Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»تما م آرٹیکلز»پستیوں کا شیطانی چکر
    تما م آرٹیکلز

    پستیوں کا شیطانی چکر

    جی کے صریرBy جی کے صریراگست 11, 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    تکلیف یہی نہیں کہ سرمایہ داروں کی ٹولیوں پر مشتمل مغربی استعماری حکومتیں قومی مفادات کا نام لےکر ساری بشمول اسلامی دنیا کو مختلف حیلے بہانوں سے لوٹتی اور اس کے لیے ہر جائز ناجائز ذرائع سے ان ممالک میں جمہوری نظام کی ترویج، ادارہ جاتی اصلاحات اور صنعت و تجارت کی ترقی کو سبوتاژ کرتی رہتی ہیں۔ ظاہر ہے ان ہتھکنڈوں کے بغیر ان کی اپنی محروم آبادی وہاں کی اسٹبلشمنٹ اور دنیا بھر کی محکوم قومیں اپنی اپنی مقتدرہ حکومتوں کے خلاف سر اٹھائیں گی۔ اور پھر جنگی آلات کی کارپوریشنز، استحصالی سرمایہ دارانہ نظام اور اجارہ دارانہ عالمی سلطنت دھڑام سے گر جائے گی۔

    یاد رہے ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک دونوں کے استحصالی حکمرانوں کے مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ یعنی پسماندہ ملکوں کا حکمران ٹولہ تب تک اقتدار کی گدی پر براجمان ہوگا جب تک اسے عالمی اسٹبلشمنٹ کا آشیر باد حاصل رہے گا۔ اس کی قیمت عوام کی محکومی، کمر توڑ ٹیکسز، قرضوں کی بھاری سود سمیت ادائیگی، تجارت کے نام پر لوٹ مار اور نچلے طبقے کی محنت و مشقت یا غربت و افلاس کی صورت میں چکانی پڑتی ہے۔

    اس سے زیادہ تکلیف دہ یہ امر ہے کہ خصوصاً اسلامی معاشرے اپنے حصے کی غلطیوں کا کھل کر اعتراف نہیں کرتے بلکہ انہیں بھی غیروں کے سر تھوپ دیتے ہیں۔ اپنی ناکامیوں کی تاویلات پیش کرتے اور انہیں قدرت کی مصلحت سمجھتے ہیں۔ کسی انجانے مسیحا کا منتظر رہتے اور اگر بھولے سے ان کے زخموں پر مرہم رکھنے والا کوئی سیاست دان، معاشرتی مصلح یا مفکر و دانشور سامنے آتا ہے تو اسے پہچاننے کی جگہ دیوار سے لگاتے یا صفحہِ ہستی سے مٹا دیتے ہیں۔ لہٰذا اپنے اپنے مخصوص حالات کے پیش نظر سدھار کی کوئی صورت نہیں بنتی۔

    علوم و فنون اور معاشرہ سازی کی جن حکمت عملیوں پر کام کرکے مغرب والے ارتقاء پذیر ہوئے ہیں انہیں اپنے حق میں استعمال کرنے کی جگہ پسماندہ اسلامی معاشرے کئی قسم کی شدید فکری و ذہنی الجھنوں میں پھنس کر مزید زوال پذیری کی طرف جاتے ہیں یا اس رفتار سے آگے نہیں بڑھ پاتے جو ترقی یافتہ تہذیب و تمدن کے لیے ضروری ہے۔

    اگر عقل و خرد اور منطقی سمجھ بوجھ کو بروئے کار لایا جائے تو یہ جاننا مشکل نہیں کہ مثلاً جاپان پر ایٹمی ہتھیار گرانے اور اسے تہہ و بالا کرنے کے باوجود جاپانیوں نے اپنے سے طاقتور ممالک سے پنگا لےکر ذلیل ہونے کی جگہ انہی “دشمنوں” کے تعاون سے دنیا کی دوسری اور آج تک تیسری ترقی یافتہ ریاست ہونے کا انتخاب کیا۔ اپنی آزادی تک چین کے کئی صوبے اور علاقے مغربی نوآبادیاتی حکومتوں کے پاس تھے۔ عمر میں پاکستان سے دو سال کم عوامی جمہوریہ چین آج دنیا کی دوسری بڑی معاشی اور عسکری طاقت بن کر امریکہ کے ناکوں چنے چبوا رہا ہے، مگر مجال ہے اس کے باوجود کسی چھوٹی بڑی ریاست کے ساتھ براہ راست الجھ پڑے۔

    ہماری دانائی کا منہ چڑانے یہی کافی ہے کہ ہر دوسرے تیسرے دن بھیک مانگنے مغربی ممالک یا ان کے عالمی گماشتوں کے دروازے پر دستک دیتے ہیں۔ لیکن درون خانہ نماز فجر کے بعد انہی “دشمنوں” کو سمندر برد ہونے کی بددعا دیتے، گھر آکر بھیک کا چائے پانی حلق میں انڈیل کر اپنے اپنے “کام کاج” کی طرف اس نیت سے نکل جاتے ہیں کہ بھیک، بھتہ یا قرض کی صورت مغرب سے حاصل شدہ پیسوں میں سے کس طرح حرام کا مال ہتھے چڑھ جائے گا، کیسے کسی کے حق پر ڈاکہ ڈال کر بال بچوں کی پرورش ہوسکے گی، کس کے جائز کاموں میں رخنہ ڈالا جائے گا، کیسے ذاتی اور اجتماعی زمہ داریوں سے جی چرایا جائے گا۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleتوروالی زبان کے حروف تہجی اور کچھ ضروری اصول
    Next Article اسٹیفن ہاکنگ: الحاد کا متکلم (دوسری قسط)
    جی کے صریر

    Related Posts

    روداد: نوجوانوں کے لیے ورکشاپ

    اکتوبر 22, 2026

    زیدیہ شیعہ تحریک اور حوثی سعودی تنازع کا پس منظر

    اکتوبر 22, 2026

    مسلکِ نوربخشیہ: تعارف اور پاکستان میں ادارہ جاتی نمائندگی کا جائزہ

    اکتوبر 22, 2026

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by