Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»تما م آرٹیکلز»پاکستان میں قانون کے اسلامی تشخص کے مسائل: ایک تجزیاتی مطالعہ
    تما م آرٹیکلز

    پاکستان میں قانون کے اسلامی تشخص کے مسائل: ایک تجزیاتی مطالعہ

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتدسمبر 28, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔19 Mins Read4 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    یہ مقالہ پاکستان کی قومی شناخت کے ایک نہایت اہم پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔ اس کے مصنف پروفیسر ڈاکٹر محمد خالد مسعود اسلامی فقہ و قانون کے بین الاقوامی سطح پر مستند ماہر اور سپریم کورٹ کی شریعت اپلیٹ بینچ کے جج ہیں۔ وہ اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین رہ چکے ہیں۔ وہ دنیا کی متعدد جامعات اور علمی و تحقیقی اداروں میں تدریسی، مشاورتی اور علمی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اسلامی قانون، مذہبی تشخص اور جدیدیت جیسے موضوعات پر ان کی متعدد کتابیں اور مقالات علمی و فکری دنیا میں معتبر حوالہ سمجھے جاتے ہیں۔ زیر نظر مضمون میں ڈاکٹر خالد مسعود نے پاکستان میں قومی شناخت اور قانون کے اسلامی تشخص کے باہمی تعلق کو نہایت گہرائی اور باریک بینی سے تحلیل کیا ہے۔ یہ مضمون آئینی و فقہی مباحث کا صرف تاریخی و فکری جائزہ ہی پیش نہیں کرتا بلکہ یہ بھی آشکار کرتا ہے کہ قومی شناخت کے بحران میں اسلامی تشخص کے مباحث نے کس طرح نئی الجھنیں پیدا کیں۔ ڈاکٹر خالد مسعود اپنے اس تجزیاتی مطالعے میں یہ نکتہ نمایاں کرتے ہیں کہ قومی اور مذہبی شناخت کے مابین توازن کے بغیر نہ قانون کا اسلامی تشخص مستحکم ہو سکتا ہے اور نہ ہی پاکستان کی قومی شناخت کو پائیدار بنیاد میسر آ سکتی ہے۔
    پاکستان میں اس سال بھی قومی شناخت کا بحران زیر بحث رہا اور مختلف پہلووں سے بات جاری رہی۔ بعض نے اس بحران کو حقیقی کہا اور بعض نے مغالطہ قرار دیا۔ پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز ایک عرصے سے اس مسئلے کا تفصیلی مطالعہ کر رہا ہے۔ ۲۰۱۹ میں پاکستان بھر میں ان موضوعات پر مسلسل مکالمات اور مذاکرات سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ بحران کا تاثر ملک میں لسانی، نسلی، ثقافتی اور مذہبی تنوع کی موجودگی سے پیدا ہوتا ہے۔ کچھ لوگ اسے قومی شناخت اور امن اور سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں اور کچھ ناگزیر۔ چنانچہ تجزیات کے اکتوبر ۲۰۲۵ کے اداریے میں یہ چبھتا سوال اٹھایا گیا کہ پاکستان کی قومی شناخت کا مسئلہ آج بھی اتنا ہی گمبھیر کیوں ہے جتنا اس کے قیام کے وقت تھا؟ آج کا مضمون اسی سوال کے جواب کی تلاش میں لکھا گیا ہے۔
    قومی شناخت
    تجزیات کے حالیہ اداریے (اکتوبر ۲۰۲۵) میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ قومی شناخت کی بحث بنیادی طور پر اس خواہش سے جڑی ہے کہ ہر پاکستانی کے عزت اور وقار کا اعتراف لازم ہے۔ چنانچہ پاکستانی شناخت کا تقاضا ہے کہ لسانی، ثقافتی اور مذہبی شناختوں کے تنوع کو قومی شناخت کا حصہ بنایا جائے۔ انسٹی ٹیوٹ کے تجزیے کے مطابق پاکستان میں لوگ لسانی، نسلی اور مذہبی گروہی وابستگیوں کو زیادہ عزیز سمجھتے ہیں۔ اس لیے کہ یہ شناختیں انہیں انفرادی پہچان ہی نہیں، جان و مال کی سلامتی کی ضمانت بھی دیتی ہیں۔ اور اقتصادی اور روز مرہ ضرورتوں میں بھی یہی وابستگیاں کام آتی ہیں۔ چنانچہ زیادہ تر سیاسی اور مذہبی جماعتیں بھی انہی شناختوں پر قائم ہیں۔ شناختوں کے اس تنوع کو قومی شناخت کے متعدد پہلووں کے طور پر قبول کر لینے سے انفرادی ہی نہیں قومی وقار کو بھی تقویت ملتی ہے۔ ویسے بھی جدید اداروں کا، جن میں ریاستی، انتظامی اور قانونی ادارے شامل ہیں، لوگوں سے بنیادی رابطہ تو انفرادی ہوتا ہے لیکن افراد کی باہمی مماثلت اور برابری کی بنا پر شناختی تصور گروہی ہی رہتا ہے۔ چنانچہ وہ نہ انفرادی شناخت کی اہمیت کو سمجھ سکتے ہیں نہ تنوع کو قدر و قیمت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
    یورپ شناخت، پہچان، تشخص، تعریف اور تعارف کی مباحث، فرد، جماعت اور نظم و نسق کے اداروں کی حیثیت میں فرق اور ان کے اختیارات کے دائرے اور اقتدار کی گیرائی اور قانونی امتیازات کے جواز کے مختلف ادوار سے گزر چکا ہے۔ ان کے مفکرین نے ان تجربات کا تفصیلی مطالعہ بھی کیا ہے۔ ہمیں یورپ کے تجربے کے تنقیدی مطالعہ کی ضرورت ہے اس لیے نہیں کہ ہمیں بھی انہی مسائل کا سامنا ہے۔ بلکہ اس لیے کہ ہمارے ہاں شناخت کے سیاق و سباق مختلف ہیں۔ جدید شناخت کے مسائل دور جدید کے دو مفکروں، چارلس ٹیلر اور میشل فوکو کے موضوع رہے ہیں۔ دونوں نے اپنے تجزیات دو مختلف پہلووں سے پیش کیے ہیں۔ جدید دور میں انفرادی تشخص کی فلسفیانہ بحث جن ابہام کا شکار ہے اس کے ڈانڈے ہمارے بعض مسائل سے بھی ملتے ہیں۔
    زبیر تور ولی (تجزیات، ستمبر ۲۰۲۳) نے ان دونوں مفکروں کے تجزیات اور تجربات کا خلاصہ پیش کیا ہے۔ ان کا یہ مطالعہ جدید دور میں شناخت کے مسئلے کے عالمگیر پس منظر کو سمجھنے میں بہت مدد دیتا ہے۔ چارلس ٹیلر کے نقطہ نظر سے شناخت کا مسئلہ بنیادی طور پر لسانی ہے۔ معانی کی تلاش ہے۔ میں کون ہوں؟ اصل میں صداقت اور تصدیق کی جستجو ہے۔ خودی کی تفہیم ہے۔ خودی کی نشو و نما فرد اور فردیت سے ہے۔ اس کا تعلق سماج اور سماجی زندگی اور سماجی تعلقات سے ہے۔ سماجی طبقات کی درجہ بندی کی منطق سے ہے۔ نظریاتی اور برابری با معنی وابستگی پیدا کرتی ہے ورنہ فرد اجنبی بن کر رہ جاتا ہے۔ انفرادی اخلاقیات کا بنیادی سوال یہ ہے کہ صحیح عمل کیا ہے، یہ نہیں کہ یہ کیوں اور کیسے صحیح ہے؟ جدید شناخت انفرادی اور اجتماعی دونوں شناختوں پر مشتمل ہے۔ پہچاننا اور پہچانا جانا دونوں ضروری ہیں۔ اپنی بنیاد میں شناخت کا مفہوم مشابہت اور یکسانیت کی پہچان ہے۔ افراد ایک سے ہوں تبھی ان کو ایک گروہ کے طور پر شناخت کیا جا سکتا ہے۔ جدید شناخت میں ہر انسان کی عزت یکساں اور ہر ایک کو خود مختار مانا جاتا ہے۔ لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہو سکا۔ گروہی شناخت غالب آ جانے سے گروہ سے باہر افراد غیر اور اغیار جانے جاتے ہیں، ان کو مساوی درجہ نہیں دیا جا سکتا۔ جدید شناخت مطلق نہیں متعین ہے۔ اس کا معیار طے ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان پیمانوں کی موجودگی میں ہر ایک کو ہم پلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ چنانچہ اجنبیوں کی تعداد اپنوں سے زیادہ ہوتی جاتی ہے۔میشل فوکو کا کہنا ہے شناخت ذاتی نہیں بلکہ باہر سے ملتی ہے۔ شناخت وہ دیتا ہے جس کے پاس طاقت ہو۔ شناخت کی بنیاد خود مختاری اور آزادی نہیں طاقت ہے۔ طاقت تاریخی عمل ہے جو کشمکش یا جنگ سے طے ہوتا ہے۔ اخلاقی اور سماجی شناخت آزادی اور برابری سے نہیں غلبے سے حاصل ہوتی ہے۔
    اسلامی تشخص
    پاکستان میں قانون کے اسلامی تشخص کی بات قومی شناخت کے بنیادی تقاضے کی حیثیت سے شروع ہوئی لیکن بتدریج یہ بحث ایسی موشگافیوں اور فقہی تنقیحات کی نذر ہو گئی جو قومی شناخت کی تقویت کے لیے مضر ثابت ہو رہی ہیں۔ ابہام یہ ہے کہ کیا قومی شناخت کا بحران قانون کے اسلامی تشخص کے سوال سے پیدا ہوا ہے؟ یا اسلامی تشخص کے سوال نے قومی شناخت کا سیاق و سباق بدل دیا ہے؟
    اسلامی تشخص کی قومی اور قانونی حیثیت کے مسلمہ ہونے کے بارے میں پاکستان میں عمومی اتفاق پایا جاتا ہے لیکن اس کے نفاذ، تشخیص اور تشکیل کے دوران دینی اور قانونی تقاضوں میں فرق اور تفریق کی بنا پر اختلافات اور شکایات کا دائرہ روز بروز پھیلتا جا رہا ہے۔ اس تفریق سے دین اور قانون دونوں بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ یہ فرق جدید دور میں زیادہ تکلیف دہ اس لیے ہے کہ اس دور میں تو فرد کی اہمیت اور اس کی انفرادی شناخت کو جدیدیت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اسلامی سیاق و سباق میں بھی ایمان، عمل، تقویٰ، آخرت، یوم حساب، سزا و جزا، اور دین کے بنیادی مفاہیم فرد کی انفرادی شناخت سے جڑے ہیں۔ فقہ اسلامی کی تاریخ میں قومی ریاست کی بنیاد پر قومی شناخت کا مسئلہ نیا ہے۔ پہلی مرتبہ جدید دور میں سامنے آیا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ قرآن و سنت اور تاریخی نظائر کا جائزہ قیاس اور تنقیح مناط کے اصولوں کے ساتھ ساتھ تخریج اور تحقیق مناط کے تقاضوں پر بھی پورا اترے۔
    اسلام کی تاریخ میں عباسی خلیفہ منصور پہلا مسلم حکمران تھا جس نے امام مالک کی تدوین کردہ فقہی کتاب موطا کو ریاستی قانون کی شکل دینے کی تجویز پیش کی لیکن امام مالک نے منع کر دیا کہ اس اقدام سے فقہ اسلامی کی نشو و نما کا عمل رک جائے گا۔ ہزارہا کتابوں کا بیش بہا ذخیرہ مفتیوں کے فتاویٰ، قاضیوں کے فیصلوں اور فقہا کی تحریروں کا نتیجہ ہے۔ انیسویں صدی تک مسلمان سلطنتیں اور یورپی استعماری حکومتیں اسی فقہی ذخیرے سے فیضیاب ہوئیں۔ ریاستی قانون سازی کا تصور جدید دور کی قومی ریاست کی ضرورت کے طور پر ابھرا۔ یورپی استعمار کے دوران جو قانون سازی ہوئی وہ تجربہ فقہ اسلامی کے لیے اتنا خوشگوار نہیں تھا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جدیدیت کا یورپ کا تجربہ باقی دنیا سے بہت مختلف تھا۔ باقی دنیا میں جدیدیت یورپی استعمار کے جلو میں آئی۔ اسی لیے جدیدیت کے تجزیاتی مطالعے میں بنیادی رکاوٹ جدیدیت کی یورپی شناخت ہے۔ یورپ میں جدیدیت کے رومانوی تجزیے اسے قدیم سے نجات کی کامیاب کہانی کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ یہ کہانی فرد کی آزادی اور خود انحصاری کا ذکر ہے جس میں یورپی استعمار کا ذکر نہیں۔ لیکن قومی ریاست اور قومی شناخت جہاں استعمار سے جڑے ہیں وہاں جدیدیت کا حصہ بھی ہیں۔ ان مباحث میں مماثلات اور ممیزات دونوں کو بحث میں شامل رکھنا ضروری ہے۔
    قانون کی مذہبی شناخت کا مسئلہ برطانوی نوآبادیاتی سلطنت کے دوران پیدا ہوا۔ 1909 کے انڈین کونسلز ایکٹ نے ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے علیحدہ انتخابی حلقہ متعارف کرایا۔ مسلمانوں کے لیے مخصوص نشستیں مختص کی گئی تھیں جن کے لیے صرف مسلمان ہی ووٹ ڈالنے کے اہل تھے۔ اس ایکٹ میں مسلمان کی تعریف بھی اسلامی قانون کی پیروی کرنے والا بتائی گئی ہے۔ یوں باقی شناختیں چھوڑ کر اسلام اور قانون لازم و ملزوم بن گئے۔ اس دور میں ‘برائے نام مسلمان’ یا نام کے مسلمان ایسے مسلمانوں کو کہا جاتا تھا جو اسلامی قانون پر عمل نہیں کرتے تھے۔ استعماری سلطنت نے مذہبی قوانین کے اطلاق کو ذاتی بنانے کے لیے پانچ اقدامات کیے۔ اول یہ کہ اسلامی قانون کو پرسنل لا یعنی ذاتی یا شخصی قانون کا نام دیا، جبکہ عام انگریزی قانون پرسنل نہیں علاقائی تھا۔ دوسری بات یہ کہ مذہبی قانون کا دائرہ وراثت، شادی اور طلاق جیسے ذاتی اور نجی معاملات تک محدود تھا۔ تیسری بات یہ کہ اس پرسنل لا کو 1935 کے ایک ایکٹ میں زرعی زمین کو صوبائی موضوع بنا کر 1937 کے شریعت ایکٹ میں زرعی زمین کی وراثت کو اسلامی قانون سے خارج کر دیا۔ چوتھے، شریعت کو فقہاء کے قانون سے بدل کر ریاستی قانون بنا دیا۔ ماضی میں مسلمان حکمران اور قاضی قانون سازی نہیں کرتے تھے اب اسے پرسنل لا قرار دے کر ریاستی قانون کے طور پر لاگو کیا گیا۔ پانچویں فقہ کی نصابی کتب نے فقہاء اور علماء کی جگہ لے لی۔ اور ان کتابوں کے انگریزی ترجمے مہیا ہونے کے بعد علما کی ضرورت نہیں رہی۔ اینگلو محمڈن لا کے لیے کامن لا کے وکیل اور جج کافی تھے۔ پاکستان میں نوآبادیاتی قوانین کو قومیانے اور اسلامیانے کا کام بھی علما اور فقہا کی جگہ کامن لا کے وکلا کے سپرد رہا۔
    آئین پاکستان
    پاکستان کے آئین کی تاریخ کا رشتہ بھی کامن لا سے جڑا ہے۔ پاکستان کا پہلا آئین قیام پاکستان کے نو سال بعد 1956 میں آیا۔ اس کی بڑی وجہ آزادی ایکٹ 1947 کی قانونی پیچیدگیاں تھیں۔ اس میں پاکستان کے قانونی نظام کو برطانوی دولت متحدہ سے جوڑ کر پہلے سے متعین کر دیا گیا تھا اور اختیارات کو مشروط کر دیا تھا۔ مثلاً آزادی ایکٹ کی دفعہ 6 میں ریاست پاکستان کو قانون بنانے کا مکمل اختیار دیا گیا، لیکن دفعہ 18(3) میں اس اختیار کو گذشتہ قوانین کی بقا اور تسلسل سے مشروط کر دیا تھا۔ یوں پاکستان نوآبادیاتی قوانین کے نظام کی کڑی کے طور پر ایک قومی ریاست قرار پایا تھا۔ یہ حیثیت آزاد پاکستان کے لیے انتہائی پریشان کن تھی اس نے ریاست کی خودمختاری، قانون سازی کے اختیار اور نوآبادیاتی قوانین کی حیثیت کے بارے میں بنیادی سوالات کھڑے کر دیے۔ ان سوالات نے بہت سے خدشات کو بحث کا حصہ بنا دیا۔ ان میں سے ایک سوال حاکمیت یا اقتدار اعلیٰ کا تھا۔ جمہوریت کا مطلب قانون کی حکمرانی، عوام کی خود مختاری ہے۔ علما اس کی بجائے اللہ کی حاکمیت کا مطالبہ کر رہے تھے۔ الٰہی حاکمیت اور اختیار کی نمائندگی کون کرتا ہے؟ ریاست؟ عوام؟ حکمران؟ یا علما؟ کسی جواب پر اتفاق نہیں ہو پا رہا تھا۔ ملک کو قومی ریاست بنانے کے لیے فوری کاروائی کی ضرورت تھی۔ 1949 میں اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کی گئی: خدا پوری کائنات کا مطلق العنان حاکم ہے اور اس نے اپنا اختیار انسانوں کو امانت کے طور پر اپنے نائب کی حیثیت سے سونپا ہے۔ پاکستان کے عوام اللہ کے دیے گئے اس اختیار کو استعمال کرتے ہوئے اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے ایک سیاسی نظام قائم کرتے ہیں۔ یہ قرارداد 1956 کے آئین میں قرار داد مقاصد اور آگے چل کر 1973 کے آئین میں تمہیدی بیان کے طور پر شامل ہوئی۔
    1973 کے آئین میں اسلامی دفعات(227-231) س عزم کا اظہار تھیں کہ موجودہ تمام قوانین کو قرآن و سنت میں دیے گئے اسلامی احکام کے مطابق منضبط کیا جائے گا اور ایسا کوئی قانون وضع نہیں کیا جائے گا جو مذکورہ احکام کے منافی ہو۔ اس دفعہ کو کسی مسلم فرقے پر اطلاق کے وقت قرآن و سنت سے مراد مذکورہ فرقے کی قرآن و سنت کی تعبیر ہوگی۔ اس حصے میں کسی امر کا غیر مسلم شہریوں کے شخصی قوانین یا شہریوں کے بطور ان کی حیثیت پر اثر نہیں پڑے گا۔ دفعہ 228 میں اسلامی نظریاتی کونسل کے قیام اور فرائض کا بیان ہے۔
    اسلامی نظریاتی کونسل
    پاکستان نے 1962 میں ایک مشاورتی کونسل قائم کر کے موجودہ قوانین پر نظرثانی کے عمل کو ادارہ جاتی شکل دی۔ 1973 کے آئین میں اسے اسلامی نظریاتی کونسل کا نام دیا گیا۔ دفعہ 227 کے تحت کونسل کو یہ ذمہ داری سونپی گئی: تمام موجودہ قوانین قرآن و سنت میں بیان کردہ اسلام کے احکام کے مطابق لائے جائیں گے، اور کوئی ایسا قانون نافذ نہیں کیا جائے گا جو ان احکام سے متصادم ہو۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی پہلی سرکاری رپورٹ 1981 میں شائع ہوئی جس میں پاکستان کوڈ کے 1836 سے 1871 تک کے قوانین کا جائزہ لے کر رپورٹ کیا گیا تھا کہ کون سے قوانین قرآن و سنت میں دیے گئے احکام کے مطابق ہیں اور کون سے مخالف۔ ان احکام کی تفصیل 1996 کی حتمی رپورٹ میں شامل ہے۔ اس کا ذکر بعد میں آئے گا۔ ہم یہاں اس رپورٹ کی چند اہم سفارشات کا ذکر کرتے ہیں تاکہ اسلامی تشخص کے بارے میں کونسل کے تصور اور طریق کار کا اندازہ ہو سکے۔ مثال کے طور پر ایسٹ انڈیا کمپنی کے غلامی کے قانون مجریہ 1843 میں ترمیمات کی دفعات پر غور کے بعد جن میں انسانوں اور ان کے حق فروخت اور متعلقہ جرائم کو ممنوع قرار دیا تھا کونسل نے ان ترمیمی دفعات کو احکام اسلام کے مطابق قرار دیا۔ سفارش میں اس ممکنہ اعتراض کا بھی جواب دیا کہ بادی النظر میں غلامی کی ممانعت کا قانون اسلام کے قانون غلامی کی تردید کرتا ہے۔ امر واقعہ یہ بھی ہے کہ اسلام میں عرصہ دراز تک غلامی کے جواز کا قانون باقی رہا ہے۔ تاہم اسلام کی مجموعی تعلیمات سے مستظہر ہے کہ اسلام کا مقصود غلامی ختم کرنا تھا۔ اب دنیا اس منزل پر پہنچ گئی ہے کہ غلامی پر مکمل پابندی لگے۔ غلامی کے خاتمے کا قانون اسلام کی تعلیمات کے عین مطابق ہے (رپورٹ 1981، ص 3-6)۔ اس رپورٹ میں ربا اور سود کے تمام قوانین اور ایسے تمام قوانین کی منسوخی کی سفارش کی جن میں سود کا ذکر ہے۔ برطانوی تعزیرات ہند اور پاکستان پینل کوڈ کے حوالے سے بتایا کہ قرآن کریم میں صرف جرائم کی چند سزاؤں کا واضح ذکر ہے جنہیں حدود کا نام دیا گیا ہے۔ تفصیلی رہنمائی کرتے ہوئے سفارش کی کہ پینل کوڈ میں مذکور جرائم کو دو قسموں میں تقسیم کیا جائے۔ جن جرائم کی سزا قرآن نے متعین نہیں کی، ان میں ریاست کو قانون سازی کا اختیار ہے۔ کونسل نے سفارش کی کہ قطع ید کی سزا کو تعزیرات پاکستان میں مندرج سزاؤں کی فہرست میں شامل کر دیا جائے (رپورٹ 1981، ص 18-19)۔
    اس مختصر مضمون میں کونسل کی تمام رپورٹوں کا اس طرح تفصیلی جائزہ ممکن نہیں۔ رپورٹوں میں جو مشکلات پیش آئیں ان میں مندرجہ ذیل تین سوال بنیادی تھے: (۱) موجود قوانین سے کیا مراد ہے؟ وہ قوانین جو اسلامی قانون کے دائرے میں آتے ہیں یا بلا تخصیص ہر قانون جو پاکستان میں لاگو ہے۔ (۲) کیا کونسل ایسے اسلامی قوانین کی سفارش کر سکتی ہے جو موجود یا رائج نہیں ہیں؟ (۳) قرآن و سنت سے مطابقت یا تصادم کے قواعد اور ضوابط کیا ہوں گے؟ کون طے کرے گا؟ اس خلا کو پر کرنے کے لیے کونسل نے ایک جانب تو یہ طے کیا کہ موجود قوانین سے مراد وہ تمام قوانین ہیں جو برطانوی دور سے اب تک نافذ ہوئے اور پاکستان کوڈ میں شامل ہیں۔ دوسرے، کونسل نے احکام اسلام کے عنوان سے گیارہ رہنما اصول مرتب کیے جن میں سے ہر ایک کی حجیت کے لیے قرآن کی آیات اور متفقہ احادیث اور فقہی کتب سے اقتباس شامل کیے ہیں۔ ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا تجزیاتی رجحان فقہی اور معیار فقہی مذاہب ہیں۔
    یہ محض اتفاق نہیں کہ 1985 میں دفعہ 227 کی تشریحی ترمیم میں یہ آئینی وضاحت شامل کی گئی کہ اس شق کے اطلاق میں ’’قرآن و سنت‘‘ کے الفاظ سے مراد قرآن و سنت کی وہ تعبیر ہو گی جو متعلقہ فرقے میں مقبول ہے۔ چنانچہ اب مطابقت اور متصادم کا معیار قرآن و حدیث کا متن نہیں بلکہ اس کی فقہی تعبیر بن جاتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ 1985 میں مارشل لا کے خاتمے پر 1973 کے جمہوری آئین کی بحالی کا جو حکم (آر سی او 1985) جاری کیا گیا اس میں دفعہ 277 اے اے کے تحت مارشل لا کے دوران جاری بہت سے قوانین کو ترمیم و تنسیخ سے مستثنیٰ کر دیا گیا۔ ان مستثنیٰ قوانین کی جو فہرست موجودہ آئین میں دی گئی ہے ان میں مسلم فیملی لا آرڈیننس 1961 بھی شامل ہے۔
    کونسل نے 1974 میں موجودہ قوانین کا جائزہ لینا شروع کیا، اور 1726 کے بعد سے 1996 تک تمام موجودہ قوانین کا جائزہ لیا، اور 1997 میں اپنی حتمی رپورٹ پیش کی۔ کونسل نے 2390 وفاقی اور صوبائی قوانین کا احکام اسلام سے مطابقت کے نقطہ نظر سے جائزہ لیا۔ کونسل کی رائے یہ ہے ان قوانین میں بڑی تعداد قرآن و سنت کے اسلامی احکام کی کسی نص سے متصادم نہیں ہیں اس لیے شرعی نقطہ نظر سے اکثر قوانین میں کسی ترمیم کی ضرورت نہیں۔ کونسل کی گذشتہ رپورٹوں میں 490 وفاقی اور صوبائی قوانین کے جائزے کے بعد یہ رائے دی گئی تھی کہ ان میں 215 قوانین میں سے کوئی قانون قرآن و سنت کے اسلامی احکام کے متصادم نہیں۔ البتہ 275 قوانین ایسے ہیں جن میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ کونسل کی رپورٹیں مع تفصیلات پہلے ہی پارلیمان کو پیش کی جا چکی ہیں۔ اس رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اکثر قوانین کی اسلامی احکام سے مطابقت کے باوجود اسلامی خطوط کے مطابق معاشرہ کی تعمیر کی منزل بہت دور ہے۔ اس جانب فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ کونسل نے 2005 میں حدود آرڈیننس اور 2008 میں مسلم فیملی قوانین کا جائزہ لیا۔ کونسل کی نظر میں دونوں آرڈیننس قرآن و سنت سے مطابقت نہیں رکھتے تھے اس لیے ان قوانین کی تشکیل نو کی سفارش کی۔ کونسل نے 2006 اور 2007 میں اپنی رپورٹوں میں استدلال کیا کہ حدود آرڈیننس میں قرآن اور سنت کی نصوص کی بجائے فقہی تعبیرات پر بطور ماخذ انحصار کیا گیا ہے۔
    پاسپورٹ، قومی ترانہ، اور جھنڈا علامتی حد تک تو پاکستان کی سرکاری قومی پہچان بن گئے ہیں۔ لیکن سیاست، تعلیم، قانون، اور روز مرہ زندگی کے ہر میدان میں ہر پاکستانی کو پاکستان کے مقدر کا ستارہ تسلیم نہیں کیا جا سکا۔ پاکستان کی کوئی علامتی پہچان بار آور قومی شناخت نہیں بن سکی۔ مذہبی تشخص پاکستان کی قومی شناخت کا حصہ تو ہے لیکن سیکولر اور مذہبی تشخص کی بحث اور اس میں اقلیت اور اکثریت کی تقسیم نے مذہب اور دین سے وابستگی کو رسمی اور ظاہری بنا دیا ہے۔ تقسیم اور تفریق کی بظاہر سائنسی سوچ نے ضمیر کی چبھن اور اخلاقیات کی کسک کو بے اثر کر دیا ہے۔
    مصادر
    1. Pak Institute for Peace Studies, Who Am I? A Study of Identity and Co-existence in Pakistan, Islamabad, 2019.
    2. Government of Pakistan, The Constitution of The Islamic Republic of Pakistan, Islamabad, 2010.
    3. Charles Taylor, Sources of Self, the Making of the Modern Identity, Cambridge, Cambridge University Press, 2002.
    4. Council of Islamic Ideology, First Report, Islamization of Laws, The Pakistan Code 1836-1871, Islamabad, 1981
    5. Council of Islamic Ideology, Report on Muslim family Laws, Islamabad, 1993.
    6. Council of Islamic Ideology, Final Report on Examination of Laws up to August 1973, Islamabad, 1996.
    7. Muhammad Khalid Masud, “Religious Identity and Mass Education”, in Johan Muelman (Ed.), Islam in the Era of Globalization, Muslim Attitudes toward modernity and Identity, New York: Routledge: 2002, pp.233-45.
    8. ___, “Cosmopolitanism and Authenticity: The Doctrine of Tashabbuh Bi’l-Kuffar in Modern South Asian Fatawa”, in Derryl N. Maclean, Sikeena Karmali Ahmed (Eds.), Cosmopolitanisms in Muslim Contexts, perspectives from the Past, Edinburgh: Edinburgh University Press, 2013. Pp.156-175.
    9. Justice (Rtd.) Dr. Javid Iqbal, Islam and Pakistan’s Identity, Lahore: Iqbal Academy, 2003.
    10. Roel Meijer (Ed.), Cosmopolitanism, Identity and Authenticity in the Middle East, Surrey, Curzon Press, 1999.
    11. اسلامی نظریاتی کونسل، سالانہ رپورٹ، 1981-1982، اسلام آباد، 1993
    12. اسلامی نظریاتی کونسل، سالانہ رپورٹ، 1987-1988 ، اسلام آباد، 1993
    13. میاں انعام الرحمان، اسلامی شناخت، الشریعہ، جون 2001۔
    14. مفتی رفیق احمد بالاکوٹی، پاکستان کا اسلامی تشخص، چند تاریخی، سیاسی اور فقہی تنقیحات، بینات، ستمبر، 2020۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleبلوچستان میں امن اور مذہبی ہم آہنگی: ماضی، حال اور مستقبل
    Next Article پنجاب میں مذہبی جماعتوں کی مرکزیت اور ان کا قومی سطح پر سیاسی اثر و رسوخ
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    روداد: نوجوانوں کے لیے ورکشاپ

    اکتوبر 22, 2026

    زیدیہ شیعہ تحریک اور حوثی سعودی تنازع کا پس منظر

    اکتوبر 22, 2026

    مسلکِ نوربخشیہ: تعارف اور پاکستان میں ادارہ جاتی نمائندگی کا جائزہ

    اکتوبر 22, 2026

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by