Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»قطر کی پاکستان میں سرمایہ کاری اور سعودی عرب کے ممکنہ تحفظات
    رواں تبصرے

    قطر کی پاکستان میں سرمایہ کاری اور سعودی عرب کے ممکنہ تحفظات

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتجون 25, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    پچھلے ہفتے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی دو روزہ دورے پر پاکستان تشریف لائے، جسے دونوں ممالک نے اہم مرحلہ قرار دیا۔ قطر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق امیر نے پاکستان میں تین ارب ریال کی سرمایہ کاری بھی اعلان کیا۔

    پاکستان کے قطر کے ساتھ تجارتی و عسکری روابط اہم اور پرانے ہیں۔ دونوں ممالک کے مابین تجارت کا سالانہ حجم 200 ملین ڈالر ہے۔ 2017 سے خلیج بحران کے بعد اس کا تناسب بڑھ کر سالانہ ایک ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ عسکری شعبے میں قطر پاکستان کے ساتھ 1985 سے اب تک تین بڑے معاہدے کرچکا ہے جس سے پاکستان کو بہت فائدہ ہوا ہے۔

    بظاہر پاکستان کے قطر کے ساتھ تعلق اور سرمایہ کاری کے معاہدے پر کسی اور ملک کو تحفظات نہیں ہونے چاہئیں لیکن قطر کا معاملہ اس لحاظ سے الگ ہے کہ ممکن ہے خلیج بحران کی وجہ سے سعودی عرب اسے پسندیدہ نگاہ سے نہ دیکھے۔ جب شہزادہ محمد بن سلمان پاکستان کے دورے پر آئے تھے تو قطر کے میڈیا میں اسے خصوصی توجہ دی گئی اور اس کے کئی پہلوؤں پر تبصرہ کیا گیا تھا۔ صحافیوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا تھا کہیں اس سے قطر پاکستان تعلقات متأثر نہ ہوں۔ انہوں نے حکام پر زور دیاتھا کہ وہ گوادر میں سرمایہ کاری کریں، اس کے بعد قطری حکام نے گوادر میں سرمایہ کاری کی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا۔ حالانکہ 2017 میں جب خلیج بحران پیدا ہوا تو جدہ میں اس وقت کے وزیراعظم  نوازشریف سے ملاقات کے دوران شاہ سلمان نے کہا تھا کہ آپ قطر یا سعودی عرب میں سے ایک کا انتخاب کریں۔ نوازشریف نے غیرجانبدار رہنے کا موقف اپنایا تھا جس پر سعودیہ میں تنقید کی گئی۔ اس کے باوجود محمد سلمان کے دورہ پر قطری حکام مطمئن نہیں تھے۔ اب امیر قطر کی پاکستان آمد کو شاید سعودی عرب بھی پسند نہ کرے۔ کیونکہ قطر جس بلاک کا حصہ ہے وہ سعودی عرب کا سخت ناقد ہے۔

    البتہ بعض تجزیہ کار یہ کہہ رہے ہیں کہ قطر کے پاکستان دورے پر خلیج بحران بھی زیربحث آیا ہے۔ امریکا کی خواہش پر کچھ ممالک اس کے حل کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ یہ رائے کویتی حکام اور میڈیا نے دی ہے۔ بہرطور خلیج بحران چاہے حل بھی ہوجائے لیکن جو رنجش اس سے پیدا ہوئی ہے وہ سعودی عرب اور قطر کے مابین اعتماد کا رشتہ بحال نہیں ہونے دے گی۔ لہذا شیخ تمیم الثانی کی پاکستان آمد اور سرمایہ کاری کے اعلان پر سعودی عرب کو تحفظات ضرور ہوں گے۔ اس کے باوجود پاکستان میں امیر کے پرتپاک استقبال اور باہمی تعاون کے اعلان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اپنے غیرجانبدارانہ موقف پر قائم ہے، جوکہ یقیناََ خوش آئند بات ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleکام چوری کی عادت
    Next Article اکیسویں صدی اور پاکستان کی سماجی بے چارگی
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by