Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»تما م آرٹیکلز»کینہ پروری ایک اخلاقی مرض
    تما م آرٹیکلز

    کینہ پروری ایک اخلاقی مرض

    صاحبزادہ محمد امانت رسولBy صاحبزادہ محمد امانت رسولستمبر 12, 2018کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

     

    کینہ پروری ایسی اخلاقی مرض ہے جس کے اثرات معاشرتی سطح پہ بڑے بڑے فساد وخرابی کا موجب ہیں۔ کسی کے لیے بلا وجہ دل میں نفرت اور دشمنی کو پالے رکھنا ”کینہ پروری”ہے۔یہ مرض انسان کے دل میں پرورش پاتی اور بڑھتی ہے ۔انسان کے جذبات، ارادے اور خیال پہ دنیا میں کوئی سزا نہیں ہے اور نہ ہی دنیا کا قانون اس پہ سزا دے سکتا ہے لیکن اس کے نتیجے میں انسان سے سرزد ہونے والے اعمال پہ جزاء  و سزا ہے ۔اگر انسان کوئی انتہائی قدم اٹھا تا ہے تو اس انتہائی قدم (جرم)اٹھانے کی وجہ یہی نفرت اور دشمنی کے جذبات ہوتے ہیں اس لیے مذہب کا مقصود انسان کا تزکیہ وطہارت ہے ۔تزکیہ و طہارت ہو جانے کے نتیجے میں انسان سے اچھے ا عمال کا ظہورہوتا ہے اور بُرے اعمال پیدا کر نے والے جذبات واوصاف ختم نہیں ہو تے لیکن دب کر رہ جاتے ہیں۔کینہ پروری یا ایسی اخلاقی برائیوں سے فساد کیسے پیداہو تا ہے؟اس کی نشاندہی ایک روایت میں رسو ل اللہ نے خود فر مائی ہے کہ غیبت کرنا ،تکبر کر نا ،اترانا،کینہ رکھنا ،بخل کر نا، یہ ظلم میں بدل جاتے ہیں اور اس کے بعد فتنہ وفساد بن جاتے ہیں۔ایک مقام پر کینہ وحسد کے بارے میں فرمایا ”یہ مونڈھ دینے والی برائیاں ہیں پھر خود ہی وضاحت فر مادی کہ ”اس سے مراد بالوں کا مو نڈھنا نہیں ہے بلکہ یہ دین کو مونڈھ دینے والی ہیں”۔اس روایت سے کینہ پروری کی شدت گناہ اورروحانی ضیاع کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ برائی دین کے معاملے میں ایک مسلمان کا کتنا نقصان کر سکتی ہےگو یاکہ ”دین”اس کے جذبہ و عمل سے ایسے ختم ہو جا تا ہے جیسے بال سر سے غائب ہو جاتے ہیں اس لیے ایک اور روایت میں فرمایا:” کینہ پروری مسلمان کے دل میں نہیں ہو سکتی” یعنی مو من کا دل ایسے قبیح اور نا پسندیدہ جذبات سے پاک ہو تا ہے۔

    اگر اس کے نتائج پہ غور کریں تو ایک نتیجہ جو کینسر کی طر ح معاشرے میں عام ہو تا ہے اس کی چھوٹی شکل یہ ہے کہ دوسروں کے اچھے کامو ں پہ تعریف نہ کر نا، نقص اورعیب کے پہلو تلاش کر نا ۔یہ ایک عام بیماری ہے جو کینہ پروری اوربغض کے باعث معاشرے میں عام ہوتی ہے، ایسا نہیں ہوتا کہ کینہ پرور تعریف کر نہیں سکتا بلکہ جن جذبات کی آگ میں وہ جل رہا ہو تا ہے ،وہ اس کے لیے کسی اچھے کام میں رکاوٹ بن جاتے ہیں اسی لیے امام شافعی فرماتےہیں:”کینہ پرور اور حاسد کے لیئے اس دنیامیں سکون نہیں ہے ۔وہ مرتے دم تک بے سکون اور غیض و غضب کی آگ میں جلتارہتا ہے ”۔کینہ پرور جس آگ میں خود جلتا ہے ، دوسروں کوبھی اسی آگ میں جلا نا چا ہتا ہے۔حقیقت ہے جس کے پاس جو کچھ ہو تا ہے وہ وہی کچھ دوسرے کو  لوٹاتا ہے۔

    کسی کے اچھے کام کی تعریف نہ کرنا کسی کی ترقی وخوشحالی سے جل جا نا اور کسی کے ثمرِمحنت کو بددیانتی اور بد عنوانی کانتیجہ قرار دینا،اس سے آگے بڑھ کر اس کے لیے رکاوٹیں کھڑی کر نا،یہ سو سائٹی کا ایک عام چلن بنتا جا رہا ہے ۔

    اس بیماری سے نجات کا ایک راستہ یہ ہے کہ اس تصور کو واضح کیا جاناچا ہیئے بلکہ ہمارا ایمان ہونا چاہئیےکہ یہ دنیا    ”مر کز امتحان”ہے جس کے پاس جو کچھ اور جتنا ہے،اللہ کی بارگاہ میں، وہ اس کا جواب دہ ہو گا ۔ہر انسان کو اس جواب دہی کی تیاری مذہب کی تعلیمات کو پیش نظر رکھ کر کرنی ہے ۔دوسرا راستہ یہ ہے کہ ہر شخص محنت کر ے,مشکل سے مشکل چوٹی محنت و کوشش کے ذریعے سر کی جا سکتی ہے ۔دنیا میں کامیاب ترین افراد کی کہانی محنت ومشقت سے بھر پور ہے ۔تیسراحل یہ ہے کہ ہمیں انفرادی طور پر اپنی شخصیت کی تعمیروتزکیہ کااہتمام کرنا چاہیئے۔

    دنیا و آخرت کی کامیابی کینہ پروری اور بغض جیسی اخلاقی اور روحانی امراض سے آزادی میں ہے ۔جب پیغمبراسلام نے ایک صحابی کو جنت کا حقدار قرار دیا تو تحقیق و تفتیش کے بعد معلوم ہوا کہ وہ صحابی اپنے دوسرے بھائی کے لیے اپنے دل کو ہر طرح کی کینہ ،دشمنی ،نفرت اور عداوت سے پاک کر کے سوتےہیں۔ اقوامِ عالم نے اپنے محنت وعمل سے کم از کم دنیا کی حد تک اس حقیقت کو یقین سے ثابت کر دیا ہے کہ جو قوم اخلاقی برتری رکھتی ہے ،وہی قوم عروج و کمال بھی حاصل کر تی ہے ۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleسب کا پاکستان
    Next Article صیاد نے یونہی تو قفس میں نہیں ڈالا
    صاحبزادہ محمد امانت رسول

    Related Posts

    روداد: نوجوانوں کے لیے ورکشاپ

    اکتوبر 22, 2026

    زیدیہ شیعہ تحریک اور حوثی سعودی تنازع کا پس منظر

    اکتوبر 22, 2026

    مسلکِ نوربخشیہ: تعارف اور پاکستان میں ادارہ جاتی نمائندگی کا جائزہ

    اکتوبر 22, 2026

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by