پاکستان کی قومی شناخت کا سوال آج بھی وہی شدت اور گہرائی رکھتا ہے جو 1947 میں اس کے قیام کے وقت تھا۔ تجزیات کا یہ شمارہ ایک ایسی فکری داستان پیش کرتا ہے جو ہمیں اپنی شناخت کے تصور پر نئے سرے سے غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ فرانس فوکویاما کے عالمی تناظر سے لے کر ڈاکٹر جمیل جالبی کے تاریخی تجزیے اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز (PIPS) کی حالیہ ورکشاپس تک ، یہ شمارہ شناخت کی سیاست، ثقافتی تنوع، اور سماجی ہم آہنگی کے پیچیدہ مسائل کو نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سیاق میں اجا گر کرتا ہے۔

شناخت کی سیاست : عالمی منظر نامہ اور پاکستانی تناظر

فرانس فو کو یا ما اپنی کتاب Identity: The Demand for Dignity and the Politics of Resentment میں شناخت کی سیاست کو انسانی ” تھا ئیوس ” سے جوڑتے ہیں وہ فطری خواہش جو ہر فرد کو عزت اور وقار کی تلاش میں مگن رکھتی ہے۔ وہ استدلال کرتے ہیں کہ جدید دنیا میں شناخت کی سیاست نے معاشروں کو تقسیم کیا ہے، لیکن اس نے پسماندہ گروہوں کے حقوق کو اجاگر کرنے میں کلیدی کردار بھی ادا کیا۔ Black Lives Matter اور #MeToo جیسی تحریکیں نسل پرستی اور جنسی ہراسانی کے خلاف عالمی آواز بن کر ابھری ہیں۔ فوکویاما کے مطابق، یہ جد وجہد بنیادی طور پر وقار کے اعتراف کی خواہش سے جڑی ہے ، جو ہم جنس پرستوں کی شادی سے لے کر نسلی مساوات تک ہر تحریک میں جھلکتی ہے۔ اسی ط ملتی ہے۔ اسی طرح، مشرق وسطیٰ میں فلسطینیوں کے حق خودارادیت اور دوریاستی حل کے لیے عالمی تحریک بھی اسی وقار کی تلاش کی عکاس ہے، جو اسرائیل کی جدید فوجی قوت کے مقابلے میں بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کی جدوجہد کو نمایاں کرتی ہے۔

پاکستان کے تناظر میں ، ڈاکٹر جمیل جالبی اپنی کتاب پاکستانی کلچر (1964) میں آزادی کے بعد پیدا ہونے والے تہذیبی خلا کی نشاندہی کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں، "آزادی نے نفرت اور تضاد کو جنم د و جنم دیا، جس نے قومی اتحاد کے لیے چیلنجز کھڑے کیے۔ ” ان کے مطابق، "ہمارے وسائل زرعی معاشرے کے ہیں، لیکن خواہشات صنعتی معاشرے کی ہیں۔ ” یہ تضاد آج بھی پاکستانی معاشرے میں موجود ہے۔ ورلڈ بینک کے 2023 کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان کی 24.3 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کی 2022 کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کا انسانی ترقیاتی انڈیکس (HDI) 0.544 ہے، جو جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک سے کم ہے۔ یہ اعداد و شمار معاشی عدم مساوات اور سماجی چیلنجز کی شدت کو واضح کرتے ہیں، جو ایک جامع قومی شناخت کی راہ میں حائل ہیں۔

اس شمارے میں چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کے جید دانشوروں کے مکالموں سے شناخت سے جڑے تنازعات کا ایک متنوع منظر نامہ سامنے آتا ہے۔ وفاق کی اکائیوں میں جاری شناختی مسائل اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان کو اپنے تنوع کو ایک قوت بنانے کے لیے مزید جامع پالیسیوں کی ضرورت ہے۔

سماجی ہم آہنگی اور نوجوانوں کی توانائی

پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز (PIPS) کی سکھر ، کراچی، کوئٹہ ، اور اسلام آباد میں منعقدہ ورکشاپس نے یہ ثابت کیا کہ تنوع کو ایک قوت کے طور پر اپنانا پاکستان کے پائیدار مستقبل کی کلید ہے۔ ان ورکشاپس نے نوجوانوں کو تنقیدی سوچ ، میڈ یا خواند گی، اور آئینی اقدار سے روشناس کرایا۔ کراچی کی ورکشاپ میں سینئر صحافی عمران مختار نے آئین کو قومی اتحاد کا پل قرار دیا، جبکہ کوئٹہ میں جلیلہ حیدر نے زور دیا کہ ” تنوع کو قوت کے طور پر اپنانا ہی پاکستان کے مستحکم مستقبل کی ضمانت ہے ۔ ” ان ورکشاپس سے اخذ کردہ نتائج تعلیمی نصاب سے نفرت انگیز مواد کا خاتمہ ، صنفی مساوات کا فروغ اور شہریوں کو آئینی حقوق سے آگاہی ایک جامع قومی شناخت کی تشکیل کے لیے ناگزیر ہیں۔

پاکستان کی 64 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے ( پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس، سٹکس، 2023)، جو اسے دنیا کے سب سے جوان ممالک میں شامل کرتی ہے۔ یہ نوجوان نسل پاکستان کی قومی شناخت کو نئی جہت دینے کی صلاحیت رکھتی ہے، بشر طیکہ انہیں رہنمائی اور مواقع میسر ہوں۔ PIPS کی ورکشاپس نے واضح کیا کہ تنقیدی سوچ اور شمولیتی اقدار کے ذریعے نوجوان معاشرتی تقسیم کو پل بنانے کی طرف گامزن ہو سکتے ہیں۔

جامع قومی شناخت کی جانب

پاکستان کو ایک ایسی قومی شناخت کی ضرورت ہے جو اس کے ثقافتی، نسلی، اور مذہبی تنوع کو نہ صرف قبول کرے بلکہ اسے اپنی قوت بنائے۔ ایک مضبوط قومی شناخت کے فوائد سیکیورٹی، بہتر گور نفس، معاشی ترقی ، اور سماجی اعتماد پاکستان کے لیے بھی قابل عمل ہیں۔ کوئٹہ کی ورکشاپ میں یار جان بادینی نے پاکستان کے ثقافتی تنوع کو ایک گلدستے سے تشبیہ دی، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تنوع کا تحفظ قومی یکجہتی ط کرتا ہے۔ تاہم، اس کے لیے تعلیمی اصلاحات، صنفی مساوات، اور میڈیا کی ذمہ دارانہ رپورٹنگ کو مضبوط کرتا ۔ ضروری ہے۔

ڈاکٹر جالبی نے 1964 میں لکھا تھا کہ "ہمارے خیالات کے تخلیقی سوتے بند ہو گئے ہیں۔ "آج، 2025 میں، ہمیں ان سوتوں کو دوبارہ بہانا ہے۔ اپنی تاریخ سے سبق سیکھتے ہوئے، تنوع کو اپنی طاقت بناتے ہوئے، اور ایک ایسی قومی شناخت تشکیل دیتے ہوئے جو ہر پاکستانی کو اس کے پس منظر سے قطع نظر عزت اور وقار دے، ہم ایک نئے عہد کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ یہ سفر دشوار ہے، لیکن PIPS جیسی کاوشیں اور نوجوانوں کی توانائی اسے ممکن بناتی ہیں۔

ہمارا معاشرہ آج ایک سنگم پر کھڑا ہے۔ ہم یا تو تفرقے اور تضاد کی دلدل میں دھنتے چلے جائیں گے، یا ایک ایسی جامع قومی شناخت کی طرف بڑھیں گے جو ہمارے تنوع کو ہماری سب سے بڑی طاقت بنائے۔ یہ انتخاب ہمارا ہے ، اور وقت اس انتخاب کا تقاضا کرتا ہے۔

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version