Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»تما م آرٹیکلز»وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر
    تما م آرٹیکلز

    وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر

    شوذب عسکریBy شوذب عسکریمارچ 18, 2018کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    آج دوپہر جب میں اور عبد اللہ گول مارکیٹ سے پراٹھے کھا رہے تھے  کہ کاغذ چننے والا ایک پختون بچہ ہمارے پاس سے گزرا اور چند ہی لمحوں میں اس نے  آس پاس  کے بکھرے ہوئے سبھی خالی ڈبوں اور کاغذوں کو چن کر اپنے تھیلے میں بھر لیا ۔ عین اسی لمحے عبداللہ نے کہا کہ  اس نے ناشتہ دیر سے کیا تھا وہ پورا رول پراٹھہ ختم نہیں کرسکتا۔ وہ آدھا  پراٹھا چھوڑ رہا ہے ۔ تو میں نے بے ساختہ ہی اس  پختون بچے کوآواز دی اور اپنے پاس بلا لیا۔ پہلے پہل تو وہ جھجکا  مگر پھر چلا آیا۔

    جب وہ  بچہ پراٹھہ کھا رہا تھا تو میں نے حسب ِعادت کے اس کا انٹرویو لینا شرو ع کردیا۔

    اس کا نام نمروز خان تھا اور اس لمحے اسے سب زیادہ ڈراپنے اس تھیلے کا تھا جسے وہ کار پارکنگ میں رکھ کر ہمارے پاس آ بیٹھا تھا۔ نمروز خان نے بتایا کہ اس کاباپ دو سال پہلے  فوت ہوگیا ہے ۔ وہ لوگ مہمند ایجنسی کے رہنے والے ہیں اور  ڈیڑھ سال سے اب وہ لوگ گولڑہ شریف میں ایک کرائے کے مکان میں رہتے ہیں ۔ وہ روزانہ کے تین سے چار سو روپے تک کما لیا کرتا ہے اور اس کا بڑا بھائی ریت والی چھلیاں بیچتا ہے ۔وہ ہرروز گھر نہیں جاتا کبھی کبھار دوستو کے ساتھ یہیں اسلام آباد میں ہی کسی مارکیٹ میں سو جاتا ہے۔ میرے پوچھنے پہ کہ وہ سکول کیوں نہیں پڑھتا تو اس نے بتایا کہ کچھ سال پہلے تک وہ دونوں بھائی پڑھتے تھے پھر جب طالبان آئے اور لڑائی شروع ہوگئی  تو اس دوران اس کا باپ زخمی ہوگیا اور کچھ عرصے بعد وفات پاگیا ۔ طالبان کے کہنے پر ان کے گاؤں والوں نے ان کے گھرانے کو یہ کہہ کر گاؤں سے نکال دیا کہ ان کی والدہ پولیو ورکر رہ چکی ہے سو اگر وہ لوگ زندہ رہنا چاہتے ہیں تو گاؤں چھوڑ جائیں۔

    اس کے بعد وہ اسلام آباد آگئے اور پھر انہوں نے سکول  نہیں پڑھا ۔  مجھے سخت حیرت ہوئی کہ پولیو کے قطرے پلانے پر کوئی کس طرح ایک  بیوہ خاتون کو گاؤں سے چھوٹے چھوٹے بچوں سمیت نکال سکتا ہے ۔ ابھی جب ٹی وی پہ مہمند   ایجنسی کی خبر سنی کہ پولیو ٹیم پہ  فائرنگ  2 رضاکار شہید3 اغوا ہوگئے۔ تو اندازہ ہوا کہ نمروز خان جھوٹ تو نہیں کہہ رہا تھا۔

    محترم قارئین ، بلاگ کہانی پاکستان میں تشدد سے متاثرہ افراد کی کہانیوں کا بلاگ سلسلہ ہے جس میں آپ بھی ایسی مختصر کہانیاں بھیج سکتے ہیں جو کسی بھی وجہ سے ہوئے تشدد کی ہولناکی بیان کرکے دیگر لوگوں کو متشدد روئیوں سے دور رہنے کا پرامن پیغام دیتی ہوں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleطلبہ علوم دینیہ کی خدمت میں
    Next Article اکیڈمک فریڈم، تنقیدی سوچ اوراظہاررائے کی آزادی
    شوذب عسکری

    Related Posts

    روداد: نوجوانوں کے لیے ورکشاپ

    اکتوبر 22, 2026

    زیدیہ شیعہ تحریک اور حوثی سعودی تنازع کا پس منظر

    اکتوبر 22, 2026

    مسلکِ نوربخشیہ: تعارف اور پاکستان میں ادارہ جاتی نمائندگی کا جائزہ

    اکتوبر 22, 2026

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by