Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»تما م آرٹیکلز»خیبر پختونخوا، اور شناخت سے جڑے مسائل
    تما م آرٹیکلز

    خیبر پختونخوا، اور شناخت سے جڑے مسائل

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتاکتوبر 20, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔31 Mins Read6 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    تعارف افراسیاب خٹک ایک معروف دانشوں سابق سینیٹر اور انسانی حقوق کے کارکن نے عامر رانا کے ساتھ مکالمے میں خیبر پختونخوا اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں شناخت سے جڑے مسائل اور مزاحمتی تحریکوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے پشتون قوم پرستی کی تاریخی جڑیں، جیسے روشنائی تحریک خوشحال خان خٹک اور باچا خان کی جدوجہد اور ان کے سیاسی، سماجی اور تاریخی پس منظر کو بیان کیا۔ خٹک نے زور دیا کہ پشتون اور بلوچ تحریکیں نو آبادیاتی ڈھانچوں، سامراجی مداخلتوں اور وفاقی نظام کی ناکامیوں کے رد عمل کے طور پر ابھریں۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں کی کمزوری، معاشی نا انصافیوں، اور پنجاب کی بالا دستی کو شناخت کے بحران اور مسلحمزاحمت کے فروغ کی بنیادی وجوہات قرار دیا۔ خٹک نے مقامی زبانوں کے تحفظ، شہری کاری اور نوجوانوں کی شمولیت پر زور دیتے ہوئے مکالمے اور وفاقی جمہوریت کو مسائل کے حل کے لیے ناگزیر قرار دیا۔

    سوال: آپ جانتے ہیں کہ ہم نے پاکستان کی شناختوں سے متعلق ایک سلسلہ شروع کیا ہے، اور آج ہم اسی سلسلے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ آج ہم تین اہم سوالات پر بات کرنا چاہتے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں دو مزاحمتی تحریکیں جاری ہیں : ایک بلوچستان میں، اور ایک نسبتاً چھوٹے پیمانے پر، جسے کچھ لوگ مزاحمت یا بغاوت کے زمرے میں ہی نہیں لاتے، پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جہاں ٹی ٹی پی کی موجودگی ہے۔ ٹی ٹی پی کا قبائلی اضلاع میں اثر ہے، اور ساتھ ہی وہاں قوم پرست تحریکیں بھی موجود ہیں یا جیسا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں، حقوق کی تحریکیں۔ ان تحریکوں پر بہت بحث جاری ہے۔ کیا یہ سیاسی مسائل ہیں، تاریخی، یا سماجی ؟ دراصل یہ تحریکیں ہیں کیا ؟

    آج ہم اس معاملے کی گتھی سلجھانے کی کوشش کریں گے۔ ہمارے ساتھ موجود ہیں افراسیاب خٹک صاحب، جو نہ صرف سیاست میں سر گرم رہے ہیں بلکہ ایک معروف دانشور ، سابق سینیٹر ، اور انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے سابق سربراہ بھی ہیں۔ ہم ان سے کہیں گے کہ وہ ان تین اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالیں جو ان مزاحمتی تحریکوں سے متعلق ہیں یہ کیسے ابھریں، اور ان کا سیاسی، سماجی اور تاریخی پس منظر کیا ہے ؟

    جواب: اگر آپ پشتون قومی شناخت کو دیکھیں، تو ہمارے خطے میں بڑی بڑی تحریکیں رہی ہیں۔ لیکن ان تحریکوں پر بات کرنے سے پہلے میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اگر ہم افغانوں یا پشتونوں کی تاریخ دیکھیں، خاص طور پر ان کا سلطنت سازی میں جو کردار رہا ہے چاہے وہ افغانستان میں ہو، دہلی (ہند) میں، جہاں خلجی حکمران رہے، یا بعد میں سوری خاندان، یا ایران میں ہو تک خاندان تو پشتونوں نے تاریخی طور پر سلطنتیں قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پشتون بیلٹ کے زیریں علاقوں میں جو جغرافیائی طور پر پہاڑی دامن کے علاقے ہیں وہاں بھی تحریکیں رہی ہیں۔

    سترہویں صدی میں، مثال کے طور پر ، وزیرستان کے بیازید انصاری تھے ، جو روشنائی تحریک سے وابستہ تھے۔ ان کا ایک مدرسہ ہندوستان کے شہر لدھیانہ میں تھا، اور وہیں سے ان کی تحریک پشتونوں میں پھیلی۔ انہوں نے مغلوں کے خلاف کئی نسلوں تک بغاوت کی۔ ان کے بیٹے جلال اور پھر پوتے عبد القادر نے اس جد وجہد کو جاری رکھا۔ روشنائیوں نے ایک مکمل ادبی دبستان قائم کیا۔ انہوں نے اپنے پیغامات کو شاعری اور کتابوں میں قلم بند کیا۔

    ایک اور نظریاتی دبستان خوشحال خان خٹک کا تھا، جنہوں نے افغان قوم پرستی اور وسیع تر پشتون قوم پرستی کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے بھی مغلوں کے خلاف آواز بلند کی، اور ان کے ساتھ ایمل خان اور دریا خان جیسے لوگ بھی تھے۔ ان کی شاعری بھی ایک بڑی روایت کا حصہ بنی۔
    پھر بیسویں صدی میں باچا خان کا دور آیا۔ اپریل 1921 میں انہوں نے تعلیم کے لیے تحریک شروع کی، جو بعد میں آزادی کی قومی جد و جہد کا حصہ بن گئی۔ یہ تحریک نچلی سطح سے ابھری تھی ایک حقیقی سماجی تحریک۔ یہ اوپر سے مسلط کردہ نہیں تھی، بلکہ عوامی سطح پر پروان چڑھی تھی۔

    یہ سلسلہ شاید بہتر انداز میں آگے بڑھتا اگر سامراجی مفادات مداخلت نہ کرتے۔ جب برطانوی حکومت نے 1940 کی دہائی میں یہ محسوس کیا کہ جرمنی دوسری جنگ عظیم میں شکست کھا جائے گا، تو چر چل نے سویت یونین کو اگلا بڑا دشمن سمجھنا شروع کر دیا۔ ان کا تصور یہ تھا کہ سیاسی اسلام کو ایک اسٹریٹجک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ سویت یونین کا مقابلہ کیا جا سکے ، خاص طور پر چونکہ وسطی ایشیا کی ریاستیں مسلم اکثریتی تھیں، اور مسلمان مشرقی ہندوستان، ایران، مشرق وسطی، شمالی افریقہ اور سنکیانگ میں بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔

    چنانچہ وہ سیاسی اسلام کو جہاد میں تبدیل کرنا چاہتے تھے۔ اس تناظر میں عدم تشدد کی تحریکیں ان کے منصوبے میں فٹ نہیں آتی تھیں۔ میری رائے میں اگرچہ اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ جب پشتونوں کو 1948 میں کشمیر بھیجا گیا، تو اس کے پیچھے بھی برطانوی افسران، مثلاً جنرل گریسی، جیسے لوگ تھے ، جو یہاں موجود تھے اور چاہتے تھے کہ پشتونوں کو سیکولرزم، جمہوریت اور قوم پرستی سے ہٹا کر جہاد کی طرف لگایا جائے۔

    در حقیقت ریفرنڈم کا آغاز بھی برطانویوں نے ہی کیا تھا، پاکستان نے اپنے قیام کے بعد نہیں۔ یہ ریفرنڈم قوم پرستوں کو ایک طرف دھکیلنے اور دبانے کے لیے کرایا گیا۔ یہ ایک اہم بنیادی وجہ ہے۔

    باچا خان اور محمد علی جناح کے درمیان خط و کتابت بھی ہوئی تھی۔ باچا خان نے کراچی میں ایک عوامی بیان میں کہا تھا کہ اگرچہ ہمارے درمیان سیاسی اختلافات ہیں، لیکن ہم سیاسی لوگ ہیں اور ہمیں بات چیت کے ذریعے آگے کا راستہ نکالنا چاہیے۔ جناح نے اس بات سے اتفاق کیا اور کہا کہ وہ پشاور آئیں گے۔ باچا خان نے انہیں دعوت دی، اور جناح نے مثبت جواب دیا۔ لیکن جب وہ آئے ، تو یہاں منظم گورنر تھا، اور میرا خیال ہے کہ اس نے جان بوجھ کر اس ملاقات کو سبوتاژ کیا، کیونکہ اس وقت صوبے کا انتظامی سیٹ اپ تبدیل ہو رہا تھا۔

    سوال: اور ان مذہبی فسادات کے پیچھے اصل کردار اولاف کیر وہی تھا۔ ایک مجاہدین سے متعلق تحریر میں۔ شاید مولانا لمسون مہر یا کسی اور کی اس کا بھی ذکر ہے کہ اس وقت بھی صوفی محمد سے وابستہ ایک گروہ کو اسی طرح اکسایا گیا اور میدان میں اتارا گیا۔

    جواب : جی بالکل آپ نے ایک نہایت اہم نکتہ چھیڑا ہے۔ میں نے اس پر بہت کام کیا ہے اور تفصیل سے لکھا ہے۔ میں نے اولاف کیرو پر کافی کچھ پڑھا ہے۔ ایک امریکی پروفیسر نے تو ان پر پی ایچ ڈی بھی کی ہے۔ جو کچھ آج میں آپ سے کہہ رہا ہوں، وہ تحقیق سے ثابت شدہ ہے۔ باچا خان کو جناح سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہیں روک دیا گیا۔ اور ریفرنڈم بھی صرف ان کی حکومت گرانے کے لیے کرایا گیا۔ ان کی حکومت کو جان بوجھ کر ختم کیا گیا۔ یہ سب منصوبہ بند اقدامات تھے۔ اصل میں تو یہ سب وسطی ایشیا میں بننے والی سامراجی حکمت عملی سے جڑا ہوا تھا مذہبی …جذبات کو سامراجی مفادات کے لیے استعمال کرنا۔ جیسا کہ ہم نے بات کی، یہ سب کچھ بہت سوچ سمجھ کر کیا گیا۔ اور سب سے بڑا مسئلہ یہی تھا

    سوال :… کہ قومی ریاست کے اندر جہاد کا تصور کیسے موجود ہو سکتا ہے؟ مولانا مودودی نے بھی اس پر پورا مقدمہ پیش کیا تھا۔ ایک طویل بحث …تھی

    جواب : … بلکہ کئی دہائیوں تک یہ بحث جاری رہی کہ آیا یہ جائز بھی ہے یا نہیں۔ اور پھر آپ دیکھتے ہیں کہ 1949 میں مقاصد قرارداد کیوں لائی گئی۔ اس وقت کی بیورو کریسی مالک غلام محمد، سکندر مرزا، ایوب خان، چودھری محمد علی سید گروہ سامراجی مفادات سے ہم آہنگ تھا۔ اور پھر 1954 میں انہوں نے بغاوت کر دی۔ آپ نے دیکھا کہ انہوں نے اسلام کے عدل کے تصور کے ساتھ کیا کیا۔ مقاصد قرار داد کو اس جہاد ” کے نظریے کو جواز دینے کے لیے استعمال کیا گیا۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ سب ضیاء الحق یا بھٹو سے شروع ہوا، لیکن میرا نہیں خیال کہ یہ درست بات ہے۔

    آج بھی اگر آپ دیکھیں بریژنکی کی کتاب *The Afghan Trap* (افغان جال) میں صاف دکھایا گیا ہے کہ افغانستان میں کیسے آپریشنز کیے گئے تاکہ سویت یونین کو پھنسایا جا سکے۔ تو ضیاء الحق کی حکمت عملی در اصل اسی افغان مشن کی خدمت تھی۔

    سوال: اور بھٹو کے ساتھ بھی یہی معاملہ تھا، جب قوم پرست تحریکیں ابھر رہی تھیں۔ اب ہم اس موازنے کی طرف آتے ہیں۔ پشتون قوم پرست تحریک اور بلوچ قوم پرست تحریک میں فرق کیا ہے؟

    جواب : بلوچستان اور پشتون علاقوں کا مشترک مسئلہ یہ ہے کہ ان کا انضمامی عمل ہموار نہیں رہا۔ خاص طور پر بلوچستان میں۔ اس کی وجہ ، جیسا کہ میں پہلے بھی اشارہ دے چکا ہوں ، یہ تھی کہ جو قیادت مسلم اقلیتی صوبوں، مثلا یوپی اور سی پی سے پاکستان آئی تھی انہیں پاکستان کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں۔ وہ یہاں کی مقامی زبانیں بھی نہیں بولتے تھے نہ پنجابی، نہ پشتو
    سوال : … نہ سندھی۔ ان میں سے کوئی ایک بھی سندھی نہیں بولتا تھا۔ ان کی زبان صرف اردو تھی، جو خود پنجاب کی مقامی زبان نہیں تھی۔ یہ ایک اور الجھاؤ تھا …

    جواب : بالکل۔ حتی کہ بلوچستان میں بھی خان قلات کے ساتھ جو مذاکرات ہوئے ، وہ ٹھیک طریقے سے نہیں کیے گئے۔ یاد رکھیں کہ جناح خود خان قلات کے وکیل تھے وہ ان کے خود مختار حیثیت کے حق میں دلائل دیتے تھے۔ لیکن پھر جناح نے خود کو الگ کر لیا۔ وہیں سے مسئلہ شروع ہوا۔
    اس کے بعد جمہوریت کبھی واقعی جڑ نہ پکڑ سکی۔ آج تک ہمارے ہاں افقی ربط موجود نہیں۔ یہ عمودی نظام ہے۔ فیصلے اوپر سے تھوپے جاتے ہیں، جیسے شاد اللہ کی طرف سے لوگوں کے سروں پر ٹوپیاں رکھ دی جاتی ہوں (ایک استعارہ جو مصنوعی شناخت تھوپنے کی طرف اشارہ کرتا ہے)۔ اور اب ہم اور دوسرے لوگ تو یہ بھی نہیں جانتے کہ آج کل سندھی زبان میں کیا لکھا جا رہا ہے۔ سندھ میں کون جانتا ہے کہ اجمل خٹک کون تھا یا شناخت کے مباحث کیا تھے؟ یہ تو ایک مکمل nation-building (قومی تعمیر ) کا منصوبہ ہے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم زبر دستی سب کچھ ایک میں ضم کر سکتے ہیں۔ اور ان کا یقین ہے کہ پرانی شناختوں کو توڑے بغیر یہ عمل ممکن نہیں۔ یہی اصل مسئلہ ہے۔

    سوال : ایک طرح سے یہ غفلت ہے۔

    جواب : بالکل، یہ واقعی غفلت ہے۔ یہ شناخت بہت پرانی ہے، کیونکہ تہذیبیں اور فکری نظام وقت کے ساتھ ساتھ ارتقاء پذیر رہے ہیں۔ پشتونوں کے بارے میں میں نے یہ معلوم کیا ہے کہ یہ معاملہ آٹھ ، نو ہزار سال پرانا ہے۔

    سوال: جی ہاں، سات یا آٹھ ہزار سال پرانا۔

    جواب: جی، تقریباً اتنا ہی پرانا تو یہ بہت پرانے مسائل ہیں۔ ایک پہلو شناخت کا ہے۔ اوستا اور سنسکرت ہماری ماخذ زبانیں ہیں ، اور یہ قدیم ترین زبانیں ہیں۔ مذہب ، یقیناً کسی قوم کی بنیاد ا کیلئے نہیں بن سکتا۔ جہاں مذہب کو قومی شناخت کے طور پر مسلط کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر اسرائیل کو دیکھیں وہاں امن کیوں قائم نہیں ہو پارہا؟ ان کا نظریہ بھی کسی حد تک ہمارے مذہب سے مماثل ہے، لیکن اگر مذہب سے قوم بن سکتی، تو عرب ایک متحد قوم کیوں نہ بن پائے ؟

    سوال: لیکن پاکستان میں یہ بحث ایک مختلف رخ اختیار کر چکی ہے۔ یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔ کہ ہمارا مذہب ہمیں باقی دنیا سے الگ کر دیتا ہے۔ ہم تین آئین بنا چکے ہیں، لیکن مذہب اور قومی شعور کے
    در میان الجھن ابھی تک برقرار ہے۔ یہ اشرافیہ میں اتنی ہمت کیوں نہیں ہے کہ اس سچ کا سامنا کریں؟

    جواب: دیکھیں، کتابوں میں اس کے حوالہ جات موجود ہیں یہ بالکل واضح ہے کہ یہ انتہا پسندی ہمارے معاشرے کے اندر سے پیدا نہیں ہوئی۔ یہ ہماری اپنی تخلیق نہیں ہے۔ اسے ہم میں انجیکٹ کیا گیا۔ لفظی طور پر ایک انجیکشن کی صورت میں۔ اور یہ سب 1980 کی دہائی میں ہوا۔ میری عمر اتنی ہے کہ میں نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اس سے پہلے، مثال کے طور پر، کسی عوامی اجتماع میں کوئی یہ نہیں کہتا تھا کہ ” میں وہابی ہوں "۔ ایسا نہیں ہوتا تھا۔ لیکن آج آپ دیکھتے ہیں کہ وہابیت ہر طرف پھیل چکی ہے۔ افغان جنگ کے بعد اس کا اثر اتنی تیزی سے پھیلا کہ اب وہ غلبہ حاصل کر چکا ہے۔ دیوبندی مکتب فکر بھی اس کے ساتھ جڑ گیا۔ تو یہ سب ایک با قاعدہ سماجی انجینئر نگ تھی اور یہ مقامی نہیں تھی۔ اس کا آغاز ہمارے اندر سے نہیں ہوا۔ اس کے پیچھے بیرونی قوتیں تھیں

    سوال: یہ جو قوم پرست تحریک ہے۔ یہ رد عمل پر مبنی تحریک ہے یا مستقبل کی طرف دیکھنے والی تحریک ہے؟

    جواب : یہ دونوں پہلو رکھتی ہے۔ حقوق اور شناخت یہ دونوں جائز مطالبات ہیں۔ شناخت بھی ایک حق ہے۔ اور ایک سے زیادہ شناختیں بھی ہو سکتی ہیں۔ ہماری جدوجہد معاشی حقوق کے سیاق و سباق میں بھی ہے۔ معاشی ناانصافیاں موجود ہیں۔ یہ حقیقی مسائل ہیں۔ اگر آپ آج صبح جنوبی پنجاب جائیں، تو وہاں آپ کو اکثریتی حکمرانی نہیں ملے گی۔ صرف پاکستان کو دیکھیں یہ دنیا کا واحد وفاق ہے جہاں ایک صوبے کی آبادی باقی تمام صوبوں کی مجموعی آبادی سے زیادہ ہے۔ دنیا میں ایسا کوئی اور وفاق نہیں ہے۔ فرق ضرور ہوتے ہیں، لیکن اس درجے کا تفاوت نہیں ہوتا۔
    اس کے باوجود انہوں نے ان اصولوں کو تسلیم نہیں کیا جو دنیا کے دوسرے وفاقوں میں تسلیم کیے گئے ہیں۔ صاف صاف، خلوص سے کہوں تو : پنجاب کی حکمران اشرافیہ نے کبھی بھی فیڈر لزم (وفاقیت ) کو دل سے قبول نہیں کیا۔ انہوں نے اپنے بڑوں کے ساتھ بھی یہ سلوک کیا۔ اٹھارہویں ترمیم کو پاس ہوئے پندرہ سال ہو چکے ہیں۔ لیکن آج تک وہ اسے نافذ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ تعلیمی نصاب ، جو آئینی طور پر صوبوں کا اختیار ہے، آج بھی مرکز کے قبضے میں ہے۔ مرکز کہتا ہے : مرکز کہتا ہے: "ہم اسے تسلیم نہیں کرتے "۔ یہ صور تحال اب بھی جاری ہے

    سوال: اس طرح کے ڈھانچے میں محبت پر مبنی کوئی تعلق قائم ہو ہی نہیں سکتا یہ لازما نو آبادیاتی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ جب ہم اس طرف بڑھتے ہیں، تو پورا اشرافیائی ڈھانچہ اس میں ملوث ہوتا ہے۔ پنجاب کا اس
    میں حصہ ضرور ہے، لیکن باقی سب بھی شریک ہیں۔

    جواب: اگر ہم اسے تاریخی تناظر میں وسیع تر نگاہ سے دیکھیں، تو آج کا پاکستان بنیادی طور پر دو نظاموں پر مشتمل ہے۔ ایک تو قانونی و آئینی ڈھانچہ ہے، جس کی موجودگی ہی ایک سوال ہے۔ یہ کام کرتا بھی ہے یا نہیں؟ لیکن اصل طاقت کو اس سے کوئی غرض نہیں۔ وہ اسمبلیوں، وزیر اعظم ہاؤس، اور ایوان صدر میں براجمان ہے۔ آپ دیکھ لیں جب جب شہباز شریف نے اپنی کابینہ بنائی، تو مسلم لیگ (ن) نے یہ دکھانے کی بھی زحمت نہیں کی کہ وہ پورے ملک کی نمائندگی کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ تک دکھاوا نہیں کیا۔

    انہوں نے 18 وزرا لیے اور صرف ایک وفاقی وزارت پنجاب سے باہر کے کسی فرد کو دی گئی، اور وہ کون سی وزارت تھی؟ سفارون (SAFRON) ریاستوں اور سرحدی علاقوں کی وزارت۔ وہ وزارت تو فاٹا کے انضمام کے بعد ختم ہو چکی تھی۔ انضمام کے بعد وہ وزارت محض ایک افسانہ بن چکی تھی۔ تو انہیں ایک فکشن تھا دیا گیا کہ یہی لو، اس پر خوش ہو جاؤ۔

    سوال: واقعی؟

    جواب : جی ہاں یہ جو علامتی نمائندگی دی گئی، جیسے انجینئر امیر مقام کو، یہ صرف علامت ہے۔ لیکن یہ سب تو پھر بھی کمزور ریاست کا حصہ ہے۔ اصل، بالا دست ریاست اگر آپ اسے غور سے دیکھیں تو ذرا کمانڈرز پر نگاہ ڈالیں: کتنے غیر پنجابی ہیں ؟ ڈی جی آئی ایس آئی ؟ ڈی جی ایم آئی ؟ ایئر فورس ؟

    سوال : آرمی، نیوی، ایئر فورس کے سربراہان …

    جواب : … تمام اداروں کے چیف۔ مطلب یہ کہ ، ” ہم آپ کو بلدیاتی انتخابات میں بہت سی نشستیں دے دیں گے، لیکن جب بات وفاقی کابینہ کی ہو گی جہاں اصل فیصلے ہوتے ہیں تو وہاں آپ صرف تماشائی ہوں گے۔ بد قسمتی سے اصل پالیسی ساز تقریباً سو فیصد پنجابی ہیں۔ یہ ملک کے لیے صحت مندرجحان نہیں، نہ اس کے مستقبل کے لیے ، نہ اس کے وجود کے لیے۔

    سوال: لیکن سیاسی جماعتیں اتنی کمزور کیوں ہو گئی ہیں ؟ ایک بڑی وجہ تو عسکری اسٹیبلشمنٹ اور اشرافیہ ہو سکتی ہے۔ لیکن اب تو ایسا لگتا ہے جیسے سیاست خود مر رہی ہو۔ چاہے قوم پرست جماعتیں ہوں یا مذ ہبی، مرکزی
    دھارے کی ہوں یا متبادل …

    جواب : مسئلہ دونوں طرف ہے ذمہ داری کا فقدان باہمی ہے۔ سیاسی جماعتیں ترقی نہیں کر سکیں۔ ان کے اندر داخلی جمہوریت کبھی قائم نہ ہو سکی۔ ایک بڑا مسئلہ یہ رہا کہ بیسویں صدی کے وسط میں جاگیردار اشرافیہ زمین دار طبقه سیاست، پارلیمان، اور جماعتوں پر قابض رہا۔ لیکن اب وہ آہستہ آہستہ باہر ہو رہے ہیں۔

    ہمارے صوبے میں شہری آبادی بہت تیزی سے بڑھی شہری زندگی نے زور پکڑا لیکن جماعتیں اس کے ساتھ نہیں بڑھیں۔ اس سماجی تبدیلی کے نتیجے میں جو نئے طبقات پیدا ہوئے وہی نئی جماعتوں میں شامل ہوئے۔ کچھ پی ٹی آئی میں گئے، کچھ پی ٹی ایم میں ، کچھ دوسری تحریکوں میں۔ یہ نئے سماجی طبقات ہیں۔ روایتی جماعتوں نے ان کے لیے دروازے ہی نہیں کھولے۔

    یہ ایک بڑی وجہ ہے۔ دوسری یہ کہ ریاست نے خود کو حکومت کہنا شروع کر دیا ہے اور اب تو کوئی ایک جماعت بھی ایسی نہیں ہے جو ملک کے تمام علاقوں میں موجود ہو۔ ایک بھی نہیں۔ کیونکہ ریاست نے جان بوجھ کر یہ جگہ تقسیم کر دی ہے۔ میں آپ کو بتاؤں پچھلے پندرہ سالوں میں (اس سے پہلے کی بات میں نہیں کہہ سکتا ) مجھے ذاتی طور پر معلوم ہے کہ کس طرح جماعتوں کو انٹیلیجنس کے بیک چینلز کے ذریعے ” مینج” کیا جاتا رہا ہے۔

    جماعتی رہنماؤں کو کہا جاتا ہے : ” آپ کی جماعت بہت اچھی ہے ، آپ بہت خاص ہیں ، لیکن پھر دباؤ ڈالا جاتا ہے : ” اس شخص کو ہٹا دیں، اس کو سائیڈ لائن کر دیں ” ۔ یہ دباؤ بہت شدید رہا ہے۔ اور نتیجہ یہ ہے کہ جماعتیں سکڑ رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب ہم دیکھتے ہیں کہ سماجی تحریکیں …ان کی جگہ لے رہی ہیں۔ ان سماجی تحریکوں کا سبب یہی ہے کہ سیاسی جماعتیں غیر متعلق ہو گئی ہیں۔ اور میں یہی بات سمجھانا چاہتا تھا

    سوال: سیاسی جماعتیں در حقیقت خود کو عوامی مباحثے اور عام آدمی سے کاٹ چکی ہیں۔ یہ علیحد گی مسلط نہیں کی گئی انہوں نے خود اس راستے کا انتخاب کیا۔ عوام نے پھر دوسری تحریکوں کے ساتھ جڑنا شروع کیا، جیسے مہراج تحریک، بلوچستان میں پی ٹی ایم، اور دیگر پشتون علاقوں میں مقامی تحریکیں۔ سندھ میں ہم نے “سندھ بچاؤ، دریائے سندھ بچاؤ جیسی تحریکیں دیکھیں۔ ملتان اور جنوبی پنجاب میں بھی اسی طرز کی تحریکیں ابھریں۔ یہاں تک کہ مقامی سطح پر بھی ایسی سر گرمیاں دیکھی گئیں۔ یہ سب سیاسی جماعتوں کی ایک بڑی ناکامی ہے۔

    جواب : اور اس کمزوری کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک بڑی وجہ خاندانی سیاست ہے۔ یعنی قیادت پر مخصوص خاندانوں کا قبضہ ۔ اب ہو سکتا ہے کہ ان خاندانوں میں باصلاحیت لوگ بھی ہوں، اور وہ اپنی جگہ درست ہو۔ لیکن جب اسے مستقل اصول بنا دیا جائے کہ قیادت صرف انہی خاندانوں میں رہے گی، تو یہ ایک ساختی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور جب آپ اس ذہنی قید میں ہوں، تو آپ سچ بول ہی نہیں سکتے۔

    سوال: اس نکتہ کو ذرا آگے بڑھاتے ہیں۔ شروع میں تو سیاسی جماعتوں کی ناکامی سے سماجی تحریکوں کو جگہ ملی، لیکن دوسری طرف کچھ پر تشد در جحانات بھی سامنے آئے، وہ عناصر جو خود کو "ریاست مخالف قوتیں” کہتے ہیں۔ بنیادی طور پر سیاست کی کمزوری نے پاکستان میں مسلح مزاحمت کو ابھرنے کا موقع دیا۔ اگر سیاست مضبوط ہوتی، تو شاید یہ تحریکیں کبھی پیدا ہی نہ ہوتیں۔

    جواب : جو لوگ سیاست اور تاریخ دونوں کو سمجھتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ اگر آپ کے ہاں نو آبادیاتی نظام ہو ، تو وہاں شمولیتی سیاست نہیں ہو سکتی۔ یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ نہیں چل سکتیں۔ یہ بڑی اچھی بات ہے کہ ہم آج یہاں بیٹھ کر بات کر رہے ہیں۔ کیونکہ یہی وہ کام ہے جو سیاسی جماعتوں کو کرنا چاہیے۔ آئین کا تحفظ، وفاقی جمہوری نظام کی پاسداری ، اور اقتدار کے لیے پر امن مذاکرات۔
    2014 سے جو creeping coup ( خاموش بغاوت ) جاری ہے ، وہ نواز شریف کی حکومت کے خلاف شروع ہوئی۔ لیکن اس کا اصل نشانہ صرف نواز شریف نہیں تھے۔ اس کا ہدف آئین کو غیر مؤثر بنانا تھا۔ ان کی حکومت کو ہٹایا گیا، لیکن مہم جاری رہی۔ عمران خان کو لایا گیا اور ان کے ذریعے اپنا ایجنڈا آگے بڑھایا گیا۔ پھر دوسروں کو بھی باہر کیا گیا۔

    اب ہم سن رہے ہیں کہ عبوری سیٹ اپ میں آئینی ترامیم کی باتیں ہو رہی ہیں۔ آپ نے دیکھا کہ عدلیہ کے ساتھ کیا کیا گیا۔ اس کی حالت بدتر ہو چکی ہے۔ جیسے اس کے تابوت میں کیلیں ٹھونکی جارہی ہوں۔ یہ سب ایک نو آبادیاتی طرز کا طرز عمل ہے۔ لیکن سیاسی جماعتیں بھی اس کی ذمہ دار ہیں۔ یہ صورتحال جزوی طور پر ان کی کمزوری کی وجہ سے ہے۔

    سوال: ہر چیز الٹ پلٹ ہو چکی ہے۔ سوال یہ ہے اب باقی کیا بچا ہے ؟ کیا اس سارے عمل کو دوبارہ مکالمے کی طرف لایا جا سکتا ہے ؟ کیا ہم پاکستان کی تمام وفاقی اکائیوں کے درمیان بات چیت کا کوئی فریم ورک بنا سکتے ہیں؟ کیونکہ ہم ہمیشہ بلوچستان سے مکالمے کی بات کرتے ہیں، مفاہمت کی بات کرتے ہیں، لیکن ریاست خود بات چیت کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ آمادہ ہی نہیں ہوتی۔ لیکن آپ نے اس خیال کی تجویز دی ہے تو سوال یہ ہے، کیا ایسی سیاسی بصیرت تشکیل دینے کی کوئی گنجائش باقی ہے؟

    جواب : مکالمہ طاقت کے فریم ورک سے باہر ہونا چاہیے ۔ جو لوگ عدم تشدد پر یقین رکھتے ہیں، جو اسلحہ نہیں اٹھاتے ، ان کے پاس مکالمے کے سوا اور کیار استہ ہے ؟ جب ویتنام آزاد ہوا تھا، تو ایک بھی ویتنامی ایسا نہیں تھا جو جین فونڈا کا نام نہ جانتا ہو ایک امریکی اداکارہ جس نے جنگ کے خلاف آواز بلند کی تھی۔ یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوتا جنگیں عوام کے درمیان نہیں ہو تیں، بلکہ طاقت کے بلا کس کے درمیان ہوتی ہیں۔ اس لیے مکالمہ ہر حال میں جاری رہنا چاہیے۔

    ایک بات میں آپ سے شیئر کرنا چاہتا ہوں جو میں نے لاہور میں عاصمہ جہانگیر کی تعزیتی ریفرنس میں کہی تھی۔ میں نے سامعین سے کہا تھا کہ شاید آپ برا نہ منائیں، کیونکہ میں نسلی برتری پر یقین نہیں رکھتا میں انسانی وقار پر یقین رکھتا ہوں۔ میں نے کہا: التاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ پنجاب نے آزادی کی تحریک میں اتنی شرکت نہیں کی جتنی دیگر خطوں نے کی۔ اس لیے تاریخ کا ایک قرض آپ پر باقی ہے۔ ”

    میں نے کہا: "ذرا تصور کریں کہ پنجاب سے کوئی جریدہ نکلے ، جیسے بادشاہت کے خلاف کوئی تحریک، اور پورا ملک اس کی پیروی کرے۔ یہ ایک ایسا راستہ ہو سکتا ہے جس کے ذریعے پنجاب اپنا تاریخی قرض چکا سکے ، اور ایک جمہوری، وفاقی پاکستان کی راہ ہموار کرے۔ ”

    اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ پنجاب کی مڈل کلاس جو پی ٹی آئی یا دیگر جماعتوں میں ہے۔ انتہائی اہم ہے۔ اب بھی، ومئی کے بعد ، باوجود اس کے کہ جو کچھ ہوا، پھر بھی کچھ نیا جنم لے سکتا ہے۔ 9 مئی کے واقعے نے سب کچھ بکھیر دیا۔ لیکن شاید وہی کسی نئی شروعات کا سبب بھی بن جائے۔

    مجھے اب بھی یقین ہے کہ پنجاب میں جمہوری بیداری آسکتی ہے۔ ایک ایسی آنکھ کھل سکتی ہے جو پورے ملک کا منظر نامہ بدل دے۔ کیوں ؟

    کیونکہ اس وقت ملک میں کوئی بھی حقیقی قومی جماعت موجود نہیں ہے۔ کوئی مضبوط تحریک نہیں ہے۔ وہ پرانی روایت بھی ماند پڑ گئی ہے۔ مجھے یاد ہے جب ہم نے بے نظیر بھٹو کے ساتھ نواز شریف کی حکومت کے دوران اتحاد کیا تھا۔ یہ غالباً 1991-92 کا وقت تھا۔ ہم نے اس اتحاد کو “ ایک الائنس فار ڈیمو کریٹک لائنز کا نام دیا تھا۔

    اس میں کئی جماعتیں شامل تھیں ملک قاسم صاحب کا دھڑا، قوم پرست جماعتیں جیسے اے این پی۔ پاکستان میں ایک روایت ہوا کرتی تھی کہ لوگ کسی مقصد کے لیے اکٹھے ہو جاتے تھے۔ ہم نے ایم آر ڈی ( تحریک بحالی جمہوریت) دیکھی، ایوب خان کے خلاف تحریکیں دیکھیں، چارٹر آف ڈیمو کریسی دیکھا۔ لیکن اب ، وہ روایت خاموش ہو چکی ہے۔

    …سوال: یعنی وہ روایت کمزور ہو چکی ہے۔ یعنی فکری روایت

    جواب: سیاسی جماعتوں کے اندر واقعی ایک فکری بحران ہے۔ ہر جنگ کے بعد ایک دھند چھا جاتی ہے۔ Fog of war (جنگ کی دھند) ایک حقیقت ہے ۔ یہ بصیرت کو دھندلا دیتی ہے۔ اور یہ فطری بات ہے، کیو نکہ جنگ انسانی جذبات کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔

    سوال: مسئلہ یہ ہے کہ یہ دھند ہمیں اپنے داخلی مسائل بھلانے نہ دے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ ایسے بحرانوں کے دوران، میں کوئی واضح فکری مکالمہ نہیں دیکھتا۔ یہاں تک کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ میں بھی اس کی جڑ میں اعتماد کا فقدان ہے لیکن تب بھی کوئی سنجیدہ فکری مباحثہ سامنے نہیں آتا۔

    جواب : بالکل درست ۔ جنگ عام طور پر سوالات کو جنم دیتی ہے۔ لوگ سوال اٹھاتے ہیں، ذہن کھلتے ہیں۔ خیبر پختو نخوا کی مثال لیں: پچھلے کئی برسوں سے ڈرون حملے ہو رہے ہیں، لیکن کوئی بات نہیں کرتا۔ یہ خاموشی پریشان کن ہے۔

    چلیے ، مختصر آپشتون سیاست کی طرف لوٹتے ہیں۔ خاص طور پر اے این پی اور دیگر جماعتوں کی طرف۔

    سوال: جی، کیا اے این پی اب بھی متعلق ہے؟

    جواب: دیکھیں، اے این پی ہو یا مسلم لیگ یا دیگر جماعتیں سب سے پہلے انہیں معاشرتی ساخت میں جو بنیادی تبدیلیاں آرہی ہیں، انہیں سمجھنا ہو گا۔ دو بنیادی تبدیلیاں بہت اہم ہیں : ایک ، شہری آبادی کا بڑھنا؟ دوسرا، نوجوان نسل کا ابھار۔
    یہ بہت ضروری ہے کہ نو جوانوں کو قیادت میں لایا جائے وہ نوجوان جو نچلی سطح سے اٹھ کر آئے ہوں، وہ جن کی سوچ اور تجربہ میدان سے آیا ہو ۔ جماعتوں کو اپنے دروازے ان کے لیے کھولنے ہوں گے۔

    در حقیقت یہی وجہ تھی کہ پی ٹی آئی کو پذیرائی ملی۔ بے شک ان کی حکومت میں آنے میں اسٹیبلشمنٹ کی مدد بھی شامل تھی، لیکن ان کی اصل حمایت کی بنیاد انہی عوامل پر تھی شہری کاری اور نوجوانوں کی توانائی۔ انہوں نے ان رجحانات کو پہچانا۔

    چاہے ان کی باتیں کھو کھلی تھیں، چاہے ان کی حکومت ناکام رہی انہوں نے صحت و تعلیم کو نظر انداز کیا، صوبے کو چھوڑ دیا لیکن پھر بھی انہوں نے ان سماجی دھاروں کو محسوس کیا۔ مثال کے طور پر ، اے این پی نے ایک زبر دست نوجوان تنظیم بنائی تھی: نیشنل یوتھ آرگنائزیشن (NYO) ۔ لیکن وہ خود ہی اسے تحلیل کر بیٹھے حالانکہ وہ بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی۔

    سوال: تو کیا آپ کے خیال میں پی ٹی ایم کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ پشتون بیلٹ میں پیدا ہونے والا خلا پر کر سکے؟

    جواب: میں آپ کو بتاؤں اگر ہم خاص طور پر خیبر پختو نخوا کی بات کریں، تو سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہاں کے عوام میں سیاسی شعور بے پناہ بڑھ چکا ہے۔ اس شعور کا سب سے واضح اظہار امن کی تحریکوں کی صورت میں ہوا ہے ، جیسے پی ٹی ایم ، یا یہاں تک کہ اے این ڈی ایم (ANDM) جیسی تحریکیں۔

    یہ تحریکیں عوام کے اندر گہری جڑیں رکھتی ہیں۔ لوگ اب وہ باتیں کہہ رہے ہیں جو ہیں یا تیس سال پہلے ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ مثال کے طور پر سوات کو لیجیے۔ جب فضل اللہ کی تحریک شریعت کے نام پر شروع ہوئی، تو بہت سے لوگ واقعی یہ سمجھتے تھے کہ اسلامی نظام آرہا ہے اور اس کو قابل ذکر عوامی حمایت حاصل تھی۔

    لیکن آج اس سوات کو دیکھیں۔ وہ عسکریت پسندی کا شکار ہو چکا ہے، اور اب عوام کا رد عمل بالکل مختلف ہے۔ پہلے ہمارے صوبے میں عوام پیروی کرتے تھے اور جماعتیں قیادت کرتی تھیں۔ لیکن اب میں بطور سیاسی کار کن، اپنی ذاتی تجربے کی بنیاد پر یقین سے کہتا ہوں کہ ایک نیا سیاسی رد و بدل آئے گا۔ نئی تحریکیں ابھریں گی۔ قوم پرست تحریک کمزور نہیں ہو گی بلکہ مزید مضبوط ہو گی۔

    اور اس نئے عوامی شعور کو آگے لے جانے کے لیے، دوہرا معیار اب نہیں چلے گا۔ سوشل میڈیا کے دور میں آپ دو متضاد پالیسیاں نہیں چلا سکتے۔
    جو بات آپ زبان سے کہتے ہیں ، وہی عمل میں دکھانی ہو گی۔

    سوال: اور میں نے خود یہ بات محسوس کی ہے۔ آج کے نوجوانوں میں جب ہم حال ہی میں ان سے ملے اور بات کی تو ان کی بنیادی شناختیں ، چاہے وہ افغان ہوں، ایرانی ہوں یا نسلی، بہت واضح ہیں۔ میرا تاثر ہے کہ جو لوگ ان نظریات کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں، ان کا ان نظریات سے جذباتی تعلق بھی بہت گہرا ہوتا ہے۔ تو یہ قوم پرستی یہ دراصل ہے کیا ؟ کیا یہ نسلی ہے، لسانی ہے، یا کچھ اور ؟

    جواب: بہت شکریہ ، آپ نے بہت اہم سوال کیا ہے۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمار اعلاقہ – ا ہے کہ ہمار اعلاقہ جو تاریخی طور پر قبائلی اور زرعی تھا وہاں ایک منفرد اتفاق بھی رونما ہوا۔ 1930 میں ، جب برطانوی راج نے سخت گیر کریک ڈاؤن کیا، تو با چا خان اور خدائی خدمتگار تحریک نے سب سے پہلے مسلم لیگ سے تعاون مانگا۔ لیکن مسلم لیگ نے ان سے بات کرنے سے انکار کر دیا۔

    میں نے ان کے بیانات اور موقف پڑھے ہیں حالانکہ میں اس وقت بہت چھوٹا تھا جب پہلی بار یہ سب پڑھا لیکن ان کا وژن اتنا وسیع تھا کہ ہماری سیاسی تاریخ کا پور از او یہ بدل گیا۔

    میں آپ کو ایک واضح مثال دیتا ہوں : 2008 میں، جب اے این پی صوبے میں اقتدار میں آئی، اور ارباب ایوب جان، میاں افتخار حسین اور دیگر قیادت میں تھے تو پارٹی کے اندر یہ بحث ہوئی کہ کیا ہم مادری زبان میں تعلیم کو فروغ دیں ؟

    ہم نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ یہ محض علامتی مسئلہ نہیں ہے؛ یہ بنیادی مسئلہ ہے۔ اس میں کوئی اختلاف یا ہچکچاہٹ نہیں تھی ہم نے صاف کہا: پیشتو سمیت تمام مقامی زبانوں کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ یہی ایک آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔

    ہم نے ایک قانون منظور کیا جس کے تحت پانچ زبانوں کو سرکاری طور پر تسلیم کیا گیا۔ سندھ میں ، اسی طرحسندھی پہلے ہی قانونی طور پر تسلیم شدہ زبان تھی۔ ہم نے پشتو، ہند کو ، سرائیکی، اور مڑی، اور چترالی کے لیے قانون پاس کیا۔
    میں خود چترال گیا، جلسہ کیا، اور ایک چترالی زبان کی درسی کتاب اٹھا کر عوام کے سامنے کہا : ” یہ کتاب آپ کی اپنی زبان میں ہے۔ یہ آپ کی اپنی کتاب ہے۔ ” یہ ایک جذباتی اور معنی خیز لمحہ تھا۔ اور یہ محض علامتی اقدام نہیں تھا بلکہ اصل معنوں میں بااختیار بنانے کی کوشش تھی۔

    سوال: میں یہ سوال ایک علمی پس منظر میں کر رہا ہوں، کیونکہ بلوچستان ایک انتہائی متنوع خطہ ہے۔ لسانی اور قبائلی لحاظ سے۔ لیکن اس تمام تنوع کے باوجود، بلوچ شناخت قائم ہے۔ حتی کہ جو لوگ نسلی طور پر بلوچ نہیں بھی ہیں، لیکن بلوچستان میں رہتے ہیں، وہ خود کو بلوچستانی کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ وہاں کوئی شدید تفریق موجود نہیں ہے۔

    اسی طرح سندھ میں بھی چھوٹی لسانی شناختیں موجود ہیں۔ اور خیبر پختو نخوا میں بھی لوگ لسانی شناختوں کی بات کرتے ہیں۔ لیکن ایک تاثر یہ ہے کہ بڑی قوم پرست تحریکیں ان چھوٹی شناختوں کو ہمیشہ جگہ نہیں دیتیں۔ جب کہ بلوچستان میں ایسا نہیں ہوا۔
    جواب: میں نے یہ سب کچھ خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے حتی کہ جیل کے اندر سے بھی۔ میں یہاں دو باتیں کہنا چاہتا ہوں۔ پہلی یہ کہ اس خطے میں نو آبادیاتی ڈھانچے یعنی برطانوی انتظامی ورثے کی رسائی بہت گہری تھی۔ ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اسے ایک متحد صوبے کا نام دیا گیا تھا: سرحد صوبہ (West Frontier Province North)۔ یہ نام خود ہی ایک نو آبادیاتی مقصد کی عکاسی کرتا تھا، کیونکہ اس کا مطلب ہی سرحد  تھا۔ یہ سوویت روس کی طرف جانے والا راستہ تھا، اور اسی لیے برطانویوں کے لیے اس کی اسٹریٹجک اہمیت بہت زیادہ تھی۔

    آج بھی اگر آپ جہلم سے سفر کریں اور غور سے دیکھیں، تو آپ کو دکھائی دے گا کہ فوجی چھاؤنیاں کس طرحاس راستے پر بچھائی گئی تھیں۔
    پورے ہندوستان میں کہیں اور اس سطح پر چھاؤنیوں کی موجودگی نہیں ملتی نہ بلوچستان میں ، نہ اندرون سندھ میں۔ کچھ علاقوں میں جاگیرداروں کا کنٹرول ضرور رہا ہے، لیکن چھاؤنیوں کا نہیں۔ اس کے برعکس، پشتون علاقوں میں عسکری موجودگی بہت شدید تھی۔

    مجھے یاد ہے جب میں جیل میں تھا، تو میں پشتو میں بات کرتا، اور جیل کا عملہ ہند کو میں جواب دیتا ۔ ہم ایک دوسرے کو سمجھ ہی نہیں پاتے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شہری مراکز مقامی آبادی کی لسانی حقیقت کی عکاسی نہیں کرتے تھے۔ پورے صوبے میں ایک بھی ایسا شہر نہیں تھا جو اس حقیقت کی نمائندگی کرتا ہو۔ یہ اس نظام کا فطری نتیجہ ہے۔ اب میں یہ بات بہتر سمجھتا ہوں۔

    اسی لیے جب ہم حکومت میں تھے تو ہم نے مقامی زبانوں کے تحفظ کے لیے قوانین بنائے۔ لیکن جیسے ہی ہماری حکومت ختم ہوئی، سب سے پہلا کام یہی کیا گیا کہ اس عمل کو منجمد کر دیا گیا۔ میں یہ بات بالکل واضح کرنا چاہتا ہوں: ایسی پالیسیوں کو ختم کرنا اتفاقیہ نہیں ہوتا یہ سوچے سمجھے ارادے سے ہوتا ہے۔ اگر بلوچستان کے بچوں کو ان کی مادری زبان میں تعلیم دی جاتی، اگر چترال کے بچوں کو اپنی زبان میں پڑھایا جاتا، تو ان کی شعوری سطح اور شناخت کتنی مختلف ہوتی۔ وہ اپنی زبانوں میں اخبارات نکالتے ، پلیٹ فارم بناتے معاملات آگے بڑھتے ۔

    سوال: جی، بالکل ایسا ہی ہے

    جواب : اور ہند کو کے بارے میں کیا کہا جائے ؟ ہند کو ہمارے خطے کی ایک نفیس زبان ہے۔ اس میں پشاور کی ثقافت کا ایک الگ رنگ ہے۔ کشمیری چائے، کھانوں کی تنوع ۔ اس میں بہت سے خوبصورت معنوی ابہام اور ثقافتی تہیں ہیں جنہیں سامنے لایا جانا چاہیے۔ تنوع کمزوری نہیں، بلکہ طاقت ہے۔ یہ دولت ہے۔

    سوال: بالکل، یہ کمزوری نہیں ہے۔ یہ تو ہماری طاقت کی بنیاد ہے۔ اور اب، آپ کا آخری خیال

    جواب : کیا پنجاب سے امید کی جاسکتی ہے ؟ میں ایک شعر سنانا چاہتا ہوں۔ مجھے بہت سی نظمیں یاد ہیں جب بلوچستان شدید بحران سے گزر رہا تھا، تو ایک شاعر نے بلوچستان اور پختو نخوا دونوں کے لیے ایک نظم لکھی تھی۔ ایک مصرعہ میرے دل میں اتر گیا :
    جب بلوچستان جلتا ہے، پاکستان بچتا ہے۔

    یہ نظم لاہور میں، ایک ادارے کے بال میں پڑھی گئی تھی۔ اور میں آپ کو بتاؤں سکندر مرزا، جو بعد میں پاکستان کے صدر بنے ، وہ پشاور کے ڈپٹی کمشنر رہ چکے تھے۔ وہ وہاں اسسٹنٹ کمشنر تھے۔ اور انہی کے دور میں اس تحریک کے شہدا کو گولیاں ماری گئیں۔ تو یہ رشتہ بہت گہرا ہے۔

    سوال: واہ۔ اسی نکتہ پر آج کی گفتگو سمیٹتے ہیں لیکن یہ سلسلہ ان شاء اللہ جاری رہے گا۔ جیسے جیسے نئے سوالات سامنے آئیں گے۔ ایسے سوالات جنہیں نہ میں سمجھتا ہوں نہ میرے دوست ہم آپ کی طرف دوبارہ آئیں گے، افراسیاب صاحب۔

    جواب: کسی شکریے کی ضرورت نہیں ہم سب ایک دوسرے سے سیکھنے کے لیے یہاں موجود ہیں۔ عامر رانا: بہت شکریہ۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Article"پاکستان : ایک قومی شناخت کی تشکیل”
    Next Article سندھ میں شناخت پر مبنی تنازعات و رجحانات
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    روداد: نوجوانوں کے لیے ورکشاپ

    اکتوبر 22, 2026

    زیدیہ شیعہ تحریک اور حوثی سعودی تنازع کا پس منظر

    اکتوبر 22, 2026

    مسلکِ نوربخشیہ: تعارف اور پاکستان میں ادارہ جاتی نمائندگی کا جائزہ

    اکتوبر 22, 2026

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by