Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»فیصلہ کریں کدھر جانا ہے؟
    رواں تبصرے

    فیصلہ کریں کدھر جانا ہے؟

    رواں تبصرےBy رواں تبصرےاکتوبر 10, 2016کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    تحریک طالبان کے امیر کیسے یہاں رہے ، کیا اب وقت نہیں آ گیا ہے کہ ریاست فیصلہ کرے کہ ایسی خبروں اور اطلاعات سے پاکستان کو کتنا نقصان پہنچتا ہے اور غیر ریاستی عسکری عناصر کی سر زمین پاکستان پر موجودگی کی کتنی بھاری قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے ۔

    پاکستان کا سفارتی سطح پر سب سے بڑا چیلنج غیر ریاستی عسکری گروپ ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی یہی گروپ ہیں۔پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کو اس کا کتنا ادراک اور احساس ہے اس کا اظہار گزشتہ دنوں اخبارات میں لیک ہونے والی خبروں سے ہوتا ہے جن کے مطابق اعلٰی سطحی اجلاسوں میں سیاسی قیادت اور دفتر خارجہ کے اعلٰی اہلکار نے ان غیر ریاستی گروپوں پر تنقید کی ۔اگرچہ ایسی خبروں کی تردید کی جارہی ہے لیکن اس مسئلے پر پارلیمنٹ اور میڈیا پر بحث جاری ہے ۔
    ابھی یہ بحث گرم تھی کہ ایک اور خبر آ گئی ہے کہ جو یقیناً پاکستان کے عالمی امیج کے لئے قطعی درست نہیں ہے ۔یہ خبر کوئٹہ کے قریب کچلاک میں افغان طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اخوند کی موجودگی سے متعلق ہے ۔عالمی خبر رساں ادارے روئیٹر نے انکشاف کیا ہے کہ ملا ہیبت اللہ تحریک کے امیر منتخب ہونے سے پہلے الحاج نامی مسجد اور مدرسے میں پندرہ برس تک تعلیم اور تدریس سے منسلک رہے اور اسی دوران سیاسی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے رہے اور کئی جلسوں سے بھی خطاب کیا ۔
    اس سے قطع نظر کہ یہ کیسے ممکن ہوا ؟اور تحریک طالبان کے امیر کیسے یہاں رہے ، کیا اب وقت نہیں آ گیا ہے کہ ریاست فیصلہ کرے کہ ایسی خبروں اور اطلاعات سے پاکستان کو کتنا نقصان پہنچتا ہے اور غیر ریاستی عسکری عناصر کی سر زمین پاکستان پر موجودگی کی کتنی بھاری قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے ۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleاسلام آباد بند ہونے کا فائدہ کسے ہوگا ؟
    Next Article سیرل کو خبر بنانے سے مسئلہ ختم نہیں ہو گا
    رواں تبصرے

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by