ڈونلڈ ٹرمپ کو یقین ہے کہ ایران جنگ آنے والے چند دنوں میں کسی معاہدے کے ذریعے ختم ہو جائے گی اور اس معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو اس جنگ سے پہلے کے زمانے کے مطابق کھول دیا جائے گا۔ انہیں یہ امید بھی ہے کہ ایسے کسی معاہدے میں یہ شرط بھی شامل ہوگی کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔ ایرانی وزارتِ خارجہ نے بھی یہ بیان دیا ہے کہ اگرچہ فریقین کے مابین ابھی تک کوئی معاہدہ طے نہیں ہوا لیکن ایسے معاہدے کی بہت سی شقوں پہ اتفاق رائے ہوچکا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دوران صدر ٹرمپ نے جب اپنی کابینہ کے ساتھ اس ممکنہ معاہدے پر بات چیت کی تو انہوں نے اچانک یہ شرط لگا دی کہ اگر مزید مسلم ممالک ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہوں گے اور اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کریں گے تو وہ تبھی ایران کے ساتھ امن معاہدے پہ دستخط کریں گے۔
سو خبریں یہی ہیں کہ واشنگٹن اور تہران کسی ممکنہ معاہدے کے قریب آ رہے ہیں لیکن یہ جنگ بدستور جاری ہے اور حملے بھی نہیں رکے۔ خاص طور پر لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں روزانہ درجنوں افراد مارے جا رہے ہیں، جبکہ بنیامین نیتن یاہو حزب اللہ کو “تباہ کن ضرب” لگانے کا اعلان کر رہے ہیں۔ یہ جنگ جس کا بڑا مرحلہ شاید 7 اکتوبر 2023 سے جوڑا جاتا ہے، یا بعض اسے 1948 سے اور کچھ ہزاروں سال پرانی تاریخ سے جوڑتے ہیں، اس کے نتیجے میں ہزاروں جانیں ضائع ہو چکی ہیں—صرف گزشتہ تین مہینوں میں 28 فروری سے شروع ہونے والی امریکی-اسرائیلی کارروائیوں کے دوران خطے میں 10,000 تک افراد مارے جا چکے ہیں۔ اس بڑھتی ہوئی ہلاکت خیزی کا مطلب یہ ہے کہ چاہے جنگ کسی بھی انجام کو پہنچے اور کوئی معاہدہ ہو یا نہ ہو، اسلام پسند اس “ایران جنگ” کو جہاد کے نئے حوالے کے طور پر استعمال کریں گے۔
جہاد، صدیوں سے، اسلامی بالادستی اور مسلم مظلومیت کے خودساختہ تضاد پر قائم رہا ہے۔ ایک طرف اسلام پسند جنگی فتوحات کے لیے مذہبی متون کا حوالہ دیتے ہیں، جن میں "غیر مسلموں” پر غلبہ یا جزیہ عائد کرنے کا تصور موجود ہے، اور دوسری طرف "مسلم بائیں بازو” نوآبادیاتی مزاحمت کے نام پر اسی نوعیت کے بیانیے اور تشدد کو اپناتا ہے، جبکہ مسلم تاریخ کے اپنے نوآبادیاتی پہلوؤں پر غور سے گریز کرتا ہے۔ ایران ان دونوں فکری دھاروں میں آسانی سے فٹ بیٹھتا ہے، اسی لیے اسلامی جمہوریہ کا پرچم—جو خطے میں لاکھوں افراد کی ہلاکت اور بے دخلی سے جڑا ہے—اسلام پسند اور بائیں بازو کے مظاہروں میں اکثر نظر آتا ہے۔ اور اب ایران دنیا بھر میں جہادی رجحانات کو تقویت دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
گزشتہ چند مہینوں میں ایران نواز جہادیوں نے روٹرڈیم، میونخ، مشی گن، سکوپجے، لیئج اور کینٹن میں یہودی عبادت گاہوں اور دیگر یہودی مقامات پر حملے کیے ہیں—اور صرف لندن میں حالیہ عرصے میں کم از کم دس ایسے حملے رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان میں سے کئی حملے "حرکت اصحاب الیمین الاسلامیہ” سے منسلک بتائے جاتے ہیں، یہ تنظیم ایران کے نیم فوجی دستوں کے ساتھ ہم آہنگی میں کام کرتی دکھائی دیتی ہے۔ ایران کی اسرائیل کے خلاف طویل جہادی مہم اب مغرب تک پھیل چکی ہےجہاں ہر یہودی ممکنہ ہدف کے طور پر شامل ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اسلامی متون میں پائی جانے والی یہود مخالف روایات اور قتل پر مبنی تصورات اس تشدد کے نظریاتی محرکات میں شامل ہیں۔
یہود دشمنی کی یہ شدت سنی اور شیعہ دونوں مکاتبِ فکر میں مشترک ہے۔ اگرچہ حالیہ دہائیوں میں جہاد کی قیادت زیادہ تر سنی گروہوں کے پاس رہی ہے، لیکن ایران سے جڑے رجحانات کے بڑھنے سے آئندہ برسوں میں شیعہ کردار میں اضافہ متوقع ہے۔
اس کی دو بڑی وجوہات ہیں: ایک مذہبی—شہادت کا تصور جو دونوں مکاتب میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے—اور دوسری سیاسی و نظریاتی، یعنی ایران کا "ولایتِ فقیہ” کا نظام، جس میں مذہبی و سیاسی اقتدار ایک اسلامی فقیہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ خاندانی نظام نہیں، لیکن عملی طور پر قیادت اکثر اسی حلقے تک محدود رہتی ہے جو سلسلہ سادات سے تعلق کی بنیاد پر اسکو اپنا نسلی اور موروثی حق مانتی ہے۔ یہ رجحان واقعۂ کربلا (680 عیسوی) سے جڑا ہے، جہاں شہادت شیعہ عقیدے کا مرکزی واقعہ ہے اور سنی-شیعہ تقسیم کی ایک بنیاد بھی۔
واضح رہے کہ خامنہ ای کا تعلق بھی سلسلہ سادات سے ہے، اور اسی روایت کے تسلسل میں مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں ممکنہ جانشینی کو بھی "الٰہی حق” کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ ان کے والد علی خامنہ ای اور خاندان کے دیگر افراد کی شہادتوں کو بھی اسی بیانیے سے جوڑا جاتا ہے، جس سے قیادت کو ایک مذہبی تقدس حاصل ہوتا ہے۔
ایران نے مذہبی ڈھانچے کو جغرافیائی سیاست کے ساتھ جوڑ کر سنی-شیعہ تقسیم کو مزید گہرا کیا ہے۔ حالیہ برسوں میں پانی کی تنصیبات پر حملے—چاہے ایران کی طرف سے ہوں یا اسرائیل کی طرف سے—کربلا کے واقعے کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ اسی طرح مذہبی مقامات پر حملے شیعہ مظلومیت کے بیانیے کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔
آج یہ علامتیں ایران، اس کے اتحادی گروہوں اور جہادی نیٹ ورکس کے ذریعے سنی خلیجی ریاستوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں، جنہیں "اسلام کے دشمن”کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کیونکہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔
کویت سمیت کئی خلیجی ممالک میں شیعہ عسکری منصوبے بے نقاب ہوئے ہیں۔ متحدہ عرب امارات اور بحرین میں ایران کی حمایت کے الزام میں کئی شیعہ افراد گرفتار یا ملک بدر کیے گئے ہیں۔ اگرچہ ان پالیسیوں سے بے گناہ لوگ بھی متاثر ہو سکتے ہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض شیعہ حلقے اپنے ملکوں کے بجائے ایران کی سیاسی ترجیحات کو فوقیت دیتے ہیں۔
مغرب نے ہمیشہ ایرانی مذہبی قیادت کو خطرہ سمجھا ہے، لیکن خلیجی ریاستیں بھی اسلامی جمہوریہ کے خاتمے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ ابراہیمی معاہدے، جو 7 اکتوبر 2023 سے پہلے مقبول ہورہے تھے ، اسرائیل، امریکہ اور کئی عرب ممالک کے درمیان تعاون کی علامت تھےاور ایران کے اثر کو کم کرنے کا مقصد رکھتے تھے۔ تاہم ایران اس مخالفت کو اپنی نظریاتی مظلومیت کے بیانیے کے لیے استعمال کرتا رہاہے۔
حماس جیسے سنی جہادی گروہ بھی ایران کے ساتھ مشترکہ طور پر اسرائیل کے خاتمے کے مقصد میں شریک رہے ہیں۔ اسی طرح کئی سنی مذہبی شخصیات بھی ایران کی حمایت کر چکی ہیں، حالانکہ ایران بعض اوقات خود سنی ریاستوں کو نشانہ بناتا ہے۔ حتیٰ کہ القاعدہ سے منسلک سائبر جہاد گروہ بھی ایران نواز نیٹ ورکس کی حمایت کا اعلان کر چکا ہے۔
چونکہ جہادی بھرتی زیادہ تر آن لائن ہو رہی ہے، اس لیے آئندہ برسوں میں جہادی حملے ممکنہ طور پر ایران کے سیاسی و نظریاتی بیانیے کے ساتھ منسلک ہوں گے۔
غزہ اور لبنان میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں، اور مغرب میں مسلمانوں پر حملے، اس بیانیے کو مزید مضبوط کریں گے اور نئے جہادی رجحانات کو جنم دیں گے۔
یہ سب کچھ ایران جنگ کے نتیجے سے قطع نظر جاری رہے گا۔ اگر ابراہیمی معاہدے مزید پھیلتے ہیں اور ایران کمزور ہوتا ہے، تب بھی جہادی بیانیہ یہودیوں، مغرب اور معتدل سنی مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہرائے گا۔ اور اگر ایران کا موجودہ نظام برقرار رہتا ہے تو وہ اپنی "فتح” کے بیانیے کو مزید مضبوط کرے گا۔
یوں چاہے اسلامی جمہوریہ ایران برقرار رہے، کمزور ہو یا مضبوط، وہ آئندہ عالمی جہادی لہر کے لیے ایک بنیادی محرک کے طور پر سامنے آ سکتا ہے۔
مصنف : کنور خلدون شاہد
مترجم: محمد شوذب عسکری
بشکریہ دا فری تھنکر( یو کے)
کنور خلدون شاہد صحافی اور مصنف ہیں۔ وہ "دی ڈیپلومیٹ”کے پاکستان میں مقیم نمائندہ ہیں، اور "دی سپیکٹیٹر” اور "دی فری تھنکر” کے لیے بطور کالم نگار کام کرتے ہیں۔

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version