Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»قانون سازیوں کی یلغار میں۔۔۔
    کالم

    قانون سازیوں کی یلغار میں۔۔۔

    محمد عامر راناBy محمد عامر رانااگست 18, 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    پی ڈی ایم کی مخلوط حکومت کی بے مثال قانون سازی گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں جگہ کی مستحق ہے ۔ انسانی حقوق کے چیمپیئن ہونے کے دعویدار ایک سیاسی جماعت، کچھ وزراء اور قانون سازوں نے ایسے بل پیش کیے جو ان کے دعوے کے خلاف تھے۔ یہ پاکستانی سیاست میں ایک نئی پیش رفت ہے جہاں تمام سیاسی اداکار اپنے آپ کو طاقت کے مرکز کے ساتھ صف بندی میں شامل کرنے کے لیے ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔

    وزیر قانون نے اس وقت ایک دلچسپ عذر پیش کیا جب پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام کا بل 2023 خوش قسمتی سے چند سینیٹرز کی بروقت مداخلت کے بعد ایوان بالا نے مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کا مسودہ تمام تر جزئیات کے ساتھ پی ٹی آئی کی حکومت نے تیار کیا تھا ۔ تاہم انہیں جواب دینا ہوگا کہ بل کو کس نے ازسرِ نو سامنے لے آیا اور ٹریژری بنچوں کی جانب سے پیش کیا۔

    اگرچہ چند جرأت مند قانون سازوں نے اس بل کو روک دیا تھا، جس کا مقصد صرف اور صرف سیاسی استعمال تھا لیکن حکومت اور اپوزیشن آفیشل سیکریٹ ایکٹ 2023 میں ترمیم کو روکنے میں ناکام رہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا پی ڈی ایم نے مستقبل میں اپنی سیاست کے لیے آزاد فضا کی کوئی گنجائش چھوڑ دی ہے؟ اگر چھوڑ دی ہے تو کتنی؟ طاقت کے حامل افراد جذباتی ہوتے ہیں اور اگر سیاسی اداکار مختلف اقدامات کرتے ہیں تو وہ دلچسپی کھو دیتے ہیں۔

    مسلم لیگ ن کو خاص طور پر آئندہ انتخابات میں ایک ٹیسٹ کیس کا سامنا ہے۔ پارٹی نے پہلے انتخابی عمل میں داخل ہونے سے پہلے برابری کے میدان کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم اس کے بعد سے اس نے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن کی مکمل حمایت کی ہے اور مقتدر حلقوں کی فرمانبرداری کے ساتھ خدمت کی ہے۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ اس سے مسلم لیگ ن کو کیا فائدہ ہوگا۔

    پاکستان میں سیکیورٹی سے متعلق قانون سازی کا دائرہ وسیع ہے ۔ ملک میں سیاست دانوں کو نشانہ بنانے کے لیے ایسے قوانین کا غلط استعمال کرنے کی ایک پوری تاریخ ہے۔ اس خوف کی وجہ سے چند سینیٹرز نے ایوان بالا میں انتہا پسندی کے اس بل کو روک دیا۔ سیاست دانوں کا ایسے معاملے پر حکومت کے ساتھ کھڑا ہونا ایک نادر مثال ہے۔ تاہم زیادہ تر معاملات میں سیاست دانوں نے خوشی یا ناخوشی سے سیکیورٹی سے متعلق قانون سازی کی حمایت کی ہے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ ان کے خلاف استعمال ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر جنوری 2015 میں سینیٹ نے 21ویں ترمیم کے حق میں ووٹ دیا، جس سے فوجی عدالتوں کے قیام کی اجازت دی گئی۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی پارٹی کے کہنے پر ووٹ دے رہے ہیں ورنہ یہ ترمیم ان کے ضمیر کے خلاف ہوئی۔ انہوں نے اپنی زندگی میں فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے ووٹ دیتے ہوئے اس سے زیادہ شرم کبھی محسوس نہیں کی۔ تاہم سیاسی عملیت پسندی اس قدر جڑی ہوئی ہے کہ ایسی سمجھدار آوازیں بھی جب اپنا فائدہ دیکھتی ہیں یا سیاسی مخالفین قانون سازی کا نشانہ بنتی ہیں تو سمجھوتہ کر لیتی ہیں۔

    یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ سیکورٹی سے متعلق قانون سازی کو وزارت قانون کی طرف سے پیشگی بحث یا ان پُٹ کے بغیر اچانک پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا ہو۔ اس قانون سازی کا زیادہ تر حصہ نجی قانونی فرموں کو آؤٹ سورس کیا جاتا ہے اور پھر سیکیورٹی اداروں کی طرف سے اس کی توثیق کی جاتی ہے۔ سلامتی سے متعلق بہت سے قوانین جو پارلیمنٹ کے ذریعے منظور کیے گئے ہیں جیسے کہ تحفظ پاکستان ایکٹ 2014، اور فیئر ٹرائل ایکٹ 2013، نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انسانی حقوق کی قیمت پر بااختیار بنایا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارےمزید وسیع قانونی اختیارات کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں، اور حکومت نے انسداد دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) 1997 میں متعدد بار ترمیم کرکے جواب دیا ہے۔ اس کے علاوہ دہشت گردی سے متعلق مقدمات کی رفتار تیز کرنے کے لیے فوجی عدالتیں قائم کی گئی ہیں۔ تاہم ان قانونی اقدامات کو اب بھی دہشت گردی سے متعلقہ مقدمات میں بریت کی بلند شرح سے نمٹنے کی ضرورت ہے جو کہ ایک سنگین تشویش ہے۔

    ستم ظریفی یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں جانتی ہیں کہ سلامتی سے متعلق مخصوص قوانین بالآخر ان کے خلاف استعمال ہوں گےاور پھر بھی وہ آگے بڑھ جاتی ہیں۔ خود اسی قانون کے معمار سابق وزیراعظم نواز شریف سمیت کئی سیاستدانوں اور سیاسی کارکنوں پر اے ٹی اے کے تحت مقدمہ چلایا جا چکا ہے۔ 1999 میں فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف نےانسدادِ دہشتگردی ایکٹ میں دو ترامیم متعارف کروائیں اور نواز شریف پر قانون کے تحت فرد جرم عائد کرنے کے لیے سازش سے متعلق شقیں شامل کیں۔

    دوسری جانب سخت گیر فرقہ پرست دہشت گردوں کے مقدمے کی سماعتیں طویل التواء کا شکار ہیں۔ بہت سے ملزمان جیلوں سے آپریٹ کرتے تھے، جیسے ملک اسحاق جو کہ فرقہ وارانہ دہشت گرد تنظیم لشکر جھنگوی کے بانی تھے۔ فرقہ وارانہ قتل کے 70 سے زائد الزامات میں 13 سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارنے کے بعد دسمبر 2014 میں اسے ضمانت پر رہا کیا گیا تھا۔ اسے جولائی 2015 میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے ساتھ ایک مقابلے میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

    پاکستان کے اقتدار کے حامل افراد کا دوئی پر مبنی نقطہ نظر ہے جو خود کو متضاد طریقوں سے ظاہر کرتا ہے۔ ان کا ‘اچھے’ اور ‘برے’ عسکریت پسندوں کا نقطہ نظر اسی کا مظہر ہے۔ یہ نقطہ نظر بین الاقوامی اور علاقائی دونوں طرح کی عسکریت پسند قوتوں پر لاگو کیا گیا ہے۔ مقتدر حلقے ملک میں سیاسی اداکاروں پر بھی اسی طرز عمل کا اطلاق کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر ان کے خلاف وہی قانون استعمال کرتے ہیں۔ یہ بات سیاق و سباق طے کرتا ہے کہ کس کو خطرہ سمجھا جاتا ہے اور کون نہیں۔

    سیاسی جماعتیں اور قانون ساز اتنے سادہ لوح نہیں ہیں کہ وہ اپنے لیے فائدہ اٹھائے بغیر اس طرح کی قانون سازی کی حمایت کریں ۔ یعنی وہ بدلے میں کچھ توقع کرتے ہیں۔ یہ توقع اپنے حق میں مزید سیاسی انجینئرنگ بھی ہوسکتی ہے یا پھر پرائیویٹ یونیورسٹیوں سے متعلق بل کی طرح پرائیویٹ بلوں کی منظوری بھی۔

    حکومتی بنچوں نے بھی انتہائی دائیں بازو کی مذہبی جماعتوں کے بل میں ترامیم کی حمایت کی۔ سینیٹ نے اہل بیت یا صحابہ کرام کی توہین کرنے والوں کی سزاؤں میں اضافے کے لیے پاکستان پینل کوڈ 1860 اور ضابطہ فوجداری 1898 میں ترامیم کی منظوری دے دی۔ ان ترامیم کو بغیر بحث کے منظور کر لیا گیا، جس سے مذہب سے متعلقہ قانون سازی کی وسیع نوعیت کے بارے میں خدشات پیدا ہوئے۔ اس طرح کی قانون سازی کے ملک میں امن اور ہم آہنگی کے لیے سنگین مضمرات ہیں۔ تاہم ساتھ ہی یہ سیاسی مخالفین کے خلاف بھی استعمال ہوسکتے ہیں، کیونکہ پاکستان میں اس کی ایک تاریخ موجود ہے۔

    حیرت کی بات یہ ہے کہ پارلیمنٹ اور اسٹیبلشمنٹ نے ہنوز سپریم کورٹ کے 2019 کے حکم کے مطابق دہشت گردی کی ایک نئی اور جامع تعریف نہیں کی ہے۔ یہ واقعی ستم ظریفی ہے کہ ایک ایسا ملک جو دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اس کے پاس ایک اصطلاح کی صحیح تعریف کے بغیر اس سے متعلق وسیع قانون سازی اور پالیسیاں ہیں۔

    Legislations National Assembly and Senate
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے زیرِ اہتمام "سی پیک کے 10 سال اور پاکستان کی معاشی نمو” کے موضوع پر مباحثے کا اہتمام
    Next Article تاریخی اور نسلیاتی تحقیق میں ڈی این اے ٹیسٹ کا استعمال
    محمد عامر رانا

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by