Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»16 دسمبر کے نہ بھرنے والے گھاؤ
    رواں تبصرے

    16 دسمبر کے نہ بھرنے والے گھاؤ

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتدسمبر 16, 2020کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    آج آرمی پبلک سکول پشاور پر حملے کے چھ سال پورے ہوگئے ہیں جس میں 150 کے قریب بچے نہایت سفاکی کے ساتھ شہید کردیے گئے تھے۔

    پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ نقصان اُٹھایا اور اس عفریت نے ہزاروں شہریوں کی جانیں بھی نگلیں لیکن 2014ء کا حملہ ایسا سیاہ دن ہے جس کے گھاؤ کبھی مندمل نہیں ہوپائیں گے۔ یہ ملک کے ہر باسی کو گہرے دکھ کے احساس میں مبتلا رکھتا ہے اور ڈیڑھ سو خاندانوں پر ہر صبح سکول کا وقت ایک قیامت بن کر گزرتا ہے۔

    اس سانحے کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کا نیا موڑ شروع ہوا، دہشت گردی کے حوالے سے سماج میں موجود تقسیم ختم ہوئی اور پوری قوم  اس کے خلاف متحد ہوئی۔ سکیورٹی و سول اداروں نے مل کر کچھ بڑے اقدامات اٹھائے جس کے نتیجے میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی واقع ہوئی۔ اس کا خطرہ تو ختم نہیں ہوا لیکن اس عنصر کا دائرہ محدود کردیا گیا ہے جس کے نتیجے میں قدرے استحکام آیا۔

    اے پی سی کا واقعہ ریاست پر اور ہم سب شہریوں پر بطور قوم ایک قرض رکھتا ہے۔ یہ ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ اس سرزمین سے تشدد کے تمام بیج ختم ہوں اور یہ امن کی مثال بنے۔ ملک سے مسلح دہشت گردی کا خطرہ تو محدود کردیا گیا ہے لیکن شدت پسندی کی فکر ابھی تک مضبوطی سے قائم ہے، اور سماج کے مختلف طبقات میں ایک دوسرے کے خلاف عدم برداشت بھی بڑھ رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جس طرح سکول سانحے کے بعد دہشت گردی کے خلاف دوٹوک موقف اپنایا گیا اسی طرح تشدد کی ہر قسم کے خلاف صف آراء ہوا جائے۔

    یہ سانحہ اس بات کا تقاضا بھی کرتا ہے کہ ریاست وہ غلطیاں دوبارہ نہ دہرائے جس کا انجام اس طرح کے سانحات کی صورت میں نکلتا ہے۔

    واضح رہے کہ چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں بننے والے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے رواں سال اکتوبر میں حکومت کو آرمی پبلک سکول کی عدالتی تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ منظرعام پر لانے کا حکم جاری کیا تھا۔ اس رپورٹ میں سکول کی کمزور سکیورٹی پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ یہ بینچ واقعے میں شہید ہونے والے بچوں کے والدین کی شکایات پر ازخود نوٹس کی اساس پہ تشکیل دیا گیا تھا۔ ان والدین کا دعوی ہے کہ سانحے کے اصل مجرموں کا اب تک تعین نہیں کیا گیا ہے اور نہ انہیں سزا مل سکی ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleنیا یکساں قومی نصاب مکمل تیار، صوبوں کو کتابیں شائع کرنے کی ہدایت
    Next Article پاکستان کی مختلف اکائیوں کے ایک دوسرے کے بارے غلط فہمیوں پہ مبنی تاریخی تناظر
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by