بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں ایک بار پھر پانی کا شدید بحران پیدا ہوگیا ہے، جس نے شہریوں کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
پانی کی عدم دستیابی کے باعث گوادر کے شہریوں نے احتجاجاً گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کے سامنے دھرنا دیا، انتظامیہ کی یقین دہانی کے بعد احتجاج موخر کیا گیا۔
مظاہرین نے خالی برتنوں اور آنڈھیوں کے ساتھ دھرنا دے رکھا تھا ان میں خواتین اور بچے بھی شریک تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ گوادر کے بیشتر علاقوں میں ہفتوں سے پانی کی فراہمی بند ہے مگر ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومت کی جانب سے اب تک کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا گیا۔
احتجاج سے قبل بھوک ہڑتال
اس دھرنے سے ایک ہفتہ قبل، گوادر کے صحافی بشیر قاسم نے پانی بحران کے خلاف گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے) کے دفتر کے باہر تادمِ مرگ بھوک ہڑتال شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم انتظامیہ کی مداخلت اور یقین دہانی کے بعد انہوں نے اگلے دن احتجاج ختم کر دیا۔
بشیر قاسم کے مطابق، گوادر کے شہری کئی سالوں سے پانی کی قلت کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں مگر حکومت نے آج تک اس بحران کا کوئی پائیدار حل نہیں نکالا۔
پرانے وعدے اور وقتی اقدامات
گوادر میں پانی کا بحران کوئی نیا مسئلہ نہیں۔ تقریباً ہر سال شہر میں پانی کی شدید قلت پیدا ہوتی ہے۔
پانچ سال قبل بھی ایسی ہی صورت حال میں ضلعی انتظامیہ نے صوبائی حکومت کے تعاون سے ضلع کیچ کے میرانی ڈیم سے ٹینکروں کے ذریعے پانی سپلائی شروع کی تھی۔اس وقت روزانہ تین سے پانچ سو ٹینکر پانی گوادر پہنچاتے تھے۔
تاہم سیاسی جماعتوں نے اس اقدام کو وقتی حل قرار دیا تھا۔ ناقدین کے مطابق حکومت اس عمل کے ذریعے عوام کو وقتی طور پر ٹرخا رہی تھی اور آج وہی صورت حال دوبارہ پیدا ہوگئی ہے۔
خشک ہوتے ذخائر اور چینی پلانٹ کی ناکامی
گوادر کے اردگرد واقع آبی ذخائر آنکاڈہ ڈیم، شادی کور اور سوڈ ڈیم کئی برسوں کی خشک سالی اور بارشوں میں کمی کے باعث تقریباً خشک ہو چکے ہیں۔ شہریوں کے مطابق یہی ذخائر ماضی میں گوادر کے لیے پینے کے پانی کا بنیادی ذریعہ تھے مگر اب ان میں ذخیرہ شدہ پانی نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔
محکمہ آبپاشی کے مطابق، ان ڈیموں کی مرمت اور صفائی کئی سال سے نہیں ہوئی ہے جس کی وجہ سے بارش کے دوران بھی وہ مطلوبہ مقدار میں پانی ذخیرہ نہیں کر پاتے۔
دوسری جانب، چین کے اشتراک سے گوادر میں ڈی سیلینیشن پلانٹ تعمیر کیا گیا تھا جو سمندر کے کھارے پانی کو قابلِ استعمال بنانے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔
اس پلانٹ کی گنجائش 12 لاکھ گیلن روزانہ ہے، تاہم یہ اب تک اپنی پوری صلاحیت سے کام نہیں کر پا رہا۔
چینی ماہرین کو پلانٹ کی تکنیکی خرابیوں کے جائزے اور بحالی کے لیے دوبارہ طلب کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پلانٹ کے مکمل فعال ہونے کے بعد گوادر کے پرانے اور مرکزی علاقوں کو براہِ راست پائپ لائن کے ذریعے پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔
اسی طرح شدی کور ڈیم کی پائپ لائن کو بھی حالیہ ہفتوں میں جزوی طور پر بحال کیا گیا ہے، جو روزانہ 10 سے 12 لاکھ گیلن پانی فراہم کر رہی ہے تاہم یہ مقدار اب بھی شہری آبادی کی ضرورت کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
بحران میں شدت، حکومت پر تنقید
گوادر کے سینیئر صحافی بھرام بلوچ کے مطابق، شہر میں پانی کا بحران ایک مہینے سے جاری تھا مگر اب اس میں شدت آگئی ہے۔ ان کے بقول شہریوں نے مجبوری کے عالم میں احتجاج کی راہ اختیار کی ہے۔ شہر میں اس وقت فی ٹینکر پانی 15 ہزار روپے میں بھی دستیاب نہیں ہے۔
بھرام بلوچ کہتے ہیں کہ حکومت کا رویہ انتہائی غیر سنجیدہ ہے۔ بحران پر قابو پانے کے لیے کوئی مستقل پالیسی نہیں بنائی جا رہی جس کی وجہ سے گوادر کے شہری ہر سال پیاس کے خلاف احتجاج کرتے نظر آتے ہیں۔
حکومت بلوچستان کا ردعمل
وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی زیرِ صدارت جمعرات کے روز ایک اجلاس میں گوادر میں پانی ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ میرانی ڈیم سے ٹینکروں کے ذریعے فوری طور پر پانی پہنچایا جائے اور غیر فعال ڈی سیلینیشن پلانٹس کو بحال کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔
تاہم گوادر کے شمبے اسماعیل وارڈ سے تعلق رکھنے والے ایک شہری نے بتایا کہ وہ حکومت کے اعلان سے مطمئن نہیں ہیں
ان کے مطابق، یہ اعلان عوامی احتجاج کو دبانے کی سیاسی کوشش ہے۔ جب تک پانی کا مستقل حل نہیں نکالا جاتا احتجاج جاری رہنا چاہیے۔
ناکام منصوبے اور الزامات
اے آر وائی نیوز کے رپورٹر اللہ بخش دشتی کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کے دورِ حکومت میں گوادر میں پانچ ڈی سیلینیشن پلانٹس لگانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا جن پر ایک ارب روپے سے زائد لاگت آئی۔
تاہم بدعنوانی اور ناقص منصوبہ بندی کے باعث یہ منصوبے مکمل نہ ہوسکے۔
اللہ بخش دشتی کے مطابق، اگر یہ پلانٹس کامیابی سے کام کرتے تو گوادر نہ صرف خودکفیل ہوتا بلکہ دیگر اضلاع کو بھی پانی فراہم کر سکتا تھا۔
حالیہ پیش رفت
ڈان اخبار کے مطابق، صوبائی حکومت نے گوادر میں پانی ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پانی کی فراہمی سے متعلق تمام ٹیکس معطل کر دیے ہیں۔ساتھ ہی، میرانی ڈیم سے گوادر تک پائپ لائن منصوبے کی منظوری دی گئی ہے جو ایک طویل المدتی حل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم شہری حلقوں کے خیال میں اس منصوبے پر عملدرآمد کا امکان بہت کم ہے۔
گوادر کی انتظامیہ نے شادی کور ڈیم کی پائپ لائن کو بھی بحال کر دیا ہے جو روزانہ 10 سے 12 لاکھ گیلن پانی فراہم کر رہی ہے۔ تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات وقتی ریلیف سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔
ماہرین کے مطابق گوادر کا پانی بحران صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ منصوبہ بندی کے فقدان، بدعنوانی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔ کم بارش، خشک سالی اور ناکافی ذخائر نے صورتِ حال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت ڈی سیلینیشن پلانٹس کو مکمل طور پر فعال نہیں کرتی اور پائپ لائن منصوبہ مکمل نہیں ہوتا گوادر کے شہریوں کی پیاس بجھنے کے امکانات محدود رہیں گے۔
