Author: قاسم نسیم

اب اگر حکومت یہ مؤ قف اختیار کر رہی ہے کہ سی پیک کاروباری منصوبہ ہے اور گلگت بلتستان اس میں فِٹ نہیں آتا تو عوام یہ سوالات اُٹھانے میں حق بجانب ہیں کہ کیا گلگت بلتستان والوں کا پاک چین تجارت میں حصّہ لینا شجرِ ممنوعہ ہے؟ا وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمٰن نے قانون ساز اسمبلی کے بجٹ شیشن میں بحث کو سمیٹتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ ہم نے باریک بینی سے جائزہ لیا تو معلوم ہواکہ پاکستان چائنا اقتصادی راہداری کا منصوبہ کاروباری منصوبہ ہے جس میں گلگت بلتستان فِٹ نہیں آتا ۔ لہذا…

Read More

یہ روٹ قراقرم پاس کی نسبت بہت کم مسافت کا ہے جس کے باعث اس روٹ پر مسلسل 1905 ء تک لوگ آمدو رفت کرتے رہے لیکن بعد میں گلیشیر بڑھنے کے باعث لوگوں نے اس راستے آمدورفت کا سلسلہ ترک کیا چائنا پاکستان اقتصادی راہداری کا منصوبہ دونوں ممالک کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل منصوبہ ہے۔46 ارب ڈالر کی لاگت سے مکمل کئے جانے والے اس منصوبے کو ملک میں معاشی و سماجی ترقی کے لئے گیم چینجر قرار دیا جاسکتا ہے۔خطے کی تعمیر و ترقی کے لئے ماضی بعید میں شاہراہِ ریشم اور پھر شاہراہِ قراقرم کی…

Read More

ہر صوبے کے باشندے اپنے صوبے کی زمینوں کے مالک ہے تو صرف گلگت بلتستان میں گلگت بلتستان کے لوگ اپنی زمینوں کے مالک کیوں نہیں ہیں اور وزارتِ اُمور کشمیر یا خطے کا چیف سکریٹری گلگت بلتستان کی زمینوں کے تصرف کا مالک کیسے بن سکتا ہے گلگت  بلتستان میں ان دِنوں حقِ ملکیت کی تحریک زور پکڑتی جا رہی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی بالخصوص اور اپوزیشن کی دیگر پارٹیاں بالعموم عوام میں اس تحریک کو لیکر خوب سیاسی جد و جہدکا آغاز کر چُکی ہے۔گلگت  بلتستان  کے مختلف اضلاع میں موجود ہزاروں بنجر اراضی پر متصّلہ مواضاعات  کے…

Read More

گلگت بلتستان نے مسئلہ کشمیر کے لئے ستر سال قربانیاں دی ہیں جبکہ خود کشمیری مکمل جمہوری سیٹ آپ سے لطف اندوز ہو رہے ہیں اب یہاں سے آگے بھی صرف گلگت بلتستان والوں سے ہی قربانی کا تقاضا کرنا انصاف کے اُصولوں کے منافی ہے جو گلگت بلتستان کے لوگوں کو کسی صورت قابلِ قبول نہیں امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر عبدالرشید ترابی نے گلگت بلتستان کے حالیہ تنظیمی دورے کے دوران جہاں اُنھوں نے دیگر اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں وہاں سکردو میں میڈیا کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی۔اس دوران خاص طور پر مسئلہ کشمیر کے تناظر…

Read More

حکومت نے اب غیرملکی سیاحوں کو گلگت بلتستان میں آنے کے لئے این او سی کو ضروری قرار دیا ہے۔یہ این اوسی پہلے سے موجود متعلقہ اداروں سے حاصل کئے جانے والےپرمٹ کے علاوہ ہے۔ قدرت نے گلگت بلتستان کو ایسا جغرافیہ اور آب و ہوا سے نوازا ہے جس کے باعث یہ خطہ سیاحت کے لئے بہت ہی موزون ہے۔ سیاحت کا شعبہ گلگت بلتستان ہی نہیں بلکہ ملک کی معیشت کے لئے ریڈھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ دنیا میں موجو د آٹھ ہزار میٹر سے بلند تیرہ چوٹیوں میں سے پانچ چوٹیاں گلگت بلتستان میں ہیں…

Read More