بلوچستان میں حالات کی خرابی یا کسی ناخوشگوار واقعے کا رونما ہونا بظاہر ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ متحارب گروہوں کی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع ہونا اور دونوں اطراف بیانیے کی جنگ بھی اب غیر معمولی نہیں رہی۔ سوال یہ ہے کہ بلوچستان کو حالات کی اس بدترین نہج تک پہنچانے میں کس کا حصہ کتنا ہے؟ اور وہ عناصر یا قوتیں جو حالات کی مسلسل خرابی کے باوجود غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں، ان کے اس طرزِ عمل کی وجوہات کیا ہیں؟ سیاسی حالات کو جس خطرناک رخ پر موڑا گیا ہے، اس پر قابو پانے کے آثار فی الحال دکھائی نہیں دیتے۔
سردار اختر جان مینگل کے قومی اسمبلی سے 17 ماہ بعد استعفے کی منظوری عین انہی دنوں میں ہوئی جب چند روز قبل ہی پورا بلوچستان آگ اور خون کا منظرنامہ پیش کر رہا تھا۔ یہ محض اتفاق نہیں ہو سکتا۔ اس پر تفصیل سے لکھنے اور جانچنے کی ضرورت ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا اب بھی بلوچستان کو ایک سیاسی تجربہ گاہ یا ایک لیبارٹری، سمجھا جا رہا ہے؟
2018 کے انتخابات سے چند ہفتے قبل ’’باپ‘‘ (بلوچستان عوامی پارٹی) کی تشکیل اور غیر سیاسی عناصر کو صوبے کی باگ ڈور سونپنے کے بعد جو تباہ کن منظرنامہ سامنے آیا، اس سے سبق سیکھنے کے بجائے بدقسمتی سے بلوچستان کی اسی تباہ حال سیاسی لیبارٹری میں ایک اور تجربے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ غیر سیاسی عناصر کو ایک نئے ’’کیمیائی عمل‘‘ سے گزارنے کی منظوری دی جا چکی ہے۔ اسلام آباد ایک بار پھر بلوچستان کے سیاسی معاملات میں تاریخ کے ایک بدصورت تجربے کی راہ پر گامزن دکھائی دیتا ہے۔
ایک مرتبہ پھر ’’باپ ‘‘ جیسی سرگرمی کو نئی شکل میں اڑان دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ چند غیر مقبول اور غیر سیاسی عناصر کو اکٹھا کر کے ’’بلوچستان عوامی کاروان‘‘ کے نام سے سرگرمی کا آغاز کیا گیا ہے۔ سیاسی حلقوں کا گمان ہے کہ آئندہ انتخابات میں اس ’’گلِ گنچہ‘‘ کو قوم پرست جماعتوں کے مقابل لا کھڑا کیا جائے گا۔ 2018 کے ناکام مگر تباہ کن تجربے سے کچھ سیکھنے کے بجائے، پیپلز پارٹی کی زبردستی انٹری اور اقتدار تک رسائی نے جو بگاڑ پیدا کیا، وہ کوئی افسانہ نہیں بلکہ عملی حقیقت ہے۔ مگر آنکھیں بند کیے ایک اور تجربے کی طرف پیش قدمی کا خمیازہ پھر بلوچستان کو ہی بھگتنا ہوگا۔
2024 میں پیپلز پارٹی کو اقتدار دلانے کے لیے ایسے غیر مقبول پارلیمانی عناصر کو یکجا کیا گیا جن کی سیاسی وابستگی سے زیادہ اہم ان کی اقتدار تک رسائی تھی۔ ان کے مقابلے میں اختر جان مینگل اور ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ جیسے جہاندیدہ اور عوام شناس سیاسی رہنماؤں کو انتخابی میدان میں شکست دی گئی۔ یہ ایک گہری کہانی ہے، مگر اس کہانی کے معمار ہمیشہ کی طرح اپنے فیصلوں کا ملبہ دوسروں پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک ان کے اقدامات ہی حرفِ آخر ہوتے ہیں، چاہے اس کے نتیجے میں بلوچستان جلتا رہے، ہفتوں تک بڑے شہروں کی رسائی منقطع رہے، شاہراہوں پر شام سے پہلے سفر سیکیورٹی خدشات کے باعث بند ہو جائے یا مہینوں تک ٹرین سروس معطل رہے—کوئی خود کو ذمہ دار تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔
گزشتہ انتخابات میں سردار اختر جان مینگل کو قومی اسمبلی کی نشست پر ہرا کر جس “ نُگل” (بلوچی میں طنزیہ طور پر تحفہ) کو گود لیا گیا، یا ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ جیسے سیاسی راہ شناس رہنما کے مقابل ایک ایسے شخص کو کامیاب کرایا گیا جو پچاس ہزار ووٹ لینے کے باوجود اپنے حلقے میں پچاس افراد کو بھی نہ پہچانتا ہو، اس تجربے کے نتائج آج کے بدترین حالات کی صورت میں سامنے ہیں۔ 2013 کے پرتشدد بلوچستان اور بعد ازاں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی وزارتِ اعلیٰ کے ڈھائی سالہ نسبتاً پرامن دور کا تقابلی جائزہ بھی بہت کچھ واضح کرتا ہے۔
اب ’’مکران عوامی کاروان‘‘ کے نام سے جو نئی سرگرمی شروع کی جا رہی ہے، وہ کس حد تک تباہی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے، یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں۔ ابتدا ہی سے غیر سیاسی عناصر کو اکٹھا کر کے ان کی سرپرستی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ ان سرگرمیوں کا مرکز اسلام آباد ہے اور ان کی کوریج مقامی میڈیا میں اس انداز سے کی جا رہی ہے گویا سردار عطا اللہ مینگل اور میر غوث بخش بزنجو دوبارہ سیاسی میدان میں اتر آئے ہوں۔ مقامی سوشل میڈیا پر درجنوں پلیٹ فارمز کے ذریعے بیک وقت ملاقاتوں، مبینہ سیاسی دھماکوں اور سنسنی خیز سرخیوں کی تشہیر سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بیانیہ سازی اور حالات کو اپنے موافق رکھنے کے لیے کس قدر عجلت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔
اسی تناظر میں سیاسی مبصرین کی آرا
مکران ڈویژن سے ممکنہ طور پر ایک نئی سیاسی جماعت کے قیام کی تیاریوں اور قوم پرست سیاست پر اس کے اثرات کے سوال پر تربت یونیورسٹی کے شعبہ بلوچی کے سربراہ سیاسی مبصر پروفیسر ڈاکٹر طاہر حکیم نے کہاکہ آثار و شواہد سے تو یہی معلوم ہوتاہے کہ ایک نئی کنگز پارٹی بنانے کی ابتدا کی جارہی ہے۔ چونکہ مکران سیاسی اور مسلح مزاحمت دونوں حوالے سے انتہائی اهمیت کی حامل ہے، شاید اسی لیے پہلے مرحلے میں مقتدر قوتوں نے اس خطے کا انتخاب کیا ہے۔ اور مکران عوامی کاروان کے نام پر ایک غیر معروف اور کاروباری شخصیت کو میدان میں اتارا ہے، جو بعد میں شاید کسی بڑی کنگ پارٹی کا حصہ بنے یا موجودہ پارٹیوں سے چند ایک الیکٹیبلز کی شمولیت کروائی جائے۔ چونکہ یہ ابتدائی مرحلہ ہے اس لیے بہت سی باتیں قبل از وقت ہیں، لیکن تاثر یہی جا رہا ہے کہ اس کی پشت پر ضرور طاقتور حلقے ہوں گے، جن کا مقصد اپنی من پسند لوگوں کو لانا ہے۔”
بلوچستان میں مسلسل مخدوش حالات اور سیاسی تناؤ کے ماحول میں یہ سوال کہ کیا مقتدر قوتیں اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کر سکتی ہیں، اس پر ڈاکٹر طاہر حکیم کہتے ہیں” اس سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ بلوچستان کے حوالے سے مقتدرہ کی پالیسیوں میں ابھی تک کوئی بڑی شفٹ نہیں آئی ہے۔ 2018 اور 2024 والی پالیسی ابھی تک برقرار ہیں۔”
اسی سوال کو آگے بڑھاتے ہوئے صحافی اور تجزیہ نگار گہرام اسلم کہتے ہیں "بلوچستان میں اس نوعیت کے تجربات ماضی میں بھی ہوتے رہے ہیں، لیکن ان کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آ سکے۔ صوبے میں قوم پرستانہ رجحان رکھنے والی پرامن اور جمہوری سیاست اپنی جگہ موجود ہے، جبکہ علیحدگی کی تحریک بھی ایک الگ حقیقت کے طور پر موجود ہے۔ موجودہ سیاسی مسئلہ اور شورش بھی انہی عوامل سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس لیے محض نئے اتحاد یا اتحادوں کی تشکیل سے حالات میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئے گی، کیونکہ اس طرح کے اتحاد اکثر اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی میں وجود میں آتے ہیں اور ان کے مخصوص مقاصد ہوتے ہیں۔ نتیجتاً یہ اتحاد چند مفاد پرست عناصر کے فائدے کے سوا کچھ حاصل نہیں کر پاتے اور نہ ہی اس سے تنازع کی شدت میں کمی آتی ہے۔
پاکستان کی مجموعی سیاسی و انتظامی صورت حال میں بلوچستان کی اہمیت اور مسئلے کے حل سے متعلق سوال پر گہرام اسلم کا کہنا ہے بلوچستان کا مسئلہ اس وقت ایک پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ضروری ہے کہ قوم پرست رہنماؤں کے تحفظات دور کیے جائیں اور شفاف و غیر جانبدار انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے تاکہ حالات میں بہتری کی راہ ہموار ہو سکے۔ ساتھ ہی شورش اور عسکریت پسندی کے حوالے سے ایک جامع اور طویل المدتی پالیسی تشکیل دینا بھی ناگزیر ہے، تاکہ پائیدار امن اور سیاسی استحکام ممکن بنایا جا سکے۔”
بلوچستان کی تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ جب بھی حقیقی نمائندگی کو کمزور کر کے مصنوعی سیاسی ڈھانچے کھڑے کیے گئے، نتائج دیرپا استحکام کی صورت میں نہیں نکلے۔ سیاسی انجینئرنگ وقتی بندوبست تو فراہم کر سکتی ہے، مگر سماجی ہم آہنگی اور پائیدار امن کے لیے مقامی سیاسی قوتوں کی شمولیت اور عوامی اعتماد ناگزیر ہے۔ سوال یہی ہے کہ کیا اس بار بھی تاریخ خود کو دہرانے جا رہی ہے یا کہیں سنجیدہ سیاسی مکالمے کی گنجائش ابھی باقی ہے؟

