Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»تما م آرٹیکلز»کیا افغان مہاجرین کو واپس بھیج دینا چاہیے؟
    تما م آرٹیکلز

    کیا افغان مہاجرین کو واپس بھیج دینا چاہیے؟

    طاہر ملکBy طاہر ملکاگست 28, 2016کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    خود احتسابی اس امر کا تقاضہ بھی کرتی ہے کہ ہم گذشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان میں بسنے والے افغان مہاجرین کے لئے شہریت کی پالیسی دینے میں نا کام رہے۔

    مAnchorلا منصور کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد ہمارے ہاں یہ بحث شدت اختیار کرتے دکھائی دے رہی ہے کہ افغان مہاجرین پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی ایک بڑی وجہ ہیں ۔اُن کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں جرائم کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے ،لہذا انہیں واپس افغانستان روانہ کر دینا چاہیے۔بلوچستان کے وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے دو قدم آگے بڑھ کر یہ بیان دیا کہ مہاجرین عزت سے واپس چلے جائیں ورنہ دھکے دے کر نکال دیں گے اور بعد ازاں انہوں نے یہ بیان واپس بھی لے لیا۔ افغان مہاجرین کی پاکستان آمد روس کے افغانستان پر حملے کا فطری نتیجہ تھی آج ان کی پاکستان میں موجودگی کو تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ بیت گیا ہے۔افغانستان کے حالات میں بہتری آنے کے بعد بہت سے مہاجرین واپس بھی چلے گئے لیکن اب بھی ان مہاجرین کی کثیر تعداد پاکستان میں موجود ہے۔

    اس امر میں کوئی دو رائے نہیں کہ جو افغان مہاجرین دہشت گردی اور غیر سماجی سر گرمیوں میں ملوث ہیں انہیں ناصرف افغانستان کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ پاکستان کے مروجہ قوانین کے تحت قرار واقعی سزا بھی دینی چاہیے۔لیکن کیا جو افغان مہاجرین پاکستان میں پر امن شہری بن کر اسکی تعمیرو ترقی میں حصہ لے رہے ہیں پاکستان کی طرز معاشرت میں رچ بس چکے ہیں کیا اُنہیں زبردستی واپس بھیج دینا چاہیے۔پاکستان نے اقوام متحدہ کے مہاجرین کے انسانی حقوق سے متعلق اعلامیہ کو بھی تسلیم کیا ہوا ہے جو جنگ سے متاثرہ مہاجرین کو وہ تمام بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کی ضمانت دیتا ہے جو جدید جمہوری ریاستوں میں شہریوں کو حاصل ہیں۔اور پاکستان کے 1973 کے آئین کا بھی حصہ ہیں۔بہت سے افغان مہاجرین پاکستان میں جائیداد خرید چکے ہیں اور مختلف اقسام کے کاروبار میں مصروف ہیں۔ تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ بیت جانے کے بعدان افغان مہاجرین کی دوسری نسل بحثیت پاکستانی شہری پروان چڑھ چکی ہے وہ پاکستان کو اپنا گھر اور اپنا وطن سمجھتی ہے۔

    ایسے میں ان مہاجرین کو زبردستی افغانستان واپس بھیجنے سے افغانستان میں موجود پاکستان مخالف افغانیوںکو پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ کا ایک موقع اور ہاتھ آجائے گا۔ دنیا بھر کی جدید جمہوری ریاستوں میں اُن مہاجرین اور تارکین وطن کو جن کا ہجرت کرنے والے ملک میں کوئی مجرمانا ریکارڈ نہ ہو اور کسی سنگین مجرمانہ مقدمات میں مطلوب نہ ہوں ق،یام کے پانچ سال بعد شہریت دے دی جاتی ہے۔

    لاکھوں پاکستانی تارکین وطن اسی قانون سے مستفید ہو کر یورپ امریکہ کی شہریت حاصل کر چکے ہیں ان میں سے بہت سے پاکستانی آج اراکین پارلیمنٹ سینیٹرز،وزرا اور کلیدی عہدوں پر فائز ہیں۔ایک جانب تو ہم ان لاکھوں پاکستانیوں کی سلامتی اور خوشحالی کے لئے دعا گو ہیں جن کے دل بیرون ملک شہریت حاصل کرنے کے باوجود پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔اگر یورپ اور امریکہ میں دہشت گردی کے کسی واقعہ میں پاکستانی نژاد شہری ملوث ہو تو ہم یہ جائز مطالبہ کرتے ہیں کہ کسی ایک شہری کے ملوث ہونے کی بنا پر پوری پاکستانی کمیونٹی کو انتقام اور نفرت کا نشانہ بنانا درست نہیں۔اسی طرح کسی ایک افغان مہاجر کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کی سزا سارے افغان مہاجرین کو دینا انصاف کے اصولوں کے منافی ہو گا۔

    آج ہمیں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ 80کی دہائی میں جب افغان مہاجرین پاکستان آرہے تھے تو حکومت نے اُن کی رجسٹریشن کیوں نہ کی۔ خود احتسابی اس امر کا تقاضہ بھی کرتی ہے کہ ہم گذشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان میں بسنے والے افغان مہاجرین کے لئے شہریت کی پالیسی دینے میں نا کام رہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اسی حوالے سے وزارت داخلہ قانون سازی کرے اور افغان مہاجرین کو افغان پاکستانی قرار دے کر رجسٹر کیا جائے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleمختلف الخیال عناصر پر مشتمل مثالی معاشرہ
    Next Article دانا ماجھی کی بیوی اور نامعلوم شخص
    طاہر ملک

    Related Posts

    روداد: نوجوانوں کے لیے ورکشاپ

    اکتوبر 22, 2026

    زیدیہ شیعہ تحریک اور حوثی سعودی تنازع کا پس منظر

    اکتوبر 22, 2026

    مسلکِ نوربخشیہ: تعارف اور پاکستان میں ادارہ جاتی نمائندگی کا جائزہ

    اکتوبر 22, 2026

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by