Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»گلگت بلتستان کے تعلیمی اداروں میں میں اِی لرننگ منصوبوں کا آغاز
    کالم

    گلگت بلتستان کے تعلیمی اداروں میں میں اِی لرننگ منصوبوں کا آغاز

    قاسم نسیمBy قاسم نسیماگست 20, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    ایک وقت تھا جب گلگت بلتستان میں تعلیمی اداروں کا فقدان سب سے بڑا مسئلہ تھا۔ تب منتخب عوامی نمائندوں اور متعلقہ اداروں  کے حکام کی اولین ترجیح اس خطے میں تعلیمی ادارے کھولنا تھا، لیکن آج گلگت بلتستان میں کوئی چھوٹا سا علاقہ بھی ایسان ہیں جہاں اسکول موجود نہ ہو۔ اب محکمہ تعلیم سمیت ذمہ دار حلقوں کی ساری توجہ معیار تعلیم کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے۔

    حکومت جہاں اساتذہ کی تربیت کے لیے ریفریشر کورسز کے انعقاد پر توجہ دے رہی ہے وہاں طلبہ وطالبات کے لیے تعلیم کو زیادہ آسان بنانے کی خاطر  تدریسی معاونت اور جدید ٹیکنالوجی کو بھی استعمال میں لایا جارہا ہے۔ کمپیوٹر وانٹرنیٹ نے جدیدترین علوم تک طلبہ کی رسائی کو آسان بنا دیا ہے۔ اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے اب بیشتر اسکولوں میں کمپیوٹر لیبارٹریز موجود ہیں جن سے روزانہ کی بنیاد پر طلبہ استفادہ کر رہے ہیں۔ محکمہ تعلیم بلتستان اور ڈائریکٹر ایجوکیشن خراج تحسین کے مستحق ہیں کہ انہوں نے خطے کے تعلیمی اداروں میں اس ٹیکنالوجی کو متعارف کرایا ہے۔

    فی الحال اِی لرننگ کا یہ پروگرام جماعت نہم و دہم کے مضامین، بیالوجی، کیمسٹری اور ریاضی کے لیے شروع کیا گیا ہے

    اِی لرننگ کے  نام سے شروع کیے گئے اس پروگرام کے تحت گلگت بلتستان کے سرکاری اسکولوں میں رائج پنجاب ٹکسٹ بک یورڈ کی کتابوں کے اسباق سے متعلقہ پی ایچ ڈی اور بہت ہی  کولیفائڈ اساتذہ کے لیکچرز  ویڈیوز  کے ساتھ حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ یہ ویڈیوز ملک کے مستند اداروں کی ویب سائٹس پر دستیاب تھیں جنہیں طلبہ کے فائدے کے لیے محفوظ کرلیا گیا ہے۔ بچوں کے اسباق پر مشتمل ان ویڈیوز کو اسکولوں کے کلاس رومز تک پنچانے کے لیے خاص اہتمام کیا گیا ہے۔ اسکولوں کو 34 انچ کا ایل اِی ڈی سکرین اور ان اسباق کی ویڈیوز پر مشتمل 64 جی بی کی یو ایس بی فراہم کی جا رہی ہے۔ ابتدائی مرحلے میں محکمہ تعلیم بلتستان  ڈویژن کے 578 اسکولوں میں سے 75  کا انتخاب کیا گیا ہے۔ اِی لرننگ منصوبے کا آغاز محکمے کے اپنے وسائل سے کیا گیا ہے۔ جن تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی ہے وہاں اس منصوبے سے بہت فائدہ ہو رہا ہے۔ نہ صرف طلبہ وطالبات، بلکہ خود اساتذہ بھی اسباق کو ویڈیوز کے ذریعے پیشہ ورانہ ماہرین سے سنتے ہیں تو ان کی معلومات میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

    فی الحال اِی لرننگ کا یہ پروگرام جماعت نہم اور دہم کے مضامین، بیالوجی، کیمسٹری اور ریاضی کے لیے  شروع کیا گیا ہے، اگلے مرحلے میں  میٹرک کے تمام مضامین اور جماعت پنجم سے اوپر کے سب درجات کے لیے شروع کیا جائے گا۔ ڈائریکٹر ایجوکیشن کے مطابق بلتستان کے تمام ہائی اسکولوں میں یہ ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے لیے محکمے کو ڈیڑھ کروڑ روپے  کے وسائل درکار ہیں۔ اس نظام سے وابستہ توقعات اورکامیابیوں کی روشنی میں دیکھا جائے تو  یہ بڑی لاگت نہیں ہے۔

    تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے موبائل ایس ایم ایس کا ایک نظام بھی وضع کیا گیا ہے جس کے ذریعے تمام اساتذہ اور طلبہ کی حاضری کا ڈیٹا روزانہ کی بنیاد پرڈائریکٹر آفس تک پہنچ جاتا ہے۔ اس سے اسکولوں میں غیر حاضری کی شکایتوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ تعلیمی نظام کو طاقتور بنانے کی ان کوششوں کی وجہ سے سالانہ امتحانات کے نتائج میں حوصلہ افزا بہتری آئی  ہے۔ متعلقہ اداروں کی تعلیمی اصلاحات میں دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ مستقبل میں خطے کے اندر نوجونوں کو تعلیم یافتہ بنانے کے لیے مزید بہتر اقدامات کیے جائیں گے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleحکومتی کار کردگی کا سال، تبدیلی اور طاقت کا مظاہرہ ایک ساتھ
    Next Article ہم اپنی اولاد کا بچپنا تباہ کر رہے ہیں
    قاسم نسیم

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by