ہر سال دسمبر اپنے ساتھ ماضی کی تلخ یادیں لے کر آتا ہے اور پھر جاتے جاتے ہر تلخی کے مقابلے میں ایک نئی امید دے کر جاتا ہے،اس طرح ہم ماضی کی تمام تلخیوں کو بھلا کر ایک روشن اور اجلے مستقبل کی امید کے ساتھ نئے سال میں داخل ہوتے ہیں۔ سال نو کی آمد سے قبل ہی ہر ذی شعور اپنے لیے نئے سال کے اہداف مقرر کرتا ہے اور اپنے ماضی کا محاسبہ کرتے ہوئے نئے سال کے لیے نئے جوش،ولولے اور عزم کے ساتھ آگےبڑھتا ہے۔ آئندہ سال کے اہداف کی تعیین افراد کی سطح…
Author: عاطف ہاشمی
نجود کی زندگی میں شقاوت کا آغاز اس کی بڑی بہن نجلا کے ساتھ زیادتی سے ہوتا ہے۔یمن کے ایک عام گھرانے میں پلنے والی نجود معمول کے مطابق نجلا اور چھوٹے بھائی کے ساتھ مال مویشی کو چراگاہ کی طرف لے کر جاتی ہے اور پھر کبھی سہیلیوں کے ساتھ اور کبھی اپنے بھائی کے ساتھ کھیل کود میں مشغول ہو جاتی ہے۔اس کا پسندیدہ کھیل چھپن چھپائی ہے۔آج بھی وہ گائے کو چارہ ڈالنے کے بعد اپنے کھیل میں مگن ہوتی ہے کہ ایک نوجوان آتا ہے اور کسی بہانے اس کی بڑی بہن نجلا کو اپنے ساتھ…
آج کی مسلم دنیا میں سب سے زیادہ موضوعِ بحث جہاد ہے ،بیرونی دنیا بھی اس تصور کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جانکاری حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے کیونکہ جہادی تحریکوں نے دنیاپر اپنے گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ خود عالم اسلام کے اندر اس حوالے سے مختلف فقہ کی روایات مختلف ہیں جس کی وجہ سے ابہامات پیدا ہوئے ہیں ،تاہم نامور عالم دین ڈاکٹر یوسف عبداللہ القرضاوی نے اس حوالے سے بڑی جامع تحقیق کر کے بہت سی مشکلیں حل کر دی ہیں۔وہ ممالک جہاں جہادکے نام پر شرپسندی جاری ہے وہاں ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی…
قطر خلیج بحران پر ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور خلاف توقع قطر اپنے موقف پر ثابت قدمی سے قائم ہے،خلیجی ممالک کی طرف سے عائد اقتصادی پابندیوں کے باوجود قطر اپنے موقف سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹا جس کے بعد سعودی عرب نے تینوں اطراف سے پانی میں گھرے ہوئے جزیرہ نما قطر کو زمین سے ملانے والی واحد سرحد پر بھی نہر کھود کر اسے جغرافیائی طور پر بھی تنہا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ منصوبہ اس وقت سامنے آیا جب قطر نے اقتصادی پابندیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے…
دنیا بھر میں کم عمری کی شادی کو ایک سماجی مسئلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور اس کی روک تھام کے لیے بہت سے ممالک میں قانون سازی ہو رہی ہے، وقتا فوقتا اس کی باز گشت ہمارے ہاں بھی سنائی دیتی ہے لیکن اس کے بالمقابل اسی نوعیت کا ایک اور مسئلہ بھی ہے جو کسی طرح بھی اہمیت میں اس سے کم نہیں ،اور وہ ہے شادی میں تاخیر کا رجحان،لیکن اس کی طرف کسی این جی او کی نظر جاتی ہے نہ اسلامی اور سماجی ادارے اس جانب توجہ دیتے ہیں۔ جس طرح کم عمری…
ہما را معاشرہ جن مسائل میں افراط و تفریط کا شکار ہے ان میں سے ایک اہم مسئلہ شادی کی عمر کا بھی ہے،اگرایک طرف کچھ قبائل اور خاندانوں میں کم سنی میں بچوں کو بیاہ دینے کا رواج ہے تو دوسری طرف شادی میں تاخیر کے کیسز بھی بڑھتے جا رہے ہیں،بظاہر دو لفظوں میں ادا ہونے والے یہ سادہ سے دو مسئلے ہیں لیکن معاشرے میں آئے دن رونما ہونے والے بے شمار مسائل اور جرائم کا تعلق انہی دو مسائل سے ہے،اس لیے ضرورت ہے کہ ان پر الگ الگ بحث کی جائے اور سنجیدگی سے غور…
امریکی مصنفہ مارگریٹ نایدل(Margaret K. Nydell)عربی لسانیات اور عرب ثقافت کی سپیشلسٹ ہیں ،انہوں نے عرب معاشرے کی تفہیم کے لیے اہل مغرب کے لیے بطور گائیڈ (فہم عرب )کے نام سے سے 1994 میں ایک کتاب لکھی تھی جسے بہت مقبولیت حاصل ہوئی،حال ہی میں بعض ترامیم و اضافات کے ساتھ اس کا چھٹا ایڈیشن شائع ہوا ہے،کتاب کے مندرجات اور اضافات اس امر کے متقاضی ہیں کہ ان کو عام کیا جائے تاکہ اہل مشرق کے سامنے اہل مغرب کی تصویر کا دوسرا رخ بھی سامنے آئے جیسا کہ اس کتاب نے مسلمانوں اور بالخصوص عربوں کا دوسرا…
۲۲ اکتوبر کو اسلامی نظریاتی کونسل نے امنقلاب کے اشتراک سے ایک علمی و فکری مذاکرے کا اہتمام کیا جس میں معروف سکالر ڈاکٹر محمد خالد مسعود کی کتاب (اقبال کا تصور اجتہاد) کی روشنی میں اجتہاد اور آج کا مسلم معاشرہ کے عنوان سے گفت و شنید ہوئی۔نشست کی صدارت ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کی جبکہ کلیدی خطبہ ڈاکٹر خالد مسعود نے دیا۔ممتاز دانشور خورشید احمد ندیم نے مہمان مقرر کی حیثیت سے موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی۔ نظامت کے فرائض سید علی حمید نے سرانجام دیے،انہوں نے اپنے استقبالئے میں کہا کہ ہمارے معاشرے سے تنقیدی فکر …
ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم رابطہ عالم اسلامی کے جنرل سیکرٹری ہیں،دنیا کے سامنے اسلامی تعلیمات کی درست تصویر پیش کرنا آپ کا مشن ہے، اسی سلسلہ میں رابطہ نےگزشتہ ہفتے نیو یارک میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس کا اہتمام کیا جس کا عنوان تھا: امریکہ اور اسلامی ممالک کے درمیان ثقافتی ہم آہنگی۔کانفرنس میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے مذہبی رہنماوں نے خطاب کیا، جس میں مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان قائم نفرتوں اور تنازعات کو ختم کرنے اور کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والوں کے مابین محبت اور امن پر مبنی تعلقات استوار کرنے پر زور دیا…
27 ستمبر کو دنیا بھر میں سیاحت جبکہ30 ستمبر کو ترجمہ کا عالمی دن منایا جاتا ہے،سیاحت کا یہ دن اقوام متحدہ کی تنظیم برائے سیاحت ورلڈ ٹورازم آرگنائزیشن کی جانب سے1970 سے منایا جا رہا ہے۔اسی طرح ترجمہ کا دن بھی مترجمین کی عالمی تنظیم فیڈریشن آف انٹرنیشنل ٹرانسلیٹرز1991 سے مناتی چلی آ رہی ہے اور گزشتہ برس 24 مئی کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی30 ستمبر کو عالمی یوم ترجمہ قرار دے چکی ہے۔ سیاحت اور ترجمہ کو ایک کالم میں جمع کرنے کی وجہ یہ قطعا نہیں ہے کہ دونوں کے ایام محض دو دن کے فرق…
