به مقاله گلگت بلتستان کے منفرد جغرافیائی، ثقافتی، لسانی اور مذہبی تنوع کے تناظر میں اس کی شناخت، وسائل اور سیاسی و انتظامی اختیارات کے مسائل کا جائزہ پیش کرتا ہے۔ ڈاکٹر محمد حسین جو گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے ایک متحرک سماجی دانشوں متعدد کتابوں کے مصنف اور تربیت کار ہیں، نے خطے کی تاریخی اہمیت نسلی و لسانی رنگا رنگی اور آئینی غیر یقینی صورتحال کے اثرات کا گہرائی سے تجزیہ کیا ہے۔ وہ تجزیات کے معاون مدیر کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ مضمون میں گلگت بلتستان کے تین ڈویژنز (گلگت بلتستان، دیامر کی سماجی و مذہبی حرکیات ترقیاتی عدم مساوات اور ماحولیاتی چیلنجز کے ساتھ ساتھ مقامی زبانوں اور ثقافت کے تحفظ کے مسائل پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ تحریر خطے کی پیچیده شناخت اور اس کے مستقبل
کے امکانات کو سمجھنے کے لیے ایک جامع دستاویز ہے۔
گلگت بلتستان (جی بی ) پاکستان کے زیر انتظام ایک ایسا شمالی خطہ ہے جو جغرافیائی محل وقوع، نسلی و لسانی تنوع، بی) مذہبی و ثقافتی امتیازات ، اور تاریخی ورثے کے اعتبار سے ایک منفر د شناخت رکھتا ہے۔ یہ خطہ وسطی و جنوبی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے، جہاں اس کی سرحدیں چین، بھارت، تاجکستان، افغانستان اور خیبر پختو نخوا سے ملتی ہیں۔ ماضی میں شاہراہ ریشم کا اہم حصہ رہنے والا یہ علاقہ آج بھی جغرافیائی و تزویراتی لحاظ سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔
گلگت بلتستان کا کل رقبہ 72,496 مربع کلو میٹر پر مشتمل ہے۔ تاہم، پاکستان کے آئینی دائرہ کار میں رسمی شمولیت نہ ہونے کی وجہ سے اسے 2023ء کی پہلی ڈیجیٹل مردم شماری میں شامل نہیں کیا گیا، جس کے نتیجے میں آبادی کے درست اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔ محتاط اندازوں کے مطابق، اس وقت گلگت بلتستان کی آبادی 20 لاکھ کے قریب ہے۔
یہاں کا نسلی، لسانی اور مذہبی تنوع جہاں ایک جانب علاقائی ثقافت کی دلکشی اور وسعت کا مظہر ہے، وہیں دوسری جانب شناخت، نمائندگی، اور وسائل کی تقسیم کے معاملات میں پیچیدگیوں، کشمکش اور بعض اوقات اختلافات کا سبب بھی بنتا ہے۔ اس مقالے میں ہم گلگت بلتستان کی مختلف شناختوں، ان کی بنیادوں اور ان پر پڑنے والے بیرونی دباؤ کا ایک جامع تجزیہ پیش کرتے ہیں۔
علاقائی اور ضلعی شناخت : جغرافیائی، مسلکی اور سماجی امتیازات
پاکستان کے دیگر صوبوں میں سماجی شناخت کا انحصار اکثر جا گیر دارانہ ، قبائلی یا برادری نظام یا سماجی طبقه بندی پر ہوتا ہے، لیکن گلگت بلتستان کی سماجی ساخت ان سے یکسر مختلف ہے۔ یہاں شناخت کی بنیاد زیادہ تر علاقائی، ضلعی اور وادیاتی وابستگیوں پر رکھی گئی ہے، جو جغرافیائی حدود کے ساتھ ساتھ لسانی، مسلمی اور ثقافتی پہلوؤں کو بھی محیط ہے۔
انتظامی طور پر گلگت بلتستان تعین ڈویژنز اور 14 اضلاع پر مشتمل ہے :
بلتستان ڈویژن : اضلاع : سکردو، شکر ، کھر منگ، گانچھے ، روند و
یہاں کی اکثریتی آبادی شیعہ اثنا عشری ہے، تاہم نور بخشی ( خصوصا گانچھے میں )، اہل سنت ، اہل حدیث، اور اسماعیلی برادری بھی موجود ہے۔
گلگت ڈویژن : اضلاع : گلگت ، نگر ، ہنزہ، غذر ، یاسین
یہ سب سے متنوع ڈویژن ہے : ہنزہ اور غذر میں اسماعیلی، نگر میں شیعہ اثنا عشری، جبکہ گلگت اور یاسین میں اسماعیلی، شیعہ ، دیوبندی،
بریلوی اور اہل حدیث مکاتب فکر موجود ہیں۔
دیامر ڈویژن : اضلاع : دیامر ، داریل تانگیر ، استور
دیامر ، داریل تانگیر میں اہل سنت (دیوبندی) غالب ہیں، جبکہ استور میں سنی اور شیعہ دونوں موجود ہیں، بعض علاقوں میں ایک مسلک غالب ہوتا ہے۔
گلگت بلتستان کا دشوار گزار اور پہاڑی جغرافیہ نہ صرف فطری طور پر آبادیوں کو جدار کھتا ہے ، بلکہ ان کی شناختی وابستگیوں کو بھی مزید مضبوط کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اکثر اپنی ضلعی یا داد یاتی شناختوں پر فخر کرتے ہیں جیسے "گلگتی "، "بلتی”، "ہنزائی”، "غذری”، "دیامری”، "استوری”، "چلای”، "شگری”، "نگری”. کھر منگی "۔ یہ شناختیں محض جغرافیائی نہیں بلکہ سماجی تفاوت، سیاسی وابستگی اور بعض اوقات فرقہ وارانہ احساس محرومی یا برتری کا بھی اظہار ہوتی ہیں۔
نسلی اور لسانی شناخت : ایک ثقافتی گلدستہ
گلگت بلتستان ایک کثیر اللسانی و کثیر النسلی خطہ ہے، جہاں تقریباً ایک در جن زبانیں اور در جنوں نسلی گروہ آباد ہیں۔ اہم زبانیں اور ان سے جڑی شناختیں درج ذیل ہیں :
شینا : سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے جو گلگت ، دیامر ، استور، اور بلتستان کے کھرمنگ، سکردو اور روند و اضلاع کے کچھ بالائی علاقوں میں رائج ہے۔ شینا بولنے والے لوگ ایک نسلی اکائی نہیں بلکہ مختلف علاقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔
بلتی : بلتستان میں غالب زبان ہے۔ بلتی لوگ نسلی طور پر تبتی نژاد ہیں اور ان کی زبان چینی۔ تبتی لسانی خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ ان کی ثقافت میں اسلام ، بون مت اور بدھ مت کے اثرات موجود ہیں۔
بروشکی : ہنزہ نگر اور یاسین میں بولی جاتی ہے۔ یہ زبان دنیا کی چند "Language Isolate” میں سے ہے، جس کا کسی معروف لسانی خاندان سے تعلق نہیں۔
وفی : بالائی ہنزہ (گوجال) اور اشکومن کے علاقوں میں بولی جاتی ہے۔ یہ ایرانی نسل سے تعلق رکھنے والے افراد کی زبان ہے، جن کا ثقافتی رشتہ افغانستان و تاجکستان سے جڑا ہوا ہے۔
کھوار : غذر اور یاسین کے علاقوں میں بولی جاتی ہے، اور چترالی ثقافت سے جڑی ہوئی ہے۔
دیگر زبانیں : ڈوما کی (ڈوم برادری کی زبان)، پشتو، کشمیری، کوہستانی، گجر وغیرہ۔ ان زبانوں کے بولنے والے کم تعداد میں ہیں لیکن ثقافتی تنوع کا اہم حصہ ہیں۔
لسانی ورثہ اور معدومی کا خطرہ
بد قسمتی سے 2023ء کی ڈیجیٹل مردم شماری اور 2017ء کی زبانوں سے متعلق سرکاری دستاویزات میں گلگت بلتستان کی مقامی زبانوں کو شامل نہیں کیا گیا۔ اس کے باعث ان زبانوں کی آبادی اور حالت زار سے متعلق مستند سرکاری ڈیٹا دستیاب نہیں۔ یونیسکو کے مطابق دنیا کی نصف زبانیں، جن میں گلگت بلتستان کی بیشتر زبانیں بھی شامل ہیں، رواں صدی کے اختتام تک معدومی کا شکار ہو سکتی ہیں۔
یہ خطرہ اس وقت مزید شدت اختیار کر جاتا ہے جب ان زبانوں کو رسمی تعلیم، ریاستی سرپرستی، یا میڈیا میں نمائندگی حاصل نہیں ہوتی۔ تعلیم و روزگار کے بہتر مواقع کی تلاش میں شہروں کی جانب ہجرت ، اور نوجوان نسل کا اردو و انگریزی کی طرف رجحان بھی ان زبانوں کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ نتیجتا، شینا، بلتی، بروشسکی، وخی، کھوار جیسی زبانیں تیزی سے زوال کا شکار ہو رہی ہیں اور انہیں بچانے کے لیے فوری، مربوط اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
شناخت اور عقیدہ
گلگت بلتستان کی مذہبی شناخت ایک پیچیدہ اور متنوع حقیقت ہے جو نہ صرف مذہبی وابستگیوں بلکہ تاریخی جغرافیائی، تہذیبی اور خارجی اثرات سے بھی تشکیل پاتی ہے۔ گلگت بلتستان کو عمومی طور پر تین بڑے لسانی، ثقافتی اور جغرافیائی خطوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے : گلگت ڈویژن، بلتستان ڈویژن اور دیامر ڈویژن ۔ ان تینوں خطوں میں مذہبی و فرقہ وارانہ شناخت کے مختلف مظاہر دیکھنے کو ملتے ہیں جو علاقائی سیاست ، سماجی ڈھانچے اور مقامی ثقافت پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔
گلگت ڈویژن میں شیعہ اثنا عشری، اسماعیلی اور سنی (دیوبندی) آبادی آباد ہے۔ ضلع نگر خالصتاً شیعہ اثنا عشری ضلع ہنزہ اور غذر میں اکثریت اسماعیلی برادری کی ہے، جبکہ گلگت شہر اور اس کے نواح میں شیعہ اور سنی برادریاں تقریباً برابر تعداد میں موجود ہیں۔ اس خطے میں فرقہ وارانہ کشیدگی کی جڑیں چند دہائیاں پہلے پڑیں، جو 1988 کے سانحات کے بعد خاص طور پر شدت اختیار کر گئیں۔ مذہبی اختلافات محض عقائد تک محدود نہیں رہے بلکہ سیاسی وابستگیوں، زمین و وسائل کے مسائل، اور ریاستی پالیسیوں سے جڑ کر ایک مستقل کشمکش کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔
گلگت ڈویشن میں اہل تشیع اثنا عشری، اسماعیلی، اور اہل سنت دیوبندی برادریوں کی جدا گانہ آبادیاں خطے میں موجود گبری مذہبی و سماجی تقسیم کی عکاسی کرتی ہیں۔ اگرچہ اسماعیلی برادری نے غذر اور ہنزہ میں تعلیم ، صحت، اور ترقیاتی شعبوں میں نمایاں کردار ادا کیا، تاہم مجموعی طور پر فرقہ وارانہ تقسیم نے مخطے کی نسلی و لسانی شناخت کو کمزور کر دیا، جس کے نتیجے میں سماجی عدم اعتماد اور تشدد کی فضا نے جنم لیا۔
بلتستان ڈویژن، جس میں سکردو، شکر ، کھر منگ، روندو اور گانچھے کے اضلاع شامل ہیں، اپنی غالب شیعہ اثنا عشری شناخت کے ساتھ نسبتا پر امن علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں نور بخشی مسلک سے تعلق رکھنے والی اقلیت مگر ضلع گانچھے میں اکثریت میں) بھی موجود ہے، جو ایک صوفی شیعی روایت ہے اور عقائد میں شیعہ اور سنی عناصر کا امتزاج پیش کرتی ہے۔ بلتستان میں مذہبی ہم آہنگی اور فرقہ وارانہ رواداری کی ایک مضبوط روایت موجود رہی ہے، جس کی جڑیں مقامی ثقافت، تبتی اثرات اور صوفیانہ روایات میں پیوست ہیں۔
دیامر ڈویژن، جس میں دیامر ، استور، تانگیر اور داریل شامل ہیں۔ استور میں شیعہ سنی تقریباً برابر تعداد میں جبکہ باقی اضلاع دیوبندی مکتب فکر کے سنی نشین علاقوں پر مشتمل ہیں۔ دیامر میں بعض شدت پسند مذہبی رجحانات بھی پائے جاتے ہیں جن کی جڑیں بیرونی اثرات، افغان جہاد کے دور کے مدارس، اور کراچی، جنوبی پنجاب و خیبر پختو نخوا کے دینی حلقوں سے وابستگی میں تلاش کی جاسکتی ہیں۔ دیامر میں ماضی قریب میں تعلیم دشمن واقعات ، جیسے لڑکیوں کے اسکولوں کو جلانا، اور سیاحوں اور مسافروں پر حملے ، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہاں مذہبی انتہا
پسندی ایک خاص نوعیت کے نظریاتی بیانیے میں ڈھل چکی ہے جو ترقی، تعلیم اور بین المسالک ہم آہنگی کے لیے چیلنج بن چکی ہے۔
اسماعیلی برادری: ترقی ، مذہب اور جدیدیت کے امتزاج کی ایک مثال
اسماعیلی برادری، جو گلگت بلتستان کے علاقوں ہنزہ، نگر اور غذر میں بڑی تعداد میں آباد ہے، ایک تعلیم یافتہ ، ترقی پسند اور منظم مذہبی کمیونٹی کے طور پر پہچانی جاتی ہے۔ آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک (AKDM) کے تحت اس برادری نے تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور سماجی ترقی کے شعبوں میں جو خدمات انجام دی ہیں، وہ نہ صرف مقامی سطح پر تبدیلی کا مؤثر ماڈل پیش کرتی ہیں بلکہ ایک اعتدال پسند اور جدید مذہبی شناخت کی بھی عکاس ہیں۔ اسماعیلیوں کا مذہبی نظام قیادت جس میں امام وقت کی اطاعت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ انہیں ایک واضح نظریاتی و سماجی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے، جس کی بدولت یہ کمیونٹی نسبتاً داخلی ہم آہنگی اور بیرونی دباؤ سے محفوظ نظر آتی ہے۔
اسماعیلی قیادت کا بین الا قوامی کردار ، خاص طور پر امام کی مغربی ممالک میں سکونت اور ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے مغربی تعاون ، اس کمیونٹی میں مغربی جدیدیت ، سائنسی شعور ، اور عالمی ترقیاتی اقدار کے اثرات کو بھی نمایاں بناتا ہے۔ اسماعیلی برادری کی شناخت یوں ایک ایسے امتزاج کی نمائندہ بن چکی ہے جس میں مذہبی وابستگی، جدید تعلیم ، اور عالمی ترقیاتی رجحانات ہم آہنگ ہو کر ایک منفرد اور مؤثر معاشرتی ماڈل تشکیل دیتے ہیں۔ تاہم، یہ ماڈل گلگت بلتستان کے باقی مسالک و مذاہب کے لیے ایک خاموش چیلنج بھی ہے، کہ کیا وہ بھی مذہبی شناخت کو ترقی وامن سے ہم آہنگ کر سکتے ہیں۔
نور بخشی روایت : بلتستان کاروحانی ورثہ اور بدلتے تناظر
بلتستان میں نور بخشی مسلک ایک قدیم روحانی اور اعتدال پسند مذہبی روایت کے طور پر صدیوں سے موجود ہے، جس کی جڑیں صوفی بزرگ میر سید علی ہمدانی اور دیگر روحانی سلسلوں سے جاملتی ہیں۔ اس مسلک نے نہ صرف بلتستان کی روحانی، تہند ہی اور ثقافتی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا بلکہ بین المسالک رواداری، صوفیانه برداشت، اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ نور بخشی روایت ایک ایسے مذہبی طرزِ فکر کی نمائندہ ہے جو تصوف، مقامی ثقافت اور اعتدال کو ہم آہنگ کر کے ایک جامع شناخت تخلیق کرتی ہے۔
تاہم، حالیہ دہائیوں میں اس مسلک کو مختلف خارجی مسکمی دباؤ کا سامنا رہا ہے۔ سعودی عرب سے متاثر اہل حدیث مکتب فکر ، ایران کی حمایت یافتہ شیعہ تحریکات ، اور پاکستان بھر میں پھیلے دیوبندی مدارس کے تبلیغی نیٹ ورکس، بلتستان میں نور بخشی برادری کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے سر گرم رہے ہیں۔ مسلک تبدیل کرنے کی ان تبلیغی سرگرمیوں کے باعث نور بخشی آبادی میں بتدریج کمی دیکھی گئی ہے، اور کئی خاندان دیگر مسالک کی طرف منتقل ہو چکے ہیں، جو مقامی شناخت کے تنوع کو ایک واضح مخطرے سے دوچار کر رہا ہے۔
اس تمام دباؤ کے باوجود، نور بخشی مسلک آج بھی روحانیت، برداشت، اور تہذیبی روایات کے علم بردار کے طور پر بلتستان کی مذہبی و ثقافتی شناخت کا ایک منفرد اور قیمتی حوالہ ہے۔ اس روایت کی موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ بلتستان صرف ایک مسلکی شناخت پر قائم نہیں، بلکہ یہ ایک ہمہ جہت روحانی و ثقافتی میراث کا مرکز ہے، جس کا تحفظ آئندہ نسلوں کی فکری اور ثقافتی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔
گلگت بلتستان میں مذہبی شناخت محض ذاتی یار وحانی دائرے تک محدود نہیں، بلکہ یہ مقامی سیاست ، وسائل کی تقسیم، تعلیمی مواقع، نوکریوں، اور ترقیاتی منصوبوں میں حصہ داری پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ فرقہ وارانہ شناخت ایک سماجی حقیقت کے طور پر ابھری ہے، جو عوامی رویوں، میڈیا کے بیانیوں، اور ریاستی پالیسیوں میں عکاسی کرتی ہے۔ یہ تقسیم نہ صرف سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرتی ہے بلکہ علاقے کے امن، سیاحت، اور ترقی کے لیے ایک مستقل چیلنج بنی ہوئی ہے، جو مقامی اور وفاقی سطح پر جامع پالیسیوں کے فقدان کو اجا گر کرتی ہے۔
ریاستی پالیسیوں نے گلگت بلتستان میں مذہبی شناختوں کو مزید پیچیدہ کیا ہے۔ ضیاء الحق کے دور میں دیو بندی مسلک کو سرکاری سرپرستی حاصل ہوئی، جبکہ ایرانی انقلاب کے اثرات نے گلگت اور بلتستان میں شیعی رجحانات کو فروغ دیا۔ ان خارجی اثرات نے مقامی مذہبی شناختوں کو گہرا اور تقسیم در تقسیم کا شکار کیا۔ 1988ء کے فرقہ وارانہ فسادات، 2005ء میں نصابی تنازع کے دوران کشیدگی، اور 2012ء سے 2015ء تک قراقرم ہائی وے پر شناخت کی بنیاد پر ہدفی قتل کے واقعات نے اس تقسیم کو مزید گہرا کیا۔ ان واقعات میں ذمہ داروں کا تعین نہ ہونا اور عدالتی نظام کی ناکامی نے مقامی اعتماد کو کمزور کیا ہے۔ بنیادی طور پر شیعہ اثنا عشری اور سنی دیوبندی کمیونٹیز کے درمیان وقتا فوقتا ابھرنے والی فرقہ وارانہ کشیدگی علاقائی امن، سیاحت، اور ترقیاتی امکانات کے لیے ایک مستقل خطرہ ہے، جس کے تدارک کے لیے شفاف عدالتی عمل، مختلف مسالک، نسلی گروہوں اور علاقائی اکائیوں کے درمیان مسلس مکالمہ اور باہمی تعاون کو فروغ دینے، اور جامع ترقیاتی پالیسیوں کی فوری ضرورت ہے۔
مقامی سماجی شناخت اور مذہب کا گٹھ جوڑ بھی گلگت بلتستان کی سماجی ساخت کا ایک اہم پہلو ہے۔ مثلاً، وخی بولنے والے سب اسماعیلی ہیں ، اسی طرح بروشسکی زبان بولنے والے نگر کے شیعہ یا ہنزہ کے اسماعیلی ہیں، بلتی زبان بولنے والے اکثر شیعہ یا نور بخشی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ شینا، کھوار ، یا پشتو بولنے والے علاقوں میں مذہبی شناخت مختلف ہو سکتی ہے۔ لسانی و نسلی شناخت اور مذہبی وابستگی کا یہ باہمی تعلق ایک طرف مقامی وحدت کو تقویت دیتا ہے، تو دوسری طرف بعض اوقات فرقہ وارانہ بنیادوں پر تفریق کا باعث بھی بن جاتا ہے۔
دیامر جیسے قبائلی پس منظر رکھنے والے اضلاع میں قبائلی ساخت، پدر سری سماج اور مذہبی شدت پسندی ایک مشتر کہ سماجی تشکیل دیتے ہیں جہاں عورتوں کی تعلیم ، سماجی آزادی اور جدیدیت کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اس کے بر عکس ہنزہ، نگر، غذر اور سکردو جیسے علاقوں میں تعلیم یافتہ، شہری اور معتدل معاشرتی رجحانات غالب ہیں۔
یوں گلگت بلتستان میں مذہب محض ایک روحانی یا اعتقادی مظہر نہیں بلکہ سماجی شناخت، سیاسی وابستگی، اور فکری جدلیات کا محور ہے۔ گلگت میں ایرانی اثرات سے متاثر شیعی بیانی ، دیامر میں سعودی اثرات سے جڑا سنی جہادی رجحان ، اور بلتستان میں تہذ یبی برداشت و صبر کا امتزاج، اس خطے کو پاکستان کے باقی علاقوں سے منفرد بناتا ہے۔ ان پیچیدہ حالات میں اسماعیلی برادری کا تعلیم و ترقی پر مبنی ماڈل نہ صرف داخلی استحکام بلکہ بین المسالک مکالمے اور پر امن بقائے باہمی کے لیے ایک قابل تقلید نمونہ پیش کرتا ہے۔
شناخت اور سیاست
گلگت بلتستان کی سیاسی و آئینی شناخت : کشمکش، تقسیم اور مطالبات
گلگت بلتستان کی سیاسی شناخت ایک پیچیدہ اور طویل عرصے سے جاری مسئلہ ہے جو آئینی غیر یقینی صور تحال، وفاقی پالیسیوں کے ابہام ، اور مقامی سطح پر حقوق و شناخت کے مطالبات کے درمیان معلق ہے۔ 1947ء میں ڈوگرہ ریاست سے آزادی کے بعد گلگت اسکاوٹس کی قیادت میں ایک مختصر مدت کے لیے "آزاد جمہوریہ گلگت ” قائم ہوئی، جسے بعد ازاں پاکستان کے انتظام میں شامل کیا گیا۔ تاہم ، 1949ء کے کراچی معاہدے کے تحت اسے ریاست جموں و کشمیر کے تنازعے سے جوڑ دیا گیا، جس کی وجہ سے خطے کی آئینی حیثیت آج تک غیر واضح ہے۔
موجودہ سیاسی بند و بست اور آئینی خلاء
2009ء میں نافذ کیے گئے گلگت بلتستان ایمپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر کے تحت خطے کو محدود خود مختاری دی گئی، جس سے ، شمالی علاقہ جات کے بجائے اسے "گلگت بلتستان ” کا نام دیا گیا۔ مقامی اسمبلی، وزیر اعلیٰ ، اور گورنر کا نظام قائم ہوا۔ تاہم، اہم اختیارات وفاقی حکومت کے پاس ہی موجود ہیں، خاص طور پر وزارت امور کشمیر ۔ اس وجہ سے ، گلگت بلتستان نہ تو قومی اسمبلی یا سینیٹ میں نمائندگی رکھتا ہے اور نہ ہی سپریم کورٹ یا دیگر قومی فورمز میں شرکت کا حق رکھتا ہے۔ عوام وزیر اعظم کے انتخاب میں بھی حصہ نہیں لے سکتے۔ یہ آئینی خلا سیاسی بے یقینی ، احساس محرومی ، اور شناخت کے سوالات کو جنم دیتا ہے۔
مقامی سیاسی رجحانات اور تقسیم رائے
گلگت بلتستان میں آئینی حیثیت کے حوالے سے تین بنیادی سیاسی رجحانات پائے جاتے ہیں :
1 وفاقی سیاسی جماعتوں کے حامی حلقے :
2 یہ لوگ ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کے پلیٹ فارم پر کام کرتے ہیں اور قومی دھارے میں شمولیت کو ترقی اور استحکام کی کلید سمجھتے ہیں۔ یہ مکمل آئینی انضمام اور وفاقی ترقیاتی منصوبوں کے حامی ہیں، اگرچہ وفاقی بالا دستی اور مقامی اختیارات کی محدودیت سے بھی آگاہ ہیں۔ اکثر گلگت بلتستان میں وہی جماعت اقتدار میں آتی ہے جو وفاق میں بر سر اقتدار ہوتی ہے اور زیادہ تر متحرک بھی انتخابات کے قریب ہی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔
3 زیادہ با اختیار مگر آزاد کشمیر سے مختلف خود مختار حیثیت کے حامی :
4 یہ حلقہ گلگت بلتستان کو آزاد کشمیر کی طرز پر ایک خاص خود مختاری دینے کا خواہاں ہے ، جو مقامی خود انحصاری کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر کے حل تک عبوری آئینی تحفظ فراہم کرے۔ ان کا ماننا ہے کہ مکمل انضمام سے پاکستان کے کشمیر موقف کو نقصان پہنچے گا، لہٰذا ایک منفرد آئینی شناخت وقت کی ضرورت ہے۔ بعض قوم پرست کارکن سٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی کے بھی مطالبہ کرتے ہیں تاکہ مقامی زمین، قدرتی وسائل اور آبادی کو لاحق خطرات سے تحفظ ملے۔
5 عارضی انتظام کو برقرار رکھنے کی ریاستی سوچ :
6 ریاستی ادارے اور بیورو کریسی کا ایک حلقہ اس سوچ کا حامل ہے کہ چونکہ گلگت بلتستان تاریخی طور پر ریاست جموں و کشمیر کا حصہ رہا ہے، اس لیے اس کی مستقل آئینی حیثیت اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے تناظر میں متعین نہیں کی جانی چاہیے۔ یہ حلقہ مخطے کو عارضی انتظام کے تحت رکھ کر مسئلہ کشمیر کے حتمی حل تک مؤخر رکھنا چاہتا ہے، تا کہ پاکستان کے سفارتی موقف کو تقویت ملے۔
مقامی سیاسی حقوق کی جدو جہد اور حالات
حالیہ برسوں میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور سیاسی رہنماؤں کو سخت قوانین جیسے انسداد دہشت گردی ایکٹ اور شیڈول فور کے تحت دبایا گیا، جو جمہوری عمل اور اختلاف رائے کو محدود کر رہا ہے ۔ اس حوالے سے عوامی ایکشن کمیٹی قابل ذکر ہے۔ یہ ایک عوامی تحریک ہے اور مقامی حقوق کے تحفظ کے لیے مشتر کہ پلیٹ فارم کی حیثیت رکھتی ہے جس میں تقریبا تمام سیاسی دھڑوں، علاقوں، نسلوں اور مذہبی شناختوں کی نمائندگی موجود ہے۔
2020ء میں گلگت بلتستان کو عبوری صوبائی حیثیت دینے کا اعلان کیا گیا، مگر قانونی عمل تا حال مکمل نہیں ہوا۔ مقامی عوام قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی کا شدت سے مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ انہیں وہی آئینی، قانونی،
اور سیاسی حقوق حاصل ہوں جو ملک کے دیگر حصوں کے شہریوں کو حاصل ہیں۔
گلگت بلتستان کی سیاسی شناخت محض ایک آئینی یا انتظامی سوال نہیں بلکہ مذہبی اکثریت ، ریاستی پالیسیاں، مقامی
حقوق، اور مسئلہ کشمیر کے بین الا قوامی پس منظر سے جڑا ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔
ترقیاتی عدم مساوات اور ماحولیاتی چیلنجز
گلگت بلتستان میں وسائل کی غیر مساوی تقسیم، خصوصا چین – پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے تحت ترقیاتی منصوبوں میں مخصوص علاقوں کو دی گئی ترجیحات ، نسلی اور لسانی کشمکش کو مزید بڑھا رہی ہیں۔ مردم شماری میں مقامی زبانوں کو شامل نہ کرنا اور غیر مقامی آبادی کی آباد کاری جیسے عوامل مقامی ثقافتوں، رسم و رواج اور لسانی ورثے کے لیے خطرہ بنتے جارہے ہیں۔
اگرچہ CPEC اور سیاحت کے شعبے نے ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں، لیکن ان کے ساتھ ماحولیاتی آلودگی، مقامی تمدن کی تبدیلی، اور ثقافتی ورثے کے زوال جیسے مسائل بھی جنم لے چکے ہیں۔ بلتستان کے سرحدی اضلاع میں لائن آف کنٹرول کے نزدیک جاری فوجی سر گرمیوں نے زرعی زمینوں کی دستیابی، روز مرہ زندگی، اور شہری آزادیوں پر بھی منفی اثرات ڈالے ہیں، جس سے مقامی ترقیاتی عمل متاثر ہوا ہے۔
ترقی اور تشخص: متضاد سمتوں کی کشمکش
سکردو انٹر نیشنل ایئر پورٹ کی توسیع اور گلگت تا سکردو شاہراہ بلتستان کی توسیعی تعمیر نے بلتستان کو تیزی سے ایک اہم سیاحتی مرکز میں تبدیل کر دیا ہے۔ ان اقدامات سے جہاں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا، وہیں مقامی ثقافت ، رسوم، طرز زندگی اور سماجی اقدار پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ بڑھتی ہوئی سیاحت کے باعث زبان، لباس، کھانوں، اور رہن سہن میں بیرونی اثرات دیکھے جارہے ہیں، جنہیں مقامی مذہبی و ثقافتی حلقے اپنی شناخت کے لیے خطرہ تصور کرتے ہیں۔
اس تناظر میں یہ بنیادی سوال ابھر کر سامنے آیا ہے کہ کیا اقتصادی ترقی کی خاطر مقامی تشخص اور ثقافتی ورثے کی قربانی دینا نا گزیر ہے؟ یا کوئی ایسا متوازن ماڈل اپنا یا جا سکتا ہے جس میں معاشی نمو اور ثقافتی بقا ہم آہنگی کے ساتھ ممکن ہو ؟
تعلیم : امید کی کرن مگر پیشہ وارانہ تعلیمی اداروں کا فقدان
تعلیم کے میدان میں نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ قراقرم انٹر نیشنل یونیورسٹی، بلتستان یونیورسٹی، اسوه ایجو کیشن سسٹم ، آغا خان ڈیویلیپمنٹ نیٹ ورک، روپانی فاؤنڈیشن، ہاشو اور معرفی جیسے اداروں نے نئی نسل کی فکری تربیت، شعور کی بیداری، اور علمی فعالیت کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ تاہم ، اعلیٰ پیشہ ورانہ تعلیم ، بالخصوص میڈیکل انجینئر نگ ، اور تکنیکی مہارتوں کی فراہمی کے لیے اعلیٰ پیشہ وارانہ تعلیمی اداروں کا فقدان اور سکولوں میں معیار تعلیم کی گراوٹ جیسے مسائل فوری اور جامع حصا حل کے منتظر ہیں۔
دیامر : قدرتی حسن کے بیچ تعلیمی و ثقافتی محرومی
دیامر ، جو کہ ایک طرف قدرتی حسن کا مظہر ہے اور دوسری طرف قومی نوعیت کے بڑے منصوبوں جیسے دیامر بھاشا ڈیم کا مرکز، تعلیم کے فقدان کا شکار ہے ، سکول جانے کی عمر کے بچے سکولوں سے باہر ہیں، سکولوں کی حالت خراب، اعلی تعلیم کے لیے کوئی بھی ادارہ قائم نہیں کیا گیا ہے۔
دیامر بھاشا ڈیم ، جسے توانائی اور آبی تحفظ کے لیے کلیدی اہمیت حاصل ہے ، مقامی سطح پر تنازعے کا باعث بن چکا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ہزاروں خاندان اپنی زمینوں اور گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں، تاہم ان کی بحالی، معاوضے، اور انسانی و قار کو تاحال یقینی نہیں بنایا جا سکا۔
علاوہ ازیں، بدھ مت دور کے نایاب آثار قدیمہ بھی ضیاع کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ماحولیاتی ماہرین نے پہلے ہی اس زلزله خیز خطے میں اس نوعیت کے منصوبوں کے ممکنہ خطرات پر خبردار کیا ہے۔ اس ساری صورتحال نے مقامی لوگوں میں یہ تاثر مضبوط کیا ہے کہ ان کے وسائل ریاستی مفادات کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، لیکن فیصلوں میں انہیں شامل نہیں کیا جاتا۔
شند در تنازع: علاقائی خود مختاری اور زمین کی ملکیت
شند ور کا تنازع، جو غذر ( گلگت بلتستان) اور چترال ( خیبر پختونخوا) کے درمیان واقع چراگاہ سے متعلق ہے، علاقائی خود مختاری اور زمین کی ملکیت جیسے حساس معاملات کو نمایاں کرتا ہے۔ اگرچہ دونوں فریق اپنے تاریخی دعووں پر قائم ہیں، تاہم مالیاتی ریکارڈ، نو آبادیاتی نقشے ، اور مقامی روایات گلگت بلتستان کے دعوے کو مضبوط بناتے ہیں۔ اس تنازعے نے وفاقی پالیسی سازی میں شفافیت اور مقامی شراکت داری کے فقدان کو مزید اجاگر کیا ہے۔
علاقائی شناخت اور وفاقی ذمہ داری
دیامر بھاشا ڈیم سے لے کر شندور تنازع تک ، معدنیات سے کر بڑے ترقیاتی منصوبوں تک ، سیاسی خود مختاری سے سیاحتی ڈھانچے کی تعمیر و توسیع تک گلگت بلتستان کو ایک ایسے جامع سیاسی و انتظامی بندوبست کی ضرورت ہے جو اس کی آئینی حیثیت کو واضح کرے، عوام کو فیصلہ سازی میں برابر کا شریک بنائے، اور ترقیاتی منصوبوں کو انصاف ، مشاورت، اور شفافیت کے اصولوں پر استوار کرے۔ چیف سیکریٹری سمیت اہم انتظامی عہدوں پر مقامی لوگوں کو نظر انداز کر کے ہر دفعہ وفاق سے براہ راست تعیناتی، ترقیاتی منصوبوں میں مقامی کنٹریکٹرز کی عدم شمولیت اور بلدیاتی ترقی کو نظر انداز کرتے ہوئے اضلاع کی تعداد بڑھانے سے انتظامی اشرافیہ اور افسر شاہی مضبوط ہوئی ہے، جو شفافیت اور احتساب کو کمزور کر رہی ہے۔ یہ مسائل مقامی عوام اور وفاق کے درمیان فاصلے کو بڑھا رہے ہیں، جس سے علاقائی شناخت اور قومی مفاد کے درمیان توازن قائم کرنا مشکل ہو رہا ہے۔
شناختی تنوع ، ترقی اور امن کے لیے ایک جامع حکمت عملی
گلگت بلتستان کی شناخت آج محض جغرافیائی یا مذہبی دائرے میں محدود نہیں، بلکہ یہ فرقہ واریت، آئینی محرومی، نسلی و لسانی تفاوت، اقتصادی نابرابری، اور ماحولیاتی دباؤ جیسے عناصر کے درمیان ایک پیچیدہ توازن کی علامت بن چکی ہے۔ اس پیچیدگی کا حل کسی یک طرفہ فیصلے میں نہیں بلکہ ایک جامع ، باہمی مشاورت پر مبنی حکمت عملی میں پوشیدہ ہے، جس میں آئینی اصلاحات، مساوی تعلیمی مواقع، مذہبی و نسلی مکالمے، ماحولیاتی تحفظ ، اور ثقافتی احترام جیسے عناصر شامل ہوں۔ بصورتِ دیگر، یہ خطہ امن ، ترقی ، اور تنوع کا ایک قابل تقلید ماڈل بننے کے بجائے مسلسل غیر یقینی اور کشیدگی کی کیفیت کا شکار رہ سکتا ہے۔

