پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز (PIPS) نے 7 نومبر کو اسلام آباد میں اپنی جامع قومی رپورٹ "Building Bridges: Fostering Tolerance and Inclusivity Among Youth” کے ساتھ چار صوبائی ایڈیشن بھی جاری کیے۔ یہ رپورٹ ملک بھر کے 300 سے زائد یونیورسٹی اور مدرسہ طلبہ، امن کارکنان اور سول سوسائٹی رہنماؤں کے تجربات پر مبنی ہے۔ اس میں نوجوانوں کے نقطہ نظر، ان کے عالمی نظریات پر اثر انداز ہونے والے عوامل، اور انتہا پسندی کے ابھرتے رجحانات کا تجزیہ کیا گیا ہے، جو بین المذاہب ہم آہنگی اور سماجی تنوع پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
رپورٹ کے اجرا کی تقریب میں سفارتکاروں، سینیئر قانون سازوں، ماہرین تعلیم اور مذہبی اسکالرز نے شرکت کی، جس سے بڑھتی ہوئی عدم برداشت کے مسئلے پر متحدہ حکمتِ عملی کی فوری ضرورت اجاگر ہوئی۔
محمد مرتضیٰ، پروجیکٹ مینیجر PIPS نے رپورٹ کے اہم نتائج پیش کیے، جو ملک بھر کے نوجوانوں کے فکری رجحانات کے تجزیے پر مبنی تھے۔ یہ ڈیٹا نومبر 2024 سے جون 2025 کے دوران ملک کے چاروں صوبوں اور اسلام آباد میں منعقدہ ورکشاپس، معیاری انٹرویوز اور سرویز سے حاصل کیا گیا۔
محمد عامر رانا، صدر PIPS نے تحقیق کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ مطالعہ قیمتی ڈیٹا فراہم کرتا ہے جو محققین اور پالیسی سازوں کے ساتھ شیئر کیا جائے گا تاکہ شواہد پر مبنی اقدامات کیے جا سکیں۔
یہ رپورٹس پی آئی پی ایس کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیںwww.pakpips.com
رپورٹ سے اخص ہونے والے چند تحقیقی نتائج اور اصطلاحی تجاویز مندرجہ زیل تھیں:
• گہرے سماجی و ثقافتی تعصبات اور تاریخی انتہا پسندی عدم برداشت کو جنم دیتے ہیں، جس سے نفرت انگیز تقریر اور آرا مزید شدت بخشتی ہے۔ اس لیے کوٹہ سسٹم کے نظام کو بہتر اور یقینی بنانے کی ضرورت ہے اس سے مختلف مذاہب اور قومیت سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی مساوی حقوق کی فراہمی کے عمل کو کارگر بنایا جا سکتا ہے۔
• آئینی حقوق مساوات کی ضمانت دیتے ہیں، مگر ان پر عملدرآمد میں خلا موجود ہے، جس کے باعث اقلیتیں حاشیے پر دھکیل دی جاتی ہیں۔ اس لیے آئین کی پاسداری اور اس پر عملدرامد کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ کسی بھی شخص کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہونا چاہئے۔
• حقیقی بقائے باہمی کے لیے کمیونٹی کی قیادت میں اقدامات، "رواداری” کے بجائے "احترام” کو فروغ دینا، اور تعلیم و میڈیا کے ذریعے مؤثر جوابی بیانیے تشکیل دینا ضروری ہے۔
تقریب میں موجود نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر خلیل طاہر سندھو (پی ایم ایل-این)، سابق صوبائی وزیر برائے انسانی حقوق نے کہا کہ انتہا پسندی کم کرنے کے لیے "مکالمے کے عمل کو جاری اور مضبوط کرنا” ضروری ہے۔ انہوں نے کہا: "ہمارے معاشرے کے لوگ قبولیت کا جذبہ کھو چکے ہیں”، اور کثرتیت (pluralism and diversity) کو فروغ دینے پر زور دیا تاکہ مختلف نسلی، مذہبی اور لسانی پس منظر کے افراد کو اپنایا جا سکے۔
ڈاکٹر راغب حسین نعیمی، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل (CII)، نے اجلاس کی صدارت کی اور امید ظاہر کی کہ ورکشاپ کے شرکاء اپنی کمیونٹیز میں سوشل ایکشن پلانز نافذ کریں گے تاکہ امن اور رواداری کو فروغ دیا جا سکے۔ ڈاکٹر اشتیاق احمد، سابق رکن پلاننگ کمیشن پاکستان، نے نوجوانوں کے لیے سیاسی شرکت کے مواقع کی کمی کو قومی مسئلہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ PIPS کی تحقیق نے نوجوانوں کی "مثبت صلاحیت” کو مؤثر طریقے سے اجاگر کیا ہے۔
سابق سینیٹر افراسیاب خٹک، سیاسی تجزیہ کار اور انسانی حقوق کے کارکن، نے کہا کہ پاکستان میں انتہا پسندی "اندرونی پیداوار” نہیں بلکہ سماجی و ثقافتی انجینئرنگ کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے اختلافِ رائے کو برداشت کرنے اور نئے خیالات کے جنم دینے پر زور دیا۔ ڈاکٹر خالد مسعود، جج شریعت اپیلیٹ بینچ سپریم کورٹ، نے کہا کہ معاشرہ خود بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور انتہا پسندی کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کرے، صرف ریاست پر انحصار نہ کرے۔
ڈاکٹر افشاں ہما، ماہر تعلیم اور مصنفہ، نے رپورٹ کا تنقیدی جائزہ پیش کرتے ہوئے مزید معیاری تجزیے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ پالیسی سازی میں رپورٹ کا زیادہ مؤثر استعمال ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ "محض رواداری” کے بجائے پرامن بقائے باہمی کو فروغ دینا چاہیے، کیونکہ رواداری اکثر تعصبات کو برقرار رکھتی ہے۔
لارنس بسٹرویلز، فرسٹ سیکریٹری پولیٹیکل، نیدرلینڈز ایمبیسی اسلام آباد، نے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کی قیادت میں اقدامات اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے پالیسی اقدامات کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ نیدرلینڈز کا سفارتخانہ اس سلسلے میں اپنی حمایت جاری رکھے گا۔ محترمہ عیشم فاروق نے تقریب کے اختتام پر کہا کہ معاشرتی ترقی اجتماعی تجربات سے مسلسل سیکھنے، بھولنے اور دوبارہ سیکھنے کے عمل سے حاصل ہوتی ہے۔

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version