گزشتہ روز خود ہیلری کلنٹن جب اپنے مداحوں کے سامنے پرنم آنکھوں سے آئیں تو انہوں نے کہا کہ ‘‘جتنا ہم خیال کرتے تھے امریکہ اس سے کہیں زیادہ تقسیم کا شکار ہے ’’۔ان کا اشارہ نسلی تقسیم کی جانب تھا ۔ اس لئے امریکہ کی وہ شناخت جو ایک متنوع نسلوں ، ثقافتوں اور مذاہب کی بنیاد پر تھی ا س میں اب واضح دراڑ آ چکی ہے ۔
ٍٍرائے عامہ کے پیشگی جائزوں کو غلط ثابت کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے 45ویں صدر منتخب ہو چکے ہیں ۔ وہ اپنے عہدے کا چارج 20جنوری2017کو سنبھالیں گے ۔فلوریڈا، اوہائیو،پنسلوانیا،وسکانسن اور آئیوا کی ریاستیں جنہیں ”سونگ سٹیٹس “ قرار دیا جاتا تھا انہوں نے اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے اس بار بھی امریکی صدر کے انتخاب میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے ۔ ہیلری کلنٹن جن کو امریکی سیاست اور میڈیا کے پنڈت متوقع امریکی صدر قرار دے رہے تھے وہ دو بڑی وجوہات کہ وجہ سے یہ انتخابات ہار گئیں ۔ایک تو یہ کہ انہیں بن غازی میں امریکی سفیر کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔ چونکہ اس وقت وہ سیکر ٹری آف سٹیٹ کے عہدے پر براجمان تھیں اگر وہ اپنے سفارتی عملے کی حفاظت کا مناسب بندوبست کرتیں تو انہیں بچایا جا سکتا ہے ۔ ان کے بارے میں 2015میں سٹیٹ انسپکٹر جنرل نے یہ انکشاف کیا تھا کہ جب وہ امریکہ کی سیکرٹری آف سٹیٹ تھیں تو انہوں نے سرکاری خط و کتابت کے لئے پرائیویٹ ای میل اور پرائیویٹ سرور استعمال کیا تھا ۔جس پر ایف بی آئی نے عدالت میں ان کے خلاف اسی سال جولائی میں ایک چارج شیٹ پیش کی تھی جس پر امریکہ کے اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ یہ معاملہ جرم کے زمرے میں آتا ہے۔یہ معاملہ ابھی تازہ ہی تھا کہ الیکشن سے ایک ہفتہ قبل ایف بی آئی نے ایک بار پھر یہ بیان دیا کہ سابق کانگریس مین انتھونی وارنر کے کمپیوٹر سے ایسی ای میل ملی ہیں جنہیں ہیلری نے اس وقت استعمال کیا تھا جب وہ سیکرٹری آف سٹیٹ تھیں ۔ انتھونی وارنر ، ہیلری کی انتہائی قریبی ساتھی پاکستانی نژاد ہما عابدین کے سابق شوہر ہیں۔یہ وہ وقت تھا جب رائے عامہ کے پیشگی جائزوں میں ہیلری کلنٹن کو اپنے مد مقابل ڈونلڈ ٹرمپ پر واضح برتری حاصل تھی اور اسی دوران امریکی میں پیشگی ووٹ ڈالنے کا عمل بھی شروع ہو چکا تھا چنانچہ فلوریڈا سمیت کئی ”سونگ سٹیٹس “ میں پیشگی ووٹ ڈالنے کی شرح میں 77فیصد اضافہ دیکھا گیا جو اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ لوگ جو ہیلری کو بااعتماد اور امانت دار خیال نہیں کرتے وہ فعال ہو چکے ہیں ۔
ہیلری کے ہارنے کی دوسری بڑی وجہ ان کی جانب سے غیر سفید فام ووٹروں کی حد سے زیادہ پزیرائی تھی ۔ امریکہ میں سفید فام آبادی کا تناسب زوال پزیر ہے اور حالیہ انتخابات میں 31فیصد ووٹرز ایسے تھے جو کہ سیاہ فام ، ہسپانوی ،ایشیائی ،مسلمان یا دوسرے تھے ۔ڈونلڈ ٹرمپ چونکہ امریکہ میں بسنے والے مہاجرین کے ناقد کے طور پر سامنے آئے تھے اس لئے ایسے تمام ووٹرز کی اکثریت ہیلری کے ساتھ کھڑی ہو گئی جس کے جواب میں 69فیصد سفید فام ووٹرز کی اکثریت رد عمل کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی بن گئی ۔امریکہ میں تحقیقی ادارے پیو کا کہنا ہے کہ جس تناسب سے امریکہ میں غیر سفید فام آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے اس کو دیکھا جائے تو 2050میں سفید فام اقلیت بن جائیں گے۔ جس کی وجہ سے وائٹ ہاؤس سمیت ہر جگہ غیر سفید فاموں کی اجارہ داری ہو گی ۔چنانچہ تعصب میں اضافے کا جو پرچار امریکہ کے بارے میں عام ہو گیا ہے اس کا عملی اظہار ان انتخابات میں ہوا جب سفید فام آبادی کی اکثریت نے ڈونلڈ ٹرمپ کو چن لیا ۔کیونکہ وہ انتخابی مہم میں سر عام یہ کہہ چکے تھے کہ وہ صدر منتخب ہوئے تو لاطینی امریکہ کے باشندوںاور مسلمانوں کو واپس ان کے ملکوں میں بھیج دیں گے ۔میکسیکو سے متصل امریکی سرحد پر دیوار تعمیر کر دیں گے اور وہ ممالک جن کے باشندے دہشت گردی میں ملوث ہیں ان کی امریکہ آمد پر پابندی لگا دیں گے ۔چونکہ یورپ میں دولت ِ اسلامیہ کے حملوں کے بعد سیکورٹی ایک بڑا انتخابی ایشو تھا اس لئے امریکی عوام کو ڈونلڈ ٹرمپ کے جارحانہ بیانات نے متاثر کیا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ امریکہ کو جو خطرہ درپیش ہے اس کا حل ڈیموکریٹس کی ڈھیلی ڈھالی پالیسوں میں نہیں ہے ۔
امریکہ کے اندر سی این این کے مقابلے میں فاکس نیوز کی مقبولیت بہت زیادہ ہے ۔فاکس نیوز اپنے نیوز شوز کے اندر امریکہ میں بسنے والی اقلیتوں اوربالخصوص مسلمانوں کے خلاف نفرت ابھارنے کا موجب بنا ہے ۔کئی آزاد تحقیقی اداروں نے حالیہ سالوں کے اندر امریکہ میں نسلی ، لسانی اورمذہبی تعصب میں اضافے کی تصدیق کی ہے اور اس تناسب میں گیارہ ستمبرکے حملوں کے بعد مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔عظیم امریکہ کے پیرو کاروں نے ایک ایسے امریکہ کی بنیاد رکھی تھی جس میں باہر سے آنے والے مہاجرین کو خوش آمدید ضرور کہا جاتا تھا لیکن انہیں ایسا ماحول فراہم کیا جاتا تھا جس میں وہ اپنی الگ نسلی یا تہذیبی شناخت کو گم کر دیں ۔لیکن گزشتہ دو دہائیوں میں امریکہ میں آنے والی سیاسی، اطلاعاتی اور معاشی تبدیلیوں کی وجہ سے امریکہ میں آنے والے نئے آباد کاروں اور پرانے رہائشیوں میں فاصلے بڑھ گئے ۔اس کا ادراک عمومی طور پر تو کیا جاتا تھا تاہم یہ رجحان سیاسی طور پر بھی ایک بڑا محرک ثابت ہو گا اس کا اندازہ گزشتہ روز ہونے والے صدارتی انتخابی نتائج کو دیکھنے کے بعد ہوا ہے۔گزشتہ روز خود ہیلری کلنٹن جب اپنے مداحوں کے سامنے پرنم آنکھوں سے آئیں تو انہوں نے کہا کہ ‘‘جتنا ہم خیال کرتے تھے امریکہ اس سے کہیں زیادہ تقسیم کا شکار ہے ’’۔ان کا اشارہ نسلی تقسیم کی جانب تھا ۔گویا وہ امریکہ جو پہلے سیاسی نظریات کی بنیاد پر تقسیم تھا یہ تقسیم ا ب نسلی سطح پر پہنچ چکی ہے ۔امریکی قوم پرستی کی جانب بھی راغب ہیں اس لئے امریکہ کی وہ شناخت جو ایک متنوع نسلوں ، ثقافتوں اور مذاہب کی بنیاد پر تھی ا س میں اب واضح دراڑ آ چکی ہے ۔
اب جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر بن چکے ہیں سب سے اہم سوال ہمارے لئے یہ ہے کہ وہ پاکستان کے لئے کیسے ثابت ہوں گے ؟ ایک عام تاثر یہ ہے کہ ریپبلکن پارٹی نے ہمیشہ پاکستان میں فوجی آمروں کو آشیر باد فراہم کی ہے ۔پاکستان میں جمہوری حکمرانوں اور فوج کے درمیان حالیہ کشمکش پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ا س کا اندازہ تو آنے والا وقت میں ہی ہو گا تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران انڈیا کو اپنا بہترین دوست ملک قرار دے چکے ہیں اور یہ عندیہ بھی دے چکے ہیں کہ انڈیا پاکستان کو نکیل ڈال سکتا ہے ۔تاہم گزشتہ ماہ ہندوستان ٹائمز کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ کشمیر پروہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان مصالحت کے آرزو مند ہیں اور اگر وہ کرانے میں کامیاب ہو گئے تو یہ ایک عظم کامیابی ہو گی ۔ڈونلڈ ٹرمپ چین اور امریکہ کے مابین تجارتی عدم توازن پر بھی نالاں ہیں ۔امریکہ نے گزشتہ پندرہ سالوں میں ڈیڑھ کروڑ لوگ بیروزگار ہوئے ہیں جس کی بڑی وجہ چینی مصنوعات ہیں ۔اگر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے لئے تجارتی مراعات میں کمی کی تو چین کے لئے نئی منڈیوں کی تلاش بہت ضروری ہو جائے گی ایسے میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کی اہمیت میں اضافہ ہو جائے گا۔
امریکہ میں شخصیات نہیں ادرے حاوی ہیں اس لئے ٹرمپ کی کامیابی کو دنیا کے بارے میں کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ تو قرار نہیں دیا جا سکتا لیکن جیسا کہ ٹرمپ امریکی تاریخ کے سب سے امیر اور بزرگ ترین صدر ہیں ۔انہیں سیاست یا حکومتی معاملات کو کوئی تجربہ بھی نہیں ہے اس لئے وہ آئے روز سرخیوں کی زد میں رہیں گے ۔مستقبل قریب میں ان کے مالیاتی سکینڈل بھی سر اٹھا سکتے ہیں ۔امریکہ کی نوجوان نسل میں مقبول ہونے والی اشتراکی نظریات بھی شاید اور تیزی سے پھیلنے لگ جائیں کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی شکل میں امریکی سرمایہ داری نظام کا نمائندہ اب وائٹ ہاؤس کا اگلامکین ہے ۔
