Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»برباد ہوتا سماج اور مضبوط ہوتے مافیا
    کالم

    برباد ہوتا سماج اور مضبوط ہوتے مافیا

    ظفر اللہ خانBy ظفر اللہ خانمارچ 18, 2016کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    آپ کسی بھی رخ آدھا گھنٹہ چلیں تو آپ کو برباد ہوتے سماج میں مضبوط ہوتے مافیا ملیں گے

    قدیم انسان غاروں کی دیواروں پر لکھتا تھا، نقش و نگار بناتا تھا۔ آج تک ان اولین تحریروں کے مطالب سمجھنے کی کوششیں جاری ہیں۔ پتھروں پر کندہ یہ حرف آج بھی محفوظ ہیں۔ ارتقاء کے اس سفر میں انسان نے صدیوں کاغذ اور قلم سے بھی اپنا رشتہ نبھایا اور علم کے ڈھیروں ذخائر آج محفوظ ہیں۔ جدید انسان نے ایک بار پھر دیواروں پر لکھنا شروع کیا ہے اور یہ دیوار سائبر سمندر میں’’کمپیوٹر کی وال‘‘ ہے۔ یہ ماضی سے بہت مختلف ہے اگلے ہی کلک میں بدل جاتی ہے۔ ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں!نئی نسل کے مطالعہ کے انداز بدل چکے ہیں اب وہ قدموں پر چل کر لائبریری جانے کی بجائے اپنی انگلیوں کے سہارے انٹرنیٹ کی دنیا میں سرچ اور اسٹوری کرتے ہیں۔
    تجزیات نے بھی خود کو اس نئے عہد کے ساتھ ڈھالنے کا فیصلہ کیا ہے تو یہ خوش آئند بات ہے۔

    انسانی سماج اور سیاست کا رشتہ بہت گہرا ہے۔ سماج کی تشکیل جن اصولوں اور ضابطوں پر ہوئی ہے انہیں سیاست طے کرتی ہے۔ سماج کی فکر، اداروں، قوانین المختصر ہر چیز پر سیاست کی گہری چھاپ ہوتی ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ یہ سماج کوئی جامد چیز ہے اور نہ ہی سیاست۔ بدلتے حالات کے ساتھ دونوں ایک دوسرے پر اپنے اپنے اثرات مرتب کرتے ہیں اور زندہ سماج وہی قرار پاتے ہیں جو اچھی سیاست کی بدولت آگے بڑھ جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    سماج کی بنیادی اکائی فرد اور سیاست کا محور و مرکز فرد کی بہتری ہوتا ہے۔ آج دنیا میں7 ارب سے زائد افراد بستے ہیں اور انسانی تخلیق کا حسن باکمال یہ ہے کہ ہر فرد اپنی قامت، ذہانت، رنگت اور مہارت میں ایک دوسرے سے مختلف ہے شاہد اسی لیے دنیا کی سب سے چھوٹی اقلیت ہے۔ جب سماج افراد کا مجموعہ ہے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ مختلف اقلیتوں کے باہم اکٹھ کا نام ہے۔ کس کی بات کیسے سنی جائے اور مختلف نقطہ ہائے نظر دلائل، سوچ اور اپروچ میں توازن کیسے برقرار ہرے گا اور کس کو ترجیح ملے گی۔ یہ نظام ہمیشہ سماج کی سیاست نے طے کیا ہے۔ تاریخ اس ارتقاء کی کہانی کو حکم حاکم سے شروع کرکے عصر حاضر میں عوام کی حاکمیت تک لے آئی ہے۔ اس تہذیبی ارتقاء میں مذاہب،روایات، انسانی تجربات اور کئی فلسفوں کی حصہ داری ہے۔آج بھی یہ مباحث جاری و ساری ہیں جو کہ زندگی کی علامت ہیں۔

    پاکستانی سماج کی تاریخی جڑیں تو مہر گڑھ،موہنجو ڈارو، ہڑپہ، کوٹ ڈجی اور گندھارا میں ملتی ہیں۔ مقامی افکار کی ہفت رنگی بھی بے مثال ہے، سیاست پر قدیم کتاب ارتھ شاستر بھی چانکیہ نے اس دھرتی پر لکھی۔ الہامی مذاہب یہاں پہنچتے تو بدھ مت، ہندو مت اور سکھ مت نے جنم ہی اسی خطے میں لیا۔ جب یہ علاقہ حملہ آوروں کی گزر گاہ بنا تو وہ بھی اپنے فکری اور تہذیبی اثرات چھوڑ گئے۔ صوفیاء نے بھی اپنے رنگ جمائے۔ بلھے شاہ، شاہ لطیف، شاہ حسین، رحمان بابا، مست توکلی، بابا فرید نے علم و حکمت کے چراغ جلائے۔ انسان دوستی اور اقتدار کی کشاکش کی یہ کہانی طویل بھی ہے اور رہنمائی کے کئی امکانات فراہم کرتی ہے۔ ان ساری باتوں کو ایک کالم میں بیان کرنا خاصا مشکل ہے۔

    تاہم آج کے پاکستانی سماج کی طرف آتے ہیں۔کسی بھی دوسرے سماج کی طرح آج کے پاکستان کی کئی جہتیں اور چہرے ہیں۔ میگا مال، میوزوک موٹروے اور میٹرو کی جدیدیت سے لیکر انتہائی پسماندہ علاقوں میں انسانوں اور جانوروں کے مشترکہ پانی گھاٹ تک کئی حقیقتیں ہیں۔ ہر کہانی کا اپنا اپنا پس منظر ہے۔ فکری اعتبار سے بھی یہاں ہفت رنگی ہے۔ جدید اور قدیم ترین سوچوں کیلئے یہ خطہ بیک وقت ذرخیز ہے اور ان کی بھرپور آبیاری کرنے والے بھی انتہائی شدومد کے ساتھ موجود ہیں۔ گویا ایک پاکستان کے اندر کئی پاکستان ہیں اور ہر پاکستان کئی اپنی اپنی سیاست، افقی اور عمودی طور پر منقسم سماج کو باندھ کر رکھنے والی سبز کتاب کا نام آئین پاکستان ہے۔ یہی دستور اس سماج کی طرف بڑھنے کا تصور دیتا ہے جہاں سماجی اور معاشی انصاف ہو، عوام کی فلاح ہو، عقائد کی آزادی کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کا تحفظ ہو۔ وفاقی اکائیوں کو حقوق ملیں۔ طویل عرصہ تک سرزمین بے آئین رہنے والے ملک میں1973ء کا دستور بھی بن گیا تو آمریت کے طویل ادوار نے اسے عوام کی زندگیوں اور سماج سے کاٹ کر گہری نیند سلا دیا۔ اعلیٰ عدالتوں نے بھی گاہے بگاہے اس پر نظریہ ضرورت کی مہر لگائی۔ نتیجتاً طاقت، دھونس اور دھاندلی کا ایسا راج آیا کہ آپ کسی بھی رخ آدھا گھنٹہ چلیں تو آپ کو برباد ہوتے سماج میں مضبوط ہوتے مافیا ملیں گے۔ نیم خواندہ معاشرے میں کالے دھن کا اتنا راج نظر آتا ہے کہ سیاست اور حکومت سہمی سہمی نظر آتی ہے یا پھر بہت ہی سست رفتار!

    آبادی کے اعتبار سے دنیا کے چھٹے بڑے نیو کلیئر ملک کو اس طرح چلانا خطرناک بھی ہے اور خوفناک بھی۔ہمیں جاگنا ہوگا اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔ توانا اور پھلتے پھولتے سماج اور اچھی، دور اندیش سیاست کے باہم ربط پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ کامیاب اور ناکام تجربات کی کہانیاں بھی دستیاب ہیں۔پاکستانی سماج کو آج اچھی اور دور اندیش سیاست کی ضرورت ہے. کیا 20کروڑ آبادی میں ایسے چند لوگ موجود ہیں جو پاکستانی خواب کو تعبیر آشنا کرنے کیلئے سیاست کی ڈرائیونگ سیٹ سنبھال سکیں اور باقی تمام لوگ اپنے ووٹ کی قوت اور رائے کی صلاحیت سے اس سفر کو بامقصد بنائیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleعلم کلام اور بدلتے تقاضے
    Next Article چائنا پاکستان اقتصادی راہداری —کتنی حقیقت کتنا افسانہ
    ظفر اللہ خان

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by