بزنجو خاندان کا نام آتے ہی سیاست میں سنجیدگی، بردباری اور بصیرت کے ساتھ جمہوری مزاحمت، اصول پسندی، قومی برابری، آئین و قانون کی حکمرانی، پارلیمنٹ کی بالادستی اور سیاسی و معاشی انصاف کی منظم و مضبوط جدوجہد کا تسلسل ذہن میں آتا ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ بابائے بلوچستان میر غوث بخش بزنجو کی قائم کردہ سیاسی روایت کو نظرانداز کیا جا سکے۔ انہوں نے اس خطے میں سنجیدگی اور بصیرت کی ایسی مثال قائم کی جس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ انہی روایات کے سچے وارث میر حاصل بزنجو تھے، جنہیں تاریخ ہمیشہ "میر جمہوریت” کے نام سے یاد رکھے گی۔
حاصل بزنجو کی شخصیت میں ایک خاص کشش تھی۔ جہاں وہ بیٹھتے، سیاسی نشست اور فکری مکالمہ خود بخود سج جاتا۔ ملکی سیاست ہو، عالمی حالات یا خطے کی صورتحال، ان کی گفتگو ہمیشہ مرکزِ توجہ بن جاتی۔ نرم لہجہ اور اختلاف کے باوجود تعلقات کو قائم رکھنے کی ان کی روایت نے انہیں دوسروں سے ممتاز کیا۔
مگر یہ شائستگی صرف اندازِ گفتگو تک محدود نہ تھی، بلکہ وہ تنقید کو سیاسی کارکن، سیاسی جماعت اور قیادت کے لیے ایندھن سمجھتے تھے۔ نیشنل پارٹی میں تنقیدی کلچر اور بحث و مباحثے کی حوصلہ افزائی کرتے۔ کارکنوں کی تنقید اور سوالات کو غور سے سنتے اور دلائل سے قائل کرتے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ اگر کبھی قیادت سے کوئی سیاسی غلطی ہو تو اس کا دفاع کرنے کے بجائے اسے تسلیم کرنا چاہیے۔
میر جمہوریت کی پوری سیاسی زندگی اصولوں کا عملی مینار تھی۔ وہ سیاسی طور پر مضبوط و مستحکم تھے۔ اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت اور آئین شکنی کے سخت مخالف تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین نے ہر ادارے کے اختیارات و حدود متعین کیے ہیں اور ان پر عمل کرنا ہی ملک کی بقا کا راستہ ہے۔ انہوں نے بارہا طاقتور حلقوں کو للکارا اور دو ٹوک مؤقف اختیار کیا۔ سینیٹ انتخابات میں دھاندلی اور سیاسی مداخلت پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن پارلیمانی تاریخ کا سیاہ دن ہے۔ پارلیمنٹ ہار چکی ہے، بالادست طاقتیں پارلیمنٹ سے زیادہ بالادست ہیں، آج بالادست طبقہ جیتا ہے، کوئی پیپلز پارٹی نہیں جیتی، نہ شہید بے نظیر بھٹو جیتی ہیں۔ انہوں نے ڈی جی آئی ایس آئی اور مقتدرہ کی سیاسی مداخلت کے خلاف جو سخت مؤقف اپنایا وہ جمہوری مزاحمت کی بلند و باوقار مثال تھا، جو مقتدرہ کے کانوں میں تب تک گونجتا رہے گا جب تک وہ سیاسی مداخلت سے باز نہیں آتے۔
میر جمہوریت نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں خفیہ اداروں کے متعلق کہا تھا کہ آئی جے آئی میں جنرل حمید گل، اصغر خان کیس میں اسد درانی، فیض آباد دھرنے اور سینیٹ انتخابات میں جنرل فیض حمید اثر انداز ہوتے رہے ہیں۔
خفیہ اداروں کے خلاف آواز بلند کرنے پر میر جمہوریت میر حاصل بزنجو کے خلاف گوجرانوالہ کی عدالت نے آئی ایس آئی کی توہین پر نوٹس جاری کیا۔ اسی طرح پنجاب کے مختلف اضلاع میں ان کے خلاف جعلی مقدمات بھی درج کیے گئے۔
یہ کوئی پہلا موقع نہ تھا کہ انہوں نے سخت گیر مؤقف اپنایا ہو۔ بی ایس او کے سابق چیئرمین غلام محمد بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی تشدد زدہ لاشیں ملنے پر انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی کو قاتل قرار دیا اور ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ یوں انہوں نے ثابت کیا کہ وہ دباؤ یا خوف کو خاطر میں نہیں لاتے۔ جنرل مشرف کے دور میں منان چوک پر نیشنل پارٹی نے احتجاجی کیمپ لگایا، جہاں میر جمہوریت کو پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں سمیت گرفتار کیا گیا۔ ان کارکنوں میں راقم بھی شامل تھا۔
میر جمہوریت میر حاصل بزنجو کا مؤقف تھا کہ پاکستان ایک وفاقی ریاست ہے جہاں وفاق اور صوبے درحقیقت قومی اکائیاں ہیں، اور تمام اکائیاں اپنی تاریخی سرزمین، ثقافت، زبان اور قومی تشخص رکھتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ملک کو سیکورٹی اسٹیٹ سے فلاحی و جمہوری ریاست بنایا جائے، جہاں طاقت کا سرچشمہ عوام ہوں، پارلیمنٹ کی بالادستی قائم ہو، آزادی اظہارِ رائے ہو، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں نہ ہوں، قومی برابری اور وسائل پر اختیار قومیتوں کو حاصل ہو۔ عوام کی بھلائی، تعلیم، صحت، روزگار اور سماجی و معاشی انصاف کو اولین ترجیح حاصل ہو۔
آج ملک معاشی بحران، بے روزگاری، انتہا پسندی، کرپشن، انتشار و انارکی، سیاسی عدم استحکام اور خارجی تنہائی کا شکار ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ ملک میں حقیقی جمہوریت اور فلاحی ریاست کا قیام عمل میں نہیں آیا۔ فلاحی ریاست ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ بہتر اور خوشحال مستقبل کی ضمانت ہے۔
بلوچستان کے معاملے پر میر حاصل بزنجو کا مؤقف ہمیشہ صاف اور واضح رہا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ بلوچستان کو کالونی سمجھنے کی پالیسی ترک کیے بغیر پاکستان میں حقیقی وفاقیت کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ ان کے نزدیک طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ مزید بگڑتے ہیں۔ جب بھی بلوچستان میں طاقت کا استعمال کیا گیا حالات مزید خراب ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بارہا وفاق کو باور کراتے رہے کہ بلوچستان کو ایک قومی اکائی کے طور پر تسلیم کیا جائے۔
میرِ جمہوریت نے مزاحمت صرف سیاست میں ہی نہیں کی بلکہ زندگی کے آخری مرحلے میں بیماری کے خلاف بھی کی۔ کینسر جیسی موذی بیماری سے لڑتے ہوئے بھی وہ سیاست سے دور نہ ہوئے۔ ایک ٹاک شو کے دوران طبیعت بگڑی اور انہیں اسپتال لے جایا گیا۔ کچھ عرصے بعد وہ دنیا سے رخصت ہو گئے لیکن زندگی کے آخری لمحے تک جمہوری عمل سے جڑے رہے۔
آج جب ہم میر حاصل بزنجو کو یاد کرتے ہیں تو ذہن میں ایک ایسے رہنما کی تصویر ابھرتی ہے جو اصولوں پر ڈٹا رہا، جس نے طاقتور کے سامنے سر نہیں جھکایا اور جس نے عوامی امنگوں کو زبان دی۔ وہ فرد نہیں تھے بلکہ ایک سوچ تھے، ایک عہد تھے۔ ان کی جدوجہد پاکستان کی تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ زندہ رہے گی۔

