیرت کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے سوال کرتے کہ حضور سکردو کو آخر ایسا ہوا کیا ہے؟ وہ ماضی کی طرح آج بھی پُر امن ہے۔ کسی تھانے میں سال بھر ایک قتل کا مقدمہ درج نہیں ہوتا۔ چوری ڈکیتی کی کوئی بڑی کاروائی…
بھارت کی جانب سے بھارتی آئین کے دفعات 370 اور 35A کو ختم کرتے ہوئے مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کی حیثیت میں تبدیلی لانے کے بعد خطے میں کشیدگی اپنے انتہا کو پہنچ گئی ہے۔ اس صورتِ حال میں پاکستان اور کشمیری عوام و قیادت کا رد عمل توقعات کے عین مطابق ہے کیونکہ بھارتی فیصلے سے کشمیری برادری اور پاکستان براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔ بھارت کے اس فیصلے پر پوری دنیا میں تنقید ہو رہی ہے اور کشمیر میں جاری ظلم پر میڈیا اپنی آواز بلند بھی کر رہا ہے اگرچہ مغربی قیادت اور اقوام متحدہ عملاََ…
ایک وقت تھا جب گلگت بلتستان میں تعلیمی اداروں کا فقدان سب سے بڑا مسئلہ تھا۔ تب منتخب عوامی نمائندوں اور متعلقہ اداروں کے حکام کی اولین ترجیح اس خطے میں تعلیمی ادارے کھولنا تھا، لیکن آج گلگت بلتستان میں کوئی چھوٹا سا علاقہ بھی ایسان ہیں جہاں اسکول موجود نہ ہو۔ اب محکمہ تعلیم سمیت ذمہ دار حلقوں کی ساری توجہ معیار تعلیم کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے۔ حکومت جہاں اساتذہ کی تربیت کے لیے ریفریشر کورسز کے انعقاد پر توجہ دے رہی ہے وہاں طلبہ وطالبات کے لیے تعلیم کو زیادہ آسان بنانے کی خاطر تدریسی معاونت…
ان دنوں بلتستان میں خوبانی کا پھل پک کر تیار ہو رہا ہے۔ خوبانی بلتستان میں بکثرت پائے جانے والے جانے والے پھلوں میں سے ایک ہونے کے ناطے یہاں کے لوگوں کی اکثریت کی زندگی میں کہیں نہ کہیں اس کا عمل دخل موجود ہے۔ بلتستان میں خوبانی کی اسی اہمیت کے پیش نظر محکمہ زراعت بلتستان شگر میں خوبانی میلے کا انعقاد کر رہا ہے جو کہ بلتستان کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا میلہ ہے۔ یوں تو بلتستان اپنی مخصوص آب و ہوا اور جغرافیہ کے باعث مختلف قسم کے خوش ذائقہ پھلوں کے لیے دنیا…
بلتستان ماضی میں تبت خورد سے موسوم تھا۔ بہت عرصہ تک یہ خطہ لداخ و تبت کے ساتھ منسلک رہا۔ جس کے باعث یہاں کے رہن سہن اور رسوم و رواج اور روایات پر تبتی اثرات نمایاں ہیں۔ سولہویں صدی عیسوی میں یہاں اسلام ایرانی مبلغین جو کشمیر سے یہاں وارد ہوئے تھے، کے ہاتھوں آیا تو یہاں کی طرز زندگی ہی نہیں بلکہ بود و باش حتی کہ تعمیرات پر بھی ایرانی و کشمیری نقوش نمایاں ہونے لگے۔ بلتستان میں منائے جانے والے دیگر تہواروں کی طرح عید الفطر کے حوالے سے بھی یہاں منفرد روایات مروج ہیں۔ عید…
بلتستان یونیورسٹی، گلگت بلتستان بالخصوص بلتستان ڈویژن کے طلباء و طالبات کے لئے حکومت کی جانب سے ایک بڑا تحفہ ہے۔ سال2011ء میں قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے سب کیمپس سے شروع ہونے والے اس تعلیمی ادارے نے 25 اگست 2017ء کو بلتستان یونیورسٹی کے نام سے باقاعدہ خودمختار وفاقی یونیورسٹی کی حیثیت سے کام شروع کیا ہوا ہے۔ یونیورسٹی میں اس وقت سات شعبوں: بزنس مینجمنٹ اینڈ کامرس، بیالوجیکل سائنس، کمپیو ٹر سائنس، ایجوکیشنل ڈیویلپمنٹ، لینگویجز اینڈ کلچرل اسٹڈیز، کیمسٹری اور میتھ ڈیپارٹمنٹ میں 843 طلبا و طالبات پوسٹ گریجویشن کورسز میں زیرِ تعلیم ہیں۔ یونیورسٹی کے دو کیمپس، حسین…
