آٹھ فیصد ایک۔۔۔آٹھ فیصد دو۔۔۔ ۔۔وقفہ۔۔۔۔۔ 10 فیصد ایک۔۔۔10 فیصد دو۔۔۔یہ آوازیں سپریم کورٹ کے وسیع و عریض کمرےعدالت نمبر1 میں گونج رہی تھیں جو کشادہ ہونے کے باوجود سائلین، وکلا اور صحافیوں سے بھرا ہواتھا۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت کے مناظر چنداں مختلف نہ تھے۔ چیف جسٹس کی عدالت میں درجن بھر کے قریب وکلا اوران کے موکلان ایسے مخاطب تھے جیسے کسی منڈی میں غلے، مویشیوں، سبزیوں یا پھلوں کا بھاؤ تاؤ چل رہا ہو۔ جس کو بیٹھنے کی جگہ نہیں مل رہی تھی وہ کسی کونے کھدرے میں کھڑے کھڑے عدالتی کارروائی کے مناظر دیکھ…
Author: اعظم خان
اخبارات، ٹی وی اورسوشل میڈیا کےزریعے معلوم ہوتا ہے کہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا انتہائی غریب مریض نے بھارت کی وزیرخارجہ سے درخواست کی ہے کہ وہ انڈیا کا ویزا جاری کردیں تاکہ وہ علاج کراسکیں۔ اس کی وجہ پاکستان میں کوئی ایسا اسپتال نہ ہونا بتائی جاتی ہے۔ تعلیمی اداروں سے متعلق خبریں چھپتی ہیں کہ فلاں معتبر ادارے نے دنیا کی بہترین ہزار، پانچ سو یا سو یونیورسٹیز کی رینکنگ جاری کردی۔ ایسی فہرستوں میں پاکستان کی کسی یونیورسٹی کانام پڑھنے کونظریں ترس جاتی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کا راز ریسرچ، سائنس اور…
جے پور سے واپسی پرہری پور سے دوست کی فون کال تھی۔ انہوں نے دہلی پہنچتے ہی ایک اہم شخصیت سے ملاقات کا مشورہ دیا۔ فون پر تعارف کے بعد ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تو اس شخصیت نے دہلی کی وسنت بہار کالونی والے گھر کا مکمل ایڈریس بتاکرکہنے لگے آپ جب مرضی آجائیں وہ دستیاب ہونگے۔ یہ 2011 دسمبر کی آخری شام تھی۔ دہلی سردی کی لپیٹ میں تھا۔ اس شہرمیں مکین برصغیر کی اہم شخصیت معروف بزرگ صحافی کلدیپ نئیر بخار میں مبتلا تھے۔ تغلق آباد دہلی سے آٹو رکشہ لیا اور دہلی کی خوبصورت ہاوسنگ…
نوازشریف کو بند کمرہ ٹرائل کے لیے اڈیالہ جیل سے بکتربند گاڑی میں سخت سیکیورٹی حصار میں احتساب عدالت لایا گیا۔ کریم رنگ کی شلوار قمیض اور نیلی واسکوٹ میں ملبوس نوازشریف قدرے غصے میں لگ رہے تھے لیکن انہوں نے صحافیوں کو بکتربند کی قریب دیکھ تو ہاتھ ہلا کر سلام کیا۔ نوازشریف کی گاڑی ایک باوردی پولیس اہلکار ہی چلا رہا تھا۔ نوازشریف کو جوڈیشل کمپلیکس کے عقبی دروازے سے اندر لایا گیا اور کمرہ عدالت ایسے لے جایا گیا کہ اڈیالہ جیل کے قیدی سابق وزیراعظم کی کسی کو بھی کوئی جھلک دکھائی نہ دی۔ یوم آزادی…
صبح سے ہی فوج کے جوانوں نے ملک بھر میں پولنگ اسٹیشن کے اندر اور باہر نظام سنبھال لیا تھا۔ اندر کس نے آنا ہے اور کوریج کی اجازت کسے دینی ہے، یہ سب فیصلے بھی ڈیوٹی پر موجود فوجی افسران ہی کرتے تھے۔ ڈیوٹی پر مامور ان جوانوں کا رویہ اچھا تھا۔ یہ بات چیت میں بہت محتاط تھے۔ پولنگ کا یہ عمل دن بھر بلا تعطل جاری رہا۔ البتہ کچھ پہلوؤں سے سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور نہ کیے جاسکے۔ الیکشن کمیشن کو متعدد شکایات موصول ہوئیں کہ میڈیا کے نمائندوں کوکوریج کی اجازت نہیں دی جارہی ،…
آج کی سماعت کی خاص بات یہ ہے کہ جس وقت اسلام آباد ہائی کورٹ نوازشریف کی اپیلوں پرسماعت کررہی تھی ،احتساب عدالت کے جج محمد بشیر احتساب عدالت میں عام مقدمات نبٹارہے تھے۔ وہ آج العزیزیہ ریفرنس کی سماعت کے سلسلے میں جیل نہیں گئے اور نہ ہی انہوں نے آج اپنی عدالت میں نوازشریف کی حاضری کو یقینی بنایا۔ سینیٹر پرویزرشید نے جج کے اس رویے پر تعجب کا اظہار کیاہے۔ جبکہ جج صاحب پہلے ہی نوازشریف کے خلاف دیگر دو مقدمات سے علحیدگی سے متعلق خط لکھ چکے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے…
احتساب عدالت کےجج محمد بشیرنے نوازشریف کے خلاف باقی دو ریفرنسز سے علیحدہ ہونے کا اعلان کردیا ہے۔ اس سے پہلے جب وکیل صفائی خواجہ حارث نے یہ استدعا کی تھی تو انہوں نے انکار کردیا تھا۔ اب ایسا اچانک کیا ہوا کہ وہ پانامہ ریفرنسزسے جدا ہوگئے؟ جج نے نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدرکو اڈیالہ جیل بھیجنے کے بعد خود نوازشریف کے دیگر دومقدمات میں جانے کی تیاری بھی کرلی تھی۔ لیکن 174 صفحات پر لکھا ایک متضاد اور کمزور فیصلہ ان کے جانے کی وجہ بن گیا۔ جج نے نوازشریف کے خلاف کرپشن ثابت نہ…
یہ ایک چھوٹا سا کمرہ ہے۔ دیواریں کھردری ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اس کی مرمت کئی دہائیوں سے نہیں ہوئی۔ اس کمرے کے ساتھ ایک واش روم ہے جس کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ کمرے میں ایک پرانے دورکا پنکھا ہے جو اپنی مرضی سے اپنا سرکل پورا کرتا ہے۔ اے سی اور ٹی
سیاسی محاذ آرائی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ انتخابات سے قبل ملک میں گہما گہمی ہے۔ ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں۔ سیاسی رہنما اور ادارے ایک دوسرے سے شکایات کرتے بھی نظر آتے ہیں۔ نوازشریف کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس میں فیصلہ آنے کے بعد حالات مزید کشیدگی کی طرف بڑھتے نظر آرہے ہیں۔ نوازشریف اور مریم نواز لندن سے واپس پاکستان آنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ کیپٹن صفدر فیصلے کےدو دن بعد مانسہرہ کی سنگلاخ پہاڑیوں سے چلے اورراولپنڈی شہرکےتاریخی تنگ و تاریک گلیوں میں آن پہنچے۔ کیپٹن صفدر8 جولائی کو اگلے محاذوں پر پہنچ…
آج سب کچھ معمول سے ہٹ کرہورہا تھا۔ جج آگئے، جج چلے گئے، جج پھر آئیں گے، فیصلہ پڑھ کر سنانا شروع کردیا ہے، فیصلہ بعد میں سنایاجائے گا۔ جج، فیصلہ، تاخیر، مزید تاخیراورایک بار پھر ڈیڈلائن یہ سب 6جولائی کی عدالتی کاروائی کےمناظرتھے۔ عدالت نے دن 12 بجے سابق وزیراعظم نوازشریف اور مریم نواز کی طرف سے کم ازکم سات روزکےلیے فیصلہ موخر کرنے کی درخواست مسترد کردی تھی لیکن عدالت کو سات گھنٹوں کی سماعت کے دوران یہ فیصلہ سات بار موخر کرنا پڑا۔ اس بد انتظامی نے خود عدالت کی ساکھ پر ایک سوالیہ نشان لگا دیا…
