Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»تما م آرٹیکلز»اقتدار کا شکستہ معاہدہ
    تما م آرٹیکلز

    اقتدار کا شکستہ معاہدہ

    tajziat_adminBy tajziat_adminاکتوبر 22, 20261 تبصرہ8 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    تحریر: محمد عامر رانا

    اگرچہ پاکستان تحریکِ انصاف (PTI) نے اسلام آباد کی جانب اپنا احتجاجی مارچ ملتوی کر دیا ہے، لیکن دارالحکومت کی سڑکوں پر کنٹینروں کی رکاوٹیں بدستور ملک کے گہرے بحران کی عکاسی کر رہی ہیں۔ یہ بحران محض سیاسی، معاشی یا سکیورٹی سے متعلق نہیں، بلکہ اس کی جڑیں اس اشرافیہ میں پیوست ہیں جو آپس میں اقتدار کی تقسیم کے کسی معاہدے پر متفق نہیں ہو سکتی۔

    اسلام آباد پہلی مرتبہ کسی محاصرے جیسی صورتِ حال سے دوچار نہیں ہوا۔ یہ صورتِ حال اب جڑواں شہروں کے باسیوں کی زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ یہاں تک کہ کرکٹ کا کوئی میچ یا کسی اہم غیر ملکی شخصیت کا دورہ بھی معمولاتِ زندگی کو مفلوج کر سکتا ہے۔ بنیادی ڈھانچے پر بھاری سرمایہ کاری اور نگرانی کے مہنگے نظاموں کے باوجود سکیورٹی فراہم کرنے والے ادارے بدستور بے چین دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے وفاقی دارالحکومت کو ناکوں اور چیک پوسٹوں کے شہر میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں عام شہری کو روزانہ سفر کے دوران ہر دس منٹ بعد طویل قطاروں سے گزرنا پڑتا ہے اور پولیس اہلکار اسے مشکوک نظروں سے دیکھتے ہیں۔ نتیجتاً شہریوں کو یوں محسوس ہونے لگتا ہے جیسے ملک کے تمام مسائل کے ذمہ دار وہ خود ہیں، جبکہ وہ لوگ جنہوں نے حقیقتاً سبز پٹیوں (گرین بیلٹ)، فٹ پاتھوں اور یہاں تک کہ شاہراہوں پر بھی ناجائز قبضے کر رکھے ہیں، ان جرائم کی سزا سے بچ نکلتے ہیں جن کی نوعیت تک وہ خود نہیں سمجھتے۔ بحران کی جڑیں بہت گہری ہیں، اور پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج ملتوی کرنے سے، یا اس سے قبل جماعتِ اسلامی کی جانب سے ایسا کرنے سے بھی، ملک کا سیاسی، انتظامی، معاشی اور سکیورٹی بحران حل نہیں ہوگا۔

    یہ سطور بظاہر مایوس کن محسوس ہو سکتی ہیں، لیکن وفاقی دارالحکومت کی سڑکیں پاکستان کی پوری کہانی بیان کرتی ہیں۔ کنٹینروں کے ذریعے شہر کو بند کرنے کی حکمتِ عملی اقتدار کی تقسیم کے معاملے پر طاقت ور اشرافیہ کے درمیان موجود سنگین دراڑوں کو ظاہر کرتی ہے۔ اقتدار کی تقسیم نہ تو متناسب انداز میں ہوئی ہے اور نہ ہی سب کو اس میں ان کا مناسب حصہ ملا ہے۔ درحقیقت، اسی صورتِ حال نے ایک دائمی سیاسی بحران پیدا کیا ہے اور ایسی معیشت کو جنم دیا ہے جس میں مراعات اور خصوصی رسائی کے ذریعے ناجائز یا غیر پیداواری معاشی فوائد حاصل کیے جاتے ہیں۔ Rent-seeking سے مراد وہ صورتِ حال ہے جس میں معاشی کردار ریاست تک خصوصی رسائی حاصل کرنے یا محدود وسائل پر کنٹرول قائم کرنے میں مہارت حاصل کر لیتے ہیں۔

    ملک کی موجودہ حالت کے ذمہ دار عوام نہیں ہیں؛ اصل مسئلہ اقتدار کی وہ منقسم اشرافیہ ہے جو اب تک اپنے درمیان طاقت تقسیم کرنے کا ہنر نہیں سیکھ سکی۔ یہاں ایک اور اصطلاح کی وضاحت ضروری ہے۔ شکستہ اشرافیہ‘‘ (Fractured Elite) سے مراد پاکستان کی غالب سیاسی، سول و عسکری، عدالتی اور ادارہ جاتی اشرافیہ ہے، جسے بعض اوقات اسٹیبلشمنٹ بھی کہا جاتا ہے، جب یہ اشرافیہ سیاسی کھیل کے بنیادی قواعد پر اتفاق کرنے کے قابل نہ رہے۔ اس اشرافیہ میں مذہبی اور نظریاتی مقتدر حلقے بھی شامل ہیں، لیکن بدلتے ہوئے نظامِ اقتدار میں فی الحال ان کے کردار اور حصے کو محدود کر دیا گیا ہے۔ بڑے کاروباری مفادات اور بڑے زمیندار بھی اقتدار کے اس منقسم نظام میں اہم کردار بن چکے ہیں۔

    اقتدار کی تقسیم کے معاملے پر اشرافیہ کے درمیان سنگین دراڑیں موجود ہیں۔

    ایک سوال پیدا ہوتا ہےکہ اشرافیہ کے درمیان اقتدار کا معاہدہ کیسا ہوتا ہے؟ کیا اس کا تعلق اس بات سے ہے کہ حکومت چلانے کے لیے سیاسی اقتدار کس کے پاس ہوگا اور کن شرائط کے تحت ہوگا؟ اس کے ساتھ ایک اور سوال بھی سامنے آتا ہے کہ سیاسی اقتدار سے ہٹ کر حقیقی طاقت کس کے پاس ہے، جسے ادارہ جاتی اقتدار (Institutional Power) بھی کہا جاتا ہے؟ کیا یہ اختیار پارلیمان، انتظامیہ، فوج، عدلیہ یا بیوروکریسی کے پاس ہے؟

    ادارہ جاتی اقتدار اپنے ساتھ بڑے معاشی وسائل اور مراعات پر کنٹرول کے علاوہ جبر یا سکیورٹی کے اداروں پر اختیار بھی لاتا ہے۔ اس میں علاقائی و جغرافیائی اختیار بھی شامل ہے، جس کے ذریعے یہ طے کیا جاتا ہے کہ مرکز اور صوبوں کے مفادات میں کس طرح توازن پیدا کیا جائے گا۔ اشرافیہ کے درمیان اقتدار کی جانشینی بھی ایک اہم سوال ہے: اقتدار ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں کیسے منتقل ہوگا؟ اس سے ایک اور متعلقہ چیلنج جنم لیتا ہے: بااثر گروہوں کو اقتدار کے نظام میں کس طرح جگہ دی جائے گی؟ خارجہ پالیسی بدستور اقتدار کی اشرافیہ کے خصوصی اختیار میں ہے۔ اس شعبے میں کن تزویراتی مفادات کو ناقابلِ سمجھوتہ تصور کیا جاتا ہے؟

    اب پاکستانی اشرافیہ پر نظر ڈالیں، جو سیاسی اقتدار کے کردار اور حدود کا تعین کرنے میں ناکام رہی ہے۔ رفتہ رفتہ ایک ادارے نے اختیارات سنبھال لیے ہیں، جبکہ حکمران سیاسی جماعتوں نے اقتدار برقرار رکھنے کے لیے اپنے متعدد حقوق سے دست برداری اختیار کر لی ہے۔ دوسری طرف، حزبِ اختلاف اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کر رہی ہے۔

    بہت سے سیاسی تجزیہ کار، اور کسی حد تک بجا طور پر، یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ اب پی ٹی آئی کی قیادت میں حزبِ اختلاف، اور حزبِ اختلاف کے اتحاد تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان میں شامل چھوٹی جماعتیں، ملک میں نئے سماجی معاہدے کی بحالی یا تشکیل کے بجائے اقتدار کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن کی جمعیت علمائے اسلام (ف) بھی حزبِ اختلاف کا حصہ ہے۔ اسے اقتدار کے ڈھانچے میں حاشیے پر دھکیل دیا گیا ہے، کیونکہ اقتدار کے کھیل کے بدلتے ہوئے قواعد میں مذہبی کرداروں کے لیے اب پہلے سے کم گنجائش رہ گئی ہے۔

    سیاسی اقتدار کا ڈھانچہ قومیت اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے میں واضح طور پر ناکام رہا ہے، جبکہ ملک میں اقتدار بدستور ایک بڑے اور بااثر نسلی گروہ تک محدود ہے۔ عوامی مباحثے، سماجی ذرائع ابلاغ اور مرکزی دھارے کے میڈیا میں اقتدار کے ڈھانچے کی نمائندگی کرنے والے بعض افراد کم طاقت ور اور حاشیے پر موجود گروہوں کو بدنام کرتے ہیں اور انہیں افغانستان چلے جانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ان کے یہ بیانات پشتونوں اور بلوچوں، دونوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ اسی طرح وہ کشمیریوں کو بھی بدنام کرتے ہیں، جو آزاد کشمیر میں اپنے حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اگر ریاستی پروپیگنڈا کرنے والے ان گروہوں کو کوئی راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں، تو سوال یہ ہے کہ آخر انہیں جانا کہاں چاہیے؟

    اقتدار کی منقسم اشرافیہ قوم کے اندر یکجہتی پیدا نہیں کر سکتی۔ جب وہ اپنے اندرونی اختلافات ہی حل نہیں کر سکتی، تو قومی یکجہتی کے لیے کوئی جامع اصول یا لائحۂ عمل کیسے وضع کرے گی؟ ان کے ذہنوں پر بدگمانی اور خوف اس قدر غالب ہیں کہ ان کے نزدیک مکالمے کی جگہ سکیورٹی نے لے لی ہے۔ وہ ہر مسئلے کے حل کے لیے حد سے زیادہ طاقت استعمال کرنے کے عادی ہو چکے ہیں؛ گویا چیونٹی کو مارنے کے لیے ہتھوڑا استعمال کر رہے ہوں۔ یہاں تک کہ جب واضح اشارے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ مکالمہ ہی بہترین پالیسی ہے، تب بھی اقتدار کی اشرافیہ اس لیے ہچکچاتی ہے کہ مکالمے کا مطلب اقتدار کے حلقے میں نئے افراد کو جگہ دینا ہوگا۔ وہ نئے آنے والوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔

    لچک اور مکالمے کی صلاحیت کا فقدان اندرونی سکیورٹی کے ایک ایسے نظام کی ضرورت پیدا کرتا ہے جو حد سے زیادہ جابرانہ اور طاقت کے استعمال پر مبنی ہو۔ اس نظام کو مزید سخت اور جابرانہ بنانے کے لیے اندرونی سکیورٹی کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    خیبر پختونخوا نے کسی حد تک مزاحمت کرتے ہوئے پولیس ایکٹ 2026ء متعارف کرایا ہے۔ اس قانون کے تحت پولیس کے نظام پر صوبائی حکومت کی نگرانی قائم ہوگی۔ خیبر پختونخوا کے مخصوص حالات میں یہ انتظام ضروری تھا، کیونکہ پولیس اور دیگر اداروں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی ایک مشکل صورتِ حال اختیار کر چکے ہیں۔ تاہم وفاقی حکومت اس کی مخالفت کر رہی ہے۔

    ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اقتدار کی اشرافیہ نئے اندرونی سکیورٹی نظام پر کسی سمجھوتے کے لیے تیار نہیں اور نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (NACTA) یا وزارتِ داخلہ کے ذریعے اپنا ایجنڈا آگے بڑھاتی رہے گی۔ ملک میں خارجہ پالیسی اور جغرافیائی سیاست (Geopolitics) ایسے حساس شعبے ہیں جن پر عوامی سطح پر کھل کر گفتگو کرنا مشکل ہے۔ ناقابلِ سمجھوتہ مفادات کی حدود مسلسل دھندلی بھی ہو رہی ہیں اور سکڑ بھی رہی ہیں۔

    عوام کے لیے ملک کا بحران محض ایک طویل اور الم ناک ٹی وی ڈرامے کی مانند ہے، جسے وہ دیکھ سکتے ہیں، اس پر رو سکتے ہیں اور اس کا مذاق اڑا سکتے ہیں، لیکن اس پر اثرانداز ہونے کے لیے کچھ کر نہیں سکتے۔

    نوٹ یہ آرٹیکل ، 27 ستمبر 2026ء کوروزنامہ ڈان میں شائع ہوا ہے جسے اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleسہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟
    Next Article مذہبی برادریاں؛ مذہبی آزادی اور امتیازی برتاؤ کے دو راہے پر
    tajziat_admin
    • Website

    Related Posts

    روداد: نوجوانوں کے لیے ورکشاپ

    اکتوبر 22, 2026

    زیدیہ شیعہ تحریک اور حوثی سعودی تنازع کا پس منظر

    اکتوبر 22, 2026

    مسلکِ نوربخشیہ: تعارف اور پاکستان میں ادارہ جاتی نمائندگی کا جائزہ

    اکتوبر 22, 2026

    1 تبصرہ

    1. Pingback: سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟ - تجزیات آن لائن

    Leave A Reply Cancel Reply

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by