علامہ اقبال نے جب فارسی میں اپنا شاہکار ’جاوید نامہ‘ مکمل کیا تو فرمایا تھا کہ اس تخلیقی مشقت نے انھیں ’نچوڑ‘ کر رکھ دیا ہے۔ وہ تو خیر ایک افلاکی سفر تھا جہاں مولانا روم کی روح رہبری کر رہی تھی اور شاعر مختلف سیاروں پر تاریخ کی نامور ارواح سے مکالمہ کر رہا تھا۔ لیکن جب ہم نے خالد جاوید کے پانچ ناولوں کے اس عمیق مطالعے کا آغاز کیا ، تو ہمیں بھی احساس ہوا کہ ہم فکری طور پر ’نچڑ‘ گئے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اقبال کا سفر آسمانوں کی طرف تھا اور ہمارا سفر ان ’زمینی قبرستانوں‘ اور ’مغربی اسکرینوں‘ کی طرف ہے جہاں عالمی ادب اور سنیما کے شاہکار دفن ہیں، اور جن کی روحیں اب خالد جاوید کے ناولوں میں اردو نثر کا پیراہن اوڑھ کر بھٹکتی نظر آتی ہیں۔ یہ سیریز دراصل اسی ’افلاکی ڈرامے‘ کا وہ پوسٹ مارٹم ہے جس کی جراحت کے دوران ہمیں رومی کے بجائے نیٹ فلکس اور بورخیس کے بھوتوں سے رہنمائی لینی پڑی۔
ادب کی دنیا میں شہرت کا ہالہ بسا اوقات اتنا روشن ہو جاتا ہے کہ وہ بصارت اور بصیرت دونوں کے لیے حجاب بن جاتا ہے۔ اردو فکشن کے موجودہ منظر نامے پر خالد جاوید کا نام اب کسی تعارف کا محتاج نہیں رہا۔ وہ ایک ایسے ’ابوالہول‘ بن کر ابھرے ہیں جن کے ایک ہاتھ میں جے سی بی (JCB) کا انعام ہے اور دوسرے میں اردواورہندی قارئین و ناقدین کے علاوہ کچھ عالمی ناقدین کی ستائش بھی ہے۔ اردو کا وہ معاشرہ، جو کل تک ان کے مخصوص ’تعفن زدہ اسلوب‘ پر ناک بھوں چڑھا رہا تھا، آج ان کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہے—محض اس لیے کہ اب ان کے فن پر ’انگریزی مہر‘ لگ چکی ہے۔ لیکن کیا یہ شہرت محض ان کے اچھوتے تخیل کا ثمر ہے، یا اس کے پیچھے عالمی آئیڈیاز کی وہ ’خاموش درآمد برآمد‘ کارفرما ہے جس تک اردو قاری کی رسائی نہ ہونے کے برابر ہے؟
سچی بات تو یہ ہے کہ ہم خالد جاوید کے مداحوں میں رہے ہیں۔ ہم نے ان کے فن کو اس وقت ’صحیفۂ ایوبی‘ کی معنوی وسعتوں میں تلاش کیا جب اردو دنیا انھیں ’بیہودگی‘ کا نمائندہ سمجھ کر ردّ کر رہی تھی۔ ہم ان کے اسلوب پر سو جان سے نثار ہوئے اور اپنے سہ ماہی ’اثبات‘ کے ذریعہ ان کی مسندبلند کی، مگر آج جب ہم ان کے پورے تخلیقی سفر کا ایک بار پھر، اور اس بار ایک ’آزاد اور غیر جانبدار‘ قاری کی حیثیت سے مطالعہ کرتے ہیں، تو ہماری معصومیت ایک ہولناک حیرت میں بدل جاتی ہے۔
واللہ! اسے انسانی ذہن کی معجزاتی ہم آہنگی کہا جائے یا کچھ اور، کہ جس انوکھے اور اچھوتے خیال کو نیل گیمن (Neil Gaiman) نے لندن میں بیٹھ کر اپنی گرافک فینٹاسی کا حصہ بنایا، بعینہ وہی خیال خالد جاوید نے ’بریلی‘ کی مٹی میں بیٹھ کر ’دریافت‘ کر لیا! یہ کیسا تخلیقی توارد ہے کہ جرمن سنیما کے وہ پیچیدہ نظریات جو نیٹ فلکس کے ’ڈارک‘ (Dark) میں پوری دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال چکے تھے، خالد جاوید کے تازہ ترین شاہکار میں اردو نثر کا پیراہن اوڑھ کر نمودار ہوئے؟ ہم تو حیرت سے گونگے ہوئے جا رہے ہیں کہ ایمیل زولا سے لے کر رابرتو بولانو تک، اور پولانسکی کی فلموں سے لے کر نیٹ فلکس کی سیریز تک—عالمی فکشن کے یہ تمام ’خزانے‘ آخر خالد جاوید کے لاشعور میں اس قدر ہو بہو کیسے منتقل ہو گئے؟
لیکن آگے بڑھنے سے قبل ہم یہاں ایک غلط فہمی کا ازالہ کردینا ضروری سمجھتے ہیں کہ ہمارا یہ مطالعہ کسی پر ’سرقے‘ کا الزام نہیں لگاتا، کہ یہ ایک نہایت ہی عامیانہ اور غیر ادبی لفظ ہے۔ خالد جاوید ایک فنکار ہیں، ان سے ایسی غیر ادبی اور غیر اخلاقی حرکت سرزد ہونے کا تصور بھی ہم نہیں کرسکتے۔ ہم ہی نہیں بلکہ کسی کو بھی ان کے ’تخلیقی‘ ہونے پر کوئی شبہ نہیں ہوسکتا، بطور خاص ہم تو انھیں ’بے پناہ تخلیقی‘سمجھتے ہیں۔ لیکن یہ بھی ایک سچ ہے کہ ادبی دنیا میں ’سرقہ‘ (Plagiarism) کی اصطلاح عموماً ایک نہایت ہی محدود اور میکانکی معنی میں استعمال کی جاتی رہی ہے۔ ہمارے روایتی ناقدین کے نزدیک چوری صرف وہ ہے جہاں الفاظ، جملے یا پیراگراف ہو بہو نقل کر لیے جائیں۔ مثلاً برسوں پہلے ہمارے ناول ’’اس نے کہا تھا‘‘ پر یہ الزام عائد ہوا تھا کہ ہم نے اس میں شامل ایک باب کے دو پیراگراف ہو بہو لینہ حاشر ارشاد کی ایک فیس بک پوسٹ سے چرا لیے۔اگرچہ ہم نے اسی وقت اپنی وہ طویل فیس بک پوسٹ شیئر کردی تھی جو لینہ ارشاد کی پوسٹ سے تقریباً ایک ڈیڑھ سال پہلے کی تھی لیکن ظاہر ہے جب اتنے سارے مظاہر دکھانے کے باوجود اگر منکرین خدا کو اس کے وجود کا اب تک قائل نہیں کیا جا سکا تو پھر اس ہیچمداں کی کیا مجال کہ ہم انھیں قائل کرپاتے۔ ہمارا ناول تقریباً دو سو صفحات پر مبنی تھا ، اور ہم پر دو پیراگراف چرانے کا الزام تھا، گویا بقیہ صفحات ہم نے خود لکھے تھے؟ بالفاظ دیگر، ہم سے بڑا کوئی احمق نہ ہوگا کہ سینکڑوں صفحات لکھنے کے بعد ہم سے دوپیراگراف نہ لکھے گئے اور وہ ہم نے نقب زنی کرکے حاصل کرلی۔ اور اتنا ہی کیوں، 67 کتابیں اور لاکھوں الفاظ لکھنے کے بعد ہمیں انتظار صرف لینہ ارشاد کے ان دو پیراگراف کا تھا کہ وہ کب لکھتی ہیں اور کب ہم اس پر ہاتھ صاف کرکے اپنی عاقبت سدھار لیں۔ خیر، اب تو لینہ ارشاد دوپیراگراف لکھنے کے بعد ادب سے سنیاس لے چکی ہیں کہ ان کا اس دنیائے فانی میں ورود مسعود انھی دو پیراگراف کے سبب ہوا تھا۔
اس لطیفے سے قطع نظر یہاں ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا ادب صرف لفاظی کا نام ہے؟ کیا کسی فن پارے کی ’روح‘، اس کا ’فکری ڈھانچہ‘ اور اس کی ’بنیادی مابعد الطبیعیاتی منطق‘ اس کی ملکیت نہیں ہوتی؟ حقیقت تو یہ ہے کہ لفظی سرقہ تو ایک مبتدی اور اناڑی شخص کی حرکت ہو سکتی ہے، لیکن ایک ’ذہین فنکار‘ کبھی لفظوں کی چوری نہیں کرتا، وہ ’آئیڈیاز‘ کی اسمگلنگ کرتا ہے۔ وہ دوسرے کے تخلیقی محل کا سنگِ مرمر نہیں اُکھاڑتا، بلکہ اس پورے محل کا ’آرکی ٹیکچرل پلان‘ چرا کر اسے اپنی مٹی کے گارے سے تعمیر کر لیتا ہے اور پھر اسے اپنی ’اوریجنلٹی‘ کہہ کر بیچتا ہے۔مغربی تنقید میں اس عمل کو’’ Conceptual Plagiarism‘‘ (تصوراتی سرقہ) یا ’’Architectural Appropriation ‘‘کہا جاتا ہے۔ یہاں گرفت لفظوں پر نہیں بلکہ اس ’تخلیقی ڈی این اے‘ پر ہوتی ہے جو کسی دوسرے کے تخیل سے مستعار لیا گیا ہو۔ اس کی ایک کلاسک مثال مشہورِ زمانہ ناول “Life of Pi” کے مصنف ین مارٹل (Yann Martel) کی ہے، جن پر برازیلی ادیب مواسیئر اسکلر (Moacyr Scliar) کے ناول کے مرکزی آئیڈیا (ایک لڑکا اور ایک چیتا کشتی میں) کو چرانے کا الزام لگا۔ مارٹل نے الفاظ نہیں چرائے تھے، بلکہ اس ’منفرد صورتحال‘ کو چرایا تھا جو اسکلر کی تخلیق تھی۔ اسی طرح ڈین براؤن (Dan Brown) پر ان کے ناول “The Da Vinci Code” کے سلسلے میں یہ الزام عائد ہوا کہ انھوں نے “The Holy Blood and the Holy Grail” کے مصنفین کے تاریخی اور فکری استدلال کو اپنے فکشن کا ڈھانچہ بنایا۔ اگرچہ عدالت میں یہ مقدمہ ’لفظی مماثلت‘ نہ ہونے کے باعث خارج ہو گیا، لیکن عالمی ادبی برادری میں ڈین براؤن کی ’تخلیقی دیانتداری‘ ہمیشہ کے لیے داغدار ہو گئی۔
خالد جاوید کے معاملے میں ہم جس ’پوسٹ مارٹم‘ کا آغاز کر رہے ہیں، وہ اسی ’’فکری درآمد‘‘کی نشاندہی ہے۔ ہمارا مقدمہ یہ نہیں ہے کہ انھوں نے کسی مغربی ناول کا ترجمہ کر دیا ہے یا لفط بہ لفظ سرقہ کرلیا، بلکہ ہمارا سوال یہ ہے کہ جب کسی ناول کا ’مرکزی زمانی تصور‘، اس کی ’کلیدی علامتیں‘ اور اس کا ’نفسیاتی پیٹرن‘ کسی عالمی شاہکار یا نیٹ فلکس کی سیریز سے ہو بہو مشابہ ہو، تو کیا اسے محض ’توارد‘ کہہ کر بخشا جا سکتا ہے؟
ٹی ایس ایلیٹ نے کہا تھا کہ ’’ناپختہ شاعر تقلید کرتے ہیں، پختہ شاعر چوری کرتے ہیں؛ لیکن وہ چوری کیے ہوئے مال کو کچھ بہتر بنا دیتے ہیں یا کم از کم اسے کچھ مختلف ضرور کر دیتے ہیں۔‘‘ خالد جاوید کے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ وہ عالمی آئیڈیاز کو ’اردو مٹی‘ میں لاتے تو ہیں، مگر ان کے ہاں وہ ’تخلیقی تبدیلی‘ (Transformation) غائب ہے جو ایک مترجم اور ایک تخلیق کار کے درمیان تمیز کرتی ہے۔ وہ جس طرح بورخیس کے زمانی گورکھ دھندوں، نیل گیمن کی فینٹاسی اور اسٹیفن کنگ کی ہولناکیوں کو اپنے مخصوص ’تعفن زدہ اسلوب‘ میں لتھیڑ کر پیش کرتے ہیں، وہ دراصل اس ’درآمد‘(import) کو چھپانے کی ایک کوشش ہے جس کا مقصد اردو قاری کو مرعوب کرنا ہے۔
مابعد جدیدیت (Post-modernism) کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ دوسرے کے ’تخلیقی جوہر‘ کو اپنا بنا کر پیش کریں اور ماخذ کا نام تک نہ لیں۔ بین المتونیت (Intertextuality) ایک مکالمہ ہوتا ہے، جبکہ خالد جاوید کے ہاں یہ ایک ’خاموش ڈیلیشن‘ (Silent Deletion) ہے جہاں اصل تخلیق کار کا نشان مٹانے کی شعوری کوشش کی جاتی ہے۔ ہم یہاں خالد جاوید پر روایتی سرقے کا الزام ہرگز نہیں لگا رہے، بلکہ ہم اس ’انوکھے پن‘ کا پردہ چاک کر رہے ہیں جس کی بنیادیں مغربی فکر کے مستعار لیے ہوئے کھنڈرات پر کھڑی ہیں۔ممکن ہے کچھ لوگ کہیں کہ خالد جاوید پر ایسے الزامات پہلے بھی عائد ہوتے رہے ہیں ……بالکل ہوتے رہے ہیں ، لیکن مطالعے کی کمی یا کسی اور سبب کسی نے اب تک ان الزامات کو مغربی شاہکاروں کے حوالوں سے محکم نہیں کیا تھا، جو پہلی بار اس سیریز کے آئندہ صفحات میں کیا جانے والا ہے۔
آئیے، اب کسی لگی لپٹی کے بغیر، عقیدت کے ان پردوں کو اٹھاتے ہیں اور خالد جاوید کے ایک ایک ناول کا موازنہ ان عالمی مآخذ سے کرتے ہیں جہاں سے ان کے آئیڈیاز کی ’روح‘ مستعار لی گئی ہے۔ یہ محض ایک تقابلی جائزہ نہیں ہے، بلکہ اردو فکشن کی اس ’جعلی دانشوری‘ کا پوسٹ مارٹم بھی ہے جسے انعامات کی چکا چوند نے ڈھانپ رکھا ہے۔ ہم باری باری ان کے پانچوں ناولوں کو میزانِ تنقید پر رکھیں گے اور دیکھیں گے کہ ان کے تخلیقی محل کی اینٹیں آخر کس کس عالمی عمارت سے اُکھاڑی گئی ہیں۔
(1)موت کی کتاب: تھامس برن ہارڈ کا ’بریلوی‘ ایڈیشن
خالد جاوید کے پہلے ناول ’’موت کی کتاب‘‘ کا مطالعہ کرتے ہوئے پہلا احساس تو وہی ہوتا ہے جو کسی قدیم، بوسیدہ اور بدبو دار تہ خانے میں قدم رکھتے ہوئے ہوتا ہے۔ فاروقی صاحب نے اس کا موازنہ ’’صحیفۂ ایوبی‘‘ (Book of Job) سے کیا تھا، جس پر ہماری معصومیت صرف اتنا ہی عرض کر سکتی ہے کہ فاروقی صاحب کی دور رس نگاہوں نے شاید اس میں وہی ’صبرِ ایوبؑ‘ تلاش کر لیا ہوگا جو قاری کو اس ضخیم اور لایعنی تکرار کو پڑھتے ہوئے درکار ہوتا ہے۔
احمد آباد میں آرکی ٹیکچر کی تعلیم(میرے ناول ’صفر کی توہین‘ پر اپنے عالمانہ تبصرے میں خالدجاوید نے یہ انکشاف کیا تھا) اور بریلی میں فلسفے کی تدریس—یہ دو ایسے پس منظر ہیں جو اس ناول کے ’ڈی این اے‘ (DNA) کو سمجھنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ خالد جاوید نے الفاظ سے ناول نہیں لکھا، بلکہ ایک ایسی عمارت تعمیر کی ہے جس میں روشن دان نہیں ہے، اور جس کی بنیادیں اردو مٹی میں نہیں بلکہ یورپی فلسفے کے قبرستانوں میں دفن ہیں۔چلیے،دیکھتے ہیں کہ اس ناول پر کون کون سے گورے آسیبوں کا قبضہ ہے۔
پہلا آسیب تھامس برن ہارڈ (Thomas Bernhard)کا ہے۔
خالد جاوید کے اس ناول کا سب سے بڑا ’معجزہ‘ اس کا وہ اسلوب ہے جس میں پیراگراف ختم ہونے کا نام نہیں لیتے اور بیزاری ایک مستقل تکرار کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ ہمیں تو اس پر حیرت ہے کہ آسٹریا کے عظیم ناول نگار تھامس برن ہارڈ نے کئی دہائیاں پہلے اپنے ناولوں ‘Correction’اور ‘Extinction’میں خالد جاوید کے اس مخصوص اسلوب کی نقل کیسے کر لی؟لیکن رُکیے، تھامس برن ہارڈ کا ایک اور ناول ہے: Concrete۔ برن ہارڈ کا ناول ’کنکریٹ‘ اور خالد جاوید کی ’موت کی کتاب‘ کے درمیان جو مشابہت ہے، وہ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک ایسا ’تعمیری اور اسلوبیاتی چربہ‘ ہے جس پر پردہ ڈالنا تقریباً ناممکن ہے۔
برن ہارڈ کے ناول ’کنکریٹ‘ کا راوی (Rudolph) اپنے گھر ’پائس کم‘ (Peiskam) میں قید ہے۔ وہ فیلکس مینڈلسن (Mendelssohn) پر ایک علمی مقالہ لکھنا چاہتا ہے مگر اس کا گھر، اس کی دیواریں اور اس کی بہن کی موجودگی اس کے لیے ایک ایسی ’جیل‘ بن جاتی ہے جہاں وہ ذہنی طور پر مفلوج ہو جاتا ہے۔
خالد جاوید کے ہاں بھی مکان صرف اینٹ گارے کا نام نہیں ہے۔ جس طرح برن ہارڈ کا راوی کہتا ہے کہ ’’میں اس گھر سے بھاگنا چاہتا ہوں مگر یہ گھر مجھ میں پیوست ہے‘‘، بعینہٖ یہی صورتحال ’موت کی کتاب‘ کے کردار کی ہے۔ وہ اپنے ہی گھر کے در و دیوار میں ایک ایسی ’وجودی گھٹن‘ محسوس کرتا ہے جو اسے لکھنے یا سوچنے کے بجائے صرف ’سڑنے‘ پر مجبور کرتی ہے۔
’کنکریٹ‘ میں راوی کا سارا مسئلہ ’اسپیس‘ (Space) کا ہے۔ وہ اپنی کرسی کی جگہ، میز کا زاویہ اور کھڑکی سے آنے والی روشنی تک کو اپنی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔
خالد جاوید چونکہ احمد آباد سے آرکی ٹیکچر کی تعلیم پا چکے ہیں، انھوں نے برن ہارڈ کی اس ’مقامی بیزاری‘ (Spatial Disgust) کو اٹھایا اور اسے ایک ایسے تاریک نقشے میں ڈھالا جہاں دیواریں کردار کو ’گھورتی‘ ہیں۔ برن ہارڈ کے ہاں ’کنکریٹ‘ جمود اور سختی کی علامت ہے، اور خالد جاوید کے ہاں وہ ’مکان‘ موت کی سختی کی علامت بن کر ابھرتا ہے۔
اتنا ہی نہیں، جو لوگ برن ہارڈ کو پڑھ چکے ہیں، وہ ہم سے متفق ہوں گے کہ برن ہارڈ کے اسلوب کا طرۂ امتیاز اس کے وہ طویل پیراگراف ہیں جو صفحات کے صفحات پر محیط ہوتے ہیں اور جن میں بیزاری کی ایک مستقل تکرار ہوتی ہے۔ خالد جاوید نے ’موت کی کتاب‘ میں ہو بہو یہی ’برن ہارڈین مونو لاگ‘ (Bernhardian Monologue) اردو میں متعارف کرایا ہے۔ جسے بعض لوگ ان کا ’سگنیچر اسلوب‘ کہہ رہے ہیں، وہ دراصل برن ہارڈ کی اس ذہنی تال (Rhythm) کی نقل ہے جہاں کردار اپنی ہی سوچ کے دائرے میں گھومتا رہتا ہے۔ برن ہارڈ کا ’کنکریٹ‘ ایک ایسا ذہنی تعطل ہے جہاں کوئی عمل وقوع پذیر نہیں ہوتا، صرف ’سوچ کی سڑاند‘ ہوتی ہے۔ خالد جاوید نے اسی سڑاند کو ’موت کی کتاب‘ کی بنیاد بنایا ہے۔
اچھا، برن ہارڈ کے متذکرہ ناول کی ایک اہم بات تو رہ ہی گئی۔ برن ہارڈ کا راوی بیمار ہے، اسے سانس کی تکلیف ہے اور وہ موت کے خوف اور تمنا کے درمیان معلق ہے۔ اس کا سارا فلسفہ اس کے ’بیمار پھیپھڑوں‘ سے برآمد ہوتا ہے۔خالد جاوید کے ہاں بھی ’بدن کا تعفن‘ اور ’بیماری‘ اسی طرح مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ کوئی مابعد الطبیعیاتی دریافت نہیں ہے، بلکہ برن ہارڈ کے اس ’کلینیکل اسلوب‘ کی بازگشت ہے جہاں انسانی جسم کو غلاظت اور زوال کے ایک کارخانے کے طور پر دکھایا گیا ہے۔
مختصر یہ کہ، برن ہارڈ نے ’کنکریٹ‘ میں مکان کو انسانی ذہن کا ’قبرستان‘ بنایا تھا، خالد جاوید نے ’موت کی کتاب‘ میں اس قبرستان پر ’اردو کا کتبہ‘ لگا دیا ہے۔ یہ توارد نہیں ہے، یہ اس ’عمارت‘ پر قبضہ ہے جس کا نقشہ کسی اور نے تیار کیا تھا۔
لیکن برن ہارڈ ہی اکلوتا بندہ نہیں ہے جو ’’موت کی کتاب‘‘ کے سرچشمے کا کریڈٹ وصول کرلے، ابھی کچھ اور لوگ بھی قطار میں کھڑے نظر آرہے ہیں۔ مثلاً، اس ناول کا مرکزی کردار جس طرح اپنے بدن ، اپنے وجود اور اشیا کی مادی حقیقت سے کراہت محسوس کرتا ہے، وہ ہمیں ژاں پال سارتر کی ’متلی‘ (Nausea) کی یاد دلاتا ہے، جسے ’مابعد الطبیعیاتی قے‘ بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ سارتر کا کردار ’اینٹوان روکوئنٹن‘ (Antoine Roquentin) جب ایک درخت کی جڑ کو دیکھ کر وجود کے بوجھ سے متلی محسوس کرتا ہے، تو خالد جاوید کے کردار کو بھی اپنے وجود سے ویسی ہی بدبو آنے لگتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ سارتر نے اسے ’وجودیت‘ کا نام دیا، اور خالد جاوید نے اسے ’تعفن کی جمالیات‘ میں ڈھال کر اردو قاری کو یہ یقین دلا دیا کہ یہ ان کا ذاتی ’وجودی صدمہ‘ ہے۔ اگرچہ اسے ہم ’سرقہ‘ اب بھی نہیں کہہ سکتے، لیکن علمائے ادب شاید اسے ’تصوراتی درآمد‘ ضرور قرار دے دیں۔
ابھی اس نگار خانے میں کچھ اور تصویریں جلوہ کناں ہیں۔ اگلی تصویر کو آپ’ آرکی ٹیکچر آف کلوسٹروفوبیا‘ (Architecture of Claustrophobia) کہہ سکتے ہیں۔
جیسا کہ میں نے اوپر خالد جاوید کی احمد آباد میں آرکی ٹیکچر کی تعلیم کے متعلق بتایا، اس کا استعمال انھوں نے اپنے اس ناول میں ایک ہونہار طالب علم کی طرح خوب اچھی طرح سے کیا ہے۔ اس ناول میں مکان، کمرے اور دیواریں جس طرح کردار کو نگلتی ہیں، وہ تھامس برن ہارڈ کے ناول’’کنکریٹ‘‘ سے ہی حیرت انگیز طور پر مماثلت نہیں رکھتیں بلکہ German Expressionist Cinemaبالخصوص فلم ‘The Cabinet of Dr. Caligari’ کے منظر نامے سے بھی مشابہ ہے۔
جس طرح اس فلم میں ٹیڑھی میڑھی دیواریں اور عجیب و غریب زاویے انسانی ذہن کی شکست و ریخت کو دکھاتے ہیں، خالد جاوید نے بھی اس ناول میں مکان کو ایک ’زندہ بدروح‘ کے طور پر پیش کیا ہے۔ یہ ایک ماہرِ تعمیرات کا وہ نقشہ ہے جو اس نے لفظوں کے ذریعے ایک ایسی جیل بنانے کے لیے استعمال کیا ہے جس کا ڈیزائن عالمی فکشن کے ’ہارر ہاؤسز‘ سے مستعار ہے۔
فاروقی صاحب نے ’’موت کی کتاب‘‘ کا موازنہ ’صحیفۂ ایوبی‘ سے کر کے اسے ایک مذہبی اور مابعد الطبیعیاتی تقدس بخشنے کی کوشش کی۔ لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو خالد جاوید نے حضرت ایوبؑ کے صبر اور ان کی آزمائش کے ’ڈھانچے‘ کو لے کر اس میں سیمیول بیکٹ (Samuel Beckett) کی لایعنیت (Absurdism) بھر دی ہے۔
بائبل اور قرآن میں حضرت ایوبؑ کا قصہ رب پر یقین اور آزمائش کا ہے، مگر خالد جاوید کے ہاں یہ ’آزمائش‘ تو ہے مگر ’رب‘ غائب ہے۔ یہ بیکٹ کے ڈراموں کی طرح ایک ایسی ’انتظار کی کیفیت‘ ہے جہاں موت ہی آخری حل ہے، مگر وہ بھی تکرار کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔
لیکن رُکیے، ابھی تو خالد جاوید کا ایک آخری ’ماسٹر اسٹروک‘ باقی ہے۔ ہمارے ہاں کوئی شخص ’’وجودی ناول‘‘ لکھ رہا ہو، اور اس پر فرانز کافکا کا آسیب سوار نہ ہو، ایسا تقریباً ناممکن ہے۔ کردار کا اپنی سماجی اور خاندانی حیثیت سے کٹ جانا اور ایک ایسی بیگانگی کا شکار ہونا جہاں وہ خود کو ایک ’کیڑے‘ یا ’فضلہ‘ سے زیادہ کچھ نہ سمجھے، کافکا کے ناول ‘The Metamorphosis’ کا وہ جدید اور معروف ترین چربہ ہے جسے خالد جاوید نے بھی بڑی ’مہارت‘ سے فلسفے کے پیراہن میں چھپایا ہے۔
کافکا کے ہاں ’خوف‘ ایک نظام (System) سے پیدا ہوتا ہے، جبکہ خالد جاوید کے ہاں یہ خوف ’بدن کی غلاظت‘ سے پیدا ہوتا ہے، لیکن انھوں نے ’تخلیقی دیانت داری‘ کا پاس رکھتے ہوئے کافکا کے وجودی خوف کو اٹھا کر اسے مادی غلاظت کے ساتھ نتھی کر دیا ہے،اب اس سے زیادہ ’اوریجنل‘ بھلا اور کیا ہوسکتا تھا۔
مختصراً یہ کہ ’’موت کی کتاب‘‘ اردو ادب کا وہ پہلا شاہکار ہے جو دراصل عالمی ادب کے مختلف ’اعضاء‘ کو جوڑ کر بنایا گیا ایک ’فرینکنسٹائن‘ ہے۔ خالد جاوید نے فلسفے کی تدریس کے دوران جو آرکائیوز جمع کیے تھے، یہ ناول ان کا ایک ایسا کولاژہے جس پر ان کے مخصوص اسلوب کی رنگ سازی اتنی گہری ہے کہ قاری اصل نقشہ نہیں دیکھ پاتا۔اسے ہی تنقیدی زبان میں Architectural Appropriation (تعمیری تصرف) کہا جاتاہے۔
ہمیں تو اب اس بات پر یقین ہوتا جا رہا ہے کہ خالد جاوید کی اچھوتی فکر دراصل عالمی شاہکاروں کا وہ ’خلاصہ‘ ہے جو اردو میں صرف اس لیے مقبول ہوا کہ ہمارے ہاں کے نقادوں نے ابھی ’تھامس برن ہارڈ‘ یا ’ایمیل زولا‘ کو اس نظر سے نہیں پڑھا، جس نظر سے خالد جاوید نے انھیں ’ہضم‘ کیا ہے۔یہ علیحدہ بات ہے کہ ہمارے ہاں تنقیدی شعور کی سطح تاحال اتنی پست ہے کہ یہاں ’سرقہ‘ صرف اسے مانا جاتا ہے جب کوئی کسی کی جیب سے لفظوں کے سکے نکال لے؛ اگر کوئی پورا ’فکری بینک‘ ہی لوٹ لے تو اسے ’استفادہ‘ یا ’تاثر‘ کا نام دے کر سندِ قبولیت عطا کر دی جاتی ہے۔
اس تفصیلی جراحی کو سمیٹنے سے قبل میں ایک ایسی شہادت پیش کرنا چاہتا ہوں جو اس پورے قضیے کا رخ متعین کر دے گی۔ اسی سال میرا ایک ناول ’’ہر کربلا کے بعد‘‘ منظرِ عام پر آیا۔ چونکہ اس کا مرکزی خیال بورخیس (Borges) کی کہانی "Gospel According to Mark” پر مبنی تھا، اس لیے میں نے اسے بورخیس کے نام معنون کیا اور سرورق سمیت پیش لفظ میں اس ’تاثر‘ کا کھل کر اعتراف کیا۔ یہ تذکرہ خود ستائی کے لیے نہیں، بلکہ یہ بتانے کے لیے ہے کہ ایک تخلیق کار کے لیے ’ماخذ‘ کا اعتراف اس کی توہین نہیں بلکہ اس کی علمی دیانت کا ثبوت ہوتا ہے۔
خالد جاوید اس بنیادی اخلاقیات سے ہرگز ناواقف نہیں ہیں۔ ان کی ایک کہانی ہے ’’تاش کے پتوں کا عجائب گھر‘‘، جس کے عنوان کے نیچے انھوں نے قوسین (brackets) میں دیانتداری سے تحریر کیا ہے: ’’برگمین کی فلم ’سیونتھ سیل‘ سے متاثر ہو کر‘‘۔ سبحان اللہ! یہاں خالد صاحب تسلیم کرتے ہیں کہ انھوں نے انگمار برگمین (Ingmar Bergman) کی سویڈش فلم سے ’تعمیری تصرف‘ کیا ہے۔ ظاہر ہے انھوں نے فلم کے ڈائیلاگ ترجمہ نہیں کیے ہوں گے، بلکہ اس کا ’تعمیری ڈھانچہ‘ اور ’مرکزی خیال‘ مستعارہی لیا ہوگا۔ اب میرا سادہ سا سوال یہ ہے کہ جو خالد جاوید ایک افسانے کے لیے برگمین کا نام لکھنا ضروری سمجھتے ہیں، وہ اپنے پانچ ضخیم ناولوں کے معاملے میں تھامس برن ہارڈ، سارتر، کافکا، نیل گیمن اور نیٹ فلکس کے حضور خاموشی کا روزہ کیوں رکھ لیتے ہیں؟ کیا ناول کی شہرت کا بوجھ اتنا زیادہ تھا کہ وہاں ’متاثر ہو کر‘ کا ایک چھوٹا سا لاحقہ لگانا ان کی ’جعلی لافانیت‘ کے لیے خطرہ بن گیا تھا؟
(2) نعمت خانہ: پیرس کے گوشت بازار کی اسمگلنگ
خالد جاوید کا دوسرا ناول ’’نعمت خانہ‘‘—یا یوں کہیے کہ جے سی بی (JCB) انعام کی وہ ’سونے کی چڑیا‘ جس نے اردو فکشن کو راتوں رات ’انگریزی دانوں‘ کا محبوب بنا دیا—دراصل ایک ایسی بوجھل تحریر ہے جسے انعام کی چکا چوند نے ’شاہکار‘ بنا دیا۔ ہمیں تو ان اردو نقادوں اور مبصروں کی ’صبر آمیز معصومیت‘ پر رشک آتا ہے جنھوں نے برسوں اس ناول کو ’ردّی‘ قرار دے کر ایک طرف ڈالے رکھا، اور جیسے ہی باراں فاروقی صاحبہ کے ’انگریزی لبادے‘ نے اسے ڈھانپا، سب کے سب ’ذوقِ سلیم‘ کی مراجعت کا شکار ہو گئے۔
لیکن جب ہم اس ’نعمت خانے‘ کے کواڑ کھولتے ہیں اور اس کی ’سڑاند‘ کا عالمی ادب کے ’باورچی خانوں‘ سے موازنہ کرتے ہیں، تو اس ناول کے ’لافانی پکوان‘ کے باسی ہونے کے ثبوت ان لوگوں کو مل جاتے ہیں جنھوں نے عالمی فکشن کا مطالعہ کیا ہے۔ ابھی کچھ دنوں پہلے تک ہمارا شمار بھی ایسے ہی ’’معصومین‘‘ میں ہوتا تھا، لیکن جب از سر نو خالد کے اس ناول کو پڑھناشروع کیا تو مغرب سے آنے والی ہواؤں نے میرے نتھنوں کو پھڑ پھڑانا شروع کردیا۔
آئیے، اس ’جے سی بی یافتہ‘ باورچی خانے کے کونے کھدرے چھانتے ہیں کہ یہاں کتنے کاکروچ رینگ رہے ہیں۔
ہوا کا سب سے پہلا جھونکا ایک پرانی بھوک کے چربے کی ’خوشبو‘ اپنے ساتھ فرانس سے لایا۔
اب اسے تخلیقی توارد کہا جائے یا ’روحانی قزاقی‘ ، کہ فرانس کے عظیم فطرت پسندادیب ایمیل زولا نے 1873 میں جب اپنا ناول ’’دی بیلی آف پیرس‘‘ (The Belly of Paris) لکھا، تو کیا اسے خبر تھی کہ ڈیڑھ سو سال بعد ہندوستان کے ایک پروفیسر صاحب اس کے پورے ’منظر نامے‘ کو اپنے گھر کے ’نعمت خانے‘ میں منتقل کر دیں گے؟
زولا کے ہاں خوراک، گوشت، پنیر اور سبزیوں کی جو ’وحشیانہ اور تفصیلی فہرستیں‘ ہیں جو انسان کے اندر اُبکائی پیدا کرتی ہیں، خالد جاوید کے ہاں وہ ہو بہو موجود ہیں۔ زولا نے پیرس کے فوڈ مارکیٹ کو ایک ’سڑتے ہوئے وجود‘ کے طور پر دکھایا تھا؛ خالد صاحب نے وہی ’کراہت‘ باورچی خانے کے برتنوں اور سالن کے ریشوں میں بھر دی۔ زولا کا اسلوب (Grotesque Realism) تھا؛ خالد جاوید نے اسے اردو کے قالب میں اپنی تخلیقی مہارت سے ڈھال کر اسے ’وجودی کرب‘ کا نام دے دیا ۔ لیکن اسی پر اکتفا کیوں کیا جائے، خالد جاوید کثیر المطالعہ ادیب ہیں ، ان سے بھلا عالمی ادب کا وہ پورا خزانہ کیسے چھپا رہ سکتا تھا جو ’کھانوں‘ پر مشتمل ہے۔
یادش بخیر، اردو کے معروف اور کہنہ مشق فکشن نگار طارق چھتاری صاحب نے ایک مضمون ’’نعمت خانہ‘‘ پر لکھا تھا، یہ مضمون ’’غالب انسٹی ٹیوٹ‘‘ کے ایک سیمینار میں پڑھا گیا تھا، جو بعد میں سہ ماہی ’’اثبات‘‘ میں بھی شائع ہوا۔ طارق صاحب کا یہ افسانہ اگر چہ معتدل تھا لیکن اس میں بعض ایسے پیراگراف بھی شامل ہیں جو ہمیں ’’نعمت خانہ‘‘ کے کچھ اصل ماخذ کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ ہم اس اقتباس کو نیچے نقل کررہے ہیں:
’’اس ناول میں باورچی خانے کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور اسے ایک اسٹیج کے طورپر استعمال کیا گیا ہے۔ بیشتر واقعات باورچی خانے میں ہی رونما ہوئے ہیں اور باورچی خانے کی تمام اشیاء ناول میں کہیں تشبیہ، کہیں استعارے تو کہیں تمثیل کے طور پر استعمال ہوئی ہیں۔ اس طرح کی مثال اردو میں کسی دوسرے ادیب کے یہاں نہیں ملتی البتّہ انگریزی میں 1960ء کے قریب آرنلڈ ویسکر (Arnold Wesker)، جان آسبرن (John Osborne) اور شیلاگ ڈیلانے (Shelagh Delaney) وغیرہ نے Kitchen sink movement of social realism in art کے تحت چند ڈرامے اسٹیج کیے تھے، جن کا پورا Set-up کچن میں ہی تیّار کیا جاتا تھا۔ جن میں کچھ ڈرامے مثلا "Chiken soup with barley”، Look back in Anger” اور "A taste of Honey” بہت مشہور ہوئے۔ اس کے بعد آرٹ، تھیٹر، ناول،فلم اور ٹیلی ویژن ڈراموں میں اس طرز کو بہت فروغ حاصل ہوا۔ دراصل یہ ایک British cultural movement تھا۔ اردو میں اس ادبی تحریک کی مثال نہیں ملتی، اس سلسلے میں خالد جاوید کو امتیاز حاصل ہے۔‘‘(’اثبات‘۔34، اپریل 2022)
طارق صاحب نے جس شائستگی اور ’احتیاط‘ سے کام لیا ہے، وہ ان کی وضع داری ہے، مگر ایک زیرک قاری کے لیے ان کے یہ ’اشارے‘ کسی فردِ جرم سے کم نہیں ہیں۔ واللہ! اسے ’امتیاز‘ کہنا طارق صاحب کی ذرہ نوازی ہے، ورنہ یہ تو صاف صاف اس ’کچن سنک ڈرامہ موومنٹ‘ (Kitchen Sink Movement) کا چربہ ہے جسے انگریزی ادب میں دہائیوں پہلے ہضم کیا جا چکا ہے۔
واضح رہے کہ آرنلڈ ویسکر اور جان آسبرن نے 1950 اور 60 کی دہائی میں ’کچن سنک ڈرامہ‘ کی بنیاد رکھی تھی۔ آرنلڈ ویسکر کا مشہورِ زمانہ ڈرامہ ’’The Kitchen‘‘ (1957) اٹھا کر دیکھ لیجیے۔ اس پورے ڈرامے کا سیٹ اپ ایک ریستوران کا باورچی خانہ ہے جہاں گرمی، شور، گوشت کی بو اور برتنوں کی کھٹ پٹ کے درمیان انسانی جبلتیں ایک دوسرے کا خون پینے پر اتر آتی ہیں۔ خالد جاوید نے ’نعمت خانہ‘ میں بعینہٖ وہی ’حبس‘ اور وہی ’گھٹن‘ پیدا کی ہے۔
ویسکر کے ہاں باورچی خانہ ’طبقاتی جدوجہد‘ کا استعارہ تھا، خالد جاوید نے اسے ’وجودی تعفن‘ کا نام دے کر اردو والوں کو یہ تاثر دیا کہ یہ ان کی اپنی ایجاد ہے۔ واللہ! یہ امتیاز نہیں بلکہ ایک ایسی ’فنی درآمد‘ ہے جس پر کسٹم ڈیوٹی تک ادا نہیں کی گئی۔ جان آسبرن کے ’Look Back in Anger‘ کی وہ گھریلو نفرت اور چھوٹی چھوٹی چیزوں پر ایک دوسرے کو کاٹنے کا عمل ’نعمت خانہ‘ کی روح میں سرایت کیے ہوئے ہے۔
طارق چھتاری صاحب نے اپنے متذکرہ مضمون میں ’نعمت خانہ‘ کے ایک اقتباس کے حوالے سے (ص 43) جس میں مصنف نے ’’بندر کے مردہ پنجے ‘‘ کا ذکر کیا ہے، فرماتے ہیں: ’’ یہاں بندر کے مردہ پنجے کا تذکرہ کرکے خالدجاوید نے نہایت ہنرمندی کے ساتھ W.W.Jacobs کے افسانے "The Monkey’s paw” کے مرکزی خیال کی جانب توجہ دلائی ہے کہ وقت کو دوبارہ کھینچ کر لانے کے نتیجے میں صرف دہشت اور پشیمانی ہی حاصل ہوسکتی ہے اورکچھ نہیں۔‘‘(ایضاً)
The Monkey’s Paw عالمی ادب کی مشہور ترین ہارر(Horror) کہانیوں میں سے ایک ہے۔ جیکبز کی اس کہانی میں ’بندر کا پنجہ‘ ایک ایسی منحوس شے ہے جو خواہشات تو پوری کرتی ہے مگر ان کا انجام دہشت اور پشیمانی پر ہوتا ہے۔ خالد جاوید نے ص: 43 پر جس ’دہشت اور پشیمانی‘ کا ذکر کیا ہے، وہ دراصل جیکبز کے اسی افسانے کی ’فکری یرغمالی‘ ہے۔لیکن اس میں خالد صاحب نے یہ ’کلاکاری‘ دکھائی ہے کہ متن میں ’بندر کے مردہ پنجے‘ کا تذکرہ کر کے قاری کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ محض ایک تلمیح (Allusion) استعمال کر رہے ہیں، لیکن حقیقت میں انھوں نے اس پوری کہانی کا ’خوف اور فلسفہ‘ اپنے ناول کی بنیاد بنانے کے لیے اُڑا لیا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی کسی کا بٹوہ مار لے اور پھر اسی کے سامنے اس بٹوے کے ڈیزائن کی تعریف کرنے لگے۔
چلیے، اب طارق چھتاری صاحب کی اس نشاندہی کے لیے شکریہ ادا کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں کہ آگے کچھ مزید ’حرماں نصیب‘ ہمارے منتظر ہیں۔
1965 میں شائع ہونے والا ہیری کریسنگ کا ناول ’’دی کک‘‘ (The Cook)اٹھا لیجیے۔اس ناول میں ایک باورچی ایک گھرانے میں داخل ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ ’کھانے کے زہریلے فلسفے‘ کے ذریعے اس خاندان کی جبلتوں، ان کی اخلاقیات اور ان کے بدن پر قبضہ کر لیتا ہے۔ ’’نعمت خانہ‘‘ کا پورا ڈھانچہ—یعنی باورچی خانے کا ایک گھر کے افراد کو نفسیاتی طور پر ’مسخ‘ کر دینا—بعینہٖ اسی ناول کا وہ ’چربہ‘ ہے جسے خالد جاوید نے اپنی مخصوص ’کراہت آمیز اسلوب‘ میں لتھڑ کر پیش کیا ہے۔ لیکن ابھی رکیے، کلائمکس باقی ہے۔
’’نعمت خانہ‘‘ پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم پیٹر گرین وے کی مشہور فلم ’The Cook, the Thief, His Wife & Her Lover‘ کا اسکرپٹ پڑھ رہے ہوں۔فلم میں رنگوں کا استعمال (سرخ، سبز اور سیاہ) اور کھانے کے دسترخوان پر جنس، تشدد اور غلاظت کا جو امتزاج ہے، خالد جاوید کا پورا ناول اسی بصری بیانیے کی ’نثری پیروڈی ‘معلوم ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ خالد صاحب نے فلم کے فریموں کو الفاظ میں ڈھالا اور اردو قاری کو یہ یقین دلا دیا کہ یہ ان کے ’لاشعور کی اختراع‘ ہے۔
اس ناول کا ایک’پوسٹ کلائمکس‘ بھی ہے جس کا نام ہے: مائیکل ٹورنیئر (Michel Tournier) اور ’گوشت کی نفسیات‘۔ فرانسیسی ادیب مائیکل ٹورنیئر کے ہاں انسانی جسم، خوراک اور ’صارفیت‘ (Consumption) کا جو مکروہ رشتہ ملتا ہے، خالد جاوید نے اس سے بھرپور ’کسبِ فیض‘ کیا ہے۔
ٹورنیئر کے ہاں بدن کا ’گوشت‘ بننا ایک مابعد الطبیعیاتی عمل ہے؛ خالد جاوید نے اس فلسفے کو اٹھایا اور اسے ’نعمت خانے‘ کی ہانڈیوں میں ڈال دیا۔ دراصل ان کے ہاں جو ’لجلجا پن‘ اور ’تعفن‘ ملتا ہے اور جسے ہم اپنے مطالعے کے فقدان کے سبب انوکھا اسلوب گردانتے چلے آرہے ہیں، وہ یورپی مابعد جدیدیت کا وہ ’فضلہ‘ ہے جسے ہم نے ’جے سی بی‘ کے سنہری کاغذ میں لپیٹ کر ’شاہکار‘ تسلیم کر لیا ہے۔
’’نعمت خانہ‘‘کی سب سے بڑی لسانی خامی اس کی وہ ’فہرست سازی‘ ہے جسے ان کے مداح ’جزیات نگاری‘ کہتے ہیں۔حالاں کہ جب کسی مصنف کے پاس تخیل کی کمی ہوتی ہے، تو وہ ’اشیاء‘ کی فہرستیں بنانا شروع کر دیتا ہے۔ ’’نعمت خانہ‘‘ میں مسالوں، برتنوں اور غلاظتوں کی جو طویل فہرستیں ہیں، وہ دراصل گنٹر گراس (Gunter Grass) کے ناول ’’دی فاؤنڈر‘‘ (The Flounder) کی اس تکنیک کا ’غیر تخلیقی‘ استعمال ہے جہاں تاریخ کو ’باورچی خانے کی ڈائری‘ کے ذریعے بیان کیا گیا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ گراس کے ہاں ایک ’کائناتی وژن‘ تھا، اور خالد صاحب کے ہاں صرف ایک ’ذاتی گھٹن‘۔
مختصر یہ کہ ’’نعمت خانہ‘‘ دراصل عالمی ادب کے ان شاہکاروں کا ایک ایسا ’مابعد جدید سالن‘ ہے جس میں آئیڈیاز ایمیل زولا کے ہیں، نفسیات ہیری کریسنگ کی ہے، اور بصری اثرات پیٹر گرین وے کے۔ خالد جاوید نے بس اس میں ’اردو مٹی کا نمک‘ کم اور ’بریلی کے فلسفے کا کھڑا مسالہ‘ زیادہ ڈال دیا ہے۔
ہمیں تو اس بات پر اب حیرت ہو رہی ہے کہ جے سی بی کی جیوری میں کیا کوئی ایسا شخص نہیں تھا جس نے آرنلڈ ویسکر، جیکبز، مائیکل ٹورنیئر یا ہیری کریسنگ کو پڑھ رکھا ہو؟ یا شاید وہ بھی اس سے اتنے مرعوب ہو گئے کہ انھوں نے اسے ایک ’اچھوتا تجربہ‘ سمجھ لیا۔
(3)ایک خنجر پانی میں: پولانسکی کی ڈوبتی کشتی اور خالد جاویدکی غوطہ خوری
خالد جاوید کا تیسرا ناول ’’ایک خنجر پانی میں‘‘—جس کا عنوان سنتے ہی ذہن میں پہلا دھماکہ تو رومان پولانسکی (Roman Polanski) کی عالمی شہرت یافتہ فلم ’’نائف ان دی واٹر‘‘ (Knife in the Water) کا ہوتا ہے۔ اس ٹائٹل کی مماثلت پر برسوں پہلے پاکستان کے فیصل اقبال اعوان صاحب نے پوری شدت سے سوال اٹھایا تھا جسے سوشل میڈیا پر بھی کافی شیئر کیا گیا تھا۔ اسے تخلیقی معجزہ نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے کہ پولانسکی نے 1962 میں جس عنوان پر فلم بنائی، خالد جاوید صاحب کے ’اوریجنل‘ تخیل نے دہائیوں بعد بعینہٖ وہی عنوان اردو فکشن کے لیے ’دریافت‘ کر لیا۔ کیا معلوم کہ پولانسکی نے مستقبل میں جھانک کر خالد صاحب کے اس اچھوتے عنوان پر ’شب خون‘ ماردیا ہو؟
لیکن خیر، میں عنوان کو اس قدر اہمیت نہیں دیتا کہ اس سے کسی فن پارے کے معیار کو ماپا جاسکے۔خود میرا پہلا ناول ’’اس نے کہا تھا‘‘ بھی ہندی کے ایک معروف ادیب پنڈت چندر دھر شرما گلیری کی کافی پرانی کہانی کا نام تھا جو غالباً 1915میں شائع ہوئی تھی۔ میں اس سے واقف نہ تھا ، اور جب کچھ احباب کے توسط سے علم ہوا تب تک چڑیا کھیت چُگ چکی تھی ، یعنی ناول شائع ہوچکا تھا۔ اب میں نے اس کے ہندی ترجمہ کا نام بدل کر ’’موت میں نیا کیا ہے‘‘ رکھ دیا ہے۔ عنوان کی مماثلت پرہندوستان کے نامور اور قد آور نقاد فضیل جعفری صاحب کے ایک تنقیدی مجموعے ’’کمان اور زخم‘‘ پر بھی کبھی سوال قائم کیا گیا تھا کہ یہ ایڈمنڈ ولسن کی کتاب “The Wound and the Bow”کاسرقہ ہے، جب کہ عنوان کی اس مماثلت کے باوجود الزام سر تا سر غلط تھا۔ عنوان کی مماثلت ادب میں کبھی کوئی سنجیدہ ایشو نہیں رہا، اس لیے خالد جاوید کے اس ناول کے عنوان کی رومان پولانسکی کی فلم کے عنوان سے مماثلت کو میں زیادہ سنجیدگی سے قبول نہیں کرتا۔
میرے نزدیک ’’ایک خنجر پانی میں‘‘ اس لحاظ سے اہم ہے کہ یہاں خالد جاوید کی ’آرکی ٹیکچرل بصیرت‘ اور فلسفیانہ گہرائی مل کر ایک ایسا منظر نامہ تیار کرتی ہیں جو اردو کے سادہ لوح قاری کے لیے تو ’جدیدیت‘ ہے، مگر عالمی سنیما اور ادب کے شناساؤں کے لیے ایک ’دہرایا گیا خواب‘۔
عنوان کی مماثلت سے قطع نظر پولانسکی کی فلم ’نائف ان دی واٹر‘ ایک ایسی نفسیاتی جنگ ہے جو پانی کے درمیان ایک کشتی پر لڑی جاتی ہے۔ خالد جاوید کے ناول میں اگرچہ کشتی نہیں ہے، مگر وہ ’نفسیاتی گھٹن‘ (Claustrophobia) اور ’پانی‘ کا ایک علامت کے طور پر وہی استعمال ہے جو پولانسکی کا خاصہ ہے۔
جس طرح پولانسکی نے ایک محدود جگہ (Space) میں انسانی جبلتوں کے تصادم کو دکھایا، خالد جاوید نے اپنے کردار کی داخلی دنیا کو اسی ’محدودیت‘ اور ’خوف‘ کے سانچے میں ڈھالا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ خالد صاحب نے پولانسکی کی فلم سے وہ ’ٹیشن‘ (Tension) مستعار لی اور اسے اپنے مخصوص ’تعفن‘ میں رنگ کر پیش کر دیا۔
لیکن خالد جاوید کے ناولوں کا سابقہ پیٹرن ہمیں اُکساتا ہے کہ اس ناول کی مزید پڑتال کی جائے۔ اور جب ہم نے ایسا کیا تو ہمارا شبہ درست نکلا۔
خالد جاوید چونکہ فلسفے اور آرکی ٹیکچر کے طالب علم رہے ہیں، اس لیے یہ ماننا مشکل ہے کہ وہ گیسٹن بیچلارڈ (Gaston Bachelard) کی مشہور کتاب ’’Water and Dreams‘‘ (پانی اور خواب) سے ناواقف ہوں۔
بیچلارڈ نے پانی کو ’موت، گہرائی اور لاشعور‘ کی علامت کے طور پر پیش کیا ہے۔ خالد جاوید کے ہاں پانی کی جو منظر نگاری ہے—جہاں پانی زندگی نہیں بلکہ ایک ’تاریک قبر‘ ہے—وہ بعینہٖ بیچلارڈ کے ان مظہری (Phenomenological) تصورات کا نثری عکس ہے جنھیں مغربی ادب میں دہائیوں پہلے ہضم کیا جا چکا ہے۔ کیا کمال ہے کہ بیچلارڈ کا فلسفہ خالد صاحب کے قلم سے ’خنجر‘ بن کر برآمد ہوا ہے۔
رضوان الحق صاحب نے خالد جاوید کے تازہ ترین ناول ’’اکیس ایک سو بائیس‘‘ پر ایک تاثراتی رائے دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر البیئر کامیو زندہ ہوتا تو خالد جاوید کا ہاتھ چوم لیتا۔ اطلاعاًعرض ہے کہ کامیو اس سے پہلے بھی خالد جاوید کا ہاتھ چوم چکا ہے بلکہ چومتا رہا ہے۔ ’’ایک خنجر پانی میں ‘‘ کا مرکزی کردار جب کسی جرم یا تشدد کا ارتکاب کرتا ہے، تو اس کی سرد مہری اور بے حسی ہمیں کامیو کے ’دی اسٹرینجر‘ (The Stranger) کے ’مورسو‘ (Meursault) کی یاد دلاتی ہے۔اگرچہ کامیو کا اسلوب ’کلینیکل‘ اور ’غیر جذباتی‘ تھا۔ خالد جاوید نے اسی ’سردبیانیے‘ (Cold Narrative) کو اٹھایا اور اس میں اردو کی کچھ ’خالد جاویدی‘ لفاظی شامل کر کے اسے ایک ’انوکھا اسلوب‘ بنا دیا۔ تشدد کے بعد کردار کا یہ سکون کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو، مورسو کے اس جملے کا اردو چربہ محسوس ہوتا ہے کہ ’’آج میری ماں مر گئی، یا شاید کل، مجھے نہیں معلوم۔‘‘
خالد جاوید کے اس ناول میں ابھی مزید دو ناولوں کا ’ملیدہ‘ باقی ہے۔ جس میں ایک آندرے تارکوفسکی (Andrei Tarkovsky) کی بصری بازگشت بھی شامل ہے۔
پانی، بارش اور گرتی ہوئی دیواروں کی جو منظر نگاری اس ناول میں ہے، وہ روسی ہدایت کار تارکوفسکی کی فلموں (بالخصوص Stalker اور Nostalghia )کے فریموں سے حیرت انگیز طور پر مشابہ ہے۔تارکوفسکی کے ہاں پانی ’وقت اور زوال‘ کی علامت ہے۔ خالد جاوید نے ان بصری استعاروں کو چرا کر انھیں اپنی نثر میں اس طرح پرویا ہے کہ قاری کو لگتا ہے یہ سب ان کے اپنے ’لاشعور کی اختراع‘ ہے۔ علمائے ادب شاید اسے توارد نہیں تسلیم کریں گےبلکہ شاید ایک ایسی ’عیاری‘ سے تعبیر کریں گے جس پر اردو نقادوں نے اس لیے تالیاں بجائیں کہ انھوں نے تارکوفسکی کے ’زون‘ (Zone) کی کبھی سیر نہیں کی تھی۔
اس ناول میں آخری خنجر جارج سمنون (Georges Simenon)نے اُتارا ہے۔’’ایک خنجر پانی میں‘‘ میں سسپنس اور جرم کی جو نفسیاتی تہیں ہیں، وہ فرانسیسی ادیب جارج سمنون کے ’سائیکالوجیکل تھرلرز‘ (Hard-boiled novels) کی یاد دلاتی ہیں۔سمنون کے ہاں جرم سے زیادہ اہم وہ ’ماحول‘ ہوتا ہے جو جرم کو جنم دیتا ہے۔ خالد جاوید نے بھی اس ناول میں ’جرم‘ کو ثانوی رکھا اور اس ’حبس زدہ ماحول‘ کو اولیت دی جو عالمی ’نوآر‘(Noir) لٹریچر کا پرانا اوزار ہے۔ یہ اوریجنل فکشن نہیں بلکہ عالمی ’ڈارک تھرلرز‘ کا ایک ایسا ’کولاژ‘ ہے جس پر ’فلسفے کے پروفیسر‘ کی مہر لگی ہوئی ہے۔
’’ایک خنجر پانی میں ‘‘دراصل ایک ایسا ’سینیمیٹک ناول ‘ہے جس کا اسکرپٹ پولانسکی اور تارکوفسکی کے درمیان تقسیم ہے، اور جس کی روح البیئر کامیو کا ہاتھ چوم کر اس سے اُدھار لی گئی ہے۔ خالد جاوید نے اپنی ’آرکی ٹیکچرل مہارت‘ کو استعمال کرتے ہوئے ان تمام عالمی مآخذ کو ایک ایسی عمارت میں بند کر دیا ہے جس کی کھڑکیاں تو کھلی ہیں، مگر ان سے آنے والی ہوا اردو کی نہیں بلکہ ترجمہ شدہ ’مغربی بیزاری‘ کی ہے۔
(4) ارسلان اور بہزاد : نیل گیمن کے نطفے کا ’تخلیقی‘ جنم
خالد جاوید کا چوتھا ناول ’’ارسلان اور بہزاد‘‘—ہم یہاں سب سے پہلے اس بابت اقرار جرم کرلیتے ہیں کہ یہ ناول ہمیں اتنا زیادہ پسند آیا تھا کہ اس گنہگار نے اس پر دو عدد تبصرے بھی لکھ مارے تھے۔ اس قت میرے نزدیک یہ ناول اردو فکشن میں ’مابعد الطبیعیاتی معجزوں‘ کی وہ معراج تھا جس کے سامنے عقل دنگ اور ہوش گم ہو جاتے ہیں۔ اس ناول کا مرکزی تصور ہی اتنا ’انوکھا‘ ہے کہ ہم پکار اٹھے تھے کہ ایسا اچھوتا خیال تو صرف خالد صاحب کے زرخیز ذہن ہی سے پھوٹ سکتا ہے۔ مگر ذرا ٹھہریے! جیسے ہی ہم اس ’خواب نگر‘ سے باہر نکل کر عالمی فینٹاسی لٹریچر اور جدید گرافک بیانیے کی سیر کرنے لگے، تو ہماری معصومانہ حیرت ایک ایسی مسکراہٹ میں بدل گئی جس میں اپنی حماقت کے ساتھ تھوڑی سی ’تخلیقی ہمدردی‘ بھی شامل تھی۔
آئیے، ’’ارسلان اور بہزاد‘‘ کی اس ’خوابیدہ‘ کائنات کی جڑیں عالمی تخیل کے صحراؤں میں جو ہم نے تلاش کیں، اسے آپ کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔
اس ناول کی پوری عمارت جس بنیاد پر کھڑی ہے—یعنی خواب میں جنسی عمل اور اس کے نتیجے میں ایک حقیقی حمل کا ہونا—وہ بعینہٖ نیل گیمن (Neil Gaiman) کے شاہکار ’’دی سینڈ مین‘‘ (The Sandman)کا وہ دستخط ہے جسے عالمی سطح پر 1990 کی دہائی ہی میں ’کلاسیک‘ مانا جا چکا تھا۔
گیمن کے ہاں ’لائٹا ہال‘ (Lyta Hall) خوابوں کی دنیا میں حاملہ ہوتی ہے، اور خوابوں کا شہنشاہ (Morpheus) اسے بتاتا ہے کہ یہ بچہ اس کا اپنا نہیں بلکہ ’خواب‘ کی ملکیت ہے۔ خالد جاوید نے اسی تصور کو اٹھایا اور ارسلان کو ایک ایسی قانونی جنگ میں جھونک دیا جہاں اس کا ’خوابیدہ نطفہ‘ جارجیا کی ایک لڑکی کے بطن میں حقیقت بن کر نمودار ہوتا ہے۔ واللہ! کیا یہ حیرت انگیز نہیں کہ جو فینٹاسی لندن کے ایک دماغ نے سوچی، وہی فینٹاسی ہوبہو دہلی کے ایک پروفیسر صاحب کے لاشعور میں اس طرح اُتری کہ بیچ میں ایک لفظ کا بھی فرق نہ رہا؟ حتیٰ کہ گیمن کے شاہکار اور خالد جاوید کے ناول کے درمیان مماثلت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ خواب میں جنسی عمل سے جنما لڑکا دونوں مرکزی کرداروں کی موت کا سبب بھی بنتا ہے۔(نیٹ فلکس پر یہ سیریز کے طور پر دستیاب ہے، جس کے متعلق میں نے اس ناول کی اشاعت کے فوراً بعد خالد جاوید کو بتایا تھا ، لیکن انھوں نے تجاہل عارفانہ سے کام لیا۔)
اتنا ہی نہیں، ناول کے آغاز میں ارسلان کو عدالت سے جو ’سمّن‘ ملتا ہے اور جس طرح اسے ایک ایسے جرم (یا حمل) کی صفائی دینی پڑتی ہے جو اس نے ہوش و حواس میں کبھی کیا ہی نہیں، وہ ہمیں براہِ راست کافکا کے ’جوزف کے‘ (Joseph K) کی یاد دلاتا ہے۔
کافکا کے ہاں ’گناہ‘ کا احساس غیر واضح ہے، مگر خالد جاوید نے اسے ’جسمانی غلاظت‘ اور ’خوابیدہ جنون‘ کے ساتھ جوڑ کر اسے ایک ’اردو رنگ‘ دینے کی کوشش کی ہے۔ ارسلان کا وکیل سے مکالمہ اور عدالت کی وہ بیزاری جس میں منطق دم توڑ دیتی ہے، دراصل کافکا کی اس لایعنیت (Absurdity) کا ایک ایسا ’اردو چربہ‘ ہے جسے خالد جاوید نے اپنے مخصوص تعفن زدہ اسلوب کی رنگ سازی سے چھپانے کی کوشش کی ہے۔
ناول کا کلائمکس جہاں ارسلان کا وہ بیٹا (جو خواب کے رستے دنیا میں آیا) اپنے باپ کی موت کا سبب بنتا ہے، وہ عالمی ادب کا قدیم ترین تلازمہ ہے۔باپ اور بیٹے کا یہ تصادم یونانی المیوں سے ہوتا ہوا فردوسی کے شاہنامے تک ایک ’ارکی ٹائپ‘ (Archetype) کی حیثیت رکھتا ہے۔ خالد جاوید نے اس قدیم ڈھانچے کو نیل گیمن کی ’جدید فینٹاسی‘ کے ساتھ جوڑ کر ایک ایسی ’ادبی کھچڑی‘ تیار کی ہے جس کے ہر اجزا کہیں نہ کہیں سے مستعار لیےگئے ہیں۔ کیا ہم اب بھی اسے توارد کے زمرے میں رکھنے کی غلطی کریں گے؟ جب کہ یہ ایک ایسی ’فکری پیوند کاری‘ ہے جہاں پیوند تو عالمی ہیں مگر سوئی خالد جاوید کی اپنی ہے۔
اس ناول میں جارجیا (Georgia) کے پس منظر کا انتخاب بھی محض اتفاقی نہیں لگتا ۔مشرقی یورپ کا یہ خطہ عالمی سنیما (بالخصوص پراسرار اور ڈارک فلموں) کے لیے ایک پسندیدہ لوکیشن رہا ہے۔ خالد جاوید کی منظر نگاری میں جو ’سرد مہری‘ اور ’اجنبیت‘ ہے، وہ ہمیں جارجیائی فلم سازوں (مثلاً تینگِز ابولادزے)کی بصری زبان کی یاد دلاتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خالد صاحب نے جارجیا کے نقشے کو صرف اس لیے منتخب کیا تاکہ ان کے ’خوابوں کی اسمگلنگ‘ پر ایک بین الاقوامی لبادہ نظر آ سکے۔
خالد جاوید کے اس ناول میں بھی وہی ’تکرار زدہ‘ بیانیہ ہے جو اب ان کی پہچان بن چکا ہے۔ ارسلان کی طویل خود کلامیاں، جہاں وہ اپنے بدن کی بُو اور وجود کے بوجھ پر صفحات سیاہ کرتا ہے، وہ سیموئیل بیکٹ کے ناولوں،مثلاًMolloy کی اس ’شعور کی رو‘ کا بھونڈا استعمال ہے جہاں جملے دائروں میں گھومتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ بیکٹ کے ہاں یہ فلسفیانہ ضرورت تھی، اور خالد صاحب کے ہاں یہ ’صفحات بھرنے‘ کی ایک مشق بن چکی ہے۔
مختصر یہ کہ،’’ارسلان اور بہزاد‘‘ دراصل ایک ایسا ’پوسٹ ماڈرن کولاژ‘ ہے جس کا سر نیل گیمن کے ہاں ہے، دھڑ کافکا کے دفتر میں، اور پاؤں یونانی المیوں کی خاک میں۔ خالد جاوید نے ان تمام بکھرے ہوئے اعضاء کو اپنے مخصوص ’کراہت آمیز اسلوب‘ کے ریشمی دھاگوں سے سی کر ایک ایسا ’فرینکنسٹائن‘ بنایا ہے جسے اردو نقادوں نے ’تخلیقِ نو‘ کا خطاب دے دیا۔
ہمیں تو اب اس بات پر یقین ہوتا جا رہا ہے کہ خالد جاوید کا ’تخلیقی جادو‘ دراصل ان کی ’یادداشت کی جادوگری‘ ہے۔ وہ جس آئیڈیا کو ہاتھ لگاتے ہیں، پتہ چلتا ہے کہ وہ پہلے ہی ہالی ووڈ یا یورپی ادب کے کسی میوزیم میں سجا ہوا ہے۔
(5)اکیس ایک سو بائیس: نیٹ فلکس کے زمانی چکروں کا دیسی تماشہ
اس وقت ہمارے سامنے خالد جاوید کے تازہ ترین ناول ’’اکیس ایک سو بائیس‘‘ کے پاکستانی ایڈیشن کا پی ڈی ایف موجود ہے، جس پر گذشتہ دنوں ہم کافی بات کرچکے ہیں، چنانچہ ان باتوں کو نہ دہراتے ہوئے اس ناول کے ان سرچشموں کی پڑتال کریں گے جہاں سے اس کے مرکزی تصورات مستعار لیے گئے ہیں ۔
خالد جاوید کے تخلیقی سفر کا مطالعہ اب اس مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں ہمیں یہ فیصلہ کرنے میں دشواری ہوتی ہے کہ ہم ایک اردو ناول نگار کو پڑھ رہے ہیں یا کسی ایسے ’عالمی مترجم‘ کو جس نے مغرب کے پیچیدہ ترین فلسفوں اور سنیمائی تصورات کو اپنی مخصوص ’کراہت آمیز نثر‘ کا ایسا غلاف پہنا دیا ہے کہ اصل شناخت ہی مٹ کر رہ گئی ہے۔ ان کا تازہ ترین ناول ’’اکیس ایک سو بائیس‘‘ اس سلسلے کی ایک ایسی کڑی ہے جسے اگر اردو فکشن کا ’عظیم الشان معجزہ‘ کہا جا رہا ہے، تو اس کی وجہ محض یہ ہے کہ ہمارا اوسط اردو قاری تاحال نیٹ فلکس (Netflix) کے جرمن شاہکاروں اور بورخیس (Borges) کے زمانی گورکھ دھندوں سے اس طرح واقف نہیں جس طرح موصوف واقف ہیں۔
اس ناول کا عنوان ہی ہمیں ایک ایسے ’عددی طلسم‘ کی طرف لے جاتا ہے جہاں وقت کا پہیہ اپنی جگہ ساکت ہونے کے بجائے ایک دائرے میں گھوم رہا ہے۔ لیکن کیا یہ ’دائرہ‘ خالد جاوید کے اپنے تخیل کی پرکار نے کھینچا ہے؟ جب ہم اس ناول کی تہوں کو الٹتے ہیں، تو سب سے پہلے جو ’خوشبو‘ (یا ان کے اسلوب کے مطابق ’بدبو‘) ہمارے نتھنوں سے ٹکراتی ہے، وہ جرمن سائنس فکشن سیریز ’ڈارک‘ (Dark) کی ہے۔ جس طرح ’ڈارک‘ میں ماضی، حال اور مستقبل ایک دوسرے کے اندر پیوست ہیں اور کردار اپنے ہی اسلاف یا اخلاف سے ایک ایسے زمانی تسلسل میں ٹکراتے ہیں جہاں ’اختتام ہی آغاز ہے‘، بعینہٖ یہی فلسفہ اس ناول کی روح ہے۔ خالد جاوید نے ’وِنڈن‘ (Winden) کے جنگلوں کو اٹھا کر اردو کے مخصوص سماجی پس منظر میں اس طرح منتقل کیا ہے کہ قاری کو لگتا ہے کہ یہ زمانی تصادم شاید ان کے اپنے لاشعور کی کوئی انوکھی اختراع ہے۔ لیکن رُکیے، ہم اس ’طلسم ہوش ربا‘ کی اب تک صرف تمہید ہی بیان کررہے تھے، فلم تو اب شروع ہوتی ہے۔
خالد جاوید کا حالیہ ناول ’’اکیس ایک سو بائیس‘‘ بظاہر ایک وجودی المیہ اور زمانی الجھاؤ کی داستان نظر آتا ہے، لیکن گہرائی میں اتریں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ بریلی کے ایک کمرے میں بیٹھ کر تیار کیا گیا وہ ’عالمی کولاژ‘ ہے جس کے اجزاء نیٹ فلکس کی سیریز، یورپی فلسفے کے قبرستانوں اور لاطینی امریکہ کی فینٹاسی سے مستعار لیے گئے ہیں۔ خالد صاحب نے اردو کے اس قاری کو، جو تاحال بورخیس (Borges) کے زمانی بھول بھلیوں اور کرسٹوفر نولن کے ’اینٹروپی‘ (Entropy) زدہ بیانیوں سے ناواقف ہے، یہ یقین دلانے کی بھرپور کوشش کی ہے کہ ’وقت کا دائرہ‘ (Circular Time) ان کا اپنا دریافت کردہ مابعد الطبیعیاتی صدمہ ہے۔
ناول کی بنیاد ہی ایک عددی طلسم پر ہے:21/122۔ یہ محض مکانوں کے نمبر نہیں ہیں، بلکہ ایک ایسا زمانی لوپ (Loop) ہے جس میں کردار قید ہیں۔ صفحہ نمبر 37 پر خالد جاوید لکھتے ہیں:
’’ 21/122۔ چنگی دفتر والوں نے اپنے ریکارڈ کے لیے ان دونوں مکانوں کے الگ الگ نمبر ہی رکھے ہیں جو اب ملا کر ایک مکان میں بدل دیا گیا ہے۔ محکمۂ ڈاک میں بھی یہی پتا رجسٹر کیا گیا ہے۔‘‘
یہ ’دو مکانوں کا ایک بن جانا‘ اور ’نمبروں کا گورکھ دھندہ‘ دراصل بورخیس کے افسانے "The Garden of Forking Paths” اور مارک زیڈ ڈینیلیوسکی کے مشہورِ زمانہ ناول "House of Leaves” کی اس تکنیک کا اردو چربہ ہے جہاں عمارتیں مادی حقیقت کے بجائے ’ذہنی خلفشار‘ کا نقشہ بن جاتی ہیں۔ بورخیس کے ہاں وقت ایک ایسی کتاب ہے جس کے راستے ایک دوسرے میں پیوست ہیں، اور خالد جاوید نے اسی فلسفے کو اٹھا کر اردو مٹی میں ’تعفن‘ کے ساتھ دفن کر دیا ہے۔
خالد جاوید کا سب سے بڑا ’تخلیقی ہتھیار‘ وہ بیزاری اور متلی ہے جسے وہ وجودیت کا نام دیتے ہیں۔ لیکن اس ناول میں یہ بیزاری اب سارتر سے آگے بڑھ کر تھامس برن ہارڈ (Thomas Bernhard) کی اس جنونی تکرار تک جا پہنچی ہے جہاں جملے ختم ہونے کا نام نہیں لیتے۔ ناول کے ابتدائی صفحات ہی سے تپش، بدبو اور بدن کے اخراج کا جو ذکر شروع ہوتا ہے، وہ براہِ راست ایمیل زولا (Emile Zola) کے فطرت پسندانہ (Naturalistic) اسلوب کی بھونڈی نقل محسوس ہوتا ہے۔
صفحہ نمبر 41پر اسپتال کے منظر نامے کو دیکھیے:
’’پورے اسپتال میں روشنی بہت کم رکھی گئی ہے۔ سارا علاج اندھیرے میں ہو رہا ہے اور اسپتال کی طویل گھماؤ دار اندھیری گیلریوں میں چلتے چلتے وہ بھٹک جاتے ہیں۔ مگر جہاں وہ بھٹکتے ہیں اور جہاں روشن دانوں کی جالیوں سے آنے والی ہوا ایک جگہ اکٹھا ہو کر شور کرتی ہے، دراصل وہیں ان کو جانا ہے۔‘‘
یہ منظر کشی ہمیں فرانز کافکا کے ناول "The Trial” کے ان لامتناہی دفاتر اور راہداریوں کی یاد دلاتی ہے جہاں ’جوزف کے‘ (Joseph K) اپنی نجات تلاش کرتا پھرتا ہے۔ خالد صاحب نے کافکا کے وجودی خوف کو اٹھایا اور اس میں ڈیوڈ کرونن برگ (David Cronenberg) کے ’باڈی ہارر‘ (Body Horror) کی غلاظت شامل کر دی۔ کرونن برگ کی فلموں کی طرح یہاں بھی جسم صرف گوشت کا لوتھڑا ہے جو سڑ رہا ہے، جل رہا ہے یا کینسر کا شکار ہے۔
ناول کا مرکزی تصور، جس میں وقت بار بار دہرایا جاتا ہے، وہ فریڈرک نطشے کے تصور ’ابدیت کی تکرار‘ (Eternal Recurrence) کا نثری خلاصہ ہے۔ اگرچہ خالد صاحب نے دیانتداری کا لبادہ اوڑھ کر صفحہ نمبر 8 پر نطشے کا حوالہ دے دیا ہے، لیکن یہ محض حوالہ نہیں بلکہ پورے ناول کا ’ڈھانچہ‘ ہی نطشوی فلسفے کی مستعار لی ہوئی اینٹوں پر کھڑا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’جب آپ اندھیرے کو گھورتے ہیں، تو اندھیرا بھی آپ کو گھورتا ہے۔‘‘ — نطشے
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس حوالے کے بعد مصنف کو یہ لائسنس مل جاتا ہے کہ وہ جرمن سینما کی سیریز "Dark” کے پورے پلاٹ کو اردو میں ’ری سائیکل‘ کر دے؟ جس طرح ’ڈارک‘ میں کردار اپنے ہی ماضی اور مستقبل سے ٹکراتے ہیں اور ایک دائرے میں قید رہتے ہیں، خالد جاوید کا کردار بھی اسی زمانی قید خانے کا اسیر ہے۔
ناول میں ایک کردار ہے ’طغرل‘ جو ایک پرائیویٹ جاسوس ہے اور جس کی مشابہت بن مانس یا گوریلے سے دی گئی ہے۔ صفحہ نمبر 159پر اس کا تعارف دیکھیے:
’’وہ بہت دراز قامت ہے۔ اس کا چہرہ ایک بڑے سے اُلّوسے مشابہ ہے۔ اس کے کان بہت بڑے بڑے ہیں۔ اتنے بڑے بڑے کہ اس کی گردن کو چھو رہے ہیں۔‘‘
یہ کردار براہِ راست ایڈگر ایلن پو (Edgar Allan Poe) کی کہانی "The Murders in the Rue Morgue” کے اس اورنگ اوٹان (Orangutan) کی یاد دلاتا ہے جو انسانی بستی میں درندگی کا نشان بن کر اُبھرتا ہے۔ اتنا ہی نہیں، طغرل کا یہ وجودی روپ ایوجین او نیل کے ڈرامے "The Hairy Ape” کی بھی بازگشت ہے جہاں انسان اپنی حیوانی جبلت اور سماجی ڈھانچے کے درمیان معلق ہے۔ خالد جاوید نے ان تمام عالمی مآخذ کو ہضم کر کے ایک ایسا کردار تخلیق کیا ہے جو اردو قاری کے لیے ’انوکھا‘ ہو سکتا ہے، مگر عالمی ادب کے طالب علم کے لیے ایک ’دہرایا گیا خواب‘ ہے۔
ناول کے ایک اور اہم حصے، یعنی ’برن وارڈ‘ (Burn Ward) اور آگ کے تصور کو دیکھیے (صفحہ 42):
’’آگ لگی ہے ڈاکٹر، آگ۔ سارے بدن میں آگ لگی ہے۔ میں جل گیا، میں جل رہا ہوں۔ میں جل ہی گیا۔‘‘
یہ آگ صرف مادی نہیں ہے، بلکہ یہ البیئر کامیو کے ’دوزخ‘ اور ژاں پال سارتر کے ڈرامے "No Exit” (Huis Clos) کی اس کیفیت کا اردو ورژن ہے جہاں ’دوسرے لوگ جہنم ہیں‘۔ خالد جاوید کے ہاں بھی کرداروں کا ایک دوسرے سے ٹکراؤ اور زمانی اذیت دراصل سارتر کے اسی کمرے کی توسیع ہے جس کا کوئی دروازہ نہیں ہے۔ سارتر کے ہاں یہ ایک فلسفیانہ ضرورت تھی، مگر خالد صاحب کے ہاں یہ ’صفحات بھرنے کی ایک مشق‘ بن گئی ہے جس میں وہ اپنے مخصوص ’تعفن زدہ اسلوب‘ کا تڑکا لگاتے رہتے ہیں۔
خالد جاوید کے مداح شاید یہ کہہ کر ان کا دفاع کریں کہ مابعد جدیدیت میں ’کچھ بھی اوریجنل نہیں ہوتا‘، لیکن یہاں معاملہ اوریجنل ہونے کا نہیں بلکہ اس ’تخلیقی دیانتداری‘ کا ہے جو ایک فنکار کو مترجم سے الگ کرتی ہے۔ اس ناول کی تہوں میں جو اسمگلنگ چھپی ہے، وہ اتنی گہری ہے کہ اسے ’استفادہ‘ کا نام دینا علم و ادب کی توہین ہوگی۔
اس ناول کا ایک نہایت کلیدی اور سفاک استعارہ ’سفید ریچھ‘ (White Bear) کا ہے۔ صفحہ نمبر83 پر ایک عجیب و غریب منظر نامہ دیکھیے:
’’بچپن کا اس کا کھلونا، وہ چابی والا سفید ریچھ۔ آؤ میرے دوست! اس نے برفانی ریچھ سے کہا۔ ریچھ نے جواب دیا کہ ابھی یہاں آگ نہیں آجئی ہے۔ اور یہ کہہ کر وہ ایک برف کی چٹان پر چڑھ کر غائب ہو گیا۔‘‘
واللہ! کیا کمال کی ’دریافت‘ ہے۔ لیکن کیا خالد صاحب کو علم نہیں کہ برطانوی سیریز ’بلیک مرر‘(Black Mirror)کی مشہور ترین قسط کا عنوان ہی “White Bear” ہے؟ وہاں بھی جرم، سزا اور ایک لامتناہی زمانی چکر (Loop)کا وہی تصور ہے جہاں مجرم کو بار بار اسی اذیت سے گزارا جاتا ہے اور تماشائی تالیاں بجاتے ہیں۔ خالد جاوید نے ’بلیک مرر‘ کے اس ٹیکنالوجیکل ڈراؤنے خواب کو اٹھایا اور اسے ’بچپن کے کھلونے‘ کا لبادہ پہنا کر اردو کے زمانی لوپ میں فٹ کر دیا۔ یہ توارد نہیں ہے صاحب، یہ اس ’مابعد جدید بصری بیانیے‘ کی نثری لُوٹ ہے جس تک اردو کے عام نقاد کی رسائی ابھی ممکن نہیں ہوئی۔
بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ خالد صاحب کی ’عالمی درآمد برآمد‘ کا ایک اور بڑا ثبوت ان کا وہ فٹ نوٹ ہے جو صفحہ نمبر 232 پر موجود ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’یہ اصطلاح (The Green Mile) Stephen King نے اپنے ناول میں استعمال کی ہے۔‘‘
یہاں وہ بڑی ہوشیاری سے ایک اصطلاح کا اعتراف کر کے پورے ’تصور‘ کو اپنا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ اسٹیفن کنگ کا ناول ’’دی گرین مائل‘‘ صرف ایک اصطلاح نہیں ہے، بلکہ وہ ’موت کی راہداری‘ کی اس نفسیات کا نچوڑ ہے جہاں معصومیت اور گناہ کے درمیان لکیر مٹ جاتی ہے۔ خالد جاوید نے کنگ کے اس شاہکار سے ’سزائے موت کی بیزاری‘ مستعار لی اور اسے اپنے مخصوص ’تعفن زدہ اسپتال‘ کے ماحول میں اس طرح پرویا کہ قاری اسٹیفن کنگ کو بھول کر خالد جاوید کے سحر میں گرفتار ہو جائے۔ یہ اعتراف دراصل اس جرم کو چھپانے کی ایک ناکام کوشش ہے جو پورے ناول کے ڈھانچے میں سرایت کر چکا ہے۔
آئیے اب اس ناول کے مابعد الطبیعیاتی مآخذ کی طرف چلتے ہیں۔ صفحہ نمبر 198 پر وہ براہِ راست پرومیتھیس (Prometheus) کا حوالہ دیتے ہیں:
’’میرا نام پرومیتھیس ہے۔ میں دیولوک سے آگ چرا کر لے جا رہا ہوں۔ تم آگ چور ہو؟ ہاں، میں آگ چور ہوں۔ میں روز آگ چراتا ہوں اور انسانوں کی دنیا میں خاموشی کے ساتھ رکھ آتا ہوں۔‘‘
خالد جاوید نے یونانی اساطیر کے اس عظیم المیے کو اٹھایا اور اسے البیر کامیو کے ’دی میتھ آف سیسیفس‘ (The Myth of Sisyphus) کے ساتھ نتھی کر دیا۔ کامیو نے لایعنی تکرار (Absurdity) کا جو فلسفہ پیش کیا تھا، خالد جاوید نے اسے ’آگ کی چوری‘ اور ’زمانی چکر‘ کے ذریعے اردو میں ری سائیکل کیا ہے۔ پرومیتھیس کا جگر گدھ نوچتے ہیں، اور خالد جاوید کے کردار کی ’روح‘ کو ان کا اپنا مخصوص اسلوب نوچ رہا ہے۔ یہ کوئی تخلیقی توارد نہیں بلکہ مغربی وجودیت کے قبرستانوں سے نکالی گئی وہ ہڈیاں ہیں جن پر اردو نثر کا گوشت چڑھانے کی کوشش کی گئی ہے۔
ناول میں ’وقت‘ کا جو تصور پیش کیا گیا ہے، جہاں ماضی اور مستقبل ایک دوسرے کو کاٹتے ہیں، وہ براہِ راست کرسٹوفر نولن کی فلم ’ٹینیٹ‘ (Tenet) اور ’انٹرسٹیلر‘ کی زمانی الجھنوں کا نثری ملیدہ ہے۔ صفحہ نمبر 164 پر دیکھیے:
’’وقت گزر رہا ہے، مگر یہ ٹکڑا، یہ اندھیرا نہیں گزر رہا ہے۔ وہ اس اندھیرے میں قید ہے، وہ اس سے باہر نہیں آ سکتا۔ حالانکہ وقت گزر رہا ہے، زمانہ بیت رہا ہے۔ نہ ہوا ہے نہ بارش، نہ بادل ہے نہ کوئی رنگ۔‘‘
یہ ’وقت سے باہر کا وقت‘ (Time outside of Time) دراصل ہنرے لوئی بورخیس کے اس ’ابدی لمحے‘ (The Aleph) کا چربہ ہے جسے بورخیس نے دہائیوں پہلے فنی کمال کے ساتھ بیان کر دیا تھا۔ خالد جاوید نے بورخیس کے اس کائناتی وژن کو ایک ’اسپتال کے وارڈ‘ اور ’گندے نالے‘ کی غلاظت میں قید کر کے اسے ’گروٹیسک ریئلزم‘ (Grotesque Realism) کا نام دے دیا۔ یہ ایک ایسی ’فکری منتقلی‘ ہے(رہزنی نہیں کہوں گا کہ اس سے ان کے بعض احباب اور شاگردوں کے جذبات مجروح ہونے کا اندیشہ ہے) جس پر اردو کے ممدوح نقاد اس لیے سر دھن رہے ہیں کہ انھوں نے بورخیس کے ’زمانی بھول بھلیوں‘ کی کبھی سیر نہیں کی تھی۔
خالد جاوید کی ایک اور ’مہارت‘ ان کی فہرست نگاری ہے، جسے ان کے مداح ’جزیات نگاری‘ کہہ کر تھکتے نہیں (دیکھیے صفحہ 59، جہاں وہ سیاروں، ستاروں اور نظام شمسی کی فہرستیں گنواتے ہیں)۔ یہ تکنیک دراصل امبرٹو ایکو (Umberto Eco) کے ناولوں، بالخصوص "The Name of the Rose” کی اس اسلوبیاتی تکرار کا بھونڈا استعمال ہے جہاں ’علمیت‘ کو مرعوب کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ خالد صاحب کے ہاں یہ فہرست سازی ان کے اپنے تخیل کی کمی کو چھپانے کا ایک حربہ ہے، جہاں وہ علمی اصطلاحات کے پیچھے اپنی ’تخلیقی بنجر پن‘ کو چھپاتے ہیں۔
مختصر یہ کہ، ’’اکیس ایک سو بائیس‘‘ اردو ادب کا وہ شاہکار ہے جس کی جڑیں اسٹیفن کنگ کے ’گرین مائل‘ میں ہیں، جس کی سانس ’بلیک مرر‘ کے سفید ریچھ میں گھٹ رہی ہے، اور جس کی روح پرومیتھیس کے ادھورے المیے سے مستعار لی گئی ہے۔ خالد جاوید نے ان تمام عالمی اجزاء کو اپنی مخصوص ’کراہت آمیز ہانڈی‘ میں ڈال کر ایک ایسا ’مابعد جدید سالن‘ تیار کیا ہے جس کی خوشبو تو مغربی ہے، مگر بدبو اردو نثر کی اپنی ہے۔
ان کے مداحوں کے لیے یہ ’توارُد‘ یا ’استفادہ‘ہو سکتا ہے، لیکن ایک باخبر قاری کے لیے یہ اردو فکشن کی اس ’جعلی لافانیت‘ کا وہ جنازہ ہے جسے جے سی بی اور دیگر انعامات کے سنہری تابوت میں بند کر کے نکالا جا رہا ہے۔
اختتامیہ:
ہمارے ہاں تنقیدی شعور کی سطح تاحال اتنی پست ہے کہ یہاں ’سرقہ‘ صرف اسے مانا جاتا ہے جب کوئی کسی کی جیب سے لفظوں کے سکے نکال لے؛ اگر کوئی پورا ’فکری بینک‘ ہی لوٹ لے تو اسے ’استفادہ‘ یا ’تاثر‘ کا نام دے کر سندِ قبولیت عطا کر دی جاتی ہے۔
اردو کے ادبی حلقوں میں جب ہم ’سرقہ‘ کی بات کرتے ہیں، تو عموماً ذہن لفظی مماثلت، جملوں کے چربے یا پیراگراف کی چوری کی طرف جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی قدیم اور فرسودہ سوچ ہے جو ادب کو محض ’لسانی لغت‘ کا مجموعہ سمجھتی ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ لفظی سرقہ ایک بھونڈی اور اناڑی حرکت ہے جسے پکڑنا جتنا آسان ہے، اس سے بچنا بھی اتنا ہی سہل ہے۔ لیکن دورِ جدید میں جس سنگین ادبی جرم نے سر اٹھایا ہے اور جس کا شکار خالد جاوید جیسے ’ذہین‘ ادیب نظر آتے ہیں، وہ Conceptual Plagiarism (تصوراتی سرقہ) یا Architectural Appropriation (تعمیری تصرف) ہے۔
یہ ایک ایسا مخفی گناہ ہے جہاں ادیب دوسرے کے تخیل کی ’روح‘ قبض کر لیتا ہے لیکن بدن اپنا استعمال کرتا ہے۔ یعنی وہ کسی دوسرے تخلیق کار کے برسوں کے ریاض سے پیدا ہونے والے ’انوکھے اور اچھوتے بیانیے‘ (Unique Premise) کا ڈھانچہ چرا لیتا ہے اور اس پر اپنی مخصوص نثر کا روغن مل کر اسے ’اوریجنلٹی‘ کا نام دے دیتا ہے۔ منطقی طور پر دیکھا جائے تو کسی فن پارے کی اصل ملکیت اس کے ’الفاظ‘ نہیں بلکہ وہ ’آئیڈیا‘ ہوتا ہے جو اس کی بنیاد ہے۔ اگر آپ کسی کے مکان کا نقشہ، اس کی بنیادوں کا زاویہ اور اس کی تعمیراتی منطق چرا لیں، تو محض دیواروں پر نیا رنگ کر دینے سے وہ مکان آپ کا نہیں ہو جاتا۔
عالمی سطح پر اس جرم کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بڑے بڑے نامور فنکاروں کو اس محاذ پر ذلت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مثال کے طور پر، ہالی ووڈ کے عظیم ہدایت کار گیلرمو ڈیل ٹورو (Guillermo del Toro) کی فلم "The Shape of Water” کو لیجیے؛ اس پر یہ الزام عائد ہوا کہ اس کا مرکزی تصور (ایک گونگی عورت اور پانی کے مخلوق کی محبت) پال زنڈل کے ڈرامے سے مستعار ہے۔ یہاں الفاظ نہیں چرائے گئے تھے، بلکہ وہ ’تخلیقی صورتحال‘ چرائی گئی تھی جو اس سے قبل کسی کے ذہن کی اختراع تھی۔ اسی طرح کرسٹوفر نولن کی فلم "Inception” پر اکثر یہ بحث چھڑتی ہے کہ اس کا خواب در خواب والا پیچیدہ ڈھانچہ جاپانی اینیمے ڈائریکٹر ساتوشی کون (Satoshi Kon) کی فلم "Paprika” سے اس قدر مشابہ ہے کہ اسے محض ’توارد‘ کہنا عقل و دانش کی توہین ہے۔
اردو کے ’سادہ لوح‘ نقادوں کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ’ترغیب‘ (Inspiration) اور ’تصوراتی سرقہ‘ (Conceptual Plagiarism) کے درمیان ایک بہت باریک لیکن واضح لکیر ہوتی ہے۔ ترغیب وہ ہے جو آپ کے اندر ایک نیا بیج بوئے، جس کی کونپلیں آپ کی اپنی مٹی سے پھوٹیں اور جس کا ثمر آپ کا اپنا ہو۔ لیکن اگر آپ نیل گیمن کے ’خواب میں حمل‘ کے تصور کو یا ’ڈارک‘ (Dark) سیریز کے زمانی چکروں کے مخصوص پیٹرن کو اٹھا کر اردو میں منتقل کر دیتے ہیں، تو یہ ترغیب نہیں بلکہ ’فکری اسمگلنگ‘ ہے۔ یہ وہی عمل ہے جسے ٹی ایس ایلیٹ نے ’پختہ شاعر کی چوری‘ کہا تھا، مگر ایلیٹ نے یہ بھی شرط رکھی تھی کہ چوری شدہ مال کو اس طرح ’تبدیل‘ (Transform) کر دیا جائے کہ وہ ایک بالکل نئی شے بن جائے۔ خالد جاوید کے ہاں یہ تبدیلی مفقود ہے۔ وہ آئیڈیا کا ڈی این اے (DNA) وہی رکھتے ہیں، بس اس کا ’لباس‘ بدل دیتے ہیں۔
تصوراتی سرقہ اس لیے بھی سنگین جرم ہے کیونکہ یہ قاری کے ساتھ ایک طرح کا ’فکری دھوکا‘ ہے۔ جب ایک ادیب کسی عالمی شاہکار کے مرکزی خیال کو اپنی ’دریافت‘ بنا کر پیش کرتا ہے، تو وہ دراصل اس اصل تخلیق کار کے حق پر شب خون مارتا ہے جس نے اس انوکھے خیال کو جنم دینے کے لیے ذہنی اذیت سہی ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسی ’دماغی نکسل بازی‘ ہے جہاں آپ دوسرے کی جاگیر پر قبضہ کر کے وہاں اپنا جھنڈا گاڑ دیتے ہیں۔
اگر اردو دنیا میں ہم نے اس ’تصوراتی سرقہ‘ کو ’استفادہ‘ کے خوبصورت لفافے میں لپیٹ کر بخشنا جاری رکھا، تو ہمارا فکشن کبھی ’عالمی‘ نہیں بن سکے گا، بلکہ وہ ہمیشہ مغربی آئیڈیاز کا ایک ’سستا ری سائیکلنگ پلانٹ‘ ہی رہے گا۔ ایک صاحبِ منصب ادیب کا یہ فرض ہے کہ وہ اس ’فکری قزاقی‘ کو بے نقاب کرے، تاکہ تخلیق کی حرمت بحال رہ سکے۔ خالد جاوید کے پانچوں ناولوں کا پوسٹ مارٹم اسی لیے ضروری ہے تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ جسے ہم ’خالد جاوید کا معجزہ‘ کہہ رہے ہیں، وہ دراصل عالمی ادب کے ’خاموش مآخذ‘ کی وہ بازگشت ہے جسے ہم نے اپنی کم علمی کے باعث ’انوکھا اسلوب‘ سمجھ لیا ہے۔
خالد جاوید کے پانچ ناولوں کی بساط اُلٹنے کے بعد اب وقت آ گیا ہے کہ اس ’تخلیقی بت‘ کے پاؤں دیکھے جائیں، جو مٹی کے نہیں بلکہ مغرب سے مستعار لیے گئے ’سنگِ مرمر کے چربوں‘ سے بنے ہیں۔ ان کے غالی مداحوں کا یہ دعویٰ کہ ان کا اسلوب ’انوکھا‘ ہے اور یہ ان کی ’سگنیچر ٹیون‘ ہے، دراصل اس حقیقت سے چشم پوشی ہے کہ یہ اسلوب ان کی اپنی تخلیقی جبلت کا ثمر نہیں بلکہ عالمی اسالیب کا ایک ایسا ’ملغوبہ‘ ہے جسے بڑی عیاری سے اردو کے قالب میں ڈھالا گیا ہے۔
کیا یہ حیرت انگیز نہیں کہ ان کے مداح جسے ’اوریجنلٹی‘ کہتے ہیں، وہ دراصل ایمیل زولا کے فطرت پسندی (Naturalism) اور ژاں پال سارتر کی ’متلی‘ (Nausea) کا وہ نچوڑ ہے جسے مغربی ادب کئی دہائیاں پہلے ہضم کر کے تھوک چکا ہے؟ خالد جاوید نے ان تمام بکھرے ہوئے اجزاء کو اٹھایا، ان میں تھوڑی سی ’بریلی کا فلسفیانہ چورن‘ ملایا اور اردو قاری کو یہ یقین دلا دیا کہ یہ ان کا ’ذاتی وجودی کرب‘ ہے۔ کیا اسی کوخالد جاوید کے مداح ’’انوکھے اسلوب‘‘ سے تعبیر کررہے ہیں؟
حقیقت تو یہ ہے کہ خالد جاوید اردو فکشن کے وہ ’فرینکنسٹائن‘ ہیں جن کے تخلیقی محل کی ایک اینٹ کافکا کے دفتر سے آئی ہے، تو دوسری نیل گیمن کے خوابوں سے؛ جس کا ایک دریچہ رومان پولانسکی کے پانی میں کھلتا ہے تو دوسرا اسٹیفن کنگ کی موت کی راہداری میں۔ خالد جاوید کا اپنا حصہ صرف وہ ’کراہت آمیز نثر‘ ہے جو ان تمام عالمی شاہکاروں کے جوڑوں کو جوڑنے کے لیے ’گوند‘ کا کام کرتی ہے۔ خالد جاوید کے جگری یار خورشید اکرم صاحب اکثر ان کی ستائش کرتے ہوئے ’’بین الاقوامی ادیب‘‘ ہونے کی گردان جب کرتے ہیں، تو شاید ان کا بھی درپردہ یہی اشارہ ہوتا ہے کہ ان کے ممدوح سے ’بریلوی عطر‘ کم اور امپورٹڈ پرفیوم کی ’اسپرٹ‘ کی بُوزیادہ پھوٹتی ہے۔
علامہ اقبال کا ’جاوید نامہ‘ اپنے بیٹے سے خطاب اور ایک عظیم الشان ’ایشیا کی ڈیوائن کامیڈی‘ پر ختم ہوا تھا۔ میرا یہ ’’جاوید نامہ جدید‘‘ بھی ایک طرح کا ’افلاکی تماشہ‘ ہی ثابت ہوا، جہاں شہرت کے ساتویں آسمان پر بیٹھے ایک ادیب کی ’جعلی لافانیت‘ کا بت ریزہ ریزہ ہو کر زمین پر آ گرا ہے۔ اقبال کے جاوید نے تو شاید اپنے باپ کی نصیحتیں پلے باندھ لی ہوں گی، لیکن اس ’جاوید‘ کے ان غالی مداحوں کا کیا کیجیے جن کے نزدیک فکری قزاقی اور اسلوبیاتی تکرار ہی ’تخلیقِ نو‘ کا دوسرا نام ہے۔ ان کا وہ ’سگنیچر ٹون‘ دراصل ان ہوموفوبک (Homophobic) اور متعصبانہ چیخوں میں دب گیا ہے جو علمی بحث کا جواب گالیوں سے دینے کے عادی ہیں۔ میرا یہ محاسبہ کسی بغض کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس ’ادبی دیانتداری‘ کا تقاضا تھا جسے میں نے شمس الرحمٰن فاروقی کی چوکھٹ سے سیکھا ہے۔ میں خالد جاوید کا اب بھی اتنا ہی اچھا دوست ہوں جتنا ہیمنگ وے کا دوست شیروڈ اینڈرسن تھا، جس نے دوستی کا حق بھی نبھایا اور وقت پڑنے پر اپنے ممدوح کے فن کی ’پیروڈی‘ لکھ کر اسے آئینہ بھی دکھا دیا۔
اب اس تفصیلی جراحی کے بعد، ہم اس بحث کو مزید لایعنی تکرار میں الجھانے کے بجائے ممدوح مصنف اور ان کے غالی مداحوں کے سامنے دو نہایت واضح آپشنز(Options) رکھتے ہیں، تاکہ اردو ادب میں’’تصوراتی سرقہ‘‘ اور ’’تعمیری تصرف‘‘ کے نام پر ہونے والی اس خاموش اسمگلنگ کا فیصلہ ہو سکے:
۱۔ اعترافِ حقیقت: خالد جاوید صاحب علانیہ یہ تسلیم کر لیں کہ ان کے ناول کے بنیادی آئیڈیاز، وجودی تصورات اور اسلوبیاتی ساخت ’اوریجنل‘ نہیں ہیں، بلکہ وہ عالمی شاہکاروں سے Inspired by یا Recreated by کے زمرے میں آتے ہیں۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں، تو ہم ان کی ’تخلیقی دیانتداری‘ کو سلام کرتے ہوئے اسے ان کی وسعتِ مطالعہ کا ثمر سمجھ کر قبول کر لیں گے۔
۲۔ دعویٰٔ اوریجنلٹی: یا پھر خالد جاوید صاحب اور ان کا ’دفاعی بریگیڈ‘ سینہ تان کر حسب سابق اپنی ڈھٹائی پر قائم رہے کہ ان کے ناول کے تمام آئیڈیاز، مرکزی خیال، پلاٹ اور اسلوبیاتی پیٹرن سو فیصد ان کے اپنے اور’ اوریجنل‘ ہیں اور ان کا تھامس برن ہارڈ، سارتر یا کافکا وغیرہ سے کوئی ’تعمیری‘ تعلق نہیں ہے۔ اگر وہ اس دوسرے راستے کا انتخاب کرتے ہیں، تو پھروقت اپنی عدالت میں اس کا فیصلہ کرے گا، کہ ہم نے اپنی چارج شیٹ اسے سونپ دی ہے۔

