ممتاز قادری کی پھانسی کے حوالے سے مذہبی قوتو ں کو کس بات نے حدود میں رکھا۔؟
بہت سے افراد کو یقین ہے کہ اس کی وجہ پھانسی اور جنازے کے حوالے سے محدود میڈیا کوریج تھی۔دوسرے اس کا کریڈٹ بعض مذہبی رہنماوں کو دیتے ہیں جنہوں نے پر تشدد مظاہروں کی حوصلہ افزائی نہیں کی۔قو می ایکشن پلان نے بھی انہیں باز رکھنے میں کردار ادا کیا۔مگر یہ کہنا قبل ازوقت ہوگا کہ غصہ ٹھنڈ ا ہوگیا ہے۔البتہ ایک جانب کچھ مذہبی اسکالرز کا بھی تناو ختم کرنے میں کردار ہے۔مذہبی قوتیں پھانسی کی سزا کے حوالے سے اب بھی موقع دیکھ رہی ہیں کہ سیاسی مقاصدکے لئے کیسے مذہبی جذبات کو بھڑکایا جائے۔وہ قوتیں سمجھتی ہیں کہ یہ صورتحال ان کا ملکی سیاسی اور سماجی حوالے سے تعلق جوڑے رکھنے میں مدد کرسکتی ہے جو اب معتدل ہونا شروع ہوگئی ہے۔
جب بھی ریاست نے خواتین اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق قانونی ڈھانچے کو درست کرنے کی کوشش کی ،مذہبی حلقوں نے خود کو پسماندہ یا کمتر سمجھنا شروع کردیا اور اسے لبرلائزیشن کا نام دیا جس سے مراد مغرب کو خوش کرنا ہے۔
عسکریت پسند گروپ کوشش کررہے ہیں کہ وہ ممتاز قادری کی پھانسی کے معاملے کو ان کے ہمدردوں کے دل جیتنے کے لئے استعمال کریں۔اس وقت مذہبی حلقوں میں دیگر عوامل بھی شامل ہوگئے ہیں جن میں نفرت انگیز تقاریر کے خلاف اقدامات اور غصہ شامل ہے۔مرکزی دھارے میں شامل میڈیا میں انتہا پرست عناصر کے لئے جگہ سکڑ رہی ہے۔وزیر اعظم کے سب کے لئے ترقی پسند ریاست کے بار بار کے وعدے،ممتاز قادری کی پھانسی ،پنجاب میں تحفظ خواتین بل کی منظوری اور اسی طرح عالمی سطح پر پاکستانی خواتین کی کامیابیاں شامل ہیں،جن میں شرمین عبید چنائے بھی ہیں۔ان حلقوں میں مایوسی اس وقت بڑھنے لگتی ہے جب وہ اپنی پیدا کردہ انتہاء پسند ی اور فرقہ واریت کی وضاحت کی کوشش کرتے ہیں ۔
اہم بات یہ ہے کہ مذہبی سیاست کو سماجی فعالیت زندہ ر کھنے میں کامیاب ہوگئی ہے جو مذہبی سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو متحرک اور ان کی حمایت کو برقرار رکھتی ہے۔مذہبی سیاسی جماعتوں کے لئے مذہب ،علاقائی اور بین الاقوامی سیاست کے مسائل اہمیت کے حامل ہیں۔مذہبی سیاسی جماعتیں کوشش کرتی ہیں کہ وہ عوامی اہمیت کے دیگر معاملات پر متحرک ہوں مگر انہیں شاید زیادہ عوامی حمایت حاصل نہ ہوسکے۔ مثال کے طور پر جماعت اسلامی نے حال ہی میں انسداد بدعنوانی کی مہم کا آغاز کیا لیکن اس سے بھی وہ عوامی حمایت کے حصول میں ناکام رہی تاہم جب امیر جماعت اسلامی نے ممتاز قادری کو شہید قرار دے کر پارٹی کارکنوں اور حمایتیوں کو اچانک جگا دیا۔
مذہبی سیاسی جماعتوں کے رہنما موزوں موقع کی تلاش میں تھے جو انہیں ممتاز قادری کی پھانسی سے مل گیا۔جمعیت علما اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان مذہبی اتحاد متحدہ مجلس عمل کو بحال کرنے کی کوششوں میں سرگرم ہوگئے جس نے دو صوبوں میں حکومت کی تھی۔
انہیں معلوم ہے کی ان کی اسٹریٹ پاور اب بھی برقرار ہے ،اگر وہ حکومت نہیں بناسکتے تو غیر مستحکم تو کرسکتے ہیں۔یہ بات مولانا فضل الرحمان نے حال ہی میں کہی ہے۔
مذہبی قوتیں اندرونی مسائل اور اختلافات کے سبب محض محدود بحران پیدا کرسکتی ہیں۔مگر فورسز جو موجودہ حکومت کو غیر مستحکم کرنا چاہتی ہیں۔ وہ مذہبی قوتوں کو استعمال کرسکتی ہیں۔
اہم مذہبی وسیاسی جماعتیں بالغ نظر ہوچکی ہیں اور وہ موجودہ نظام کے خلاف کوششوں کا حصہ نہیں بنیں گی اگر چہ وہ زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لئے حکومت سے سودے بازی کریں گی۔جمعیت علما اسلام ف پہلے ہی وفاقی حکومت میں حصہ دار ہے اور جماعت اسلامی خیبر پختونخوا میں۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو ایم ایم اے کو بحال کرنے کی کوششیں دھندلاجاتی ہیں ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ایم ایم اے مذہبی قیادت کے ہاتھ، حکومت کو دھمکی دینے اور بعض فوائد حاصل کرنے کا آلہ بن گئی ہے۔گزشتہ کئی دہائیوں میں اتحاد کو بحال کرنے کی کوششیں کی گئیں اس دوران وہاں کوئی رکاوٹ نہیں تھی مگر مذہبی قیادت کی، مذہبی طاقتوں کے اتحاد میں دلچسپی نہ رہی۔آخری مرتبہ ہم نے یہ 2012ء میں جے یو آئی ف کی حکومت میں شمولیت سے قبل ایسا ہوتے دیکھا ۔جماعت اسلامی کو بدلتے ہوئے پاکستان میں مطابقت تلاش کرنے کے لئے اسلامی سیاسی جماعت کے طور پر اندونی چیلنجز کا سامنا ہے۔دیگر مسلم ممالک میں اس کے اسلام پسند اتحادیوں کو اسی طرح کے چیلنجز درپیش ہیں،اسلامی جماعتیں انتہائی بنیاد پرست اورتشدد پسند گروپ مہیا کرنے والی بن گئی ہیں جن میں عسکریت پسندوں کے اسلامی ریاستی گروہ بھی شامل ہیں۔ ان کے نوجوانوں کارکنوں کے درمیان یہ احساس پایا جاتا ہے کہ وہ جمہوری جدوجہد کے ذریعہ کامیاب نہیں ہوسکتے ،انہیں یقین ہے کہ وہ انتخابات جیت بھی جائیں تو طاقت ور اشرافیہ انہیں حکومت کرنے کی اجازت نہیں دے گی، اسی لئے جماعت اسلامی ہمیشہ آگے کی طرف دیکھتی ہے اور یہ چیز اس کے کارکنوں کو متحرک رکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ جب بھی مذہبی اور سیاسی جماعتوں میں موقع پرست جماعتوں نے محسوس کیا کہ کوئی اتحاد یا احتجاجی تحریک ابھررہی ہے جیسے پاکستان دفاع کونسل، تو وہ اس میں کود پڑے۔تاہم اس طرح کے اتحاد قائم ہونے کے امکانات انتہائی کم اور میڈیا کی حمایت بھی غیر یقینی ہے یہ ان طاقت ور حلقوں کی حمایت بھی شاید حاصل نہیں کرسکیں جن پر یہ عموما انحصار کرتے ہیں۔
وجہ ظاہر ہے ریاست دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہی ہے اور مذہبی اتحاد انتہا پسندی اور دہشت گردی مخالف مہمات کے لئے نقصاندہ ثابت ہوگا۔
بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والی تنظیمیں ممتاز قادری کی پھانسی کے حوالے سے زیادہ جذبات رکھتی ہیں ان کا دعویٰ ہے کہ وہ ممتاز قادری کی میراث کے وارث ہیں۔وہ اسے بریلوی سیاست کے حوالے سے ایک موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں جو کئی دہائیوں سے مسائل سے دوچار ہے ۔بریلویوں کے پاس منظم ڈھانچہ اور نیٹ ورک نہیں ہے۔پیر اور بااثر علما مقامی طاقت کے مراکز بناتے ہیں اور ان کے متعلقہ مزارات کے ماننے والوں سے طاقت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔تاہم سنی تحریک کے عروج اور وسطی اور شمالی پنجاب میں بڑھتا ہوا اثر ورسوخ فکر مندی کا سبب ہے اس گروپ کے کارکن انتہائی جذبات کے حامل ہیں جن میں پر تشدد کارروائیوں کی صلاحیت ہے۔عسکریت پسند گروپ بھی قادری کی پھانسی کی سزا کی بنیاد پر ان کے ہمدردوں کے دل جیتنے کی کوشش کررہے ہیں تحریک طالبان پاکستان کے ایک دھڑے، جماعت الاحرار نے خیبر پختونخوا میں سیشن عدالت پر حملہ کی ذمہ داری قبول کی تاہم وہ اس خاص معاملہ پر دہشت گردی کی مہم جاری نہیں رکھ سکے۔
حکومت کو مساجد کے ائمہ کے مسلے کو سنجیدگی سے لینا چاہئے ،قومی ایکشن پلان کی وجہ سے وہ دباو میں اوربالخصوص شہری علاقوں میں خطبات کے حوالے سے محتاط ہیں۔قاد ری کی پھانسی کے بعد مساجد کے پیش اماموں نے ایک مرتبہ پھر خطبات میں فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دینے اور چند مقامات پر پیروکاروں میں ریاست مخالف جذبات ابھارنے کی کوشش کی ہے۔
بشکریہ ڈان
ترجمہ :جاوید نور
