پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز (PIPS) نے 6–7 نومبر 2025 کو اسلام آباد میں دو روزہ قومی تربیتی ورکشاپ بعنوان "یوتھ آبزرورز کوہورٹ” 2025-27کا انعقاد کیا۔ اس ورکشاپ میں ملک بھر سے 40 نوجوان شرکاء—جن میں طلبہ، امن کارکنان، اور ابھرتے ہوئے مذہبی و سول سوسائٹی رہنما شامل تھے۔ تربیت کا مقصد نوجوانوں کو حقوق کی خلاف ورزیوں کی نگرانی اور رپورٹنگ کے ساتھ ساتھ مقامی امن اقدامات یا سوشل ایکشن پلانز (SAPs) تیار کرنے اور نافذ کرنے کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا تھا، تاکہ بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے اور نفرت انگیز تقریر اور متشدد رجحانات کا مقابلہ کیا جا سکے۔ مختلف شعبوں کے ماہرین نے انٹرایکٹو سیشنز کے ذریعے شمولیت، آئینی اقدار، ثقافتی تنوع، تعلیم، سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال، اور انتہا پسندانہ بیانیوں کے خلاف پالیسی فریم ورک پر تربیت فراہم کی۔
سینئر صحافی عمران مختار نے پاکستان کے آئینی ارتقاء پر جامع گفتگو کی۔ انہوں نے بنیادی حقوق اور ریاستی طاقت ٓئینی دائرہ کارم میں تقسیم پر زور دیا۔ انہوں نے مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے مابین اختیارات کی تقسیم اور پارلیمانی قائمہ کمیٹیوں، نیشنل فنانس کمیشن اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی جیسے آئینی اداروں کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا:
"شہریوں کو پارلیمانی اجلاسوں میں شرکت کی ترغیب دی جانی چاہیے، اس سے شفافیت اور جوابدہی کو فروغ ملے گا۔‘‘
انسانی حقوق کے کارکن اور ہائی کورٹ کے وکیل دلیپ دوشی نے ثقافت، تہذیب اور مذہب کے تنوع پر مبنی سیشن کی قیادت کی۔ انہوں نے شرکاء کو مکالمے اور سرگرمیوں میں شامل کیا تاکہ کثیرالثقافتی معاشرے میں سب ثقافتی شناختوں کی بلا تفریق شمولیت کی اہمیت اجاگر ہو۔ انہوں نے پاکستان کی کثیر لسانی، کثیر نسلی اور کثیر ثقافتی شناخت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تنوع کو اپنانا پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ دلیپ دوشی نے معاشرتی مایوسی اور تشدد کے تعلق پر بھی بات کی اور کہا کہ نوجوان رہنمائی اور مشاورت سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا: "بیانیے معاشرتی تصورات اور تاریخی مثالوں پر قائم ہوتے ہیں، لیکن ان دقیانوسی تصورات کو توڑنے میں وقت اور محنت درکار ہے۔”
صفدر سیال، ریسرچ اینالسٹ PIPS نے SAP (Social Action Plan) پر سیشن لیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ SAP ایک مختصر، وقت مقررہ اور کمیونٹی کی قیادت میں چلنے والا منصوبہ ہے۔ انہوں نے تین خصوصیات بیان کیں: یہ کمیونٹی کے مشترکہ مسئلے پر مرکوز ہو، تمام مذہبی و نسلی گروہوں کو شامل کرے، اور پرامن بقائے باہمی، تعاون اور احترام کو فروغ دے۔ ڈاکٹر محمد حسین، ایڈیٹر PIPS نے زور دیا کہ SAP کی کامیابی کے لیے مقامی کمیونٹی میں دلچسپی پیدا کرنا اور اسٹیک ہولڈرز کو مؤثر طور پر شامل کرنا ضروری ہے۔
اگلے سیشن میں بنیادی پالیسی دستاویزات کا جائزہ لیا گیا جس میں آئین پاکستان کے بنیادی حقوق، پیغامِ پاکستان، انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ، قومی یکجہتی پالیسی، نیکٹا کی انسدادِ انتہا پسندی پالیسی، اور صوبائی انسدادِ دہشت گردی بلز پر گفتگو ہوئی۔ عامر رانا، صدر PIPS اور سکیورٹی تجزیہ کار نے کہا کہ ریاستی پالیسیوں کا معاشرے پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست اپنی ترجیحات کے مطابق پالیسیاں بدلتی ہے لیکن بنیادی حقوق ہمیشہ مستقل رہتے ہیں۔
ڈاکٹر قبلہ ایاز، سابق چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل، نے پاکستان میں انتہا پسندی کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے زور دیا کہ قوم کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے، اور ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ قیادت کریں، بامعنی مکالمہ کو فروغ دیں اور سماجی ہم آہنگی کو مضبوط بنائیں۔ تعلیمی ادارے—اسکول، کالج اور جامعات—تاریخی طور پر اس مکالمے کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ تاہم، حالیہ برسوں میں ان اداروں کا منافع پر مبنی رجحان طلبہ کے ساتھ تعلق کو کمزور کر رہا ہے، جسے انہوں نے خطرناک اور مایوس کن قرار دیا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ 1980 کی دہائی کے آخر سے پاکستان علاقائی تبدیلیوں سے متاثر ہوا۔ افغان جنگ، روسی افواج کی موجودگی اور ایران میں امام خمینی کے تحت اسلامی انقلاب نے ملک پر گہرے اثرات ڈالے۔ اسی دور میں خوارج جیسی انتہا پسند تحریکیں سامنے آئیں، جنہوں نے دوسروں کو کافر قرار دینا جائز ٹھہرایا۔ انتہا پسندی بڑھتی گئی اور فوج و عبادت گاہوں پر حملے ہونے لگے۔
ڈاکٹر قبلہ ایاز نے 1970 اور 1980 کی دہائی کے اوائل کے پاکستان کو یاد کیا، جب معاشرہ رواداری، انکساری اور احترام سے مزین تھا۔ قومی اور مقامی زبانوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور کمیونٹی روابط مضبوط اور جامع تھے۔ 2014 کے سانحہ آرمی پبلک اسکول نے ایک فیصلہ کن موڑ فراہم کیا، جس کے بعد سیاسی جماعتیں اور فوج متحد ہو کر نیشنل ایکشن پلان (NAP) پر عمل درآمد کے لیے آگے بڑھیں۔ اس کے تحت پیغامِ پاکستان کا اعلان کیا گیا، جس میں علمائے کرام نے واضح کیا کہ صرف ریاست کو یہ اختیار حاصل ہے کہ کسی کو غیر مسلم قرار دے۔
ڈاکٹر خالد مسعود، سابق چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل، نے کہا کہ معاشرتی عدم برداشت مذہب، طبقے اور نسلی تعصبات سے جنم لیتی ہے، جو اکثر عام گفتگو میں بھی جھلکتی ہیں۔ انہوں نے علم پر مبنی مباحث اور دلیل سے بھرپور متبادل بیانیے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ان تعصبات کو ختم کیا جا سکے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ مسئلہ صرف نفرت انگیز تقریر کا نہیں بلکہ اس بات کا ہے کہ ہم سرحدوں کو کیسے متعین کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ معاشرہ علم، خاص طور پر سائنسی خیالات سے وابستہ ہے، لیکن ہم اکثر عقلی اور منطقی سوچ کو عملی طور پر استعمال نہیں کرتے۔ اس کمی کے باعث تعصب اور غرور ہماری سمجھ کو بگاڑ دیتے ہیں اور جھگڑوں کو جنم دیتے ہیں۔
ڈاکٹر خالد مسعود نے زور دیا کہ شمولیت اور اخراج میں کوئی بنیادی تضاد نہیں۔ ایک متوازن طریقہ، جس میں شمولیت احترام اور مساوات کو یقینی بنائے اور سماجی اور فکری زندگی میں ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔
ڈاکٹر عبدالحمید نیر نے کہا کہ قوانین اور ضوابط کی پابندی اچھے شہری ہونے کی بنیاد ہے، لیکن انہوں نے اکثریتی طرزِ حکمرانی کی خامیوں کو بھی اجاگر کیا جہاں اقلیتوں کو اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حقیقی شہریت صرف اپنے حقوق کے احترام کا تقاضا نہیں کرتی بلکہ دوسروں کے حقوق کے احترام کو بھی لازمی قرار دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قانونی ڈھانچے کا احترام ایک منظم معاشرے کی بنیاد ہے۔ اگرچہ آئین تمام شہریوں کی مساوات کو تسلیم کرتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم روزمرہ زندگی میں اس اصول پر عمل کرتے ہیں؟ انہوں نے خبردار کیا کہ امتیازی رویوں نے ماضی میں ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا، جس میں ملک کی تقسیم بھی شامل ہے۔ آج بھی بدامنی بڑھ رہی ہے اور ریاست کا طاقت پر انحصار مسائل کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔
ڈاکٹر پرویز ہودبھائی نے سماجی تنازع کی ساختیاتی اور فکری جڑوں پر بات کی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ریاست اور شہریوں کے درمیان فرق نے قومی یکجہتی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ "ہم” اور "وہ” کی تقسیم اکثر مذہب، نسل، زبان یا طبقے کے فرق سے پیدا ہوتی ہے۔ جب یہ فرق برتری یا کم تری کے پیمانے کے طور پر استعمال ہوں تو عدم برداشت اور نفرت کو فروغ ملتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تعصبات اور دقیانوسی تصورات دشمنی کو بڑھاتے ہیں، اعتماد کو کمزور کرتے ہیں اور امتیاز کو معمول بنا دیتے ہیں۔ تنوع کو طاقت کے بجائے بوجھ سمجھنے والے معاشرے مزید تقسیم اور عدم ہم آہنگی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹر ہودبھائی نے تجویز دی کہ "برداشت” کے تصور کو "احترام” سے بدلنا چاہیے تاکہ حقیقی بقائے باہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version