Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»تحریک انصاف بمقابلہ تحریکِ لبیک
    کالم

    تحریک انصاف بمقابلہ تحریکِ لبیک

    محمد عامر راناBy محمد عامر راناجون 7, 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    نو مئی کے ہنگامے طویل عرصے تک ملک کے سیاسی منظرنامے پر اپنے نقش ثبت رکھیں گے۔ پی ٹی آئی کے سربراہ کی گرفتاری کے بعد ہونے والے ان ہنگاموں کا پیش خیمہ کون سی وجوہات بنیں اس کی تفتیش  کے لیے وقت، معروضی اور سائنسی تجزیہ اور سیاسی تعصب سے فاصلہ درکار ہوگا۔ اب جب کہ اس سانحے کے نتائج سامنے آنا شروع ہوئے ہیں، ایک اچھا رویہ یہ ہوگا کہ ماضی قریب میں ہونے والے اس قسم کے واقعات  پر بھی تحقیق کی جائے اور یہ جانا جائے کہ ریاست ان سے کس طرح نبرد آزما ہوئی۔

    ان میں سے سب سے حالیہ مثال  سیاسی و مذہبی جماعت تحریکِ لبیک  پاکستان کی ہے جس نے ہنگامہ آرائی کی سیاست کی حدوں کو چھو لیا۔ صرف دو سال پہلے اس جماعت نے فرانس کے سفیر کو ملک سے نکالنے کے حکومتی وعدے کو پورا کروانے کے لیے ملک کے اہم شہروں  میں  سڑکوں پر آگئی تھی۔ پولیس اور نیم فوجی دستے ان شدت پسند عناصر کو روکنے میں ناکام رہے۔ ٹی ایل پی کے ان ‘حملوں’ کے دباؤ میں آکر  حکومت نے اس جماعت کی کالعدم حیثیت ختم کرنے اور اس کے سربراہ سعد رضوی سمیت کئی رہنماؤں کا نام دہشتگردوں کی واچ لسٹ سے ہٹانے کا  فیصلہ کرلیا۔ اس گروہ کی قانونی حیثیت بحال کرنے سے پہلے حکومت نے تحریکِ لبیک پاکستان کو اندرونی سلامتی  کے لیے خطرہ اور دنیا میں پاکستان کے تشخص کی بدنامی کا سبب قرار دے کے اس پر پابندی لگائی تھی۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران خان کی حکومت نے ہی تحریکِ لبیک کے ساتھ مذاکرات کرکے اسے ریلیف دے دی تھی۔ ملک کے قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اس فیصلے میں حکومت کے ساتھ تھے جیسا کہ تحریکِ لبیک کے قائدین نے اپنے  عوامی خطبوں میں اس کا بارہا  اظہار کیا۔ اپنے دورِ حکومت میں تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے تحریکِ لبیک کی طرح کی مذہبی جماعتوں کو اپنا حقیقی حریف سمجھا اور مذہبی نعروں اور کچھ آدھے ادھورے اقدامات کے ذریعے اپنی جماعت کا مذہبی تشخص قائم کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ ریاست نے کس طرح مذہبی جماعتوں کو برداشت کیا، وہ اس کا براہِ راست شاہد تھا۔ سکیورٹی اداروں پر حملوں اور انہیں سبوتاژ  کرنے میں ملوث ہونے اور ملک کی بدنامی کا باعث بننے کے باوجود انہیں مکمل طور پر ‘عاق’ نہیں کیا گیا۔

    غالباً اسی عنصر نے عمران خان کی سیاسی پالیسی کو بنانے میں کردار ادا کیا۔ پہلے پہل اسٹبلشمنٹ کا لاڈلا جو حکومت کے جانے کے بعد بھی ان کی خدمت بجالانے کو تیار تھا، نے سوچا ہوگا کہ تحریکِ لبیک کی طرح کے مظاہرے اسٹبلشمنٹ کو مجبور کریں گے کہ وہ ان سے مذاکرات شروع کرے۔ اگر یہی بات تھی تو عمران خان  نے ایک بہت  بڑی غلطی کی۔ انہوں  نے اس بات کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھا کہ اگرچہ وہ سیاست میں ‘مذہبی ٹچ’ کا استعمال کرتا ہے جس طرح کہ ماضی میں دوسری سیاسی جماعتوں نے کی ہے، مگر یہ ان  کی پارٹی کو ایک ایسی مذہبی جماعت میں تبدیل نہیں کرتا جس پر اسٹبلشمنٹ کو اعتماد ہو۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ جب عمران خان اپنے جارحانہ موقف کو انتہاء پر لے گیا تو تمام کالعدم جماعتیں، بشمول تحریکِ لبیک کے، احتجاجاً سڑکوں پر آگئیں۔تحریکِ لبیک نے ‘پاکستان بچاؤ مارچ ‘ شروع کیا جب کہ کالعدم اور فرقہ ورانہ جماعتوں کے ایک اتحاد ‘دفاعِ پاکستان کونسل’ بھی راتوں رات فعال ہوگیا اور ‘ملکی مفادات’ کو نقصان پہچانے کی سیاستدانوں کی طرف سے کی گئی ‘سازشوں’ کو غیرفعال بنانے کے ایک نکاتی ایجنڈے کا اعلان کردیا۔

     یہ جماعتیں ریاست کے لیے سیاسی افادیت کی حامل ہیں اور آخرالذکر انہیں جب چاہے استعمال کرتی ہے۔ بدلے میں ان جماعتوں کو اپنی سیاست کرنے کے لیے گنجائش ملتی ہے۔ یہ جماعتیں اپنے بیانیے پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتیں اور نتیجتاً معاشرے میں شدت پسندی کو پھلنے پھولنے میں  مدد دیتی ہیں۔ اپنے زہریلے بیانیے کی طاقت کا غلط استعمال کرتے ہوئے وہ ان مواقعوں کی تلاش میں رہتی ہیں جہاں انہیں آزادی حاصل ہو۔ یہ کئی دہائیوں سے جاری ایک کھیل کی طرح ہے اور یہ ریاست کا منشا ہے کہ ادارے ایک مخصوص حد سے آگے ان  مذہبی جماعتوں کے خلاف نہیں جاسکتے۔ یہ سیاسی جماعتوں سے مختلف ہیں جو ایک مخصوص حد تک اسٹبلشمنٹ کے ساتھ طاقت بانٹتی ہیں۔ معیشت، گورننس اور بیرونی تعلقات کچھ اس طرح آپس میں جُڑے ہیں کہ بتدریج اسٹبلشمنٹ اور سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات کھل کے سامنے آجاتے ہیں۔

    دراصل تحریکِ انصاف اپنے اور تحریکِ لبیک کے درمیان جوہری فرق کا تجزیہ نہیں کرسکی اور اپنے اسٹبلشمنٹ مخالف بیانیے کو خادم حسین رضوی کے مذہبی منافرت پر مبنی بیانیے کے برابر لے گئی۔اسٹبلشمنٹ نے تحریکِ لبیک پر موجود پابندی ہٹادی ہے لیکن اگر یہ پابندی تحریکِ انصاف پر لگتی ہے تو اس جماعت کو اسٹبلشمنٹ کی نظروں میں اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے طویل جدوجہد کرنا پڑے گی۔محدود پیمانے پر  تخریب کاری پر مبنی مظاہرے کرنے کے بعد مرکزی دھارے کی تمام سیاسی جماعتیں اس متفقہ نتیجے پر پہنچی ہیں کہ ملک کے سیاسی منظرنامے کی سلامتی اور بقا کے لیے واحد حل پُرامن جدوجہد اور مکالمہ ہے۔ سیاسی جماعتیں اسٹبلشمنٹ سے نمٹنے کا فن سیکھ چکی ہیں اورعموماً اس کے برعکس نہیں جاتیں۔ اگر کہیں  کوئی ناگزیر تنازعہ جنم بھی لیتا ہے تو سیاسی جماعتیں اتنے ہوشمند ضرور ہیں کہ ایک مخصوص سطح پر پہنچ کر اپنے مفادات کو بچانے کے لیے مفاہمت کرلیتے ہیں۔

    تحریکِ انصاف کے بغیر کے سیاسی منظرنامے کا تصور کرتے ہوئے ایک چیز جو مبصرین کو پریشان کرتی ہے وہ اس جماعت سے جُڑے ہوئے نوجوان ہیں۔ گو کہ کئی امکانات کا جائزہ لینا چاہیے مگر لگتا ہے کہ تحریکِ انصاف کے نوجوان نیشنلسٹ اور پی پی پی جیسی جماعتوں جیسا رویہ اپنائیں گے ۔ چند ایک کے علاوہ وہ تحریکِ لبیک یا تحریکِ طالبان پاکستان  جیسی تنظیموں کا حصہ بننا پسند نہیں کریں گے۔ تحریکِ انصاف کے حامیوں میں گوناگونی ہے اور یہ صرف تنخواہ دار یا متوسط درجے کے لوگوں پر مشتمل نہیں؛ کم تنخواہ والے طبقے کی حمایت ہوسکتا ہے کہ دوسری سیاسی اور مذہبی  جماعتوں میں تقسیم ہو مگر اس کے باوجود ایک ‘فریب خوردہ’ طبقہ بہرحال موجود رہے گا۔

    سیاسی فضا کی دھندلکی اور خود ساختہ سینسرشپ کسی کو واضح طور پر سوچنے سے قاصر کرسکتا ہے مگر تحریکِ انصاف کو مستقبل میں  مکمل طور پر سیاست سے باہر نہیں کیا جاسکتا۔ اس جماعت نے وہ کیا جو اس سے سرزد ہوچکا ہے اور  آج  اپنے کیے کو اُلٹ نہیں سکتی۔ اسٹبلشمنٹ 9 مئی کے واقعات کو معاف نہیں کرے گا مگر عمران خان کو احساس ہونا چاہیے کہ مرکزی دھارے کی ایک سیاسی جماعت  مذہبی جماعت کا علاقہ نہیں لے سکتی۔ مذہبی جماعتیں طاقتور اشرافیہ کی  بُنت کا حصہ ہوتی ہیں جو انہیں مختلف مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کا علاقہ مختلف ہوتا ہے۔ منافرت کی سیاست کا کوئی جواز نہیں ہے۔ کچھ مقبول جماعتیں مذہبی، قبائلی اور نسلی نعروں کا سیاسی مفادات حاصل کرنے لیے استعمال تو  کرتی ہیں البتہ جب وہ وعدے مکمل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتیں تو وہ جماعت سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں مگر مذہبی اور دیگر تقسیم ہمیشہ کے لیے برقرار رہتی ہیں۔

    Politics of Vandalism TLP and PTI
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleنوآبادیاتی دور کا قطر (1913ء تا 1971ء)
    Next Article شیخ الجبل اور شام میں اسماعیلی ریاست
    محمد عامر رانا

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by