Author: محمد عامر رانا

 ایک مضبوط اور توانا ریاست کا قیام ایک مربوط اور ہم آہنگ سماج کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ سماج کے مختلف طبقات کے درمیان ایک مسلسل کشمکش جاری رہتی ہے جو ایک دوسرے کو سمجھنے اور باہمی مسائل کے حل کرنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ خودکار عمل ہر سماج میں جاری رہتا ہے اور کئی مرتبہ یہ کشمکش ایک تصادم کا روپ دھار لیتی ہے جس کا نتیجہ سیاسی، سماجی، مذہبی، فرقہ وارانہ یا لسانی ٹکراؤ کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔ اکثر یہ ٹکراؤ غیرمتشدد اور جارحانہ دلائل کے تبادلے کی صورت میں ہوتا ہے لیکن اس میں…

Read More

حالیہ سرحد پار سے دراندازی اور افغانستان سے کام کرنے والے دہشت گرد نیٹ ورکس کے حملوں نے ان حملوں میں افغان طالبان کے براہ راست ملوث ہونے کے بارے میں خدشات کو جنم دیا ہے۔ ایک دہشت گرد گروہ طالبان حکومت کی حمایت اور منظوری کے بغیر پاکستان کے اندر دہشت گردوں کی ایک بڑی تعداد پر مشتمل سرحد پار سے بڑے پیمانے پر حملے نہیں کر سکتا۔ اگر ان شکوک و شبہات میں کوئی حقیقت ہے تو یہ ایک  ریاست کے خلاف اعلان جنگ کے مترادف ہے۔ سیکورٹی حکام کا حوالہ دے کر سوشل میڈیا اور آن لائن…

Read More

پاکستان ابتدائی طور پر افغان طالبان کے افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے لیے بے چین تھا مگر اب اسے اپنے لاحاصل  توقعات کا سامنا ہے۔ دو سال گزرنے کے بعد بھی سرحد پار دہشت گردی جیسے مسائل حل نہیں ہوئے اور اس سے سیکورٹی کے لیے اہم خطرات لاحق ہیں۔ افغانستان کے دیگر ہمسایہ ممالک بھی طالبان کی قیادت کے بڑھتے ہوئے جارحانہ انداز سے سیکورٹی، بارڈر مینجمنٹ اور آبی وسائل کی منتقلی سے ناخوش ہیں۔ پاکستان کو طالبان کی ذہنیت کو سمجھنا ہوگا جو افغانستان کے قریبی پڑوسیوں کے ساتھ معاملات میں کردار ادا کر رہا ہے اور یہ…

Read More

پی ڈی ایم کی مخلوط حکومت کی بے مثال قانون سازی گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں جگہ کی مستحق ہے ۔ انسانی حقوق کے چیمپیئن ہونے کے دعویدار ایک سیاسی جماعت، کچھ وزراء اور قانون سازوں نے ایسے بل پیش کیے جو ان کے دعوے کے خلاف تھے۔ یہ پاکستانی سیاست میں ایک نئی پیش رفت ہے جہاں تمام سیاسی اداکار اپنے آپ کو طاقت کے مرکز کے ساتھ صف بندی میں شامل کرنے کے لیے ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔ وزیر قانون نے اس وقت ایک دلچسپ عذر پیش کیا جب پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام کا بل…

Read More

خیبر پختونخواہ میں گزشتہ ماہ ہونے والے دہشت گردانہ دھماکوں کے بعد اپنے گمشدہ ساتھیوں کے جنازے پر ایک پولیس افسر کے آنسو بہہ نکلے۔دہشت گردانہ حملوں کے مسلسل خطرے کی زد میں رہنے والے ایسے ساتھیوں اور سوگوار خاندانوں کا سامنا کرنے کا تصور ہی نہایت جانکاہ ہے ۔ بنیادی طور پر خیبرپختونخوا میں ناکامی ہتھیاروں اور کم تربیت یافتہ پولیس فورس نے دو دہائیوں سے دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کیا ہے اور ایسے میں انہیں شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ افغانستان میں طالبان کے عروج نے مختصراً امن کی امیدیں روشن کر دیں۔ اس کے باوجود…

Read More

شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک ہندوستان کے 22 ویں سربراہی اجلاس کی میزبانی ذاتی طور پر کرنے کے بجائے آن لائن کرنے کے فیصلے سے ناراض تھے۔ اس فیصلے کو پاکستانی وزیر اعظم کو دہلی مدعو کرنے سے بچنے اور امریکہ کو پیغام پہنچانے کے لیے ایک سوچی سمجھی حکمت عملی سے تعبیر کیا گیا۔ مزید برآں اسے ایس سی او کو جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم (سارک) جیسی تنظیم میں تبدیل کرنے کی کوشش کے طور پر سمجھا گیا۔ سارک کے قیام کا بنیادی مقصد جنوبی ایشیائی خطے میں اقتصادی اور ثقافتی تعاون کو…

Read More

گزشتہ ماہ چین، ایران اور پاکستان کے درمیان سہ فریقی مذاکرات اس سال کے شروع میں چین کی جانب سے سعودی عرب ایران امن معاہدے کے بعد ایک اہم پیش رفت تھی۔ اس ڈائیلاگ کا مقصد ایران اور پاکستان کے درمیان بداعتمادی کو کم کرنا، سکیورٹی اور اقتصادی تعاون میں اضافے کے امکانات کو وسیع کرنا ہے۔ یہ بلوچستان کے لیے اچھی خبر ہو سکتی ہے، جسے سیکیورٹی اور اقتصادی انضمام کے مسائل کا سامنا ہے۔ تاہم کسی بھی مثبت کوشش کے ثمرات صوبے تک پہنچنے کا انحصار ریاستی اداروں کے ارادے پر ہوتا ہے۔ علاقائی سلامتی اور سیاسی تناظر…

Read More

ملک میں موجودہ سیاسی اور معاشی عدم استحکام دہشت گرد تنظیموں کے لیے اپنی نشونما اور خود کو مضبوط کرنے کے لیے بہترین حالات پیش کرتا ہے۔ مسلسل سیاسی انتشار مرکزی دھارے کے مباحثوں پر حاوی ہے اور اس دوران دہشت گرد گروہ اپنے نیٹ ورکس کی تنظیم نو میں مصروف ہیں۔ گزشتہ ہفتے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے نئی تنظیم سازی کا اعلان کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ  گروپ مضبوط ہو رہا ہے۔ اب یہ اپنے بازو پھیلا رہا ہے اور ملک کے مذہبی اور نسلی طور پر خطرات سے دوچار خطوں میں…

Read More

بلوچستان کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو پاکستان کے شہری علاقوں بالخصوص پنجاب  جو ملک کے سماجی اور سیاسی بیانیوں کو کنٹرول کرتا ہے، میں تشخص کا مسئلہ درپیش ہے۔ سکیورٹی کے اداروں، دانشور، میڈیا اور یہاں تک کہ تعلیم کے شعبے سے وابستہ لوگ اور سول سوسائٹی نے بھی ان کی ایک منفی تصویر بنا رکھی ہے۔ یہ تصویر کسی غصیلے بلوچ سے  بھی بڑھ کر ہے۔ وہ کسی ایسے قبائلی شخص کی عکاسی کرتے ہیں جو شہری آداب سے نابلد، مذہبی تعلیم سے بے بہرہ اور سیاسی جذبات سے بھرا ہے۔ ایک ایسا شخص جو ریاست کے  ترتیب دیے…

Read More

نو مئی کے ہنگامے طویل عرصے تک ملک کے سیاسی منظرنامے پر اپنے نقش ثبت رکھیں گے۔ پی ٹی آئی کے سربراہ کی گرفتاری کے بعد ہونے والے ان ہنگاموں کا پیش خیمہ کون سی وجوہات بنیں اس کی تفتیش  کے لیے وقت، معروضی اور سائنسی تجزیہ اور سیاسی تعصب سے فاصلہ درکار ہوگا۔ اب جب کہ اس سانحے کے نتائج سامنے آنا شروع ہوئے ہیں، ایک اچھا رویہ یہ ہوگا کہ ماضی قریب میں ہونے والے اس قسم کے واقعات  پر بھی تحقیق کی جائے اور یہ جانا جائے کہ ریاست ان سے کس طرح نبرد آزما ہوئی۔ ان…

Read More