Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»حکومتی کار کردگی کا سال، تبدیلی اور طاقت کا مظاہرہ ایک ساتھ
    رواں تبصرے

    حکومتی کار کردگی کا سال، تبدیلی اور طاقت کا مظاہرہ ایک ساتھ

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتاگست 19, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    پاکستان تحریک انصاف کا حکومت میں ایک برس مکمل ہوگیا ہے۔ گزشتہ روز حکومت کی جانب سے ایک سالہ کارکردگی کی رپورٹ پیش کی گئی جس کے مطابق ٹیکس، سیاحت اور مواصلات سمیت ملک کے کئی شعبوں کو بہتر بنانے کے لیے متعدد جدید اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں جن کے بہت اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔ وزیر اطلاعات نے گزشتہ سال کو استحکام  کے حصول کا اور نئے سال کو تعمیر کا سال قرار دیا۔

    موجودہ حکومت کا ایک برس مکمل ہونے پر بعض اصلاحات کے ذکر کے ساتھ ایک رپورٹ تو جاری کی گئی لیکن اس کے ساتھ آئندہ کا لائحہ عمل پیش نہیں کیا گیا جس سے عوام کو اندازہ ہوسکتا کہ ان کی بہبود کے لیے یہ ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں، یا جو اصلاحات لاگو کی گئی ہیں نئے سال میں ان سے یہ نتائج حاصل کرلیے جائیں گے۔ عوام ان حالات میں کسی معجزے کی توقع نہیں رکھتے لیکن یہ جاننا ان کا حق ہے کہ حکومت ان کے لیے ہنگامی اور مستقل بنیادوں پر کیا واضح و ثمرآور منصوبے رکھتی ہے، تاکہ کنفیوژن کا ماحول ختم ہو اور عام آدمی کو اطمینان کا احساس ہو۔

    گزشتہ ایک برس کے دوران جہاں تبدیلی لانے کے لیے کچھ شعبوں میں اصلاحات متعارف کرائی گئیں وہیں اس کے ساتھ ’استحکام‘ کے حصول کے لیے طاقت کا مظاہرہ بھی جاری رکھاگیا، جس کا نقصان ملک کے سیاسی عمل اور سماجی ڈھانچے دونوں کو پہنچا۔ خصوصاََ آزادی اظہار ِرائے پر مختلف حوالوں سے قدغن نے ایک طرف حقائق کو اوجھل کیا اور کنفیوژن پیدا کی تو دوسری طرف سماج میں ہیجان و عدمِ اعتماد کو مہمیز دیتے ہوئے مکالمے و بات چیت کی ثقافت کو بھی متأثر کیا۔ مختلف سیاسی  و سماجی طبقات ایک دوسرے سے دُور ہوئے ہیں اور عمومی طور پہ خوف کی فضا نے جنم لیا۔ آزادی اظہار رائے پر پابندی کی وجہ سے پوری دنیا میں پاکستان کو تنقید کا سامنا بھی ہے۔

    حقیقی تبدیلی اور استحکام  کی راہ یہ ہے کہ سیاسی کلچر میں بھی اصلاحات متعارف کرائی جائیں جس کا انتخابات سے قبل وعدہ کیا گیا تھا اور جمہوری ثقافت کی بِنا رکھتے ہوئے تعمیری رویوں کوفروغ دیا جائے۔ استحکام، طاقت کے مظاہرے سے ممکن نہیں بنایا جاسکتا، یہ عمل حکومت کے ساتھ ملک کو بھی مزید کمزور کرتا جائے گا۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleسعودی عرب میں مرد کی سربراہی کا خاتمہ
    Next Article گلگت بلتستان کے تعلیمی اداروں میں میں اِی لرننگ منصوبوں کا آغاز
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by