سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف آج جمعہ کے دن احتساب عدالت میں داخل ہوئے توپہلے کی نسبت زیادہ ہشاش بشاش نظر آئے۔ ن لیگی حکومت کی آئینی مدت مکمل ہونے کے بعد آج عدالت میں ان کا پہلا دن تھا۔ کچھ سیکورٹی انتظامات میں ردوبدل نظر آیا لیکن عدالت میں ان کی آمد پر معمول کے انتظامات ہی کیے گئے تھے۔ سابق وزیراعظم جیسے ہی نشست پر براجمان ہوئے تو ایک پارٹی رہنما نے ان کے ہاتھ پراخبارات کا پورا بنڈل رکھ دیا۔ اخبارات کی طرف دیکھنے سے قبل صحافیوں سے محو گفتگو ہوتے ہوئے سوال کیا کہ انتخابات…
Author: اعظم خان
نوازشریف کے جیل جانے سے قبل اس حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے کہ ٹرائل کس حد تک شفاف ہے اور ٹرائل کورٹ کس حد تک آزاد ہے۔ اعلیٰ عدلیہ عام طور پر ایسا کچھ نہیں کرتی جس سے کسی کے شفاف ٹرائل کا حق متاثر ہو۔ عام طور پر ججز ایسے ریمارکس سے بھی گریز کرتے ہیں جس سے کسی کا حق متاثر ہو اورماتحت عدلیہ کا جج دباؤ میں آکر فیصلہ کردے۔ جب پانامہ کیس سپریم کورٹ کے سامنےآیا تو سب سے زیادہ ریمارکس ہی رپورٹ ہوتے رہے، جس میں جواب دہندہ کو ہر طرح کے القابات سے بھی…
ہاتھ میں اردور اور انگریزی اخبارات تھامے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف احتساب عدالت میں داخل ہوئے تو چہرے پر ایک گہری سنجیدگی اور غصے کے آثارنمایاں تھے۔ یہ ایک غیر معمولی دن لگتا تھا۔ آج ان کے ساتھ مریم نواز بھی نہیں تھیں۔ عدالت میں موجود سب کو سلام اورمصافحہ کرنے کے بعد اپنی نشست پر بیٹھتے ہی سابق وزیر اعظم نے صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت شروع کردی۔ ہر طرح کے سوالات ہوئے اور نوازشریف نے تفصیل کے ساتھ جوابات بھی دیے۔ یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ جمہوری حکومت کے پانچ سال کی…
نواز شریف کی اپنی بیٹی سے محبت اور لگاؤ پانامہ ریفرنسز کے دوران قریب سے دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ہر پیشی پر مریم نواز ان کے ہمراہ ہوتی ہیں اور پھر دونوں ایک ساتھ ہی عدالت سے باہر چلے جاتے ہیں۔ عوامی جلسوں سے خطاب ہو یا پھر لندن جاکر کلثوم نواز کی عیادت کا معاملہ ہو، احتساب عدالت میں مقدمات کا سامنا کرنے کے بعد گھر کی طرف روانگی ہو یا پھر مختلف شہرں میں جاکر جلسوں سے خطاب کرنے کا معاملہ ہو، باپ بیٹی ساتھ ہی ہوتے ہیں۔ عوامی جلسوں سے خطاب کرنے سے ان کو جو خوشی…
سابق وزیر اعظم کے بعد آج ان کی بیٹی مریم نواز نے عدالت کو بتانا تھا کہ ان کے خلاف ریفرنس کیوں بنایا گیا؟ مسلسل چار گھنٹے کھڑے رہنے کو یقینی بنانے کے لیے پاؤں سے جوتے اتار کر ننگے فرش پر کھڑی ہوگئیں، دائیں بائیں پارٹی کی خواتین ورکرزلیکن یہ مناظر نواز شریف دیکھ کراپنے موبائل فون پر مصروف ہو جاتے جیسے اپنے آپ سے ہم کلام ہوکر خود کو اندر سے مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہوں۔ جیسے زبردستی اعصاب کو قابو میں رکھنے کی ناکام کوشش کر رہے ہوں۔ اپنی بیٹی کےلیے ان کی پریشانی اورمحبت…
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے موجودہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کوبےبس قرار دیتے ہوئے دعا کی ہے کہ خدا نہ کرے آئندہ اس طرح کی حکومت کسی کو ملے۔ انہوں نے شاہد خاقان عباسی کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ ان کی ہمت ہے جو انہوں نے دس ماہ مکمل کرلیے۔ نوازشریف نے صاف صاف بتایا ہے کہ ملک میں دو اور تین حکومتیں چل رہی ہیں۔ اپنے بیان کی وضاحت میں ان کا کہنا تھا کہ اس طرح حکومت چل سکتی ہے نہ ملک چل سکتاہے۔دو گھنٹے کے توقف کے بعد انہوں نے کمرہ عدالت میں موجود صحافیوں…
گذشتہ روز نواز شریف کو عدالت نے طلب نہیں کیا تھا۔ وہ اپنی بیٹی کے ساتھ خود عدالت پہنچے اور پورا دن عدالت میں گزارا۔ نوازشریف اس وقت جذباتی ہوگئے جب انہوں نے مریم نواز کو روسٹرم پر کھڑا دیکھا۔ کاغذ اور قلم اٹھایا اور کچھ لکھنا شروع ہوگئے۔ کچھ دیر بعد سماعت میں وقفہ ہوا تو وہاں پر موجود صحافیوں کو قریب بلا لیا۔ ہاتھ سے لکھے نوٹس پڑھ کر سنانا شروع ہوگئے۔ اب نوٹس لینے کی باری ہماری تھی۔ نوازشریف نے کہا یہاں ایک باپ کے سامنے اسکی بیٹی مقدمہ بھگت رہی ہے،میری بیٹی کا دور دور تک…
جب سابق وزیر اعظم نواز شریف نے بسم اللہ سے اپنے بیان کا آغاز کیا تو کھچا کھچ بھری عدالت میں جیسے سب کو سانپ سونگھ گیا ہو ،جیسے سب نے اپنی سانسوں کو روک لیا ہو، جیسے عدالت میں سرے سے کوئی موجود ہی نہ ہو۔ جب سابق وزیر اعظم بیان کے اس حصے پر پہنچے جہاں انہوں نے اعلیٰ عدلیہ کے ججز پر فوجی آمروں کا آلہ کار بننے پر تنقید کے نشتر برسائے تو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر بولے کیا یہ بات بھی بیان کا حصہ بن سکتی ہے؟ وکیل صفائی خواجہ حارث نے بتایا…
جس کا ڈر تھا وہی ہوا۔ نوازشریف اپنی صاحبزادی مریم نواز کے ہمراہ کمرہ عدالت پہنچے تو کاغذات کے بنڈل میں الجھے نظر آئے۔ مریم نواز بھی ہاتھ میں قلم تھامے نوٹس لیتے ہوئے نظر آئیں۔عدالت کے بلانے پر نواز شریف اپنے وکیل کے دائیں طرف روسٹرم پر کھڑے ہوگئے۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر روبرو تین بار بھاری مینڈیٹ کے ساتھ وزیر اعظم منتخب ہونے والےمیاں محمد نوازشریف نے صفائی دینے کے ساتھ ساتھ اہم انکشافات بھی کیے۔ سابق آرمی چیف پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس، ڈان لیکس، سول ملٹری تناؤ اوربالواسطہ خلائی مخلوق کا ذکر بھی…
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے پہلی بار اپنے اقتدار سے نکالے جانے کی وجہ بتائی ہے، جس کے بعد مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف سمیت کچھ اہم رہنما ایک نئی الجھن کا شکار ہوگئے ہیں۔ احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم سے لندن فلیٹس سے متعلق ریفرنس میں 127 سوالات میں سے ایک سیاسی نوعیت کا سوال بھی پوچھا کہ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ آپ کے نکالےجانے کے بعد آپ کے خلاف ریفرنس کیوں بنائے گئے؟ جب میں نے نواز شریف سے یہ دریافت کیا تو انہوں نےبلاتاخیرایسا جواب دیا جو غیر متوقع تھا۔ یہی سوال…
