گلگت بلتستان پاکستان کا ایک اسٹریٹجک اور ثقافتی اعتبار سے اہم خطہ ہے، جو اپنی جغرافیائی محل وقوع، قدرتی وسائل اور متنوع آبادی کی وجہ سے نمایاں اہمیت رکھتا ہے۔ تاہم، اس خطے کو آج تک مکمل آئینی حیثیت حاصل نہیں، جس کی وجہ سے یہاں کے انتخابات صرف مقامی حکومت کے لیے نہیں بلکہ خودمختاری، بنیادی حقوق اور ترقیاتی انصاف کے وسیع سیاسی تناظر میں دیکھے جاتے ہیں۔ 2026 کے انتخابات جی بی کی سیاسی تاریخ میں اہم سنگ میل ہیں کیونکہ یہ نہ صرف چوتھے عام انتخابات ہوں گے بلکہ دو دہائیوں کے بعد بلدیاتی انتخابات بھی منعقد کیے جا رہے ہیں، اور اس بار انتخابات میں وفاقی، مذہبی اور مقامی حقوق پر مبنی سیاسی بلاکس کے اثرات کی پیچیدہ حرکیات سامنے آئیں گی۔ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے معروف سماجی دانشور ڈاکٹر محمد حسین نے انتخابی حرکیات، توقعات اور چیلیجنز کا جائزہ لیا ہے۔

گلگت بلتستان (جی بی) پاکستان کا ایک خوبصورت اور اسٹریٹجک طور پر اہم خطہ ہے، جو اپنی جغرافیائی حیثیت، قدرتی وسائل اور ثقافتی تنوع کی وجہ سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، تاہم یہ علاقہ آج تک مکمل آئینی حیثیت سے محروم ہے، جس کی وجہ سے یہاں کے انتخابات محض ایک انتظامی سرگرمی نہیں بلکہ خودمختاری، بنیادی حقوق اور ترقیاتی انصاف سے جڑے وسیع تر سیاسی تناظر میں دیکھے جاتے ہیں۔
جی بی قانون ساز اسمبلی نے نومبر 2025 میں اپنی پانچ سالہ مدت مکمل کی، اور اپنے مقررہ وقت پر تحلیل ہو گئی جس کے بعد نگران حکومت قائم کی گئی اور سابق جج یار محمد کو نگران وزیراعلیٰ مقرر کیا گیا، جبکہ نگران کابینہ کی تشکیل میں پانچ ہفتوں کی تاخیر کے بعد 14 رکنی کابینہ بنائی گئی جس میں 12 وزراء اور 2 مشیر شامل ہیں۔ ابتدا میں عام انتخابات 24 جنوری 2026 کو شیڈول کیے گئے تھے، تاہم شدید سرد موسم، برف باری اور سیاسی جماعتوں کی اکثریتی رائے کی روشنی میں الیکشن کمیشن نے انہیں ملتوی کر دیا، اور تاحال نئی تاریخ کا باضابطہ اعلان نہیں ہوا ہے، تاہم اپریل یا مئی میں الیکشن منعقد ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
جبکہ لوکل گورنمنٹ انتخابات تقریباً دو دہائیوں کے وقفے کے بعد پارٹی بنیادوں پر 14 فروری 2026 کو شیڈول ہیں جو یونین کونسلز، ڈسٹرکٹ کونسلز اور میونسپل باڈیز کے لیے ہوں گے۔ 2026 میں ہونے والے یہ انتخابات جی بی کی تاریخ میں اہم ہیں کیونکہ یہ چوتھے عام انتخابات ہوں گے جبکہ بلدیاتی انتخابات دو دہایئوں کے بعد ہوں گے ۔ انتخابات کی تیاریاں جاری ہیں اور الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹوں کی تصدیق کے لیے ڈسپلے سینٹرز قائم کر دیے ہیں اور توقع ظاہر کی جا رہی کہ جی بی کی مجموعی ووٹروں کی تعداد دس لاکھ تک پہنچے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے 111 سیاسی جماعتوں کی فہرست جاری کر دی گئی ہے جو الیکشن میں حصہ لینے کی اہل ہیں ان میں پہلی بار جی بی کی ایک علاقائی سیاسی جماعت گلگت بلتستان قومی مومنٹ کا نام بھی شامل ہے۔
تاریخی پس منظر میں گلگت بلتستان کی جدید سیاسی تاریخ کا آغاز 1947 سے ہوتا ہے، جب یہ خطہ ڈوگرہ راج سے آزادی حاصل کر کے پاکستان کے انتظامی کنٹرول میں آیا۔ تاہم اس آزادی کے باوجود گلگت بلتستان کو مکمل آئینی شناخت نہ مل سکی اور طویل عرصے تک یہ وفاق کے ایک انتظامی یونٹ کے طور پر وزارتِ امورِ کشمیر کے تحت چلایا جاتا رہا۔ اس عرصے میں مقامی آبادی کو نہ تو باقاعدہ قانون سازی کا اختیار حاصل تھا اور نہ ہی آئینی سطح پر مؤثر سیاسی نمائندگی میسر آ سکی۔
2009 میں اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ’’گلگت بلتستان ایمپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر 2009 نافذ ہوا اس آرڈر کے تحت پہلی مرتبہ گلگت بلتستان میں ایک باقاعدہ مقامی قانون ساز اسمبلی قائم کی گئی اور محدود پیمانے پر انتظامی و قانون سازی کے اختیارات منتقل کیے گئے۔ بعد ازاں 2018 میں متعارف کرائے گئے کے گلگت بلتستان آرڈر2018 نے اس نظام کو مزید قانونی تحفظ فراہم کیا، اگرچہ آئینی حیثیت کا بنیادی سوال بدستور حل طلب رہا۔
گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی 33 اراکین پر مشتمل ہے، جن میں 24 ارکان براہِ راست عوامی ووٹ کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں، 6 خواتین کی مخصوص نشستوں پر منتخب کی جاتی ہیں، جبکہ 3 نشستیں ٹیکنوکریٹس یا پروفیشنلز کے لیے مختص ہیں۔
اس سیاسی ڈھانچے کے قیام کے بعد اب تک تین مختلف وفاقی جماعتیں (پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف) ی گلگت بلتستان میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو چکی ہیں، جو خطے کی سیاست میں وفاقی جماعتوں کے اثر و رسوخ کی عکاسی کرتا ہے۔۔
2020 کے انتخابات میں پاکستان تحریکِ انصاف نے واضح اکثریت حاصل کر کے حکومت تشکیل دی، تاہم بعد ازاں پارٹی کے اندرونی اختلافات، وزیرِ اعلیٰ خالد خورشید کی نااہلی، اور فارورڈ بلاک کی تشکیل نے سیاسی منظرنامے کو یکسر تبدیل کر دیا۔ ان حالات میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے باہمی تعاون سے حاجی گلبر خان وزیرِ اعلیٰ منتخب ہوئے، جو اسمبلی کی تحلیل تک اس عہدے پر فائز رہے۔ یہ تمام تر سیاسی اتار چڑھاؤ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ گلگت بلتستان کی سیاست نہ صرف آئینی ابہام بلکہ وفاقی سیاسی حرکیات اور داخلی جماعتی کشمکش سے بھی گہری طور پر متاثر رہی ہے۔

موجودہ صورتحال میں جی بی کے انتخابات میں قومی اور علاقائی جماعتیں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں، جبکہ سیاسی جوڑ توڑ اور وفاقی اثر و رسوخ نمایاں ہے کیونکہ تاریخی طور پر وفاق میں برسراقتدار جماعت ہی یہاں اقتدار حاصل کرتی رہی ہے، جو مقامی سیاست کی عدم خودمختاری کو ظاہر کرتا ہے اور عوام کی دیرینہ خواہش کے باوجود مکمل سیاسی خودمختاری نہ ملنے کی وجہ سے مقامی ادارے مضبوط نہیں ہو پائے۔
تین انتخابی بلاک
جی بی کی سیاست کو تین بڑے گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: وفاقی سطح کی جماعتوں کا بلاک، مذہبی جماعتوں کا بلاک اور مقامی حقوق کے لیے متحرک جماعتوں کا بلاک۔ واضح رہے کہ ان میں سے ہر بلاک کوئی ایک سیاسی اتحاد کا نام نہیں بلکہ یہ آپس میں بھی ایک دوسرے کی حریف ہیں۔
پہلا بلاک وفاقی سطح کی سیاسی جماعتوں پر مشتمل ہے، جس میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریکِ انصاف جیسی قومی جماعتیں شامل ہیں، جبکہ ماضی میں متحدہ قومی موومنٹ نے بھی انتخابی عمل میں حصہ لیا اور ایک حلقے سے کامیابی حاصل کی۔ا س بلاک میں اپنی جماعت کے وفادار کارکن جیسے سید مہدی شاہ (پی پی پی کے رہنما اور موجودہ گورنر) اور حافظ حفیظ الرحمٰن (مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیراعلیٰ) نمایاں ہیں جو پارٹیاں نہیں بدلتے، ۔ اس بلاک میں ایسے ’الیکٹیبلز‘ بھی شامل ہوتے ہیں جو ذاتی اثر و رسوخ، سماجی حیثیت اور مقامی طاقت کی بنیاد پر انتخابی عمل میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ انتخابی مراحل میں انہیں عموماً ’’جیتنے والے امیدوار‘‘ تصور کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں مختلف جماعتیں انہیں ٹکٹ دینے میں دلچسپی لیتی ہیں۔ یہی طبقہ انتخاب کے بعد یا بحرانی سیاسی مراحل میں سیاسی سودے بازی (ہارس ٹریڈنگ) میں بھی مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔
یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کے گزشتہ تینوں انتخابات میں اسی وفاقی جماعتوں کے بلاک نے حکومتیں تشکیل دیں۔ پہلے مرحلے میں پاکستان پیپلز پارٹی، اس کے بعد مسلم لیگ ن اور بالآخر پاکستان تحریکِ انصاف برسرِ اقتدار آئی۔ عمومی طور پر اس تسلسل کی ایک اہم وجہ یہ سمجھی جاتی ہے کہ ان انتخابات کے دوران وفاق میں بھی باری باری یہی جماعتیں حکومت میں تھیں۔ انتخابی مہم کے دوران مرکزی قیادت اور وفاقی وزرا کے گلگت بلتستان کے دورے، ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات، اور خطے کے حقوق سے متعلق پُرجوش تقاریر کے ذریعے ووٹرز کو قائل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جس سے وفاقی جماعتوں کے حق میں سیاسی فضا ہموار ہوتی ہے اور انتخابی نتائج پر اس کا نمایاں اثر پڑتا ہے۔
دوسرا بلاک مذہبی سیاست پر مشتمل ہے، جو بنیادی طور پر فرقہ وارانہ شناخت اور منظم مذہبی تنظیم سازی کے گرد استوار ہے۔ اس مذہبی سیاسی بلاک کا اثر و رسوخ دیامر، نگر، گلگت شہر اور بلتستان کے بعض انتخابی حلقوں میں نمایاں طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ان میں سے چند حلقوں میں یہ جماعتیں یا تو براہِ راست نشستیں جیتنے کی پوزیشن میں ہوتی ہیں، یا پھر جماعتی اتحاد اور انتخابی مفاہمت کے ذریعے اپنے متفقہ امیدواروں کی کامیابی یقینی بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اس بلاک میں اہلِ تشیع کی مجلس وحدت المسلمین (علامہ راجہ ناصر عباس جعفری) اور اسلامی تحریک پاکستان (علامہ ساجد نقوی)، جبکہ اہلِ سنت کی جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام (مولانا فضل الرحمٰن) اور سپاہِ صحابہ کی حمایت یافتہ راہِ حق پارٹی شامل ہیں۔ اس نوعیت کی سیاست فرقہ وارانہ تقسیم اور باہمی رقابت کو مزید گہرا کرتی ہے، جو مجموعی علاقائی یگانگت ، سماجی ہم آہنگی اور دیرپا استحکام کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔
سب سے زیادہ پیچیدہ اور دلچسپ صورتحال ان حلقوں میں پیدا ہوتی ہے جہاں ایک ہی مسلک کی دو جماعتیں دو مخالف سمت میں انتخابی میدان میں آمنے سامنے آتی ہیں۔ ان مواقع پر یہ جماعتیں اپنے انتخابی نعروں، علامتوں اور نشانات کو مذہبی تاریخ کے حساس واقعات و شخصیات سے جوڑ کر ووٹرز کے مذہبی جذبات کو سیاسی مفاد کے لیے متحرک کرتی ہیں۔ اس طرزِ سیاست کے نتیجے میں نہ صرف ووٹروں کی رائے مذہبی خطوط پر منقسم ہو جاتی ہے بلکہ خاندانوں، محلوں اور مقامی سماجی تعلقات میں بھی گہری دراڑیں پڑ جاتی ہیں، جو انتخابی عمل کے بعد بھی سماجی تناؤ کو برقرار رکھتی ہیں۔
قابلِ توجہ امر یہ ہے کہ غذر کے تین اور ہنزہ کا ایک حلقہ (کل چار حلقے) جہاں اسماعیلی آبادی اکثریت میں ہےاسی طرح بلتستان کے ضلع گانچھے کے تین حلقے جہاں نوربخشی آبادی غالب ہے، ان میں مذہبی سیاست کا رجحان نمایاں نہیں پایا جاتا۔ یوں مجموعی طور پر یہ سات انتخابی حلقے بنتے ہیں جہاں فرقہ وارانہ بنیادوں پر سیاست مؤثر کردار ادا نہیں کرتی۔ اس کے برعکس باقی سترہ حلقوں میں، جن میں بلتستان کے چھ، دیامر کے چھ اور گلگت شہر و نگر کے پانچ حلقے شامل ہیں، مذہبی سیاست انتخابی عمل میں ایک اہم اور فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔
تیسرا بلاک مقامی حقوق اور عوامی مفادات کی سیاست پر مبنی ہے، جو بنیادی طور پر عوامی ایکشن کمیٹی اور اس سے وابستہ دیگر شہری و عوامی تحریکوں کے ذریعے متحرک ہے۔ یہ بلاک ریاستی اور وفاقی پالیسیوں کے مقابلے میں مقامی سطح پر درپیش بنیادی مسائل جیسے زمینوں کی ملکیت و حقوق، ٹیکسوں کے نفاذ، قدرتی وسائل کی منصفانہ تقسیم، روزگار کے مواقع اور مقامی خود مختاری جیسے امور کو اپنی سیاسی جدوجہد کا محور بناتا ہے۔ اس کی سیاست کا اظہار زیادہ تر عوامی احتجاج، لانگ مارچ، دھرنوں اور اجتماعی مزاحمت کی صورت میں ہوتا ہے، جس کے باعث اسے عوامی سطح پر خاصی مقبولیت اور اخلاقی حمایت حاصل ہے۔
تاہم اس عوامی مقبولیت کے باوجود مقامی حقوق پر مبنی یہ بلاک اب تک انتخابی سیاست اور پارلیمانی نظام میں مؤثر نمائندگی قائم کرنے سے قاصر رہا ہے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ وفاقی اور مذہبی سیاسی بلاکس جو مضبوط تنظیمی نیٹ ورکس، خاطر خواہ مالی وسائل اور ریاستی اداروں تک بہتر رسائی کے حامل ہیں کے برعکس یہ بلاک مسلسل ریاستی دباؤ، انتظامی قدغنوں اور وسائل کی کمی کا شکار رہا ہے۔ ان ساختی رکاوٹوں نے اس کی پارلیمانی سیاست میں پیش رفت کو نمایاں طور پر محدود رکھا ہے۔ چنانچہ اس بلاک کے اکثر نمائندے آزاد حیثیت میں انتخابات لڑتے رہے ہیں، تاہم اس سال ہونے والے انتخابات میں پہلی بار گلگت بلتستان قومی موومنٹ کو باقاعدہ سیاسی جماعت کے طور پر رجسٹر کیا گیا ہے، جو اس بلاک کی انتخابی سیاست میں ایک اہم اور علامتی پیش رفت سمجھی جا سکتی ہے۔
اس کے کارکنان اور قائدین کو اکثر گرفتاریوں، جیل، نظر بندی، جلسوں اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندیوں جیسے اقدامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف اس تحریک کی انتخابی مہمات متاثر ہوتی ہیں بلکہ اس کی مجموعی سیاسی سرگرمیوں اور عوامی رابطے کا دائرہ بھی نمایاں طور پر محدود ہو جاتا ہے۔
اس کے باوجود ماضی میں اس بلاک نے جزوی انتخابی کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں۔ غذر سے نواز خان ناجی اور سکردو سے شہزاد آغا ایک ایک نشست جیت کر گلگت بلتستان اسمبلی کا حصہ رہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ اگرچہ یہ دھڑا مجموعی طور پر کمزور پارلیمانی نمائندگی رکھتا ہے، تاہم مخصوص حالات اور حلقوں میں مقامی حقوق پر مبنی سیاست ووٹروں کو متحرک کرنے اور انتخابی کامیابی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
تیسرا بلاک مقامی حقوق اور عوامی مفادات پر مبنی سیاست کی نمائندگی کرتا ہے، جو بنیادی طور پر عوامی ایکشن کمیٹی اور اس سے وابستہ مختلف شہری و عوامی تحریکوں کے ذریعے متحرک ہے۔ یہ بلاک ریاستی اور وفاقی پالیسیوں کے بالمقابل مقامی سطح پر درپیش بنیادی مسائل جیسے زمینوں کی ملکیت اور حقوق، ٹیکسوں کے نفاذ، قدرتی وسائل اور ترقیاتی منصوبوں کی منصفانہ تقسیم، روزگار کے مواقع، اور مقامی خود مختاری کو اپنی سیاسی جدوجہد کا مرکزی محور بناتا ہے۔ اس کی سیاسی حکمتِ عملی کا اظہار زیادہ تر عوامی احتجاج، لانگ مارچ، دھرنوں اور اجتماعی مزاحمت کی صورت میں ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں اسے عوامی سطح پر نمایاں مقبولیت اور اخلاقی جواز حاصل ہوا ہے۔
تاہم اس عوامی تائید کے باوجود مقامی حقوق پر مبنی یہ بلاک اب تک انتخابی سیاست اور پارلیمانی نظام میں مؤثر اور مستحکم نمائندگی قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ وفاقی اور مذہبی سیاسی بلاکس جو مضبوط تنظیمی نیٹ ورکس، خاطر خواہ مالی وسائل اور ریاستی اداروں تک نسبتاً بہتر رسائی کے حامل ہیں کے برعکس یہ بلاک مسلسل ریاستی دباؤ، انتظامی قدغنوں اور وسائل کی شدید کمی کا سامنا کرتا رہا ہے۔ یہی ساختی رکاوٹیں اس کی پارلیمانی سیاست میں پیش رفت کو نمایاں طور پر محدود کرتی رہی ہیں۔ اس بلاک کے کارکنان اور قائدین کو اکثر گرفتاریوں، قید و بند، نظر بندی، اور جلسوں و سیاسی سرگرمیوں پر پابندیوں جیسے اقدامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں نہ صرف اس کی انتخابی مہمات متاثر ہوتی ہیں بلکہ اس کی مجموعی سیاسی سرگرمیوں اور عوامی رابطے کا دائرہ بھی خاصا محدود ہو جاتا ہے۔
چنانچہ ماضی میں اس بلاک سے وابستہ زیادہ تر نمائندے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لیتے رہے ہیں۔ تاہم، رواں انتخابی مرحلے میں پہلی مرتبہ گلگت بلتستان قومی موومنٹ کو باقاعدہ سیاسی جماعت کے طور پر رجسٹر کیا گیا ہے، جو مقامی حقوق پر مبنی سیاست کے انتخابی دھارے میں داخل ہونے کی ایک اہم اور علامتی پیش رفت تصور کی جا سکتی ہے۔
اس کے باوجود، ماضی میں اس بلاک نے جزوی انتخابی کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں۔ غذر سے نواز خان ناجی اور سکردو سے شہزاد آغا ایک ایک نشست جیت کر گلگت بلتستان اسمبلی کا حصہ رہے، جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگرچہ مقامی حقوق پر مبنی یہ بلاک مجموعی طور پر کمزور پارلیمانی نمائندگی رکھتا ہے، تاہم مخصوص سیاسی حالات اور بعض انتخابی حلقوں میں یہ سیاست ووٹروں کو متحرک کرنے اور انتخابی کامیابی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ڈیویژن اور انتخابی حلقوں کی سیاسی حرکیات
گلگت بلتستان میں 24 براہ راست انتخابی حلقے ہیں، جو تین ڈویژنز میں تقسیم ہیں: گلگت ڈویژن (9 حلقے)، بلتستان ڈویژن (9 حلقے) اور دیامر ڈویژن (6 حلقے)؛ یہ حلقے شہری و دیہی، پہاڑی اور دور دراز علاقوں پر مشتمل ہیں، جہاں انتخابی مہم اور پولنگ کا انتظام ایک بڑا انتظامی چیلنج ہوتا ہے.۔ یہ تقسیم 2015 کی حلقہ بندیوں کے بعد سے مستحکم ہے اور گلگت بلتستان الیکشن کمیشن کی نگرانی میں ہے، جو علاقے کی آبادی، جغرافیہ اور انتظامی تقسیم کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی تھی۔ان حلقوں میں ووٹرز کی تعداد مجموعی طور پر تقریباً 784,814 ہے آنے والے انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن نے ابھی تک ووٹروں کی مجموعی تعداد شائع نہیں کی ہے۔ ذیل میں براہ راست منتخب ہونے والے 24 انتخابی حلقوں کی فہرست ڈویژن اور اضلاع کے لحاظ سے دی گئی ہے، جو گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے لیے ہیں۔
گلگت (9 انتخابی حلقے):
گلگت ڈویژن گلگت، نگر، ہنزہ اور غذر کے اضلاع پر مشتمل ہے اور یہاں کا سیاسی منظرنامہ متنوع اور علاقائی اختلافات کی عکاسی کرتا ہے۔ گلگت سٹی میں شیعہ اور سنی فرقہ وارانہ تقسیم نمایاں ہے، جس سے مذہبی سیاست کا اثر انتخابی عمل میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
دوسری طرف، غذر اور ہنزہ میں غیر مذہبی سیاست کا رجحان زیادہ ہے۔ خاص طور پر غذر میں مقامی حقوق پر مبنی سیاست مقبول ہے۔ قوم پرست رہنما نواز خان ناجی متعدد بار منتخب ہو کر گلگت بلتستان اسمبلی میں پہنچے اور مقامی حقوق کے لیے ایک مضبوط آواز کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
نگر میں مذہبی سیاست شیعہ جماعتوں کے اندرونی کشمکش اور وفاقی جماعتوں کے ساتھ ممکنہ اتحاد کے گرد مرکوز رہتی ہے، جس سے انتخابی نتائج پر جماعتی و مسلکی تعلقات کا اثر نمایاں ہوتا ہے۔
گلگت شہر جی بی کا انتظامی مرکز ہونے کے باعث وفاقی اور مقامی اداروں کا مرکز بھی ہے، جس کی وجہ سے سیاسی سرگرمیاں زیادہ متحرک اور پیچیدہ ہیں۔ مقامی حقوق کے دھڑے اگرچہ یہاں عوامی سطح پر مقبول ہیں، مگر عملی طور پر گلگت شہر اور مضافات سے ابھی تک ان کا کوئی نمائندہ اسمبلی میں منتخب نہیں ہو سکا، جس سے اس دھڑے کی پارلیمانی نمائندگی محدود ہے۔

بلتستان ڈویژن (9 انتخابی حلقے):
بلتستان ڈویژن سکردو، کھرمنگ، شگر ، گانچھے اور روندو کے اضلاع یا سب ڈیویژن پر مشتمل ہے اور یہ خطہ بلتستان کی منفرد ثقافتی، تاریخی اور جغرافیائی خصوصیات کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ یہاں انتخابی سیاست میں مجموعی طور پر تین نمایاں رجحانات دیکھنے کو ملتے ہیں، جو ایک دوسرے کے ساتھ تعامل میں رہتے ہوئے سیاسی منظرنامے کو تشکیل دیتے ہیں۔
پہلا رجحان مذہبی سیاست کا ہے، جس میں بالخصوص اہلِ تشیع کی مذہبی جماعتیں مجلس وحدت المسلمین اور اسلامی تحریک پاکستان اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان جماعتوں کا اثر و رسوخ خاص طور پر سکردو حلقہ نمبر دو، کھرمنگ، شگر اور روندو کے انتخابی حلقوں میں نمایاں طور پر محسوس کیا جاتا ہے، جہاں مذہبی وابستگی اور مسلکی شناخت ووٹرز کے انتخابی رویّے پر اثر انداز ہوتی ہے جبکہ گانچھے جہاں آبادی کی اکثریت نوربخشی ہے، میں ان جماعتوں کا اثر رسوخ نہ ہونے کے برابر ہے۔
دوسرا رجحان وفاقی سیاسی جماعتوں کے اثر و رسوخ اور الیکٹیبلز کو انتخابی میدان میں اتارنے کا ہے۔ اس تناظر میں قومی جماعتیں مقامی سطح پر بااثر شخصیات، سماجی اثر رکھنے والے خاندانوں اور مالی و انتظامی وسائل کے حامل امیدواروں کو ٹکٹ دے کر انتخابی کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں، جس سے وفاقی سیاست کا اثر بلتستان کے مقامی سیاسی عمل میں شامل ہو جاتا ہے۔
تیسرا رجحان مقامی حقوق پر مبنی سیاست کا ہے، جس کے لیے بلتستان میں سماجی اور سیاسی سطح پر ایک حد تک گنجائش موجود ہے۔ تاہم عملی طور پر انتخابی مرحلے میں یہ دھڑا اپنی عوامی مقبولیت کے باوجود کامیابی حاصل نہیں کر پاتا، کیونکہ مذہبی اور وفاقی سیاسی دھڑے پُرجوش انتخابی تقاریر، بڑے اجتماعات، مؤثر کنونسنگ اور بھرپور انتخابی مہمات پر زیادہ وسائل خرچ کر کے ووٹرز کو اپنے حق میں ہموار کر لیتے ہیں۔
بلتستان میں مجموعی طور پر قبائلی یا برادری نظام کی بنیاد پر سیاست کا رجحان مضبوط نہیں ہے، تاہم خاندان اور محلے کو ایک سماجی و سیاسی اکائی کے طور پر قائل کرنے اور متحرک کرنے کا رجحان موجود ہے، جو انتخابی نتائج پر ایک اہم مگر نسبتاً غیر رسمی کردار ادا کرتا ہے۔

دیامر ڈویژن (6 انتخابی حلقے):
دیامر ڈویژن استور، دیامر، تانگیر اور دریل کے اضلاع اور سب ڈیویژن پر مشتمل ہے اور یہ خطہ مجموعی طور پر نسبتاً قدامت پسند، جغرافیائی طور پر دور دراز اور سماجی طور پر روایتی معاشرت کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہاں سیاسی عمل پر دو بڑے اور باہم مربوط رجحانات غالب نظر آتے ہیں۔
اول، مذہبی سیاست، جو بالخصوص اہلِ سنت کے مذہبی دھڑوں اور مذہبی قیادت کے زیرِ اثر منظم ہوتی ہے اور انتخابی نتائج پر واضح اثر ڈالتی ہے۔
دوم، قبائلی، نسلی اور لسانی شناختوں پر مبنی سیاست، جہاں مختلف قبائل، برادریاں اور مقامی گروہ اپنی عددی برتری، سماجی اثر و رسوخ اور تاریخی تعلقات کی بنیاد پر امیدواروں کی حمایت یا مخالفت کرتے ہیں۔
ان دونوں رجحانات کے باہمی امتزاج کے باعث دیامر ڈویژن میں انتخابی سیاست زیادہ تر نظریاتی یا پالیسی بنیادوں کے بجائے مذہبی وابستگی، قبائلی وفاداری اور مقامی سماجی حرکیات کے گرد گھومتی ہے، جس سے سیاسی مقابلہ سخت، پیچیدہ اور اکثر علاقائی تقسیم کا شکار رہتا ہے۔ تاہم، دیامر اور داسو ڈیم اور شاہراہ قراقرم کے توسیعی منصوبوں سے متاثرہ آبادی کی منظم جدوجہد، نیز مذہبی و وفاقی سیاسی بلاکس کی اس معاملے پر عدم توجہی نے، دیامر کے سیاسی منظرنامے میں مقامی حقوق پر مبنی بلاک کے لیے ایک محدود مگر اہم سیاسی خلا پیدا کیا ہے۔
واضح رہے کہ ماضی میں دیامر کے مختلف علاقوں میں خواتین کو ووٹ دینے یا الیکشن میں حصہ لینے پر مذہبی اور ثقافتی طور پر رکاوٹیں پیدا کی جاتی رہیں، تاہم موجودہ سیاسی اور سماجی ماحول میں اس حوالے سے بہتری کی امید کی جا رہی ہے، اور توقع ہے کہ آئندہ انتخابات میں خواتین کی شمولیت اور نمائندگی میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔

انتخابات اور چیلنجز
گلگت بلتستان (جی بی) کے آئندہ اسمبلی اور بلدیات کے انتخابات محض ایک سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ متعدد پیچیدہ اور باہم جڑے ہوئے عوامل سے وابستہ ہیں جو خطے کے جمہوری، آئینی اور انتظامی مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں؛
⦁ حال ہی میں، شدید موسم اور برف باری کی وجہ سے اصل شیڈول شدہ تاریخ 24 جنوری 2026 کو انتخابات ملتوی کر دیے گئے ہیں، اور نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا، جبکہ سیاسی جماعتوں کی اکثریت نے موسم کی شدت کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ حمایت کیا ہے۔ موسمی اور جغرافیائی چیلنجز اس عمل کی بنیاد ہیں، جہاں شدید سردی، طویل برف باری اور دور دراز پہاڑی علاقوں میں پولنگ اسٹیشنوں تک رسائی، انتخابی سامان کی ترسیل اور سیکیورٹی انتظامات کو سنگین طور پر متاثر کرتے ہیں، جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ روزگار اور بنیادی سہولیات کی کمی کی وجہ سے راولپنڈی، اسلام آباد، لاہور اور کراچی جیسے شہروں کی طرف عارضی ہجرت کر جاتے ہیں، نتیجتاً ووٹر ٹرن آؤٹ کم ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے؛
⦁ آئینی حیثیت اور خودمختاری کا مسئلہ بھی مرکزی ہے، کیونکہ جی بی کو مکمل آئینی حقوق نہ ملنے، قانون سازی اور قدرتی وسائل پر وفاقی کنٹرول کی وجہ سے عوامی بے چینی اور محرومی کا احساس بڑھتا ہے، اور بعض حلقوں میں یہ انتخابات بغیر حقیقی اختیارات کے محض رسمی سمجھے جاتے ہیں، جو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی کی عدم موجودگی کی وجہ سے جمہوریت کے اصولوں سے متصادم نظر آتے ہیں۔
⦁ شفافیت اور سیاسی مداخلت کے حوالے سے خدشات بدستور موجود ہیں۔ اگرچہ الیکشن کمیشن نے شفاف، آزادانہ اور غیرجانبدار انتخابات کے انعقاد کے عزم کا اعادہ کیا ہے اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز کی تعیناتی بھی عمل میں لائی گئی ہے، تاہم ماضی میں انتخابی انجینئرنگ اور دباؤ کے الزامات کے باعث عوام اور سیاسی جماعتوں کے درمیان شکوک و شبہات پوری طرح ختم نہیں ہو سکے۔ اس تناظر میں ایک اہم غیرانتخابی اور غیرآئینی عنصر مقتدرہ کا کردار بھی ہے، جو وفاقی ترجیحات اور منشا کے مطابق انتخابی عمل پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چونکہ یہ خطہ سرحدی نوعیت کا حامل ہے اور اس کی آئینی حیثیت بھی طویل عرصے سے مبہم رہی ہے، اس لیے ترقیاتی منصوبوں، سیاحت، معدنی وسائل، سکیورٹی اور حتیٰ کہ سول سروس سے متعلق امور میں مقتدرہ کا اثر غیر متوازن اور غیر متناسب طور پر زیادہ دکھائی دیتا ہے، جو انتخابی عمل کی ساکھ اور عوامی اعتماد پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔
⦁ ترقیاتی مسائل انتخابات سے جڑے ہوئے ہیں، جہاں بجلی کی شدید لوڈ شیڈنگ (22-8 گھنٹے روزانہ)، پانی کی کمی، تعلیم اور صحت کی سہولیات کی عدم دستیابی، روزگار کے مواقع کی کمی، گندم سبسڈی، سی پیک میں مقامی شمولیت، انفراسٹرکچر کی کمی، زمینوں کے تنازعات اور ماحولیاتی تبدیلیاں عوامی تشویش کا باعث ہیں، جو شدید سردیوں میں مزید شدت اختیار کر لیتے ہیں اور حالیہ برسوں (2025-2024) میں ہنزہ، سکردو، گلگت اور دیگر اضلاع میں احتجاج، شاہراہ ریشم (KKH) کی بندشوں اور پہیہ جام ہڑتالوں کی صورت میں عروج پر پہنچے ہیں؛
⦁ سیکیورٹی خدشات بھی اہم ہیں، خاص طور پر علاقائی اور قومی سطح پر شدت پسند گروہوں کی سرگرمیاں جو ووٹرز کے اعتماد اور پرامن انعقاد کو متاثر کر سکتی ہیں؛ عام انتخابات کے ساتھ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد بھی اہم ہے، جو تقریباً 20 سال بعد 14 فروری 2026 کو شیڈول ہیں اور مقامی سطح پر سیاسی شرکت، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور جمہوری استحکام کے لیے کلیدی سمجھے جاتے ہیں؛
⦁ عوامی مسائل اور سوشل میڈیا کا کردار اس منظر نامے میں مرکزی عنصر ہے، جہاں سوشل میڈیا نے عوام اور منتخب نمائندوں کے درمیان فاصلے کم کرکے سیاسی جواب دہی کو تقویت دی ہے، جس سے مسائل، احتجاج اور مباحثے زیادہ نمایاں، منظم اور تیز رفتار ہو گئے ہیں، مثال کے طور پر فیس بک، واٹس ایپ اور ایکس پر ہیش ٹیگز جیسے #Internet4Ghizer کے ذریعے مسائل حکام تک تیزی سے پہنچتے ہیں، اور عوامی دباؤ کی ایک مثال قدرتی چٹانوں پر سیاحوں کی دیوار نگاری پر شدید ردعمل کے بعد حکام کا فوری ایکشن ہے؛
⦁ قومی میڈیا میں جی بی کی کم نمائندگی کو Pamir Times، Gilgitbaltistan.Net، Daily K2، Ibex Media Network، Leopard Media، Skardu TV اور Siachan Times جیسے مقامی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پورا کر رہے ہیں جو خبروں، مباحثوں اور عوامی آواز کو فروغ دیتے ہوئے کمیونٹی کی شرکت بڑھاتے ہیں، تاہم بجلی کی کمی اور تیز رفتار انٹرنیٹ کی عدم دستیابی (خاص طور پر 2025 میں 8 سے 22 گھنٹے لوڈ شیڈنگ اور احتجاجوں کے دوران بندش جیسے 2024 کی گندم سبسڈی مظاہرے) اس کی صلاحیت کو محدود کر رہی ہے، اور اگر وفاق اور مقامی حکومت ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو ترجیح دیں تو یہ جمہوریت کا طاقتور آلہ بن سکتا ہے؛
⦁ سیاسی اتحاد اور اختلافات بھی اہم ہیں، جہاں مختلف جماعتیں اپنے منشور اور حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اتر رہی ہیں، اور ٹکٹوں کی تقسیم فیصلہ کن کردار ادا کرے گی؛
⦁ نوجوان اور خواتین ووٹرز کا فعال کردار بڑھ رہا ہے، جہاں ماضی میں دیامر ڈویژن جیسے قدامت پسند علاقوں میں خواتین کی ووٹنگ پر ممانعت نے تشویش پیدا کی تھی، تاہم ووٹر ایجوکیشن پروگرامز، تربیتی سرگرمیاں اور سوشل میڈیا مہمات کی بدولت 2015 سے 2025 تک خواتین کی رجسٹریشن میں اضافہ ہوا ہے اور مجموعی ووٹرز 784,814 تک پہنچ گئے ہیں، خاص طور پر دیامر، گلگت اور غذر میں، اگرچہ کوئی خاتون جنرل سیٹ نہیں جیتی مگر بلتستان سے آمنہ انصاری اور فوزیہ سلیم جیسی امیدوار Runners-Up رہیں۔ جبکہ توقع کی جا رہی ہے کہ اس الیکشن میں گلگت اور بلتستان ڈیویژن کے بعض حلقوں سے نوجوان اور خواتین امیدوار بھی انتخابی معرکے میں حصہ لیں گے۔
⦁ مجموعی طور پر، جی بی کے 2026 انتخابات پاکستان کی جمہوری ساخت، مرکز اور اکائیوں کے تعلقات اور محروم خطوں کے حقوق کا امتحان ہیں، یہ انتخابات جی بی کے سیاسی مستقبل، آئینی حیثیت اور ترقیاتی مسائل کے حل کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ شفاف اور منصفانہ انعقاد ہو اور وفاقی مداخلت کم ہو۔
References

⦁ G-B voter rolls near one million ahead of polls
⦁ https://ecgb.gov.pk/storage/attachments/V1vk3NaTMKXBVx39wdrojYEnzhoByccLBGrllyd9.pdf
⦁ Governance Order 2009 – Gilgit-Baltistan Assembly
⦁ Government of Gilgit-Baltistan Order, 2018: https://gilgitbaltistan.gov.pk/storage/downloads/GB%20Order%202018.pdf

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version