ایران کی مذہبی قیادت پر مبنی حکومت ایک بار پھر اندرونی مزاحمت کی ایک نئی لہر کا سامنا کرنے کے باوجود قائم رہنے میں کامیاب دکھائی دیتی ہے، جسے حسبِ معمول اس کے بیرونی حریفوں نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ تاہم، انسانی جانوں کے ضیاع نے ایرانی اجتماعی شعور پر ایک نیا گہرا زخم چھوڑا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے ممکنہ حملے کا فوری خطرہ بھی فی الحال ٹل چکا ہے۔ واشنگٹن اور تل ابیب نے، بیشتر خلیجی ممالک کی حمایت کے ساتھ، اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کی، جب اسٹریٹجک جائزوں سے یہ بات سامنے آئی کہ ایک وسیع تر علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے اور حکومت کی تبدیلی کے بعد کے منظرنامے کے لیے کوئی قابلِ عمل منصوبہ موجود نہیں ہے۔
ایران کے اندر، اسٹیبلشمنٹ کے خلاف مزاحمت اب بھی متحد محاذ یا قیادت سامنے لانے میں ناکام ہے۔ تاہم، اس کا یہ مطلب نہیں کہ امریکہ ، اسرائیل یا ان کے اتحادیوں نے تہران میں سیاسی تبدیلی کا ہدف ترک کر دیا ہے۔ اس کے بجائے، وہ اپنے طریقۂ کار میں تبدیلی لا رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، مضبوط سکیورٹی نظام، وفادار اداروں اور آبادی کے ایک بڑے حصے کی حمایت کی وجہ سے حکومت جلدی نہیں گرے گی۔
اس کے باوجود، بیرونی عناصر اور اندرونی مزاحمتی نیٹ ورک حکومت کو اس بحران سے مکمل طور پر سنبھلنے کے لیے زیادہ وقت دینے کے امکانات کم ہیں۔ دباؤ کے جاری رہنے کی توقع ہے، جو کم شدت سے زیادہ شدت کی طرف منتقل ہوگا، تاکہ بتدریج تبدیلی کے لیے زمین ہموار کی جا سکے۔
اس بات کا ایک اہم اشارہ کہ تبدیلی کے لیے زمین زرخیز ہے، مجلسِ خبرگانِ رہبری، شورای نگہبان، اور پاسداران انقلاب اور باقاعدہ فوج (ارتش) کے اندر یا ان کے درمیان اختلافات میں نمایاں دراڑیں ہیں۔ ایک ایرانی نژاد ماہر کے مطابق، یہ تمام اہم ادارے اب بھی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے بنیادی اسٹریٹجک نقطۂ نظر کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔
حالیہ اندرونی مزاحمت نے عرب اور کرد علاقوں میں علیحدگی پسند عناصر کو حوصلہ دیا ہے۔ حکومت کی یکجہتی کو توڑنے کے لیے، بیرونی عناصر نہ صرف اندرونی سیاسی مزاحمت کو متحرک کرنے کی کوشش کریں گے بلکہ دیگر داخلی کمزوریوں سے بھی فائدہ اٹھائیں گے، جن میں غیر فعال یا سرگرم بغاوتوں کو ہوا دینا بھی شامل ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، علیحدگی پسند اور مذہبی قیادت کی مخالف تحریکیں چند اہم علاقوں میں مرکوز ہیں: جنوب مغرب میں صوبہ خوزستان، جہاں بہت سے عرب ایرانی شکوے رکھتے ہیں؛ مغربی سرحدی علاقے، بشمول کردستان اور مغربی آذربائیجان، جہاں کرد علیحدگی پسند سرگرم ہیں؛ اور پاکستانی نقطۂ نظر سے، سیستان بلوچستان اور خراسان کے بعض حصوں کے بلوچ اضلاع، جہاں حکومت مخالف بلوچ مسلح گروہ اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ایرانی نژاد امریکی دانشور ولی نصر اپنی تازہ کتاب Iran’s Grand Strategy میں وضاحت کرتے ہیں کہ مذہبی حکومت کا ’’آگے بڑھ کر دفاع‘‘ کا نظریہ عنی اندرونِ ملک ریاست کے تحفظ کے لیے بیرونِ ملک طاقت کا مظاہرہ، ایران کے خلاف بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے مخالفین بھی یہی طریقہ اپنا کر حکومت کو اندر سے کمزور کر سکتے ہیں۔ ایران کے دشمن پہلے ہی ’’محورِ مزاحمت‘‘ یا ’’مقاومتی محاذ‘‘ کو متاثر کر چکے ہیں، جو اس حکمتِ عملی کے تحت قائم کردہ علاقائی پراکسی نیٹ ورک ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اگلا قدم ایران کے اندر ہی پراکسی عناصر کو متحرک کرنا یا تعینات کرنا ہو سکتا ہے۔
اگر ایسا ہوتا ہے تو بنیادی مقصد پاسداران انقلاب کو اندرونی محاذ پر زیادہ گہرے تصادم میں الجھانا ہوگا۔ سیاسی مزاحمت اور مسلح جدوجہد کا امتزاج ایرانی افواج پر دباؤ ڈال سکتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب ان کے پراکسی گروہ مدد کے لیے موجود نہ ہوں، کیونکہ ایران کا محورِ مزاحمت کمزور ہو چکا ہے اور کسی قسم کی معاونت فراہم کرنے کے قابل نہیں رہا۔
یہ وسیع تر رجحانات اب زمینی سطح پر واضح ہو رہے ہیں۔ اگرچہ رپورٹس کے مطابق حالیہ اندرونی مزاحمت نے عرب اور کرد علاقوں میں علیحدگی پسند عناصر کو تقویت دی ہے، تاہم سیستان بلوچستان کا خطہ وہ علاقہ ہے جہاں متعدد عسکری تنظیموں نے مبینہ طور پر ایرانی ریاست کے خلاف اپنی مہم تیز کرنے کے لیے مضبوط اتحاد قائم کیا ہے۔
جیش العدل ایک بلوچ علیحدگی پسند گروہ ہے جو ایران-پاکستان سرحد کے ساتھ سرگرم ہے۔ یہ اکثر بلوچ اکثریتی علاقوں میں ایرانی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتا ہے۔ یہ گروہ اب خود کو پیپلز فائٹرز فرنٹ (PFF) کہتا ہے۔ تین چھوٹے عسکری گروہ ، نصر موومنٹ، پدا بلوچ موومنٹ، اور محمد رسول اللہ گروپ، مبینہ طور پر اس نئی تنظیم میں ضم ہو چکے ہیں۔
یہ نیا نام اور شناخت اہم ہے۔ اپنی واضح مذہبی شناخت کو ترک کر کے، جیش العدل خطے کی نسبتاً معتدل بلوچ آبادی کے لیے زیادہ قابلِ قبول، سیکولر قوم پرستانہ تشخص پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سے اس کی نظریاتی سمت دیگر قوم پرست باغی تحریکوں، جیسے دہشت گرد بلوچ تنظیمیں BLF اور BLA اور کرد گروہ PJAK، کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتی ہے۔ اس تبدیلی سے تنظیم کے لیے بلوچ اور ایرانی تارکینِ وطن اور دیگر بیرونی سرپرستوں سے مالی اور سیاسی حمایت حاصل کرنا بھی نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔
اسٹریٹجک طور پر، یہ تبدیلی گروہ کو مغرب اور عرب دنیا میں قابلِ قبول بنانے کی کوشش ہے۔ یہ عبد المالک ریگی کے طریقۂ کار سے مشابہ ہے، جو ایران میں ایک بلوچ عسکری گروہ کا بانی تھا اور مغربی حمایت حاصل کرنا چاہتا تھا، مگر ناکام رہا، کیونکہ اس وقت دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ اپنے عروج پر تھی۔
یہ دور مختلف ہے۔ اگر ایران کے اندر علیحدگی پسند گروہ زیادہ متحرک ہو گئے تو وہ پاکستان کے بلوچ علیحدگی پسندوں کے ساتھ اتحاد کر سکتے ہیں، جنہوں نے اپنی صلاحیتیں مزید بہتر بنا لی ہیں۔ کچھ ماہرین اس بارے میں غیر یقینی کا اظہار کرتے ہیں اور دلیل دیتے ہیں کہ پی ایف ایف کو طویل عرصے سے سعودی حمایت یافتہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ چونکہ ریاض کے پاکستان کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں، اس لیے ایسا اتحاد کم ہی ممکن لگتا ہے۔ تاہم، اگر پی ایف ایف کو دیگر بیرونی عناصر کی حمایت حاصل ہو گئی ہو تو وہ زیادہ اسٹریٹجک خودمختاری کے ساتھ کام کر سکتا ہے۔
سرحد کے دونوں جانب بلوچ علیحدگی پسند گروہ بالآخر ’’گریٹر بلوچستان‘‘ کے تصور پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ تصور ایران، پاکستان اور افغانستان کے علاقوں پر محیط ہے، جس سے سرحد پار تعاون کا امکان پیدا ہوتا ہے۔
اگر سیستان بلوچستان میں بدامنی بڑھی تو بہت سے دہشت گرد عناصر اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان میں داعش کے عناصر اور وہ جنگجو بھی شامل ہو سکتے ہیں جو شام میں احمد الشراء کے نیٹ ورکس سے الگ ہو چکے ہیں۔ چونکہ یہ خطہ ’’گولڈن کریسنٹ‘‘ کا حصہ ہے، جو منشیات اور انسانی اسمگلنگ کا مرکز ہے، اس لیے جاری عدم استحکام ایران، پاکستان اور افغانستان میں ایک افراتفری پر مبنی زون تشکیل دے سکتا ہے۔
ایران میں کسی بھی بڑی سیاسی تبدیلی کے اثرات لازمی طور پر پاکستان پر مرتب ہوں گے، جن کے وسیع جغرافیائی سیاسی اور جغرافیائی معاشی نتائج ہوں گے۔ اگرچہ بعض ممکنہ نتائج پاکستان کے لیے محدود اسٹریٹجک فوائد فراہم کر سکتے ہیں، لیکن ایران-پاکستان سرحد پر بڑھتی ہوئی عدم استحکام اندرونی سلامتی کے دباؤ میں اضافہ کرے گی اور تہران کی حکومت کے ساتھ سنگین کشیدگی کو جنم دے سکتی ہے۔

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version