منصوبہ خطے میں معاشی ، سیاسی ،سماجی اور تزویراتی ہر طرح کی بازیاں الٹ کے رکھ دے گا ، آنے والی تاریخ راہداری کے بعد کی تاریخ کہلائے گی.
پس منظر
پاک چین اقتصادی راہداری کی تاریخ 207قبل مسیح سے جڑی ہوئی ہے جب چین کے ہن بادشاہوں کے دور میں چینی ریشم کوجنوبی ایشیائی اور اس سے آگے کی دنیا میں پہنچانے کے لئےجو راستے استعمال کئے جاتے تھے ان میں ایک راستہ یہ بھی تھا ۔آنے والی کئی صدیوں تک اس راستے نے یہاں کی معیشت اور تہذیب و تمدن پر اپنے ان مٹ نقوش چھوڑے ۔جدید چین کے قیام کے بعد پاکستان وہ پہلا ملک تھا جس نے چین کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کئے ۔ یہ ان تعلقات کی گرم جوشی تھی کہ انھیں ہمالیہ سے بلند اور بحیرہ عرب سے گہرا قرار دیا گیا۔دونوں ممالک میں کوئی قدر مشترک تو نہیں ،زبان ،تاریخ ،تہذیب سب کچھ مختلف ہے ،اگر کوئی چیز مشترک ہے تو وہ سلسلہ کوہ ہا پامیر اور اس کی برف پوش چوٹیاں ہیں جو سارا سال برف سے ڈھکی رہتی ہیں ۔دونوں طرف کی سرحدیں بھی سرد ہیں مگر سرحدوں کے اطراف جذبے ایک دوسرے کے لئے بہت گرم جوش ہیں ۔1968ء میں پاکستان اور چین کی حکومتوں نے گیارہ سالہ ایک منصوبہ شروع کیا جس کے تحت دونوں ممالک کو ملانے والی شاہرا ہِ ریشم کو اپ گریڈ کرنا تھا جو تمام موسموں میں کارآمد رہے ۔خنجراب سے تھاہ کوٹ تک1،032کلومیٹر طویل شاہراہ گیارہ سالوں میں نومبر 1979میں مکمل کر لی گئی۔سلسلہ کوہ ہائے پامیر جو کن لن ،تیان شان،ہندوکش اور قراقرم کے پہاڑی سلسلوں پر مشتمل ہے کو "دنیا کی چھت”کہا جاتا ہے ۔یہاں سے سڑک نکالنا کوئی آسان کام نہ تھا بلکہ اس کام کے لئے 168چینی اور810پاکستانی تعمیراتی کارکنوں نے اپنی جانیں قربان کیں ۔بلاشبہ آج بھی اس شاہراہ کو دنیا کی سب سے اونچی بین الاقوامی شاہراہ کا درجہ حاصل ہے ۔
دونوں ممالک میں کوئی قدر مشترک تو نہیں ،زبان ،تاریخ ،تہذیب سب کچھ مختلف ہے ،اگر کوئی چیز مشترک ہے تو وہ سلسلہ کوہ ہا پامیر اور اس کی برف پوش چوٹیاں ہیں جو سارا سال برف سے ڈھکی رہتی ہیں ۔دونوں طرف کی سرحدیں بھی سرد ہیں مگر سرحدوں کے اطراف جذبے ایک دوسرے کے لئے بہت گرم جوش ہیں
اس شاہراہ سے دونوں ممالک میں اربوں ڈالر کی سالانہ تجارت ہوتی ہے ۔اس وقت پاکستان اور چین کے درمیان کل سالانہ تجارت کا حجم 20 ارب ڈالر ہے ۔گزشتہ تین دہائیوں میں چین نے بے پناہ ترقی کی ہے اور وہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت کا درجہ حاصل کر چکی ہے ۔گزشتہ پانچ سالوںمیں دنیا اقتصادی کساد بازاری کا شکار ہے جس نے چینی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب کئے ہیں ۔چین میں جب زی پنگ کی حکومت آئی تو انھوں نے چین کے معاشی ترقی کی رفتار کو برقرار رکھنے کے لئے اپنی معاشی پالیسی کے 4 اہداف مقرر کئے جن میں ایشیاء اور یورپ کے درمیان زمینی رابطوں میں اضافہ، ون بیلٹ ون روڈ کا قیام، آزادانہ تجارت کا فروغ، اور عوام کے باہمی رابطے شامل ہیں۔ 2013ء میں سامنے آنے والی اس پالیسی کو One Belt, One Road” (OBOR) کا نام دیا گیا جس کا مقصد یورپ اور ایشیاء سے لے کر افریقہ تک اقتصادی روابط کو مربوط کرنا تھا ۔ان میں مرکزی حیثیت اس سلک روٹ کو حاصل تھی جو ہزاروں سال سے موجود تھا۔ ایک شاہراہِ ریشم جو وسطی ایشیاء سے ہوتے ہوئے ماسکو اور یورپ تک جاتی تھی اور دوسرا سمندری راستہ ہے جو مشرقِ بعید اور آگے افریقہ تک جاتا تھا ۔چین ان راستوں کو اپنی نئی اقتصادی ضروریات کے تحت وسعت دینا چاہتا ہے ۔اس کے لئے اس نے سڑکوں اور ریلوے لائن کا ایک بہت بڑا منصوبہ بنایا ہے ۔ایک راستہ چین سے ماسکو ، روٹر ڈیم اور وینس تک جاتا ہے اور دوسرا راستہ مغربی ایشیا ء ،انڈونیشیا، بنگلہ دیش اور برما تک جبکہ تیسرا پاکستان سے بحیرہ عرب تک جاتا ہے ۔
ون بیلٹ ون روڈ کا مجوزہ خاکہ

کہتے ہیں کہ کسی ملک کی ترقی کا پیمانہ اس کی انرجی کی کھپت سے ہوتا ہے ۔اس حوالے سے چین دنیا میں انرجی کی سب سے زیادہ کھپت والا ملک ہے ۔چین کو یہ انرجی زیادہ تر خلیجی ممالک سے در آمد کرنا پڑتی ہے ۔چین میں استعمال ہونے والا 80 سے 85 فیصد تیل بحری جہازوں کے ذریعے آبنائے ملاکا سے گزرکر ایک طویل راستے سے ہوتا ہوا چین پہنچتا ہے ، مشرقِ وسطیٰ، یورپ، اور افریقہ سے چین کی بیشتر تجارت بھی اسی راستے سے ہوتی ہے۔عرب امارات سے تیل پہنچانے والے مال بردار بحری جہاز بحر ہند سے ہوتے بحر الکاہل اور پھر منزلِ مقصود بیجنگ تک پہنچتے ہیں۔ اس راستے کی طوالت 16ہزار کلومیٹر ہے، مگر جب یہی مال بردار جہاز گوادر پر لنگر انداز ہو تو وہاں سے تیل یا سامان محض 6 ہزار کلومیٹر کا راستہ طے کر کے بیجنگ پہنچ سکتا ہے۔
منصوبے کا آغاز
پاک چین اقتصادی راہداری کی بازگشت 2000ء کے وسط میں پہلی بار اس وقت سنی گئی جب گوادرکو کاشغر سے منسلک کرنے کی بات ہوئی۔ 28جولائی2006ء کواس وقت کے ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن ڈاکٹر اکرم شیخ نے اس مجوزہ راہداری کا ایک خاکہ اس وقت کے صدر مشرف کو پیش کیا ۔جب وزیراعظم نواز شریف نے اپناعہدہ سنبھالنے کے بعد چین کا پہلا دورہ کیا تووہاں پر 5جولائی 2013ء کو چین پاکستان اقتصادی راہداری کے مجوزہ خاکے کی یاداشت پر دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے دستخط کئے جس کے تحت مغربی چین کے صوبے کاشغر سے گوادر تک ایک اقتصادی راہداری بنائی جانی تھی ۔اس راہداری میں صرف سڑکیں ہی تجویز نہیں کی گئیں بلکہ ذرائع مواصلات کا ایک وسیع نیٹ ورک بھی تجویز کیاگیا جس میں ریلوے لائن ، عالمی معیار کی بندر گاہ ،تجارتی بنیادوں پر ساحلی پٹی کی ترقی ، ائیرپورٹ،ہائی ویز ،فائبر آپٹک،تیل اور گیس کی پائپ لائنیں بھی شامل ہوں گی ۔پاک چین اقتصادی راہداری کو عملی شکل دینے کے لئے حکومت پاکستان نے وزارت پلاننگ ،ڈویلپمنٹ اور ریفارمز کو ذمہ داری دی جس نے چین کے ادارے نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارمز کمیشن کے ساتھ مل کر ایک جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی تشکیل دے رکھی ہے ۔ دونوں حکومتیں مل کر طویل اور مختصر المدتی منصوبوں پر عمل پیرا ہیں تمام منصوبوں کی تکمیل کی تاریخ 2030ء مقرر کی گئی ہے ۔انرجی ، انفراسٹرکچر ،گوادر اور انڈسٹریل زونز کی تعمیر کے لئے الگ سے ورکنگ گروپ بھی بنائے گئے ہیں ۔جن کی ملاقاتیں گزشتہ دو سال سے جاری ہیں ۔بتایا جاتا ہے کہ ان ورکنگ گروپس کی سفارشات پر 45ارب ڈالر کے منصوبےمنظور ہو چکے ہیں ۔جن میں ملک کے چاروں صوبوں میں نئی سڑکوں کی تعمیر کی جا رہی ہے ،موجود ہ ریلوے لائن کو بہتر بنایا جا رہا ہے اور بجلی پید اکرنے کے منصوبے شروع کئے گئے ہیں ۔
اس راہداری میں صرف سڑکیں ہی تجویز نہیں کی گئیں بلکہ ذرائع مواصلات کا ایک وسیع نیٹ ورک بھی قائم کیا جائے گا جس میں ریلوے لائن ، عالمی معیار کی بندر گاہ ،تجارتی بنیادوں پر ساحلی پٹی کی ترقی ، ائیرپورٹ،ہائی ویز ،فائبر آپٹک،تیل اور گیس کی پائپ لائنیں بھی شامل ہوں گی
چائنا پاکستان اقتصادی راہداری کس سیکٹر کے لئے کتنا پیسہ مختص ہے ؟
چینی صدر زی پنگ گزشتہ سال اپریل میں پاکستان آئے تو انھوں نے پاکستان کے ساتھ اقتصادی راہداری کی مد میں 46 ارب ڈالر کے منصوبے شروع کرنے کے معاہدوں پر دستخط کئے ۔ چین نے یہ بات واضح طور پر کہی ہے کہ صرف اس منصوبہ کو اس راہداری کا حصہ بنایا جائے گا جس کی کوئی سائنسی اور منطقی توجیح ہو گی ۔پاکستان میں چونکہ انرجی کا بحران ہے اس لئے سب سے زیادہ پیسہ اس شعبے کے لئے مختص ہے ۔46 ارب ڈالر میں سے کتنا پیسہ کس سیکٹر کے لئے مختص کیا گیا ہے اس کو درج ذیل چارٹ سے واضح کیا گیا ہے ۔

راہداری منصوبہ کا روٹ وجہ تنازعہ کیوں ؟
28 جولائی 2006ء کو جب پلاننگ کمیشن نے اس وقت کے صدر مشرف کو اس مجوزہ منصوبے کی پہلی بریفنگ دی تھی تو اس وقت سے ہی اس کے لئے تین روٹ تجویز کئے گئے تھے ۔
1۔وسطی روٹ:جو کہ گوادر-تربت-خضدار-رتوڈیرو-کشمور-راجن پور-ڈیرہ غازی خان –ڈیرہ اسماعیل خان –بنوں –کوہاٹ-پشاور-حسن ابدال اور پھر شاہراہِ ریشم۔
بعد ازاں وفاقی حکومت کی سفارش پر مشرقی روٹ کا اضافہ کیا گیا جو اس طرح تھا :
2۔گوادر-تربت-خضدار-رتوڈیرو-ڈیرہ غازی خان –ملتان –فیصل آباد-پنڈی بھٹیاں-راولپنڈی-حسن ابدال اور آگے
جب میڈیا میں مشرقی روٹ کی بازگشت ہوئی تو اس میں تیسرے یعنی مغربی روٹ کابھی اضافہ کر دیا گیا۔
3۔ گوادر-تربت-خضدار-کوئٹہ-ژوب-ڈیرہ اسماعیل خان –بنوں –کوہاٹ-پشاور-حسن ابدال اور آگے
وزیر اعظم نواز شریف نے جے یو آئی ٖ ٖٖ ف کے رہنما مولانا فضل الرحمٰن کی سفارش پر ڈیرہ اسماعیل خان کو اسلام آباد سے براہِ راست لنک کرنے کا حکم دیا یہ روٹ جسے مغربی الائنمنٹ کہا جا رہا ہے کی مجموعی لمبائی M-2موٹروے کے مقام ہکلہ سے ڈیرہ اسماعیل خان تک 285 کلومیٹر ہے ۔اس کے راستے میں اٹک اور میانوالی کے پسماندہ اضلاع بھی آئیں گے ۔غالباً یہی وہ روٹ ہے جو پہلے برہان ڈیرہ اسماعیل خان کے نام سے تھا ۔مگر اب اس کو برہان کی بجائے اسلام آباد کے قریب ہکلہ سے شروع کیا جا رہا ہے جس کی بڑی وجہ کالا چٹہ پہاڑی سلسلہ میں حساس تنصیبات کو قرار دیا جا رہا ہے اور اسی وجہ سے روٹ میں تبدیلی کی گئی ہے ۔اس روٹ کا افتتاح اگلے چندروز میں ہونے جا رہا ہے اور یہ 2018ء تک142.998ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہو گا۔
وزیر اعظم نواز شریف نے 28مئی 2015ء کو ایک کل جماعتی کانفرنس بلائی اور اس میں "راہداری ایک مگر راستے کئی "کی پالیسی کا اعلان کیا ۔ساتھ ہی یہ یقین دہانی کروائی کہ مغربی راستہ ترجیحی بنیادوں پر سب سے پہلے مکمل کیا جائے گا اور اس کی تکمیل کی حتمی تاریخ 16 جولائی 2018ء مقرر کر دی
چائناپاکستان اقتصادی راہداری کے تینوں روٹس کا مجوزہ نقشہ

بلوچستان کی کچھ جماعتوں اور خیبر پی کے حکومت کا خیال تھا کہ وفاقی حکومت راہداری کو پنجاب سے گزارنا چاہتی ہے تاکہ اس کا علاقہ زیادہ سے زیادہ مستفید ہو ۔شاید اس بات میں وزن بھی تھا کہ مشرقی روٹ ہی وہ راستہ تھا جو سب سے آسانی کے ساتھ اور کم وقت میں فنکشنل ہو سکتاتھا ۔ وفاقی حکومت نے شروع میں اس تنازعہ پر خاموشی اختیار کئے رکھی لیکن جب معاملہ حد سے بڑھاتو 2015ء میں یہ بیان دیا کہ اس راہداری کا کوئی ایک روٹ نہیں بلکہ تین روٹ ہیں اور تینوں مرحلہ وار بنائے جائیں گے مگر یہ بات صوبوں کی اشک شوئی کے لئے کافی نہیں تھی کیونکہ چین نے پاکستان کے تینوں روٹوں کے لئے پیسہ مختص نہیں کیا تھا ۔موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف نے 28مئی 2015ء کو ایک کل جماعتی کانفرنس بلائی اور اس میں "راہداری ایک مگر راستے کئی "کی پالیسی کا اعلان کیا ۔ساتھ ہی یہ یقین دہانی کروائی کہ مغربی راستہ ترجیحی بنیادوں پر سب سے پہلے مکمل کیا جائے گا اور اس کی تکمیل کی حتمی تاریخ 16 جولائی 2018ء مقرر کر دی ۔یہ چار رویہ سڑک ہو گی جس کو بوقت ضرورت چھ رویہ بھی کیا جا سکے گا ۔لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں کہ مغربی روٹ کے لئے پیسہ کہاں سے آئے گا کیونکہ چین نے صرف ملتان سکھر موٹر وے کے لئے قرضہ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔وزیر اعظم نواز شریف اس مہینے برہان ڈیرہ اسماعیل خان سیکشن کا سنگ بنیاد رکھنے جا رہے ہیں جو مغربی روٹ کا سب سے اہم حصہ ہے ۔ڈاکٹر قیصر بنگالی نامور ماہر معیشت ہیں ،وہ سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک کے مشیر بھی رہے ہیں ۔راہداری سے متعلق اعلی ٰ سطحی اجلاسوں میں وہ شریک رہے ہیں جب ہم نے ان سے سوال کیا کہ ابتدائی طور پر چین نے صرف لاہور کراچی موٹر وے منصوبے کو راہداری کا حصہ قرار دیتے ہوئے اس کے لئے فنڈ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی مگر اب پاکستان کی سیاسی قیادت نے جس مغربی روٹ کو سب سے پہلے فنکشنل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس کے لئے فنڈنگ کہاں سے آئے گی؟ اس سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ مغربی روٹ چونکہ سب سے مختصر راستہ ہے اس لئے اس کی فنڈنگ بھی چین ہی کررہا ہے ۔تاہم انھوں نے کہا کہ اس روٹ پر ہیوی ٹریفک چلے گی اور 22ویلر ٹرالر بھاری کنٹینروں سے لیس ہو کر گوادر سے خنجراب تک جائیں گے اگر روڈ کی تعمیر بین الاقوامی معیار کے مطابق نہ ہوئی تو یہ چھ ماہ میں بیٹھ جائے گی ۔ انھوں نے کہا کہ حکومت منصوبے کے معیار کو ملحوظ خاطر رکھے ایسا نہ ہو کہ بھاری سرمایہ ضائع ہو جائے ۔ ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کہا کہ راہداری چین کی ضرورت ہے وہ اسے جلد از جلد فنکشنل کر بھی لیں گے مگر دیکھنا یہ کہ اس سے پاکستان کو جو فائد ہ اٹھانا ہے وہ اٹھا سکتا ہے کہ نہیں ۔کیونکہ لاہور اسلام آباد موٹر وے بناتے وقت بھی حکومت نے کہا تھا کہ اس کے ارد گرد انڈسٹریل زون بنیں گے ۔آج کی تاریخ تک توایک بھی زون نہیں بنا ۔ کہیں اس راہداری کے ساتھ بھی یہی نہ ہو ۔ جب ان سے دریافت کیا گیا کہ کیا یہ مسئلہ سیاسی قیادت کی اہلیت کا ہے یا پھر ریاستی مشنری کی صلاحیت کا ہے ؟ انھوں نے جواب دیا کہ صرف وزیر اعظم کے کہنے سے کام نہیں ہو جاتے بلکہ ریاستی مشنری کو بھی متحرک ہونا پڑتا ہے ۔ "راہداری ایک مگر راستے کئی "کی پالیسی کا اعلان کیا ۔ساتھ ہی یہ یقین دہانی کروائی کہ مغربی راستہ ترجیحی بنیادوں پر سب سے پہلے مکمل کیا جائے گا اور اس کی تکمیل کی حتمی تاریخ 16 جولائی 2018ء مقرر کر دی ۔یہ چار رویہ سڑک ہو گی جس کو بوقت ضرورت چھ رویہ بھی کیا جا سکے گا ۔لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں کہ مغربی روٹ کے لئے پیسہ کہاں سے آئے گا کیونکہ چین نے صرف ملتان سکھر موٹر وے کے لئے قرضہ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔وزیر اعظم نواز شریف اس مہینے برہان ڈیرہ اسماعیل خان سیکشن کا سنگ بنیاد رکھنے جا رہے ہیں جو مغربی روٹ کا سب سے اہم حصہ ہے ۔ڈاکٹر قیصر بنگالی نامور ماہر معیشت ہیں ،وہ سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک کے مشیر بھی رہے ہیں ۔راہداری سے متعلق اعلی ٰ سطحی اجلاسوں میں وہ شریک رہے ہیں جب ان سےہم نے سوال کیا کہ ابتدائی طور پر چین نے صرف لاہور کراچی موٹر وے منصوبے کو راہداری کا حصہ قرار دیتے ہوئے اس کے لئے فنڈ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی مگر اب پاکستان کی سیاسی قیادت نے جس مغربی روٹ کو سب سے پہلے فنکشنل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس کے لئے فنڈنگ کہاں سے آئے گی؟ اس سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ مغربی روٹ چونکہ سب سے مختصر راستہ ہے اس لئے اس کی فنڈنگ بھی چین ہی کررہا ہے ۔تاہم انھوں نے کہا کہ اس روٹ پر ہیوی ٹریفک چلے گی اور 22ویلر ٹرالر بھاری کنٹینروں سے لیس ہو کر گوادر سے خنجراب تک جائیں گے اگر روڈ کی تعمیر بین الاقوامی معیار کے مطابق نہ ہوئی تو یہ چھ ماہ میں بیٹھ جائے گی ۔ انھوں نے کہا کہ حکومت منصوبے کے معیار کو ملحوظ خاطر رکھے ایسا نہ ہو کہ بھاری سرمایہ ضائع ہو جائے ۔ ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کہا کہ راہداری چین کی ضرورت ہے وہ اسے جلد از جلد فنکشنل کر بھی لیں گے مگر دیکھنا یہ کہ اس سے پاکستان کو جو فائد ہ اٹھانا ہے وہ اٹھا سکتا ہے کہ نہیں ۔کیونکہ لاہور اسلام آباد موٹر وے بناتے وقت بھی حکومت نے کہا تھا کہ اس کے ارد گرد انڈسٹریل زون بنیں گے ۔آج کی تاریخ تک توایک بھی زون نہیں بنا ۔ کہیں اس راہداری کے ساتھ بھی یہی نہ ہو ۔ جب ان سے دریافت کیا گیا کہ کیا یہ مسئلہ سیاسی قیادت کی اہلیت کا ہے یا پھر ریاستی مشنری کی صلاحیت کا ہے ؟ انھوں نے جواب دیا کہ صرف وزیر اعظم کے کہنے سے کام نہیں ہو جاتے بلکہ ریاستی مشنری کو بھی متحرک ہونا پڑتا ہے ۔
روٹ پر ہیوی ٹریفک چلے گی اور 22ویلر ٹرالر بھاری کنٹینروں سے لیس ہو کر گوادر سے خنجراب تک جائیں گے اگر روڈ کی تعمیر بین الاقوامی معیار کے مطابق نہ ہوئی تو یہ چھ ماہ میں بیٹھ جائے گی
چائنا پاکستان اقتصادی راہداری روڈ نیٹ ورک میں صوبوں کا حصہ
اس وقت ملک میں روڈ نیٹ ورک کی مجموعی لمبائی 261,595 کلومیٹر ہے جبکہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے زیر کنٹرول نیٹ ورک 12131 کلومیٹرہے۔یہ اگرچہ ملک کی کل سڑکوں کاصرف4.6 فیصد بنتاہے،لیکن اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایاجاسکتا ہے کہ ملک کی تقریباً 80 فیصد مسافراور 65 فیصد کارگو ٹریفک اس سے وابستہ ہے۔۔چائنہ پاک اکنامک کاریڈور (سی پیک۔CPEC) بنیادی طور پر خنجراب سے گوادر تک راستوں کی تعمیر کا نام ہے۔نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ترجمان کاشف زمان کے مطابق اس کے کئی سیکشنز پر کام مکمل کیاجاچکا ہے جبکہ باقی ماندہ پر کام برق رفتاری سے جاری ہے ۔خنجراب سے برہان تک 784 کلومیٹر کا حصہ قراقرم ہائی وے پر مشتمل ہے۔

خنجراب سے رائے کوٹ تک 335 کلومیٹر کی اپ گریڈیشن کاکام مکمل ہوچکا ہے۔ جبکہ رائے کوٹ۔اسلام آباد منصوبے کو 3 سب سیکشنز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ رائے کوٹ۔تھا کوٹ، تھا کوٹ۔ حویلیاں او ر حویلیاں، اسلا م آباد۔ تھا کوٹ ۔ حویلیاں سیکشن 120 کلومیٹر طویل ہے جس پر عنقریب کام کا آغاز کردیا جائے گا ۔اسی طرح برہان۔حویلیاں۔ہزارہ موٹروے پر کام برق رفتاری سے جاری ہے اور 2016 ءکے آخر تک اسے مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔ 59 کلومیٹر طویل اس منصوبے پر 31،ارب روپے لاگت آئے گی ۔اقتصادی راہداری کے ویسٹرن روٹ کی بروقت تکمیل حکومت پاکستان کی ترجیحات میں شامل ہے۔اسے درج ذیل سیکشنز میں تقسیم کیا گیا ہے ۔
براہمہ۔ڈی آئی خان 285 کلومیٹر
ڈی آئی خان۔مغل کوٹ 124 کلومیٹر
مغل کوٹ۔ژوب 81 کلومیٹر
ژوب۔کوئٹہ 331 کلومیٹر
کوئٹہ۔سوراب 211 کلومیٹر
سوراب۔ ہوشاب 449 کلومیٹر
ہوشاب۔تربت۔گوادر 193 کلومیٹر
براہمہ سے ڈی آئی خان سیکشن کی تعمیر کیلئے دستاویزی کام مکمل کیا جارہا ہے اور امید ہے کہ اس پر اسی سال کام کا آغاز کردیاجائے گا، جبکہ ژوب۔مغل کوٹ سیکشن کی اپ گریڈیشن کا سنگ بنیاد وزیر اعظم پاکستان نے 30 دسمبر2015 کو رکھا۔ ژوب۔ کوئٹہ شاہراہ کی اپ گریڈیشن کا کام پہلے ہی مکمل کیاجاچکا ہے جبکہ سوراب۔ ہوشاب شاہراہ پر تعمیراتی کام جاری ہے۔اسی طرح ہوشاب۔تربت۔ گوادر شاہراہ مکمل ہوچکی ہے اور اس کا باقاعدہ افتتاح وزیر اعظم پاکستان نے3 فروری 2016 کوکیا ۔1158 کلومیٹرپشاور۔ کراچی موٹروے کا شمار بھی اہم ترین منصوبوں میں ہوتا ہے۔پشاور سے اسلام آباد ۔لاہور اور فیصل آباد تک موٹرویز پہلے ہی آپریشنل ہیں۔136 کلومیٹر کراچی۔حیدر آباد موٹروے سیکشن کوBuild-Operate-Transfer ( BOT) کی بنیاد پر مکمل کیا جارہا ہے۔ جبکہ 393 کلومیٹر سکھر۔ملتان موٹروے اور230 کلومیٹرملتان ۔لاہور موٹروے پر کام بہت جلد شروع ہوجائے گا۔
چائنا پاکستان اقتصادی راہداری اور ذرائع مواصلات
| منصوبہ | لمبائی (کلومیٹر) | تخمینہ لاگت
(ارب ڈالر) |
| قراقرم ہائی وے فیز2 | 120 | 0.03 |
| نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ | 0.23 | |
| گوادر ایسٹ بے ایکسپریس وے | 19 | 0.014 |
| کراچی لاہور ریلوے ٹریک کی بحالی و ترقی | 1681 | 3.65 |
| حویلیاں ڈرائی پورٹ کی تعمیر | 0.04 | |
| کراچی لاہور موٹر وے (ملتان –سکھر) | 387 | 2.59 |
گوادر کے منصوبے
| منصوبہ | تخمینہ لاگت
(ارب ڈالر) |
| پاک چین ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ | 0.009 |
| واٹر سپلائی اور واٹر ٹریٹمنٹ | 1.132 |
| پاک چین دوستی ہسپتال | 0.1 |
| فری زون کے لئے زمین کی خریداری | 0.06 |
اسی طرح گوادر میں 4000ایکڑپر پاکستان کا سب سے بڑا ائیر پورٹ تعمیر کیا جارہا ہے ۔230 ملین ڈالر کے یہ اخراجات پہلے قرضے کی شکل میں تھے مگر بعد میں چین نے اس کو گرانٹ میں بدل دیا۔یہ ائیر پورٹ بھی 2018ء تک آپریشنل ہو جائے گا ۔گوادر میں فری ٹریڈ زون کی تعمیر کے لئے بھی 600 ایکڑ رقبہ چین کے حوالے کیا جا چکا ہے جسے چائنا اوورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی تعمیر کررہی ہے ۔
دیگر منصوبہ جات
| نام منصوبہ | کلومیٹر | تخمینہ لاگر
(ارب ڈالر) |
|
| اورنج لائن منصوبہ لاہور | 27 | 1.6 | |
| DTMBپائلٹ پراجیکٹ مری | 0.002 | ||
| فائبر آپٹک ڈیٹا کمیونیکیشن سسٹم | 840 | 0.044 | |
ریلوے کے منصوبے
چائنا پاکستان اقتصادی راہداری سے پہلے ہی پاکستان اور چین کو ریلوے کے ذریعے منسلک کرنے کی باتیں شروع ہو چکی تھیں اور مشرف حکومت کے دور میں چینی اور جرمن کمپنی نے ایک فزبیلٹی رپورٹ مرتب کی تھی جس پر لاگت کا تخمینہ 9 ارب ڈالر سے زائد کا تھا مگر فی الحال اس منصوبے کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے اور صرف کراچی لاہور پشاور ریلوے ٹریک کی بحالی اور تعمیر نو کے لئے 3.650ارب ڈالر رکھے گئے ہیں ۔اس منصوبے کے آغاز کی تاریخ دسمبر 2015ء مقرر کی گئی تھی جس کو تین سال کے عرصے میں دسمبر 2018ء میں مکمل ہونا ہے ۔اس منصوبے کی تمام تفصیلات درج ذیل ٹیبل سے واضح کی گئی ہیں ۔

چائنا پاکستان اقتصادی راہداری اور ریلوے نیٹ ورک ، کس صوبے کا حصہ کتناہے ؟

بجلی پیدا کرنے کے منصوبے
پاکستان میں بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب 15ہزار میگا واٹ کے لگ بھگ ہے ۔پاکستان کو یومیہ 3668میگا واٹ کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کو سالانہ 10 ارب ڈالر کا خسارہ ہو رہا ہے اور اس کی قومی پیداوار میں 3 سے 4 فیصد کمی کی بڑی وجہ بھی بجلی کا نہ ہونا ہے ۔بجلی کی طلب میں 7سے 8.5فیصد سالانہ کے تناسب سے اضافہ ہورہا ہے۔ حکومتِ پاکستان کے اپنے اندازوں کے مطابق 2020ء تک پاکستان میں بجلی کی طلب تین گنا بڑھ کر 54000میگا واٹ تک پہنچ جائے گی۔ پچھلی ایک دہائی میں پاکستان کے نیشنل گرڈ میں ’0‘میگاواٹ بجلی کانیٹ اضافہ ہواہے۔ توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لئے کئے جانے والے ’حکومتی اقدامات‘ کا اگر یہی حال رہا تو مستقبل قریب میں ہی ملک کو 20000میگا واٹ بجلی کی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا ۔چنانچہ حکومت اقتصادی راہداری کو "انرجی کوریڈور ” کے طور پر دیکھ رہی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اس راہداری میں سب سے زیادہ منصوبے انرجی کے ہیں جن کی مالیت 34 ارب ڈالر ہے ۔ جن کی تفصیل درج ذیل ہے ۔
| منصوبے کا نام | میگا واٹ | تخمینہ لاگت
(ارب ڈالر) |
قسم |
| پورٹ قاسم الیکٹرک پلانٹ | 2×660 | 1.98 | کوئلہ |
| اینگرو تھر پاور پلانٹ | 2×330 | 1.05 | کوئلہ |
| SSRLتھر پاور پلانٹ | 2×660 | 1.98 | کوئلہ |
| گوادر پاور پلانٹ | 2×150 | 0.36 | کوئلہ |
| رحیم یار خان پاور پلانٹ | 2×660 | 1.6 | کوئلہ |
| مظفر گڑھ پاور پلانٹ | 2×660 | 1.6 | کوئلہ |
| ساہیوال پاور پلانٹ | 2×660 | 1.6 | کوئلہ |
| اینگرو تھ کول مائن | 3.8MTA | 0.9 | کوئلے کی کان |
| SSRLتھر کول مائن | 6.6MTA | 1.2 | کوئلے کی کان |
| سکوکی ناری پاور پلانٹ | 870 | 1.85 | ہائیڈل |
| خروٹ ہائیڈرو پاور پلانٹ | 720 | 1.42 | ہائیڈل |
| UEPونڈ پاور پلانٹ | 100 | 0.25 | ہوا |
| سونک ونڈ پاور پلانٹ | 50 | 0.14 | ہوا |
| سچل ونڈ پاور پلانٹ | 50 | 0.13 | ہوا |
| داؤد ونڈ پاور پلانٹ | 50 | 0.13 | ہوا |
| قائد اعظم سولر پاور پلانٹ | 100 | 0.19 | شمسی |
| قائد اعظم سولر پاور پلانٹ | 900 | 1.33 | شمسی |
| گڈانی پاور پلانٹ پراجیکٹ لسبیلہ | 2640 | 7.920 | کوئلہ |
| جیٹی +انفراسٹرکچر | 1.2 | ||
| ٹرانسمیشن لائن،گدانی سے لاہور | |||
| ٹرانسمیشن لائن ،گڈانی سے فیصل آباد | |||
| چیچو کی ملیاں پاور پلانٹ | 525 | 0.550 | CCPP |
| کوہالہ ہائیڈل پراجیکٹ آزاد کشمیر | 1100 | 2.797 | ہائیڈل |
| ونڈ فارمز،جھیم پیر ٹھٹہ | 100 | 0.150 | ہوا |
| حبکو پاور پلانٹ | 660 | 0.970 | کوئلہ |
| سالٹ رینج مائن ماؤتھ پاور پراجیکٹ | 300 | 0.800 | کوئلہ |
| تھر مائن ماؤتھ کول فائرڈ پاور پراجیکٹ | 2×660 | 1.300 | کوئلہ |
2017-18تک 10400میگاواٹ کے منصوبے مکمل کر لئے جائیں گے جبکہ اس دوران 6645میگا واٹ کے منصوبے بھی تکمیل کے مراحل میں ہوں گے ۔
اکنامک زونزکا قیام
اقتصادی راہداری کا صحیح فائدہ اسی وقت ہے جب اس کے ساتھ اکنامک زونز بنائے جائیں ۔اس مقصد کے لئے حکومت جہاں بجلی کی پیداوار کا نیٹ ورک بڑھا رہی ہے وہیں پر اکنامک زونز بنائے جانے پر بھی دونوں ممالک کے ورکنگ گروپس کام کر رہے ہیں ۔ پاکستان کے انویسٹمنٹ بورڈ نے 11 جنوری 2016ء کو وزیر اعظم پاکستان کو ایک رپورٹ پیش کی جس میں مغربی روٹ کے ساتھ اکنامک زنز کے لئے 12 مجوزہ جگہوں کی نشاندہی کی گئی ہے ۔کل 48 زون قائم کئے جائیں گے جن میں سے 12 خیبر پی کے اور 5 بلوچستان میں بنائے جائیں گے۔بلوچستان میں مجوزہ مقامات میں تربت،خضدار،کوئٹہ، بستان،قلعہ سیف اللہ اور ژوب،خیبر پی کے میں مانسہرہ،نوشہرہ، حطار،غازی،ڈیرہ اسماعیل خان،کوہاٹ کرک اوربنوںشامل ہیں ۔فی الحال گوادر میں ایکسپورٹ پروسیسنگ زون پر کام شروع ہے ۔جس کا کل رقبہ 2280 ایکڑ ہے اور اس پر لاگت کا تخمینہ 3.450ارب ڈالر ہے ۔یہ رقم چین قرضے کی صورت میں فراہم کرے گا ۔یہ منصوبہ دو سال کی مدت میں مکمل کر لیا جائے گا ۔
سیکورٹی خدشات

آغاز میں جب پاکستان اور چین نے اس مجوزہ راہداری کو عملی شکل دی تو اس میں مشرقی روٹ ہی شامل تھا جس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ اسے مختصر مدت میں فنکشنل کیا جا سکتا تھا اور دوسرا یہاں سیکورٹی کے خدشات بھی مغربی روٹ کے مقابلے میں بہت محدود تھے ۔کیونکہ مغربی روٹ جن علاقوں سے گزرتا ہے وہاں طالبان اور بلوچ شدت پسند وں کی کارروائیوں کی وجہ سے سیکورٹی کی صورتحال غیر تسلی بخش ہے ۔2007سے 2014ء کے درمیان بلوچستان کے اضلاع خضدار اور کیچ میں سیکورٹی کی صورتحال سب سے زیادہ ابتر رہی ہے ۔پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں آواران ، گوادر، کیچ، خضدار ،لسبیلہ اور پنجگور میں دہشت گردی کے 1040 واقعات ہوئے جو پورے بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کا 23 فیصد ہیں ۔اسی طرح سند ھ میں جہاں سے کراچی لاہور موٹروے گزر رہا ہے وہاں 2007ء اور 2014ء کے درمیان 962دہشت گردحملے ہوئے جن میں 889صرف کراچی میں ہوئے ۔خیبر پی کے اگرچہ دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ ہے تاہم ہری پور ، ایبٹ آباد اور مانسہرہ کے اضلاع جہاں سے یہ روٹ گزرنا ہے وہاں دہشت گردی کے واقعات بہت کم ہیں ۔ پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے مطابق صوبے میں 2007ء سے 2014ء کے درمیان دہشت گردی کے 4332واقعات ہوئے جن میں سے صرف 52 ان اضلاع میں ہوئے جہاں سے یہ روٹ گزرنا ہے ۔یہ ان واقعات کا صرف ایک فیصد بنتے ہیں ۔گلگت بلتستان کا علاقہ خنجراب جہاں سے یہ راہداری شروع ہو گی وہاں اس عرصے میں دہشت گردی کے 74 واقعات ہوئے جن میں سے 55فرقہ وارانہ اور 16کا تعلق طالبان سے تھا ۔اس علاقے مین چینی یغر باغیوں کی موجودگی کی اطلاعات بھی ہیں ۔تاہم آپریشن ضرب عضب اور دیگر وجوہات کے نتیجے میں پاکستان میں 2014ء کے مقابلے پر 2015ء میں دہشت گردی کے واقعات میں 48 فیصد کمی آئی ہے ۔اس کا مطلب ہے کہ سیکورٹی کی صورتحال بتدریج بہتری کی طرف گامزن ہے ۔ پاک فوج نے راہداری منصوبہ کی سیکورٹی کے لئے لیفٹیننٹ جنرل کی سربراہی میں ایک سپیشل سیکورٹی ڈویژن قائم کر دیا ہے اور ساتھ یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ وہ اس راہداری کی حفاظت ہر قیمت پر یقینی بنائے گی ۔پاکستان اور چین کے حکام نے یکم نومبر 2015ء کو ایک چار درجاتی سیکورٹی پلان کی منظوری دی جس کے تحت 3000کلومیٹر پر محیط اس راستے کی حفاظت کے لئے 32000 اہلکار وں کو تعینات کیا جائے گا جو راہداری کے ساتھ ساتھ پاک چین میگا پراجیکٹس پر کام کرنے والے عملے کی حفاظت بھی یقینی بنائیں گے ۔اس وقت پاکستان میں جاری 210 منصوبوں پر 14321 چینی کارکن کام کر رہے ہیں ۔500چینی سیکورٹی اہلکار بھی حفاظتی امور میں پاکستان کی مشاورت کریں گے ۔اقتصادی راہداری کے پراجیکٹ ڈائریکٹر میجر (ر)ظاہر شاہ کا کہنا ہے کہ اس نئے سیکورٹی پلان کے تحت بلوچستان کو 5700ایف سی اہلکار، 3000پولیس کانسٹیبل اور ایک ہزار لیویز اہلکار دیئے جائیں گے ۔بندرگاہ کی حفاظت کی ذمہ داری پاکستان میرینزاور بارڈر سیکورٹی فورس کے پا س ہو گی ۔پنجاب میں 3500پولیس اہلکار، 900رینجرز،4100پرائیویٹ سیکورٹی گارڈزاور 740 عسکری گارڈز یہ فرائض سر انجام دیں گے ۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج کی اپنی الگ سیکورٹی فورس اس کے علاوہ ہوگی ۔
کیا یہ خواب حقیقت بن سکے گا ؟
کہا جاتا ہے کہ چین اب خود کو عالمی طاقت کے طور پر دیکھ رہا ہے جس کے لئے اس نے چھ ہزار سالہ قدیم سلک روڈ کو فعال کرنےا ور اسے تجارتی شاہراہ میں بدلنے کے لئے ون بیلٹ ون روڈ پالیسی کا اعلان کیا ہے یہ کسی ایک خطے تک محدود نہیں بلکہ یہ 65ممالک کا احاطہ کرتی ہے جن میں ساڑھے چار ارب لوگ رہائش پزیر ہیں جن کی مجموعی قومی پیداوار پوری دنیا کی پیداوار کا 40 فیصد ہے ۔چین کی نظریں اس مارکیٹ تک براہِ راست رسائی پرہیں ۔اس مقصد کے لئے چین نے 40 ارب ڈالر کا ایک فنڈ قائم کیاہے ۔جس سے اس روڈ کو فعال بنا کر یہاں سرمایہ کاری کو وسیع کرنا ہے ۔ایشیاء افراسٹرکچر انویسٹمنٹ بنک نے اس مقصد کے لئے مزید 100ارب ڈالر فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے جبکہ چائناڈویلپمنٹ بنک بھی اس روڈ نیٹ ورک سے منسلک ممالک میں 900ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ۔اکانومسٹ میگزین نے لکھا ہے کہ چین اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ایک کھرب ڈالر اپنی جیب میں ڈالے ہوئے ہے ۔جب یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا تو چین کی اشیاء کم خرچ پر 60 سے زائد ممالک میں اور ان ممالک کی اشیاء سستے داموں چین تک پہنچ سکیں گی ،کیونکہ اس وقت چین کو طویل سمندری راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے جس سے ایک تو وقت کاضیاع ہوتا ہے اور دوسرا اشیاء کی نقل وحمل پر خرچہ بھی زیادہ آتا ہے ۔اگر چین یہ منصوبہ مکمل کر لیتا ہے تو ورلڈ بنک کے مطابق اس کو سالانہ پانچ کھرب ڈالر تک کا فائدہ ہو سکتا ہے ۔منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے چین کے صوبے یو آن سے کمرشل ٹرین سروس کا باقائدہ آغاز ہو چکا ہے ۔32 کنٹینروں کو لے کر پہلی ٹرین صرف 14 دنوںمیں 10399کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے 14 فروری 2016ء کو تہران پہنچی ۔یہ ٹرین شنگھائی سے قزاقستان اور ترکمانستان کے راستے ایران کی بندر گاہ بندر عباس تک ایک مہینے سے بھی کم عرصے میں پہنچے گی ۔چین ایک طرف ما سکو سے آگے یورپ تک براستہ سڑک اور ریل پہنچنے کی منصوبہ بندی کر چکا ہے اور دوسرا وہ بندر عباس اورگوادر تک پہنچ کر خلیج پر دستک دے چکا ہے جہاں پر پہلے ہی امریکی بحریہ کا مظبوط فوجی گڑھ موجود ہے ۔ اس لئے بعض تجزیہ کار اس کو چین کی دفاعی حکمت عملی بھی قرار دیتے ہیں ۔ چین عسکری و معاشی لحاظ سے سپر پاور بن رہا ہے اور اسی لیے امریکہ سے اس کے تصادم کا خطرہ پیدا ہو چکا ہے۔ امریکا کے طیارہ بردار اور جنگی بحری جہاز زیادہ تر آبنائے ملاکا میں موجود رہتے ہیں، اور زیادہ اہم بات یہ ہے کہ چین کے مخالف ملک تائیوان کی طاقتور بحریہ دوران جنگ آبنائے ملاکا کی ناکہ بندی کر کے چینی حکومت کو مفلوج کر سکتی ہے۔اس لیے چینی حکومت ایسے محفوظ زمینی راستے کی تلاش میں ہے جہاں امریکہ یا تائیوانی بحریہ اس پر حملہ نہ کر سکے۔اور اگر ایسا ہو تو چین اس گھیراؤ کا توڑ کر سکے ۔اسی لئے امریکہ اس راہداری کو چین کے توسیع پسندانہ عزائم کی صورت میں دیکھتا ہے ۔کچھ لوگ اس راہداری کو تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ بھی قرار دیتے ہیں بالکل اسی طرح جیسے پہلی جنگ عظیم سے پہلے جرمنی نے برلن سے بغداد تک4423کلومیٹر طویل ریلوے لائن کا منصوبہ بنایا تھا۔ جس کا ایک مقصد جہاں اقتصادی تھا وہیں پر جنگی حالات میں ریل کو بطور ہتھیار استعمال کرنا تھا ۔ جرمنی بحیرہ فارس تک پہنچ کر یہاں ایک جدید بندرگاہ قائم کرنا چاہتا تھا تاکہ خلیج کے ارد گرد کنٹرول حاصل کیا جاسکے ۔اس زمانے میں جرمنی ایک بڑی طاقت کا روپ دھار رہاتھا۔ دوسری طرف امریکہ، روس، برطانیہ اور جاپان کا ڈنکہ بجتا تھا ۔ جرمنی کے اس منصوبے کی وجہ سے امریکہ، روس، برطانیہ اور جاپان کو خدشات لا حق ہو گئے تھے ۔انہیں علم تھا اگر جرمن اس منصوبے میں کامیاب ہو گئے تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں سپرپاور بننے سے نہیں روک سکتی۔ دنیا کے تیل کے بڑے ذخائر ان کے ہاتھ آ جائیں گے اور اس سے جرمنی کی تجارتی اور دفاعی پوزیشن بھی ناقابل تسخیر ہو جائے گی۔ اس ریلوے لائن کو ناکام بنانے کے لیے آسٹریا اورسربیا میں شہزادی کے قتل پر کشیدگی پھیلی۔ دیکھتے ہی دیکھتے فرانس اور جرمنی آمنے سامنے آ گئے اور پھر فرانس کے ساتھ امریکہ، برطانیہ، روس، اٹلی، یونان پرتگال، رومانیہ اور سربیا بھی ایک دوسرے کی حمایت میں میدان جنگ میں اترگئے۔ دوسری طرف جرمنی کی مدد کے لیے آسٹریا، ترکی اوربلغاریہ نے نعرہ لگا دیا۔ یوں یہ جنگ شروع ہوئی اور اس جنگ نے ڈیڑھ کروڑ لوگوں کے ساتھ ساتھ اس ریل منصوبے کو بھی دفن کر دیا۔کیا چین کے” ون روڈ ون بیلٹ” منصوبہ کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہو سکتا ہے ۔یہ درست ہے کہ اس وقت امریکہ اور چین عالمی منڈیوں پر دسترس کے لئے ایک دوسرے کے مد مقابل ہیں ۔ایک کی بقا دوسرے کی فنا بن چکی ہے ۔لیکن پہلی عالمی جنگ کو ہوئے سو سال بیت چکے ہیں ۔دنیا نے اپنی تاریخ سے بہت کچھ سیکھا ہے ۔آج کی جنگ کسی کی ہار ہے نہ کسی کی جیت بلکہ صرف اور صرف تباہی کا نام ہے ۔اس لئے یہ جنگ اب اسلحہ سے نہیں بلکہ مارکیٹ میں مقابلہ کر کے لڑی جا تی ہے ۔چین اور امریکہ بھی اسی جنگ کی تیاریوں میں ہیں ۔انڈیا اگرچہ فی الحال اس راہداری پر اپنے تحفظات میں مبتلا ہے مگر جلد یا بدیر وہ بھی اس راہداری کا حصہ بننے پر مجبور ہو جائے گا ۔اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ امریکہ ایک نئے سلک روٹ کا تصور دس سال قبل ہی دے چکا ہے یہ نیو سلک روٹ انڈیا کے شہر چنائے سے لاہور ،کابل اور آگے ماسکو تک جاتا ہے ۔چنائے سے بنگلہ دیش اور برما تک روڈ نیٹ ورک موجود ہے ۔اور پاکستان سے کابل تک بھی روڈ نیٹ ورک موجود ہے ۔امریکی سرمایہ کار بھی اس نئے روٹ پر سرمایہ کاری کے لئے تیار ہیں ایک تو انہیں یہاں کی منڈیوں میں چینی مصنوعات کا مقابلہ کرنے کا براہِ راست موقع ملے گا اور دوسرا خطے میں ان کے تزویراتی مفادات بھی قدرے محفوظ رہیں گے ۔ اس منصوبے میں اگر کوئی چیز رکاوٹ ہے تو وہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان تنازعات ہیں ۔امریکہ چاہتا ہے کہ یہ تنازعات اگر فی الفور حل نہ بھی ہو سکیں تو دونوں ممالک ان تنازعات کو کچھ عرصے کے لئے سرد خانے میں ڈال کر تجارتی تعلقات استوار کر لیں ۔جب تجارت بڑھے گی اور ایک دوسرے پر انحصار بڑھے گا تو آگے چل کر تنازعات کے حل کی بھی کوئی سبیل نکل آئے گی ۔اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ مستقبل قریب میں پاکستان دو انتہائی اہم اقتصادی راہداریوں کا حصہ بننے جا رہا ہے ۔وہ جغرافیہ جو اس کے لئے مسائل کا باعث بنتا رہا ہے اب وہ ان مسائل کےحل کی نوید بھی لائے گا ۔
آگے کا سفر

چین کی نئی قیادت زی پنگ کی قیادت میں اپنی جس حکمت عملی کو ترجیح نمبر ایک قرار دیتی ہےوہ یہی ون بیلٹ ون روڈ پالیسی ہے ۔چینی امور کے ماہر ڈاکٹر فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ چینی اس منصوبے کی بر وقت تکمیل کے لئے بہت متحرک ہیں ۔دوسری جانب پاکستان کی موجودہ حکومت جس نے اس منصوبے کی بہت زیادہ تشہیر کر کے لوگوں کی توقعات میں اضافہ کر دیا ہے وہ بھی یہی چاہے گی بہار 2018ء کے بعد الیکشن سے قبل وہ اس منصوبے کو فنکشنل کر جائے ۔ ڈاکٹر فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ چینی جس برق رفتاری سے کام کی توقع کر رہے تھے ویسا نہیں ہوا کیونکہ ہماری بیور وکریسی کے کام کرنے کی رفتار بہت کم ہے حکومت کی بھی فیصلہ سازی کی قوت کمزور ہے وہ بیوروکریٹک انداز سے کمیٹیاں بنا کر میٹنگیں کرتی رہتی ہے ۔انھوں نے کہا کہ چینی اس طرز پر مایوس ضرور ہیں مگر دل برداشتہ نہیں ہیں ۔اب چونکہ اس منصوبے کی داغ بیل ڈالی جا چکی ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے کام کرنے کے انداز سے بھی روشناس ہو چکے ہیں اس لئے آنے والے مہینوں میں کام کی رفتار بڑھ جائے گی ۔انھوں نے کہا کہ راہداری تو اپنے وقت پر چل پڑے گی مگر اس کے ساتھ اکنامک زونز پر ابھی کام شروع ہی نہیں ہوا جب تک ایسا نہیں ہو گا اس کے حقیقی ثمرات کیسے بر آمد ہوں گے ۔ انھوں نے کہا کہ حکومت پاکستان چینی کمپنیوں سے جتنی سرمایہ کاری توقع کر رہی تھی اتنی نہیں آئی ۔اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ چینی کمپنیاں خصوصی مراعات چاہتی ہیں ۔حالانکہ یہ مقابلے کی دنیا ہے اور پاکستان میں منافع کی شرح پہلے ہی بہت زیادہ ہے ۔لیکن راہداری فنکشنل ہو گی تو سرمایہ کاری بھی بڑھ جائے گی ۔ ڈاکٹر فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ چین بندر عباس تک بھی ٹرین کے ذریعے رسائی حاصل کر چکا ہے اگرچہ بندر عباس ابھی پوری طرح فنکشنل نہیں ہوئی مگر انڈین بنک وہاں پر ڈیڑھ سو ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں ۔ا س طرح مقابلے کی فضا پیدا ہو چکی ہے ۔اب پاکستان کی سرکاری مشنری اور پرائیویٹ سرمایہ کاروں کا متحان ہے کہ وہ کیسے اس عظیم الشان منصوبے کو جلد از جلد ایک "گیم چینجر” منصوبے میں بدل کر حقیقت کا روپ دیتے ہیں ۔
