مولانا نہیں چاہتے تھے کہ چشمہ لفٹ کینال جیسے میگا پراجیکٹ کی فراہمی کا اعزاز فیصل کنڈی یا پیپلزپارٹی کو ملے۔
جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن بلآخر وفاقی حکومت سے ڈیرہ اسماعیل خان جیسے نظرانداز کردہ خطہ کے لئے ایسا ترقیاتی پیکج حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے جس کا فائدہ مقامی آبادی کو ملے نہ ملے مولانا بردران اس” پیکج “ سے بھرپور استفادہ کربں گے،منگل کے صبح رتہ کلاچی اسٹیڈیم میں اپنے بھائیوں کے ہمراہ مولانا فضل الرحمن جب میاں نوازشریف کو خوش آمدید کہہ رہے تھے تو ان کے چہرہ پہ خوشی و تشکر کے احساسات نمایاں تھے،اس دن اگرچہ شہر کا درجہ حرارت 46 سنٹی گریڈ تھا لیکن شدیدترین گرمی کے باوجود ہزاروں لوگ جلسہ گاہ اس لئے پہنچے کہ انہیں توقع تھی کہ میاں نوازشریف ان کے دکھوں کا مداوا کر سکتے ہیں مگر افسوس،ایسا نہ ہو سکا۔بہرحال! ناقص انتظامات کے باوجود یہ پرشکوہ اجتماع وزیراعظم کے شایان شان تھا اور جس وقت وزیراعظم سامعین سے مخاطب ہوئے انہیں پرجوش ریسپانس ملا۔
جس ٹانک زام ڈیم جیسے قابل عمل منصوبہ کی فیزبیلٹی رپوٹ کےلئے وزیراعظم نے 8 کروڑ روپے مختص کئے،2001 میں گورنر افتخار حسین کی حکومت اور 2004 ءمیں خود ایم ایم اے حکومت اسی ٹانک زام ڈیم کے لئے آٹھ،آٹھ کروڑ مختص کر چکی ہے،سولہ سالوں میں معاملہ فیزبیلٹی رپوٹ سے آگے نہیں بڑھ سکا۔
اس قبل وزیراعظم نے یارک کے مقام پہ، 129.782،ارب کی لاگت سے تعمیر ہونے والے راہداری منصوبہ کے مغربی روٹ کا سنگ بنیاد رکھا،مولانا فضل الرحمٰن کے علاوہ خیبرپختونخوا کے گورنر اقبال ظفرجھگڑا اور ہاﺅسنگ کے وفاقی وزیر اکرم درانی بھی ان کے ہمراہ تھے ۔نوازشریف نے کہا،یہاں سے عظیم تجارتی راہداری اور انٹرنیشنل ریلوے لائن گزرے گی جو ڈیرہ اسماعیل خان جیسے دور افتادہ خطہ کو بلوچستان ،پنجاب اور سندھ سمیت قومی ترقی کے اجتماعی دھارے سے مربوط کر دے گی، 260کلومیٹر لمبی ہکلہ یارک روڈ خطہ کی تقدیربدل دے گی ۔
وزیراعظم نے متفرق ترقیاتی منصوبوں کے لئے 50کروڑ اور چار تحصیلوں کو گیس کی فراہمی کےلئے 77 کروڑ کے فنڈز دینے کا اعلان کیا،بوئنگ طیاروں کے لئے ائرپورٹ کی توسیع اور اے ٹی آر طیار سروس کے فوری اجراءکا حکم دیا اور دامان زرعی یونیورسٹی اور 120 ارب کی لاگت سے چشمہ لفٹ کینال کی تعمیر کا مژدہ جاں فزاءبھی سنایا،لفٹ کینال منصوبے کے لئے 35فیصد صوبائی اور 65فیصد فنڈز وفاقی حکومت مہیا کرے گی۔وزیراعظم نے ٹانک زام ڈیم کی فزیبلٹی رپوٹ کےلئے 8 کروڑ اور 17 کلو میٹر طویل لدھو مارجنل بند کا سروے کرانے کا وعدہ کیا۔ہکلہ یارک موٹر وے منصوبہ جو درجنوں پلوں اور کئی انٹرچینجز پر محیط ہے دوسال میں مکمل ہو جائے گا،ملک کے کم ترقی یافتہ علاقوں سے گزرنے والی اس موٹر وے سے روزگار کے مواقع اور ترقی کے نئے امکانات پیدا ہوں گے جس سے مقامی معیشتیں توانا ہوں گی۔
شہر کے لئے 50 کروڑ کے ترقیاتی فنڈ اسی طرح ضائع ہو جائیں گے جیسے رواں سال میں مولانا فضل الرحمٰن کو وفاقی حکومت سے ملنے والے تیس کروڑ کے فنڈ غتربود ہو گئے
میاں نواز شریف بیس سال بعد ڈیرہ اسماعیل خان آئے،قبل ازیں وہ دسمبر1996 میں انتخابی مہم کے دوران بھکر جاتے ہوئے ڈیرہ اسماعیل خان رکے تھے،ظفراللہ جمالی اور شوکت عزیز کو یہاں آنے کی مہلت نہ ملی لیکن وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی ڈیرہ آمد کی خواہش کی راہ میں مولانا فضل الرحمٰن خود حائل رہے،چونکہ،2008ءکے الیکش میں مولانا فضل الرحمٰن ڈیرہ اسماعیل خان کے حلقہ این اے 24 سے پی پی پی کے امیدوار فیصل کنڈی سے الیکش ہار چکے تھے، اکرم درانی کی عنایات کی بدولت مولانا بنوں سے ایم این اے منتخب کر قومی اسمبلی پہنچے۔وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سرائیکی بولنے والے خطہ، ڈیرہ اسماعیل خان، میں لفٹ کینال کا سنگ بنیاد رکھنے کے خواہشمند تھے لیکن وفاقی حکومت میں اتحادی ہونے کے ناطے وہ یوسف رضا گیلانی اور لفٹ کینال کی راہ میں حائل ہو گئے۔مولانا نہیں چاہتے تھے کہ چشمہ لفٹ کینال جیسے میگا پراجیکٹ کی فراہمی کا اعزاز فیصل کنڈی یا پیپلزپارٹی کو ملے۔اس سے قبل 1974 ءمیں وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو نے جب ڈیرہ اسماعیل خان کو ساڑھے سات ہزار کیوسک کی چشمہ رائٹ بنک کینال دینے کی کوشش کی تو مفتی محمود مغفور نے دس ہزار کیوسک پانی کے مطالبات کی گونج میں مسٹر بھٹو کے ارادوں کو ناکام بنا دیا تھا لیکن اسی مفتی محمود نے 1979 ءمیں جنرل ضیاالحق کے ساتھ 28 کیوسک کی حامل اس سی آر بی سی نہر کا سنگ بنیاد رکھا جسکا افتتاح 2003 ءمیں جنرل مشرف نے کیا،اسی طرز عمل نے ہماری سیاست میں دور رس منصوبوں کو منجمد رکھا اور سیاستدانوں نے ارتقائی عمل کو اپنی ادنیٰ سیاسی ضروریات کے تابع رکھ کے انسانی محرومیوں کو اپنی جمودپرور سیاست کا ایندھن بنایا ۔2002 ءمیں جنرل مشرف نے اپنی صدراتی مہم کے دوران بنوں میں اسی چشمہ لفٹ کینال کی تعمیر کا اعلان کیا جس کی لاگت کا تخمینہ 70 ارب روپے تھا،2010ءمیں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے پشاور میں 80 ارب روپے کی لاگت سے دوسری بار اور اب 2016 ءمیں میاں نواز شریف نے تیسری بارایک سو بیس ارب کی لاگت سے چشمہ لفٹ کینال کی خوشخبری سنا گئے،سی آر بی سی لفٹ کینال اگرچہ قابل عمل پراجیکٹ نہیں لیکن امیدوں کے بھوکے عوام انہی خالی خولی اعلانات سے بہل جاتے ہیں۔دوسرے،جس ٹانک زام ڈیم جیسے قابل عمل منصوبہ کی فیزبیلٹی رپوٹ کےلئے وزیراعظم نے 8 کروڑ روپے مختص کئے،2001 میں گورنر افتخار حسین کی حکومت اور 2004 ءمیں خود ایم ایم اے حکومت اسی ٹانک زام ڈیم کے لئے آٹھ،آٹھ کروڑ مختص کر چکی ہے،سولہ سالوں میں معاملہ فیزبیلٹی رپوٹ سے آگے نہیں بڑھ سکا۔
مولانا فضل الرحمٰن فی الوقت ڈیرہ اسماعیل خان کو بنوں سرکل سے اس لئے وابستہ رکھنا چاہتے ہیں کہ بنوں کی ریکوری دس فیصد سے کم اور ڈیرہ اسماعیل خان کی ساٹھ فیصد سے زیادہ ہے
ڈیرہ اسماعیل خان شہر کے لئے 50 کروڑ کے ترقیاتی فنڈ اسی طرح ضائع ہو جائیں گے جیسے رواں سال میں مولانا فضل الرحمٰن کو وفاقی حکومت سے ملنے والے تیس کروڑ کے فنڈ غتربود ہو گئے،چاروں تحصیلوں کو قدرتی گیس مہیا کرنے کےلئے 77 کروڑ کی فراہمی ناقابل توجیح منصوبہ ہے، دیہی سماج پہ مشتعمل دورافتادہ تحصیلوں کو قدرتی گیس کی نہیں صحت،تعلیم اور بجلی کی ضرورت ہے،سوئی ناردرن گیس والے نازاں برادران سے مل کے یہ خطیر رقم بھی ویسے ہی ہضم کر لیں گے جسے،پاک پی ڈبلیو ڈی نے پہلے سے تعمیر شدہ ترقیاتی سکیموں کو اپنا کے دس کروڑ کے فنڈ ہضم کر لئے۔ ڈیرہ کے عوام وزیراعظم سے جن قابل عمل منصوبوں کے اعلان کی توقع کر رہے تھے، ان میں مالی بحران میں پھنسی صوبہ کی دوسری قدیم گومل یونیورسٹی کےلئے مالیاتی پیکج اور دوسرے،ڈیرہ اسماعیل خان کے لئے واپڈا کے الگ سرکل کا قیام شامل تھا،مگر افسوس کے جلسہ میں ایسے مسائل کا ذکر تک نہیں کیا گیا جن سے وسیع آبادی متاثر ہو رہی ہے،مرکزی انجمن تاجران کے چیئرمیں سہیل اعظمی کہتے ہیں ڈیرہ اسماعیل خان میں صارفین کی تعداد تین لاکھ اور واپڈا کے تین بڑے ڈویژن موجود ہیں جن میں ڈیرہ اسماعیل خان سٹی اور رورل ڈویژن کے علاوہ ٹانک ڈویژن شامل ہیں،وزیراعظم نے جیسے ہزارہ کو تین ڈویژنوں پہ واپڈا کا الگ سرکل اور ہزارہ یونیورسٹی کو ایک بلین کی خصوصی گرانٹ دی، اگر ڈیرہ اسماعیل خان کو بھی اسی طرح کا پیکج دیتے تو یہاں کے باسیوں کے دن بدل سکتے تھے۔ مولانا فضل الرحمٰن فی الوقت ڈیرہ اسماعیل خان کو بنوں سرکل سے اس لئے وابستہ رکھنا چاہتے ہیں کہ بنوں کی ریکوری دس فیصد سے کم اور ڈیرہ اسماعیل خان کی ساٹھ فیصد سے زیادہ ہے،لیکن سرکل وائز مجموعی ریکوری کی اوسط نکال کر لوڈ شڈنگ کا شڈول اور بنوں سرکل کی بقاءکی جسٹیفیکشن بنائی جاتی ہے اگر ڈیرہ اسماعیل خان کو الگ سرکل مل گیا تو یہاں نہ صرف لوڈ شڈنگ کا دورانیہ کم ہو جائے گا بلکہ ایم این ٹی لیبارٹری اور بل بنانے والا کمپیوٹر سسٹم بھی مل جائے گا لیکن بنوں سرکل کے ملازمین کی تنخواہیں بند اور وجود خطرہ میں پڑ جائے گا،مولانا فضل الرحمٰن بنوں والوں کی ناراضگی کے خطرہ کے پیش نظر اپنے حلقہ نیابت کے ووٹرز کی آرزوں کا خون کرنے پہ کمربستہ ہیں،موقعہ پرستوں نے مولانا برداران کو دامان زرعی یونیورسٹی کا نام مفتی محمود زرعی یونیورسٹی رکھوانے کی راہ دکھائی ہے،اس سے قبل ڈویژن ہیڈکوارٹر ہسپتال،آرکیو لائبریری،ڈیرہ پبلک سکول اور شہر کے درجنوں چوکوں اور چوراہوں کے نام مفتی محمود مغفور سے منسوب کر کے مولانا برداران نے یادگاری عمل کو مضحکہ خیز بنا دیا۔
